|
‘‘سوچا بہت کہ لکھوں مگر لکھ نہیں سکا‘‘
14.10.2008, 01:42pm , منگل (GMT+1)
صفدر ھمٰدانی۔۔ لندن
یا پھر اس اجلاس کے شرکا کو پینے کے لیئے پیش کیئے جانے والے‘‘منرل واٹر‘‘ کی کہانی لکھوں کہ آر ڈی اے کے ایک ڈائریکٹر بنفس نفیس جلسے کے شرکاء کو پانی کی فراہمی کے عمل کی نگرانی کرتے رہے ہیں ، یہ بھی خیال آیا کہ اُن ڈرائیوروں کی بپتا لکھوں جنکی گاڑیاں حکام نے تین روز سے پکڑ رکھی تھیں اور ان میں سے ایک ڈرائیور تو یہ بھی کہہ رہا تھا کہ اُسکا باپ بیمار ہے اور اسکے پاس دوائی کے پیسے نہیں رہے کیونکہ اسکی گاڑی تین روز سے راولپنڈی کے حکام نے اس لیئے پکڑ رکھی ہے جلسے میں لوگوں کو لایا جانا ہے۔ کئی مرتبہ یہ بھی سوچا کہ نالہ لئی کی دونوں جانب سولہ ارب روپے کی لاگت سے بائیس کلومیٹر طویل ’نان سٹاپ‘ سڑک کی تعمیر کے مراحل کے بارے میں لکھوں اور اس امر کا اظہار بھی جی کھول کر کرؤں کہ سولہ ارب میں سے کتنے ارب کیسے کیسے عرب صفت کی جیب میں جائیں گے۔ ایک بار تو یہ بھی سوچا کہ راولپنڈی میں شائع ہونے والے بیشتر اخبارات میں پورے پورے صفحے کے رنگین سرکاری اشتہارات کا افسانہ بھی لکھوں اور یہ باب بھی رقم کرؤں کہ راولپنڈی شہر میں جگہ جگہ پاکستان کے باوردی صدر جنرل پرویز مشرف، وزیراعلیٰ پرویز الہیٰ، وزیر ریلوے شیخ رشید احمد اور مسلم لیگ کے مقامی رہنماؤں کی قد آدم تصاویر والے بینروں، پوسٹروں اور بورڈوں پر غلط املا میں لکھے نعروں کو کیا کسی نے نہیں دیکھا۔ یہ بھی دل چاہا کہ اس نکتے پر لکھوں کہ جس جگہ یہ جلسہ ہوا صدر کی قیام گاہ‘‘آرمی ہاؤس‘‘وہاں سے کوئی زیادہ سے زیادہ دس منٹ کی ڈرائیونگ پر ہے تو پھر صدر صاحب کو جلسہ گاہ تک آخر ہیلی کاپٹر میں کیوں آنا پڑا؟ پھر یہ بھی سوچ کر ایک بار پھر قلم اٹھایا کہ اُس خاتون کا کارنامہ لکھوں جو حد درجہ سخت سیکیورٹی کی ایک نہیں بلکہ کتنی ہی دیواریں توڑ کر صدر کے سامنے آ کھڑی ہوئی اور پھر صدر کے پاؤں میں گر گئی اور بقول سرکاری اہل کاروں کے وہ اپنے گم شدہ شوہر کے بارے میں صدر کو درخواست دینا چاہتی تھی۔ اسی ایک جلسے کی بدولت کیسے کیسے نایاب اور چشم کُشا موضوعات ہاتھ باندھے سامنے کھڑے ہیں لیکن لکھنے کا یارا نہیں کہ قلم اپنا ضمیر بیچنے کو تیار ہی نہیں ہوتا۔ ہاں سکیورٹی کی آہنی فصیل کو توڑ کر عدل جہانگیری کی فریاد کرنے والی اُس شیر دل خاتون کے بارے میں ضرور لکھنا چاہتا ہوں اور قلم بھی انکاری نہیں۔ میں نے ٹی وی کی سکرین پر یہ منظر دیکھا کہ ایک دھان پان سی عورت فریاد کرتے ہوئے یکدم صدر کی جانب دوڑتی ہے اور اس سے پہلے کہ وہاں موجود سیکیورٹی اسکی طرف لپکے صدر صاحب خود کہتے ہیں‘‘چھوڑ دو اسے آنے دو‘‘ اور پھر یہ عورت صدر کے قدموں پر جھُک جاتی ہے۔ یہ منظر دیکھتے ہی میری آنکھوں میں ستر کے عشرے کے کا وہ زمانہ گزر گیا جب میں لاہور ریڈیو میں پروڈیوسر کے طور پر بیرونی تقریبات کی ریکارڈنگ پر مامور تھا اور ایسے ہی ایک روز اس وقت کے وزیر اعظم ذالفقار علی بھٹو کو واپڈا ہاؤس لاہور میں کسی تقریب میں آنا تھا۔ ہم ریڈیو والے اپنے تمام ریکارڈنگ کے سامان کے ساتھ موجود تھے اور میں داخلی صدر دروازے پر وزیر اعظم کے استقبال کی رپورٹنگ کے لیئے دیگر متعدد صحافیوں کے ساتھ موجود تھا۔ شاید کچھ لوگوں کو یاد ہو کہ جہاں اس وقت آواری ہوٹل ہے واپڈا ہاؤس کے ساتھ،وہاں اسوقت ایک پٹرول پمپ ہوا کرتا تھا۔ خیر جب وزیر اعظم واپڈا ہاؤس کے صدر دروازے پر پہنچے اور منتظین نے انکا ستقبال کیا تو اسی اثنا میں چشم زدن مین ایک کالا برقعہ پہنے ہوئے ایک خاتون دہائی دیتی ہوئی وزیر اعظم کی جانب دوڑی تو سیکیورٹی کے لوگوں نے اسے پکڑنا چاہا تو بھٹو صاحب کہا‘‘چھوڑ دو اسے آنے دو‘‘۔ اور پھر اس خاتون کی بپتا سنی جو کہہ رہی تھی کہ میں بیوہ ہوں اور میرے پاس ایک ہی بکری تھی جسکے دودھ سےگھر میں چائے بنتی تھی، میری وہ بکری کل سے کوئی چوری کر کے لے گیا ہے اور کوئی پولیس میری بات نہیں سنتی۔ وزیر اعظم بھٹو نے فوری طور پر آئی جی پنجاب اور دیگر حکام کو وارننگ دی کہ جب تک میں اس تقریب سے فارغ ہوں اس بیوہ کی بکری برآمد ہو جانی چاہیئے۔ یہ کہہ کر وزیر اعظنم بھٹو تو چل دیئے اور اب خفیہ ایجنسیوں کے اہل کاروں کا کھیل شروع ہوا جنہوں نے اس سارے ڈرامے کا سکرپٹ لکھا ہوا تھا۔ اب یہ خاتون بھی شانت ہو چکی تھی اور داد طلب نظروں سے انٹیلجنس کے اہلکاروں کو دیکھ رہی تھی۔ اسی اثنا میں پتہ چلا کہ وہ ‘‘بیچاری بکری‘‘ ساتھ والے پٹرول پمپ پر بندھی ہوئی تھی۔ تھوڑی دیر بعد خفیہ والے اب بکری کوکھول کر لا چکے تھے اور وزیر اعظم کی واپسی کے منتظر تھے۔ اندر تقریر کرتے ہوئے بھٹو صاحب نے اس واقعے کا ذکر بھی کیا اور پولیس کو عوام کا ‘‘خادم‘‘ ہونے کی تلقین کی۔ بھٹو صاحب کو آئی جی پنجاب سمیت دیگر حکام نے یہ خبر انکی واپسی پر فوری طور پر دی تو بھٹو صاحب نے اُس ‘‘کرائے کی خاتون‘‘ کو بلوایا اور اسکی گمشدہ بکری اسکے حوالے کی۔ منظر یہ بھی کچھ ایسا ہی تھا کہ یہ خاتون بھٹو صاحب کے قدموں پر گری اور انکے طویل اقتدار کی دعائیں کرنے لگی۔ ‘‘بیچاری بکری یہ سب کچھ جانتی تھی لیکن بول نہیں سکتی تھی‘‘ اگلے روز لاہور کے اخبارات میں جلی سرخیاں تھیں کہ‘‘وزیر اعظم نے چندگھنٹوں میں ایک بیوہ کی چوری شدہ بکری برآمد کروا دی‘‘ ایسا ہی ایک واقعہ 80کے عشرے کا صدر ضیاالحق کے زمانے کا بھی ہے جب میں اسلام آباد ریڈیو میں سینئر پروڈیوسر تھا اور حُسنِ اتفاق کہ اُن دنوں ایک بار پھر میرے ذمے بیرونی تقریبات اور صدر ووزیر اعظم کی مصروفیات کی ریکارڈنگ تھی۔۔۔۔۔۔۔حقیقت پر مبنی اس قصے کا احوال اگلے کالم میں
|