گزشتہ قسط میں بات ایک خط پر ختم کی تھی اور یہ پر درد التجا کی تھی کہ انہیں اپنے خدا اور اس کی تعلیم کی پہچانیں اس کے قبل اس کے کہ خدا کے قہر کی آگ آسمان سے اترے اور سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیں۔
باتیں تو بہت سی لکھنے کو دل چاہ رہا ہے مگر ایک واقعے نے میرا دل دکھا کر رکھا ہوا ہے یہ نام نہاد ملاں اپنی اوقات سے اس قدر بھی باہر ہو سکتا ہے سوچا بھی نہیں تھا
ابھی حال میں میرے ایک تایا کے بیٹے کا انتقال امریکہ میں ہوا جس کی خبر عالمی اخبار نے بھی شائع کی تھی
http://www.aalmiakhbar.com/index.php?mod=article&cat=intakhabailanat&article=27923

چند دن میں ہی وہ تو ختم ہو گیا مگر اس مولوی کا کیا بنے کا جو عاقبت کی بوریاں سمیٹنے میں لگا ہوا ہے اور نہ جانے یہ جہلا کا سیلاب اور یہ چند یوم کے پڑھے لکھے مولوی کس جہنم میں جلیں گے ۔
واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ مرنے والے نے گزشتہ برس لندن میں اپنی دختر کی شادی کے بعد امریکہ واپسی کی تو ایک روز اچانک ان کی طبیت خراب ہو گئی ۔موصوف کو امریکہ کے ایک شفا خانے میں لے جایا گیا ۔ان کی چانچ پڑتال کے بعد معلوم ہو کہ ان کو خون کا سرطان ہے۔
اس سے قبل مرحوم نے ایک امام بارگاہ میں ایک غسل خانہ تعمیر کروانے کے لئے ایک کام شروع کیا جو کہ ادھورا رہ گیا اور کچھ رقم کم ہونے کی بنا پر یہ کام مکمل نہ ہو سکا۔ امام بارگاہ کے مولوی سے رابطہ کیا گیا کہ آپ کچھ مدد کروائیں اور جو افراد امامبارگاہ میں عبادت کی غرض سے تشریف لاتے ہیں ان کے کہہ کر کچھ رقم جمع کروا دیں۔ مگر مولوی نے تو اپنا پیٹ بھرنے کی قسم کھائی ہے اور وہ مرحوم پر سیخ پا ہوئے کہ اگر آپ کے پاس مکمل رقم نہ تھی تو آپ نے یہ کام کیوں شروع کیا
اس دورانیہ میں مرحوم کو شفاخانہ میں داخل ہونا پڑا مرحوم کی حالت دن بدن خراب ہوتی چلی گئی تو مرحوم کی زوجہ اس نام نہاد ملا جو کہ اس سے قبل بھی عدالت کی دروازہ امریکہ میں دیکھ چکا ہے اور قوم کو خوب ذلیل خوار کر چکا ہے، دعا کی غرض سے عبادت خانہ میں گئیں اور اپنی التجا ملا کے سامنے رکھی کے ان کے شوہر کے لئے دعا کروا دیں
مولوی کے ان کو صاف جواب دیا کہ میں تو شام میں ان کے لئے بد دعا کرنے کے ابھی لوٹا ہوں تو میں مرحوم کے لئے کیسے دعا کر سکتا ہوں ۔اچھا ہے کہ مر جانے۔ زندگی اور موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے بلکہ یہاں تک معلوم ہوا ہے کہ اس نے نماز جنازہ پڑھانے سے بھی انکار کیا ہے۔
کہ یہ بات کہاں تک درست ہے۔۔ اب ملت کو اس قسم کے مولوی مل رہے ہیں جو اپنا مرناجینا بھول چکے ہیں

ایسا ہی ایک کیس طلاق کے بارے میں ہوا جس میں اسی نام نہاد ملا نے کہا کہ اس خاندان کا کوئی فرد میرے سےرابطہ مت کرے اگر وہ میرے سامنے آجانے تو میں اس کو وہ درس عبرت دوں کہ نسلیں یاد رکھیں۔
دوسری طرف لندن کے ایک عبادت خانے میں جو کہ ایک اسلامی ملک کے نمک خواروں کی پناہ گاہ بھی ہے وہ اس قسم کے بے پڑھے لکھے مولوی کو پوری طرح تحفط دیتا ہے وہاں کے مولوی کی کہانی بھی سن لیں
ایک خاتون جو اپنی طلاق کے صیغیے پڑھوانے کے لئے اس عبادت گاہ تشریف لے گئیں ان صاحبہ کے طلاق کے صیغے تو بعد میں پڑھے گئے مولانا نے ان کو متعہ کی دعوت پہلے دے دی ۔اس بات کا بھی خیال نہ کیا گیا کہ عدت نام کی بھی کوئی شرط اسلام میں موجود ہے۔ بہر حال یہ عبادت خانہ تو ایک آیت اللہ کے زیر سرپرستی اور اسلامی حکومت کے زیرانتظام ہے۔ نکاح اور طلاق کے صیغے جاری کرنے کے لئے خطیر رقم بھی وصول کی جاتی ہے؎
ایسا ہی ایک گروپ آج کل لندن میں سرگر م عمل ہے شادی رچاکر بیوہ خواتین کو لوٹتے ہیں مختلف مقدمات میں ملوث یہ افراد ایک بار پھر کسی خاندان کو لوٹنے کے عمل میں سرگرم ہے اور یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان افراد کے ہمراہ بھی چند ملا شامل ہیں اور جب واردات ہو جاتی ہے تو ان کو ان کا حصہ مل جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں مکمل تفصیل آئندہ اقساط میں ملاحظہ کریں۔

گزشتہ روز ایک نجی ٹیلی ویژن پر ایک پروگرام میں ایک کال موصول ہوئی خاتون نے جب اپنے خاندان کے بارے میں بتایا کہ وہ اپنی دختر کی شادی کے سلسلہ میں بہت پریشان ہیں تو پروگرام کرنے والے نے جو کہ ماہر علم فلکیات اور قسمت ہیں چند دعائیں بتا کر خاتون کو کہا کہ ورد کریں اور کل جو رشتہ آئے گا اس کا انکار مت کریں اس کو ہاں کر دیں ۔
اگلے روز موصوف جو پروگرام کر پیش کر رہئے تھے خود اپنا رشتہ لے کر جا دھمکے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل موصوف کی دو شادیاں ہو چکی ہیں منبر اور محراب سے ان صاحب کا بھی گہرا تعلق ہے اور قرانی عملیایات کے ماہر جانے جاتے ہیں۔
ان ملاؤں میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو عبادت خانوں کی انتطامیہ میں بھی شامل ہیں اور مفاد پرست منتظمین کے ساتھ مل کر معصوم عوام کو لوٹنے کے ہر روز نت نئے طریقے ایجاد کرتے رہتے ہیں
جاری ہے