پاک یورو جرنلسٹس فورم کے فرینکفرٹ میں ہونے والے کامیاب افتتاحی اجلاس اور علامہ اقبال کے یوم وفات کی مناسبت سے ہونے والے سیمینار پر دنیا بھر سے ادیبوں،صحافیوں اور دانشوروں کے مبارکباد کے پیغامات بھیجنے کا سلسلہ جاری ہے۔
خیر خواہوں نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ پاک یورو جرنلسٹس فورم پاکستانی صحافیوں کو یورپ بھر میں موجود سائبر صحافیوں کے قریب تر لانے میں مدد دے گا اور خبروں کی تقسیم میں مددگار ہو نے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے تشخص کو بہتر بنائے گا
اکثر احباب نے اپنے پیغامات میں پاک یورو جرنلسٹس فورم اور اسکے مرکزی قائدین کے خلاف چند شرپسند اور مفاد پرست حلقوں کی بے جا تنقید اور جھوٹے پرپیگنڈے کی مذمت کی اور کہا کہ ایسے حلقوں کو اپنا وقت جھوٹے الزامات لگانے اور سازشیں کرنے کی بجائے کچھ مثبت کام کرنے میں صرف کرنا چاہیئے
امریکہ کے شہر میامی سے صحافی،شاعر اور براڈکاسٹر عظمت اللہ سید نے اس کامیاب تقریب اور ایسے منفرد فورم کے قیام پر پوری تنظیم کو مبارکباد بھیجی ہے اور اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ یہ فورم یورپ سے باہر بھی خود کو وسعت دے گا تا کہ پاکستان کے بارے میں خبروں کی انٹرنیٹ پہ اشاعت کا ایک معیار قائم ہو سکے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالی اس تنظیم کو ترقی دے
جرمنی کے شہر کولون سے صحافی اور ٹی وی رپورٹر سید باقر زیدی نے پاک یورو جرنلسٹس فورم کے چیئرمین صفدر ھمدانی کے نام اپنے تہنیتی پیغام میں اس خوشی کا اظہار کیا ہے کہ سائبر صحافت کے میدان میں یورپ کی سطح پر حقیقی اور پیشہ ور صحافیوں کو ذاتی مفاد سے بالا تر ہو کر ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے لیئے یہ ایک مستحسن قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج جب صحافت اور صحافی کی تعریف ہی بدل گئی ہے اور دو پیرا گراف کا کٹ پیسٹ سے آراستہ کالم لکھنے والا بھی خود کو بڑی بے شرمی سے صحافی ہی کہتا ہے تو ایسے میں اس مقدس پیشے کو بدنام کرنے والوں کو بے نقاب کرنے اور اردو سائبر صحافت کا معیار بنانے کے لیئے پاک یورو جرنلسٹس فورم کا قیام نیک فال ہے۔ انہوں نے فورم کی ترقی اور استحکام کے لیئے بھی دعا کی
پاکستان ٹیلی ویژن کے دستاویزی پروگراموں کے مقبول اور کامیاب پروڈیوسر اور شاعر سلمان سعید قریشی نے ایک ای میل کے ذریعے پاک یورو جرنلسٹس فورم کے قیام اور اسکی کامیاب افتتاحی تقریب پر مسرت اور مبارک باد کا پیغام بھیجا ہے اور امید ظاہرکی ہے کہ فورم میں شامل سینئر اور پیشہ ور صحافیوں کی موجودگی میں یہ پاکستانی اور اردو صحافت کا ایک فعال پلیٹ فارم ثابت ہو گا۔ سلمان سعید قریشی کا کہا کہ صحافت کو تجارت بنانے والوں اور اسے اپنی ذاتی اغراض اور مقاصد کے لیئے استعمال کرنے والوں نے اس عظیم اور مقدس پیشے کو بیلک میلنگ کا ہتھیار بنا رکھا جس کی حوصلہ شکنی خود صحافتی برادری کو ہی کرنی چاہیئے
جاری ہے