|
برلن میں ایک بین الاقوامی مشاعرہ ، بزم ادب برلن کی جانب سے منعقد ہوا
08.05.2012, 03:26am , منگل (GMT+1)
ساجدہ حنا
مورخہ یکم مئی ۲۰۱۲ کو جرمنی کے شہربرلن میں ایک بین الاقوامی مشاعرہ ، بزم ادب برلن کی جانب سے منعقد ہوا۔ مشاعرے کو برلن کے مشہور تاجر جناب سہیل انور خان نے نہ صرف اسپانسر کیا بلکہ بزم ادب کو ٹی ایس فوڈ کاہال ، بھٹو ہاؤس بلا معاوضہ مہیا کیا تاکہ مشاعرے کی تقریب منعقد ہو سکے۔ شام سات بجے تقریب کے آغاز کا وقت مقرر تھا۔ مگر برلن کے ایک معزز شاعر جنکے انتیظار میں مشاعرے کو تاخیر کا شکار ہو نا پڑا، مشاعرے سے غائب ہی رہے۔تاخیر کے بعد بھی مشاعرے کا آغاز ٹھیک ساڑھے سات بجے ہو چکا تھا۔
بزم ادب برلن کے صدر جناب علی حیدر وفا ؔ نے مشاعرہ کا آغازاپنے خطبہ صدرا ت سے کیا ۔ جس میں انہوں برلن میں اب تک ہونے والے ادبی کاوشوں کی مختصر تاریخ پیش کی۔ اس کے بعدبرلن کے جانے پہچانے شاعر سرور غزالی نے نظامت کے فرائض سنبھال لئے۔
مشاعرے کی صدارت، اردو کے، ہمبر گ سے تشریف لائے شاعر جناب سید شاہد علی، المعروف شاہ جی نے فر مائی۔
سب پہلے برلن کے شاعر اور ادیب جناب سرور غزالیؔ نے اپنا حمدیہ کلام پیش کیا۔
حدیثِ بیاں الفاظِ قرآں حق آگہی پنہاں بیاں در بیاں
اس کے علاوہ انکا یہ شعر بھی بہت پسند کیا گیا
جو پلکیں جھکیں تو سجدہ روا
خم کھا جائے وہ سر ہی کیا
سرور غزالی اپنی نظامت کے دوران، میر درد، اقبال، پروین شاکر، نصیر ترابی اور دیگر شعراء کے خوبصورت اشعار حاضرینِ مجلس کی نظرکیا۔
مشاعرے کا آغاز برلن کے شاعر جناب محمد ارشاد صاحب کے کلام سے ہوا۔
اس کے بعد برلن کے صاحب دایون شاعر جناب انور ظہیر رہبرؔ نے محفل مشاعرہ میں واہ واہ کی خوب داد وصول کی۔ ان کے اس شعر کو بہت سراہا گیا۔
زخم دینے کا حوصلہ رکھنا
رابطے کا یہ سلسلہ رکھنا
غم کی اس اندیھر بستی میں
ساتھ چلنا تو فاصلہ رکھنا
اب باری تھی برلن کے محترم شاعر جناب علی حیدر وفا کی ، انہوں اپنی خوبصورت نظم سے حاضرین مشاعرے کے دلوں کو گرما دیا۔
ان کا یہ شعر بہت سے لوگوں نے فرمائش کر کے باربار سنا
شوخیءِ دیدہ گلزار کہاں سے لاؤں
نغمہء بلبلِ گفتار کہاں سے لاؤں
اس کے بعد سو شیلا، جو برلن کی ایک جانی پہچانی شاعرہ ہیں انہوں نے کئی ایک خوبصورت نظمیں سنائیں۔ ان کی ایک نظم پھول بہت پسند کی گئی۔
رخسار انجم صاحب بر لن کے ایک نہایت منجھے ہو ئے شاعر ہیں جب وہ اسٹیج پر تشریف لائے تو انہوں نے یہ شعر سنا یا جسے بہت پسند کیا گیا۔
تتلیوں کے بیل بوٹے دیکھنا بے تحاشہ خواب جھوٹے دیکھنا
برلن کی مستند شاعرہ عشرت معین سیما نے اپنے اشعار سے حاضرین کو اپنے اشعار کے سحر میں جکڑ لیا۔
اب چشمِ نم سے منظرِ حیراں چلا گیا
محفل کو چھوڑ کر وہ بیاباں چلا گیا
حیوانیت نکل کر شہروں میں بس گئی
غاروں میں پھر بھٹک کر انساں چلا گیا
اس کے بعد ، باری کاوش ابنِ واثق اپنے کلام سے لوگوں کے دلوں کو گر ما یا۔
مسافتوں کا تسلسل تمازتوں کا عذاب
برا مزاج مگر پھر بھی تند خو نہ ہوا
برلن کے بزرگ شاعر ،جنابِ شکیل چغتائی نے بھی اپنے اشعار نظرِ سامعین کیا۔
سب سے آخر میں صدر مشاعرہ جناب سید شاہد علی المعروف شاہ جی اپنا کلام پیش کیا۔
مزا پیاز کا اور انگور نہ اگانے والے سے پو چھئیے
اسے کھا رہا کوئی اور ہے اسے پی رہا کوئی اور ہے
سب سے آخر میں بزم ادب کی جانب سے سرور غزالی نے تمام مہمانوں اور مشاعرے کو کامیاب بنانے میں ممدوع ٹی ایس فوڈ کے روح رواں جناب سہیل انور خان سے درخواست کیا کہ وہ چند الفاظ نظرِ سامعین کریں۔ سہیل خان صاحب نے اس مشاعرے کے بر پا کر نے کو سراہتے ہوئے ایسی صحت مندانہ تقریب کے انعقاد پر زر دیا۔ بزم ادب کے جرنل سیکرٹری سرور غزالی نے ٹی ایس کی جانب سے پیش کی جانے والی ضیافت کا شکریہ ادا کرتے مہمانوں کو کھانے کی دعوت دی۔ اس طرح یہ ایک خوبصورت اور یادگار شام اپنے اختیتام کو پہنچی۔
|