
جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں مقیم صحافی واصف بخاری نے پاکستان جرمن پریس کلب میں بداعنوانیوں اور ذاتی مفادات
کی لڑائی کے خلاف استعفیٰ دیتے ہوئے کہا کہ میں نے آج تک صرف عوامی جدوجہد
کی جوکہ نہایت دیاینتدارانہ اور نظریاتی بنیادوں پر ہے ۔ اور جس طرح آج
پاکستان جرمن پریس کلب صرف جرمنی میں ہی نہیں بلکہ تمام یورپ اور پاکستان
تک بدنام زمانہ ہو چکا ہے میں اس کا ممبر نہیں رہنا چاہتا ۔
پاکستان جرمن پریس کلب کے صدر
مظفر شیخ ، سینئر نائب صدر سلیم بٹ سمیت دیگر تما م عہدیدار بدعنوانیوں میں بری
طرح ملوث ہو چکے ہیں اور ذاتی مفادات حاصل کرنے کے لیے پریس کلب کو
استعمال کر رہے ہیں اور اس غرض کے لیے پاکستان ایمبسی جو برلن میں ہے اس سے
خفیہ گٹھ جوڑ اور مالی بدعنوانیوں میں شریک جرم ہیں ۔
واصف بخاری نے کہا کہ میں انکا
حصہ قطعی نہیں بننا چاہتا اس لیے فوری طور پر مستعفی ہو رہا ہوں ۔ اور
مطالبہ کرتا ہوں کہ پاکستانی صحافت کو غیر ممالک میں اتنا بدنام اور گرا
ہو ا بدعنوان شعبہ نہ بنا یا جائے کہ عوام کا دیانتدارانہ صحافت سے
اعتماد ہی اٹھ جائے اور دیار غیر میں عام غیر ملکیوں کے نظر میں بھی ہم
پاکستانی گر جائیں ۔ساتھ ہی مطالبہ کرتا ہوں کہ پریس کلب کی بنیاد رکھنے پر
تمام ممبران سے جو بڑی رقم ممبر شپ کے نام پر فراڈ سے جمع کی گئی تھی اور
کہا گیا تھا کہ پریس کلب کو جلد رجسٹرڈ کرایا جائے گا اور اس کا افتتاحی
پروگرام اور پھر مختلف اوقات پر مسلسل تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا جو سب
جھوٹ اور دھوکہ دہی تھی اس لیے وہ رقم تمام ممبران کو جو پریس کلب چھوڑ
چکے ہیں فوری واپس کی جائے ۔ وگرنہ قانونی جارہ جوئی کی جائے گئی ۔
واصف بخاری نے پاکستان جرمن پریس کلب سے مستعفی ہونے کے بعد پاک یورو جرنلسٹس فورم میں شمولیت کا
اعلان کیا ۔ جس پر پاک یورو جرنلسٹس فورم کے مرکزی عہدیداروں کی ایک مشترکہ
میٹنگ کے بعد واصف بخاری کو فورم میں خوش آمدید کرتے ہوئے انہیں پاک یورو
جرنلسٹس کے مرکزی چیف کواڈینیٹر کی ذمہ داری سونپی گئیں۔ اور پاک
یورو جرنلسٹس کے چیئرمین،صدر اور دیگر عہدیداروں نے واصف بخاری کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتے ہوئے خوش آمدید کہا ہے اور امید ظاہر کی ہے انکی فورم میں شمولیت سے ایک طرف فورم کی توانائی میں اضافہ ہو گا اور دوسری طرف صحافت کو تجارت بنانے والے اور ذاتی مفادات حاصل کرنے والوں کو طشت از بام کرنے میں مدد ملے گی ۔