15.10.2026, 11:02am , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

اردو ادب کا اچھوتا افسانہ نگا ر سعادت حسن منٹو۔از۔امین ترمذی
15.07.2016, 01:02am , جمہ (GMT+1)

امین ترمذی۔امریکہ
‎سعادت حسن منٹو اردو زبان  کی مختصر کہانیوں کا ایک منفرد مصنف ۱۱ مئی کو ۱۹۱۲ پنجاب ہندوستان کےضلع لدھیانہ کے شہر شملہ میں پیدا ہوا۔ کشمیری نسل کا ایک خوبصورت فیشن ایبل صاف ستھرے کپڑے زیب تن کرنے والا مخصوص سنہری فریم کا چشمہ لگانے والا ادبا میں نمایاں شخصیت کا مالک انتہائی کسمپرسی کے حال میں دوستوں سے محرومی اور دشمنوں کے نرغے میں گہرا ہوا شخص ۱۸ جنوری ۱۹۵۵ کو تینتالیس سال کی عمر میں اس دارِ فانی سے کوچ کرگیا۔
 
‎   اسکا قلم مخصوص طور پر تحلیلِ نفسی یا ذہنی ہیجانات اور فطرتِ انسانی کے امتزاج کی عکّاسی کرنےوالا ایک ایسا نادر نمونہ تھا جس نے اسے شہرت کے ساتھ ساتھ زلّت و رسوائی سے ہمکنار کیا۔ معاشرے کو اپنی ہی تصویر دکھانے  والے کو عکّاس کو اس کی بے ساختگی پر جو تازیانے کھانے پڑے وی ایک انمٹ داستان ہے لیکن اس بات سے کسی کو انحراف نہیں ہے کہ چھوٹے افسانوی نشتروں سے معاشرے کے پھوڑوں  کی چیرہ دستی یا علاج کرنے والا یہ افسانہ نگار بیسویں صدی کا سب سے زیادہ متنازع فیہ شخصیت کا اعزاز یافتہ مصنف تھا  جس نے طوائفوں پر دلالوں پر اور انسانی فطرت پر قلم اٹھایا جس کا مقابلہ ڈی ایچ لارنس سے کیا جاسکتا ہے  اور ڈی ایچ لارنس کی طرح منٹو نے بھی ان موضوعات  کو مخصوص طور پر ابھارا جو ہندوپاک کی سوسائٹی میں معاشرتی طور پر گناہ  تصوّر کئے جاتے تھے اس کے  مجامین کا دائرہ معاشرتی یقسیمِ زر کی لاقانونیت اور تقسیمِ ہند سے قبل انسانی حقوق کی پامالی ریا۔  اور مزید متنازع فیہ موضوعات پر کھل کر قلم کھوتا رہا جن پر کئی بار اسے عدالت کے کٹہرے تک بھی جانا پڑا  مگر قانون اسے کبھی سلاخوں کے پیچھے نہیں بھیج سکا۔ اسکا ہمیشہ یہی کہنا رہا  کہ  میں معاشرے کے ڈھکے ہوئے یا پسی پردہ گناہوں کی نقاب کشائی کرتا ہوں جو معاشرے کے ان داتاوں  کے غضب کا سبب بنتے ہین  اگر میری تحریر گھناونی ہے تو وہ معاشرے جس میں آپ لوگ جی رہے ہیں وہ بھی گھناونا ہے کہ میری کہانیاں اُسی پردہ پوش معاشرے کی عکّاسی ہیں ،منٹو کی کہانیاں اکثر مِزاح کے پہلو مین معاشرتی دھانچے کی پیچیدگیوں کی تضحیک کرتی محسوس ہوتی ہیں۔

‎     منٹو ۱۹۴۸ کے اوائل میں ہجرت کرکے لاہور آگئے تھے ان کے دوستوں نے انہیں ہندوستان میں روکنے کی بہت کوشش کی اس لئے کہ ہندوستان کی فلم انڈسٹری میں بحیثیت کہانی نویس اُن کا ایک مقام بن چکا تھا  جبکہ پاکستان کی فلم انڈسٹری  اُس وقت تقسیمِ ہند کے سبب اجڑی پڑی تھی اور وہاں روزی روٹی کمانے کے مواقع خاصے تاریک تھے ۔ لیکن برٹش انڈیا دور کے لا قانونیت کے حالات ایک حساس مصنف کے  دماغ پر ایسے انمٹ نقوش تھے جس نے اُسے ایک نئی دنیا ایک نئے ملک اور ایک نئے مکان میں منتقلی پر اُکسایا۔ اور اس نے فوری طور پر اپنی فیملی کو اپنے کزن حامد جلال کی معییت میں پاکستان روانہ کردیا ۔ جہاں شہر کے وسط میں لکشمی منشن نامی بلڈنگ میں حامد جلال کے فلیٹ کے برابر والے فلیٹ میں منٹو کی فیملی سکونت پزیر ہوئی اس خبر کے فوراً بعد منٹو پاکستان آگئے۔ یہ محض ایک اتفاق تھا کہ  اُس بلڈنگ میں جس میں منٹو کا فلیٹ تھا اہلِ علم و ادب کا ایک ایسا مرکز ثابت ہوا جہاں پر مقیم منٹو کے کزن حامد جلال ایک معروف میڈیا پرسن یا صحافی بنے  ایک اور فلیٹ میں پروفیسر جی ایم اثر رہتے تھے جو گورنمنٹ کالج لاہور میں  اُردو کے پروفیسر تھے انکا تعلق مدراس سے تھا اور وہ انگریزی میں بھی ماہر مانے جاتے تھے۔ ایک اور فلیٹ میں معراج خالد رہتے تھے جو بعد میں کچھ عرصہ پاکستان کے وزیرِ اعظم بھی رہے ایک اور فلیٹ میں گوالمنڈی سے منتقل ہو کر  مستنصر حسین تارڑ کی فیملی بھی آ بسی تھی گو کہ اس وقت مستنصر حسین تارڑ نو عمر تھے اور انہوں نےمصنفی کی دینا میں قدم نہیں رکھا تھا۔۔ اس طرح جب منٹو اہلِ ادب کی سوسائٹی یا ساتھ چھوڑ کر بمبئی سے لاہور آئے تو انہیں ایک ادبی ماحول یا محلّہ یا ساتھ ملا  جس کے سبب وہ جلد ہی رسائل میں چھپنے لگے ۔

یوں بھی ہندوستان سے اہلِ علم و ادب کا ایک بہت بڑا گروہ لاہور منتقل ہوا تھا اس لئے بہت جلد لاہور سے اخبارات اور رسائل کا اجراء ہونے لگا  ۔ منٹو نےابتداً ادبی رسائل میں لکھنا شروع کیا۔ لیکن اس دور میں تقسیمِ ملک کے دوران ہونے والے مظالم نے ایک حساس مصنف کے قلم سے "کھول دو" جیسے افسانے کو جنم دیا  جس نے منٹو پر مشکلات کے دروازے کھول دیئے ۔ پھر ٹھنڈا گوشت جیسے افسانوں نے چودھری محمد حسین کی سربراہی میں ایک بھر پور محاذ کھول دیا۔ جس نے رسائل کے دروازے منٹو پر بند کردئیے اُس دور کے رسائل کے مدیران  احمد ندیم قاسمی۔ ہاجرہ مسرور ۔ اور عارف عبدالمتین  منٹو کے خلاف اس تحریک پر نالاں مگر مجبور نظر آئے۔ پھر منٹو نے مسعود عشر کی ادارت میں نکلنے والے ایک روزنامہ احسان کے لئے چند کہانیاں لکھیں لیکن یہ سلسلہ بھی جلد ختم ہوگیا۔ اس کے بعد منٹو نے اپنے بمبئی کے دوست  احسان بی اے  اور مرتضیٰ جیلانی کے اخبار مشرقی پاکستان  کے لئے چشمی روزن کے نام سے کالم نویسی شروع کی۔ لیکن چند روز بعد منٹو والا کالم بغیر عنوان کے خالی پایا گیا۔  اس کے بعد  روزنامہ آف میں منٹو نے مخصوص افراد کے شخصی خاکے لکھنا شروع کئے جس میں اشوک کمار، نرگس۔ نورجہاں۔ نسیم بیگم۔ کے علاوہ ادبی شخصیات  میرا جی۔ آغا حشر کاشمیری ۔ عصمت چغتائی کے خاکے لکھے جو بعد میں گنجے فرشتے نامی کتاب میں شائع ہوئے۔ انہی خاکوں میں "میرا صاحب " کے عنوان سے قائدِ اعظم کا خاکہ بھی تھا۔ ۔جو منٹو نے قائدِ اعظم کے بمبئی کے زمانے کے ڈرائیور حنیف آزاد کو انٹرویو کر کے لکھا تھا یہی آزاد بعد میں پاکستان فلم انڈسٹری کے معروف اداکار بنے۔ اس خاکے میں چند سطور دینا جناح سے متعلق بھی تھیں جنہوں نے وادّیا سے شادی کرلی تھی۔ جنہیں بعد میں سنسر کردیا گیا۔

‎    وائی ایم سی اے ہال لاہور کی ایک ادبی محفل میں منٹو نے چراغ حسن حسرت کی ہارٹ اٹیک سے رو بہ صحت ہونے والی محفل  میں حسرت صاحب پر ایک خاکہ پڑھا جس کا عنوان "بیل اور کتّا" تھا  اس خاکے میں مولانا کی شخصیت کے چند پہلووں کی عکّاسی منٹو نے اپنے مزاح کے اور تنقید ی انداز میں کچھ اس طرح کی کہ انتظامیہ نے منٹو کو درمیان میں روک کر اسٹیج سے اتر جانے پر مجبور کیا۔ مگر منٹو نے ایسا کرنے سے انکار کردیا جہاں محفل میں کافی بد مزگی ہوئی با آلا خر منٹو کی بیوی صفیہ انہیں اسٹیج سے اُتار نے میں کامیاب ہوئیں۔ جس پر منٹو نے کہا کہ میرے پاس ایسا کوئی کیمرہ نہیں ہے جو مثلاً آغا حشر کاشمیری کی تصویر سے اُن کے چہرے کے نشانات کو غائب کرسکے۔۔
‎یہاں سے منٹو کے زوال اور پریشانیوں کے دور کا آغاز ہوتا ہے۔ ایک وقت وہ تھا جب  میں وہ ۱۹۵۰ جب وہ گورنمنت کالج لاہور کی ایک ادبی محفل میں اپنا آرٹیکل " میں افسانہ کیسے لکھتا ہوں " پڑھنے آیا خوبصورت کشمیری رنگ کا چہرہ مہرہ گھنے سرخی مائل بال۔  گبرڈین کی براون شیروانی ۔ سلک کی پتلون۔ سلیم شاہی جوتا زیب تن کرنے والا خوبرو نوجوان کچھ عرصے بعد جب وائی ایم سی اے ہال میں حلقہء اربابِ ذوق کی محفل میں شرکت کے لئے آیا تو اُس کا چہرہ کملھا چکا تھا چہرے پر زردی کے آثار نمایاں تھے بالوں پر سفیدی گھر کرچکی تھی اور وہ اپنی عمر سے بوڑھا لگ رہا تھا۔ ایک پرانا اوور کوٹ پہنے ہوئے جس کا کالر اوپر کو اٹھا ہوا تھا اور اُس کے گہرے فریم کے چشمے سے اُس کی بڑی بڑی آنکھیں زرد نظر آرہی تھیں۔ پھر جب اُس نے اپنے مخصوص ڈرامائی انداز اور آواز کے زیر و بم سے اپنا افسانہ "ٹوبہ ٹیک سنگھ" سنایا تو افسانے کے اختتام پر تمام آنکھیں پُر نم اور ہال میں مکمل سکوت طاری تھا۔

‎       ایک وقت تھا جب شہر کے دانشوروں کی شاموں میں پاک ٹی ہاوس واقع انار کلی نزد نیلا گنبد، فیض احمد فیض۔ احمد فراز۔ منیر نیازی۔ کمال احمد رضوی، ناصر کاظمی۔ پروفیسر سید سجاد رضوی ۔ استاد امانت علی خان۔ اور انتظار حسین کے ساتھ منٹو کی موجودگی جانِ محفل سمجھی جاتی تھی۔ وہ اپنے برجستہ جملوں اور سنس آف ہیومر کے لئے مشہور تھا پھر اہلِ لاہور نے اس منٹو کو بھی دیکھا جو دیوانوں اور مد ہوشوں میں گنا جاتا تھا۔ دوست اُس سے کترا کر گذر جاتے تھے اس لئے کہ وہ ان سے ادھار مانگنے میں دیر نہ کرتا تھا۔ شام کسی رسالے مخصوص طور پر ڈائیریکٹر کے دفتر جابیٹھتا  اور وہیں ایک افسانہ لکھ کر دس روپئے وصول کرتا اپنی مخصوس شراب کی دکان ایڈلجی کا لکر اسٹور سے ساڑھے پانچ روپئے کی بوتل خریدتا۔ آٹھ آنے تانگے والے کو دے کر گھر جاتا اور باقی چار روپئے صفیہ کے ہاتھ آتے تھے۔  یہاں بر سبیلِ تذکرہ ایک بات کا ذکر ضروری ہے کہ غیر منقسم ہند کے زمانے میں جب بہت سے اہلِ ادب و شعراء کے ساتھ منٹو بھی آل انڈیا ریڈیو میں ملازم تھے وہاں ان کا باقاعدہ دفتر تھا جہاں وہ اپنا افسانہ ڈائریکٹ ٹائپ رائٹر پر لکھتے تھے اور افسانے کی تکمیل پر اپنے مخصوص انداز میں ٹائپ رائٹر سے کھر سے آخری کاغذ کھینچ کر نکالتے اور اسے اچھال دیتے ہوئے نعرہ لگاتے لو یاروں کا افسانہ ہوگیا۔ اپنے بیشتر افسانے انہوں نے اسی ٹائپ رائٹر سے لکھے جو آخری وقت تک ان کے ساتھ رہا منٹو کے انتقال کے بعد ن م راشد نے وہ ٹائپ رائٹر  ان کی فیملی سے خرید لیا تھا جو راشد صاحب کے انتقال کے بعد شیلا راشد سے ساقی فاروقی نے لے لیا جو انہوں نے گورمنٹ کالج لاہور کو تحفتاً دے دیا جو کافی عرصے وہاں ایک شو کیس میں سجا رہا اب مجھے اس کا علم نہیں ہے۔

‎ اپنی عمر کے آخری سات سالوں میں منٹو دی مال لاہور پر واقع بلڈنگ دیال سنگھ منشن میں مقیم رہے۔ جہاں اپنی زندگی کا آخری دور منٹو نے انتہائی افسوسناک گذارا۔ سستی شراب کے بے حد استعمال سے اس کا جگر بے حد متاثر ہوچکا تھا۔ اور آخر ۱۸ جنوری ۱۹۵۵ کی ایک سرد صبح اہلِ لاہور نے بلکہ ہند و پاک کے تمام اہلِ ادب نے یہ خبر سنی کہ اردو ادب کو تاریخی افسانے اور کہانیاں دینے والا منٹو خود تاریخ بن گیا۔ یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ اسی مجبور و نادار فاقہ کش اور قرض خواہ ادیب کو یہ اعزاز بھی حاصل ہوا کہ اس کی پچاسویں برسی کے موقع پر پاکستان پوسٹل آفس نے منٹو کی تصویر کا پانچ روپئے پوسٹل اسٹیمپ جاری کیا ۔

‎    زندگی کے آخری افسانوں میں ٹوبہ ٹیک سنگھ ۔ اس مجدھار میں ۔ موذیل اور بابو گوپی ناتھ نامی افسانوں نے شہرت پائی۔ منٹو کی تحریر اور ان کی کتب کی فہرست طویل ہے۔ ۱۹۴۰ میں افسانوں کا مجموعہ منٹو کے افسانے چھپا۔ ۱۹۴۱ میں دھواں ۱۹۴۲ میں افسانے اور ڈرامے ۱۹۴۸ میں  لذتِ سنگ۔ ۱۹۴۹  میں سیاہ حاشیے۔ ۱۹۵۰ مین بادشاہت کا خاتمہ۔ خالی بوتل۔ نمرود کی خدائی۔اور ٹھنڈا گوشت۔ ۱۹۵۱ میں یزید ۱۹۵۳ میں پردے کے پیچھے۔ سڑک کے کنارے۔ ۱۹۵۴ میں بغیر عنوان کے۔ اور منٹو کتے مرنے کے بعد ۱۹۵۵ میں بغیر اجازت۔ برقے۔   پھندنے۔  سرکنڈوں کے پیچھے۔ شیطان۔  شکاری عورتیں ۱۹۵۶ میں رتّی ماشہ تولہ۔ ۱۹۶۱ میں کالی شلوار ۱۹۶۳ میں منٹو کی بہترین کہانیاں اور ۱۹۷۱ میں طاہر سے طاہرہ طبع ہوئی۔


:دیگر مضامین
(13.07.2016) انہدام جنت البقيع اہل بيت اطہار پر ايک اور بڑا ظلم:۔از۔سید اکمل حسین
(12.07.2016) تاریخ اسلام کے تلخ حقائق میں دردناک حقیقت کتب خانوں کا نذر آتش ہونا ہے
(10.07.2016) عبدالستار ایدھی اس عہد میں دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان تھے
(08.07.2016) قران مجید میں 14 سجدہ تلاوت ہیں ۔۔ طریقہ سجدہ تلاوت و دعا ۔۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(06.07.2016) شوال کا پہلا دن عید سعید فطر ہے : ایس ایچ بنگش
(05.07.2016) شب القدر۔۔بخشش و راحت والی شب۔۔۔ از۔ شاہین اشرف علی
(01.07.2016) رمضان المبارک کا آخری جمعہ یوم ال قدس کے طور پر منایا جاتا ہے
(30.06.2016) شبہائے قدر کس تاریخ کو ہوں گی کیا اس کی فضلیت ضد کی نزر نہیں کی گئی
(29.06.2016) رمضان المبارک کا آخری عشرہ ۔۔ عشرہ توبہ ۔از؛ نگہت نسیم
(27.06.2016) شان علی ۔۔ “جس جس کا میں مولا اس اس کا علی مولا “ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(25.06.2016) ارشاد رسول ہے۔ جس کا میں مولا ہوں اس کا علی مولا ہے
(24.06.2016) ڈربی میں ایشیائیوں خاص طور پر مسلمانوں میں جسمانی اعضا عطیہ کرنے کی مہم
(23.06.2016) سترہ رمضان فتح جنگ بدر کا دن، تاریخ اپنے آپ کو دہرانے جا رہی ہے
(21.06.2016) نواسہ رسول ،داعی امن ،امام حسن ابن علی کی سیرت ایک نمونہ عمل ہے
(18.06.2016) ام المومنین سیدہ خدیجۃالکبریٰ
(16.06.2016) آج 10 رمضان ہے ،آیئے ہم سب مل کر اپنے پروردگار سے دعا کرتے ہیں
(15.06.2016) آج 9 رمضان ہے ،آیئے ہم سب مل کر اپنے پروردگار سے دعا کرتے ہیں
(14.06.2016) رمضان المبارک کا ایک ایک لمحہ بخشش کی خاص ضمانت ہے
(12.06.2016) رمضان مبارک کی چھٹے دن کی دعا ۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
(11.06.2016) رمضان مبارک کی پانچویں دن کی دعا ۔ ڈاکٹر نگہت نسیم



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں