18.10.2026, 04:55am , اتوار (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

لاہور میں عزاداری کی تاریخ(آخری قسط)۔
03.01.2010, 01:05am , اتوار (GMT+1)

صفدر ھمدانی ۔لندن

  تاریخ عزاداری ایک طویل اور تحقیق طلب موضوع ہے جس پر مجھ جیسے طالب علم کا لکھناخود اپنے طور پر تحصیل علم کا ایک ذریعہ ہے۔ ان چار کالموں کی اشاعت کے بعد مختلف حلقوں اور گوشوں سے جو پزیرائی ملی ہے اس سے موضوع کی اہمیت اور مقبولیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

میں نے آغاز میں ہی یہ عرض کر دیا تھا کہ اس موضوع کی وسعت کا مجھ جیسا ایک طالب علم متحمل نہیں ہو سکتا لیکن فقط ایک لگن کی جستجو کی وجہ سے جو کچھ لکھ پایا ہوں وہ اس کا عشر عشیر نہیں جس کا یہ موضوع طالب ہے۔

انشااللہ اگر قسمت نے یاوری کی اور زندگی کی اس بے ہنگم مصروفیت نے کچھ وقت دیا تو ایک منصوبے کے تحت اس موضوع پر بالتحقیق لکھوں گا اور لکھنؤ کے بعد عزاداری کے فروغ میں پاکستان کے صوبہ پنجاب نے جو اہم کردار ادا کیا ہے اس پر بالتفصیل لکھوں گا۔

گزشتہ تیسرے کالم کے اختتام پر میں نے عرض کیا تھا کہ ‘‘ آخری کالم میں صرف لاہور کی بات ہو گی‘‘۔ یہ بھی بتاتا چلوں کہ صرف لاہور کے محرم کی تاریخ لکھنے کے لیئے بھی کم از کم ایک درمیانی ضخامت کی کتاب درکار ہے۔

 لاہور کے حوالے سے ابھی تک نواب خاندان کی خدمات کا اجمالی ذکر ہوا تھا اور بات لاہور کے عزاداری کے دوسرے بڑے مرکز‘‘وسن پورہ‘‘ تک پہنچی تھی جو اتفاق سے وہ علاقہ ہے جہاں میری اپنی پیدائش ہوئی تھی۔

پرانے دریائے راوی کے کنارے سے کچھ دور آباد ہونے والی اس بستی میں لاہور کی اہل تشیح کی پہلی جامعہ مسجد علامہ سید علی الحائری کے والد  شمس العلما مولانا ابوالقاسم نے تعمیر کروائی تھی۔

میرا اپنا خاندان اور علامہ سید علی الحائری کا خاندان عشروں تک اوائل سے ہی ایک ساتھ یہاں رہا ہے۔ وسن پورہ میں ہمارے گھر کا دروازہ اور مسجد علامہ حائری کا دروازہ بالکل آمنے سامنے تھے اور اسکے میناروں سے پانچ وقت اذان کی آواز دور دور تک مسلمانوں کی حئی الالفلاح اور حئی الالصلٰوہ کی دعوت دیتی تھی۔

یہ کوئی صدیوں پہلے کی بات نہیں بلکہ چند عشروں پہلے کی بات ہے جب ہم ابھی بچے تھے اور نوجوانی کی طرف قدم بڑھا رہے تھے کہ وسن پورہ سمیت لاہور کے کتنے ہی ایسے علاقے تھے جہاں عزاداری فروغ پا رہی تھی اور ان تمام علاقوں میں سُنی اور شیعہ کا کوئی فرق نہیں تھا۔ سب مسلمان شیعہ سُنی مل کر نواسہ رسول کا غم مناتے تھے۔

مجھے آج بھی بہت اچھی طرح یاد ہے کہ وسن پورہ میں علامہ حافظ کفایت حسین قبلہ کی مجالس میں بعض اوقات اہل تشیع سے زیادہ تعداد اہل سنت کی ہوتی تھی۔ اور کیوں نہ ہوتی؟ شاعر انقلاب حضرت جوش ملیح آبادی نے تو یہ سچی بات یہاں تک کہی تھی کہ ‘‘ کیا صرف مسلمانوں کے پیارے ہیں حسین‘‘۔

ہم اس بات میں کیوں اچنبھا محسوس کرتے ہیں کہ کربلا والوں کی یاد میں ہونے والی مجالس میں اہل سنت بھی شرکت کیا کرتے تھے۔

میں تو یہ بھی جانتا ہوں کہ ہمارے محلے میں ایک مسیحی خاندان رہا کرتا تھا جس کے سربراہ مرحوم ماسٹر رلیا رام تھے اور پھر انکے بیٹے آر سی سوڈھی پورے محلے میں ایک استاد کے طور پر بڑی عزت سے دیکھے جاتے تھے اور انہی سوڈھی مرحوم کا بھائی‘‘جان کرسٹوفر‘‘ جو بعد میں میجر ہو کر پاک فوج سے ریٹائرڈ ہوا اور آج کل برطانیہ میں نوٹنگھم کے علاقے میں مقیم ہے وہ جان کرسٹوفر بھی ہم سب شیعہ سنی افراد کے ساتھ مجالس میں شریک ہوتا تھا اور کبھی کبھی اہل تشیح دوستوں کے ساتھ ماتم بھی کیا کرتا تھا۔ یہی نہیں جان کرسٹوفر رمضان میں ہمارے ساتھ مل کر روزہ بھی رکھتا تھا۔

یہ تو صرف ایک مثال ہے جس کا گواہ میں خود ہوں اس کے علاوہ بھی سینکڑوں ایسی مثالیں موجود ہوں گی جہاں مخلتف مسالک کے لوگ نہیں بلکہ سب مسلمان مل کر نواسہ رسول کی قربانی کی یاد مناتے ہوں گے۔ یہ ساری تباہی اور بربادی جنرل ضیا الحق کے زمانے میں پروان چڑھی نے جس نے اپنی حکومت بچانے کے لیئے مسالک کے درمیان نفرتوں کو فروغ دیا اور پھر یہ نفرتیں اس قدر بڑھیں کہ صحابہ اور آلِ محمد کی تعلیمات کے برعکس سپاہ صحابہ اور اسکے مقابلے میں سپاہ محمد بنی جنہوں نے اسلام کی وہ خدمت کی کہ غیر مسلم کہنے لگے کہ مسلمانوں کے خلاف رقم خرچ کرنے کی ضرورت ہی نہیں وہ خود ہی اپنے آپ لڑ لڑ کے مر جائیں گے۔

 یہ ساری تفرقہ بازی کس نام پر ہوئی؟ اسلام کے نام پر کہ جس کا خمیر ہی امن وسلامتی سے اٹھا ہے۔

خیر یہ ایک ایسا الگ تکلیف دہ موضوع ہے کہ جس پر کسی محقق کو بے لاگ طریقے سے کبھی لکھنا چاہیئے کہ فقہی اور علمی اختلافات سے ہٹ کر ان جاہلانہ مستقل مسلکی تفرقات کی بنیاد کس نے رکھی اور کس کس نے اسے پروان چڑھایا کہ اس تفرقے نے ہماری طاقت بکھیر کر رکھ دی۔

لاہور میں عزاداری کے میدان میں نواب خاندان کی خدمات کے بعد لاہور میں عزاداری دوسرا بڑا تاریخی مرکز وسن پورہ میں ہے جہاں عزداری کی بنیاد مولاناسید علی الحائری کے والد شمس العلما مولانا ابوالقاسم نے ڈالی تھی اور انہیں کے گھر میں بعد ازاں پہلا جامعہ المنتظر کھلا تھا جو بعد میں ماڈل ٹاؤن منتقل ہو گیا۔

علامہ سید علی الحائری کے والد شمس العلما مولانا ابوالقاسم کو دراصل پہلی بار نواب قزلباشوں نے ہی مجلس خوانی کے لیئے لاہور مدعو کیا تھا اور یہ بات سن اٹھارہ سو کے درمیانی عشروں کی ہے۔ پھر اسی زمانے میں وسن پورہ میں جو ابھی پوری طرح آباد نہیں ہوا تھا میرے دادا صفدر ھمدانی اور علامہ سید علی الحائری باہم دوستی کے رشتے میں منسلک ہونے کی وجہ سے ایک ہی جگہ سکونت پزیر ہوئے۔

علامہ حائری کےوالد ابوالقاسم نے وسن پورہ کی زمین خریدی تھی اور یہیں میرے دادا نے بھی انہی کے گھر سے متصل زمین خریدی اور یہیں پر اہل تشیح کی لاہور میں باقاعدہ پہلی جامع مسجد علامہ حائری کا قیام عمل میں آیا اور علامہ قاسم نے مختصر پیمانے پر ایک مدرسہ اور کتب خانہ بھی قائم کیا اور اسی مسجد میں عزاداری کا سلسلہ شروع ہوا جہاں نو محرم کو ذوالجناح کا جلوس نکلنا شروع ہوا اور یہ روایت آج تک قائم ہے۔


شمس العلما مولانا ابوالقاسم کی وفات 1906میں ہوئی جس کے بعد یہ سب انتظام انکے بیٹے علامہ سید علی الحائری نے سنبھالا اور انکی وفات کے بعد علم کا یہ در اس خاندان میں بند ہو گیا لیکن علامہ حائری کے بیٹوں نے مسجد میں نماز اور عزاداری کا سلسلہ قائم رکھا۔

میں ان خوش نصیب لوگوں میں سے ہوں جس نے علامہ حائری کے سب بیٹوں کو دیکھا اور ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھے کی سعادت بھی حاصل رہی۔ علامہ حائری کے بیٹوں میں آغا سید رضی ،آغا سید ذکی اور آغا سید تقی سب وفات پا چکے ہیں اور اب یہ خاندان لگ بھگ سارے کا سارا وسن پورہ چھوڑ کر لاہور کی جدید آبادیوں میں مقیم ہو چکا ہے۔
 
علامہ سید علی الحائری کی تین بیٹیاں تھیں جن میں خالہ سائرہ جن کے شوہر آغا سید رضی تھے جو ہمارے بچپن میں  کالا شاہ کاکو کے حادثے میں ہلاک ہوئے تھے۔ پھرخالہ ذکیہ جن کے شوہر آغا سید حامد حسین تھے جنہوں نے ستر کے عشرے میں لاہور گلبرگ میں مجالس کا سلسلہ شروع کیا تھا۔

آغا حامد کے بیٹوں میں سلیم، نعیم اور حسنی ہیں۔ نعیم فلمی دنیا کے مقبول کیمرہ مین رہے ہیں جنہوں نے اپنے وقت کی مایہ ناز فلم سٹار دیبا سے شادی کی تھی۔ حسنی میرے ساتھ لاہور کے ایف سی کالج میں تھا اور اب شاید امریکہ میں مقیم ہے ۔


علامہ حائری کی سب سے چھوٹی بیٹی خالہ عالیہ تھیں جنکے شوہر سید تقی تھے جنہیں ہم سب آغا بابا کہتے تھے۔

ہو سکتا ہے کہ بہت سے احباب کو اس تفصیل سے کوئی دلچسپی نہ ہو لیکن میں نے اسے اس لیئے لکھ دیا کہ ایک بار یہ سب باتیں محفوظ ہو جائیں کہ اس سے قبل ایسے جید اصحاب کے خاندانوں کے بارے میں کہیں بھی کچھ نہیں لکھا گیا۔

 یہاں ایک اور تاریخی حقیقت کی طرف صرف اشارہ کرتا چلوں جو مجھے میرے والد مرحوم مصطفیٰ علی ھمدانی نے بتائی تھی اور اس بات کا ذکر انہوں نے لاہور کی عزاداری کی تاریخ کے موضوع پر بنائی جانے والی ریڈیو لاہور کے اس واحد دستاویزی پروگرام میں کیا تھا جو شاید اب ریڈیو پاکستان کے آرکائیو میں بھی موجود نہ ہو حالانکہ اس پروگرام کو میں نے خود اپنے ہاتھوں سے سنٹرل پرڈکشن کے آرکائیو رجسٹر میں درج کیا تھا۔

یہ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ لاہور کے دس محرم کے تاریخی جلوس کا جو راستہ ہم گزشتہ کئی عشروں سے دیکھ رہے ہیں دراصل یہ وہ (روٹ)راستہ نہیں ہے جو ابتدا میں تھا۔ 1850کے عشرے میں موچی دروازے سے دس محرم کے ذوالجناح کا پہلا جلوس مبارک حویلی سے نکلا تھا کیونکہ اسوقت نثارحویلی الگ نہیں تھی۔

یہ تو بعد میں 1928میں خاندانی تنازعوں اور جائیداد کی تقسیم کی وجہ سے عمل میں آئی اور یہ جلوس نثار حویلی سے نکلنے لگا۔ بر سبیل تذکرہ تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیئے عرض کرتا چلوں کہ کوہ نور ہیرا ایک زمانے میں اس مبارک حویلی میں بھی رکھا گیا تھا۔مرحوم شاہد نقوی نے بھی اپنی تحیقی کتاب‘‘عزاداری‘‘ میں اس تاریخی جلوس کا جو راستہ لکھا ہوا ہے وہ بھی موجودہ راستہ ہے۔

ابتدا میں دس محرم کی نصف شب میں نثار حویلی سے برآمد ہو کر نماز فجر تک محلہ شیعاں میں پہنچتاجہاں فجر کی نماز ادا کی جاتی اور پھر یہاں سے لال کھوہ سے ہوتا ہوا جلوس کیلیاں والی سڑک پر نکل جاتا جسے آج کل براندرتھ روڈ کہا جاتا ہے۔

 اس کیلیاں والی سڑک سے جلوس سیدھا انار کلی کے باہر سے ہوتا ہوا بھاٹی دروازے پہنچتا تھا جہاں سے داتا دربار کے عقب میں کربلائے گامے شاہ میں اسی جگہ اختتام پزیر ہوتا تھا جہاں آج تک ہوتا ہے۔ اس طرح اس بڑے اور کشادہ راستے پر اس تاریخی عظیم الشان جلوس کی شان ہی کچھ اور ہوتی تھی۔

بتایا جاتا ہے کہ 1958میں جب وہ اسوقت کے مغربی پاکستان کے چیف منسٹر مقرر ہوئے تو حکومت کے ارباب بست وکشاد نے انہیں اس راستے کو تبدیل کرنے کو کہا۔ سیاست اور سیاست دانوں کی اپنی دنیا اور اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں۔ ہمارے بزرگ بتاتے تھے کہ نواب مظفر علی خان قزلباش نے اپنی چیف منسٹری کے زمانے میں اس راستے کو تبدیل کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی اور آج یہ تاریخی جلوس اندر ہی اندر تنگ و تاریک گلیوں اور بازاروں سے ہوتا ہوا کربلائے گامے شاہ پہنچ کر ختم ہوتا ہے اور باہر دنیا کو یہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ کتنا بڑا اور کیساتاریخی جلوس ہے۔

پاکستان کے قیام کے بعد خاندان نواباں کے نواب مظفر علی خان  واحد آدمی تھے جو سیاست میں آنے کے باعث معروف ہوئے اور انکے بعد انکی بیٹی افسر رضا قزلباش۔

نواب مظفر علی سیاستدان کے طور پر پہلے یونینسٹ،پھر مسلم لیگی اور پھر رپبلکن پارٹی میں رہے اور اسی پارٹی کے جھنڈے تلے 1957میں وزیر اعظم اسماعیل چندریگر کی کابینہ میں وزیر صنعت رہے۔اسی سن میں وزیر اعظم فیروز خان نون کی حکومت میں صنعت،تجارت اور
پارلیمانی امور کے وزیر رہے اور اٹھارہ مارچ 1958میں مغربی پاکستان کے چیف منسٹر مقرر ہوئے اور سکندر مرزا کے مارشل لا تک اس عہدے پر تھے۔پھر ایوب خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد جنرل یحییٰ کے مارشل لا میں نواب مظفر علی خان 4اگست1969سے 22فروری1971تک وزیر خزانہ رہے۔

1958کے بعد سے اب تک اس جلوس کا راستہ یہ ہے کہ نثار حویلی سے نکلنے کے بعد محلہ چہل بیبیاں سے ہوتا ہوا محلہ شیعاں کی مسجد میں پہنچتا ہے جہاں اذان اور نماز فجر کے بعد زنجیر زنی ہوتی ہے۔ یہاں سے یہ جلوس چوہٹہ مفتی باقر،چوک مسجد وزیر خان،کشمیری بازار،ڈبی بازار،چوک رنگ محل،گمٹی بازار،پانی والا تالاب، تحصیل بازار اور بازار حکیماں سے ہوتا ہوا گامے شاہ پہنچ کر ختم ہوتا ہے۔

بازار حکیماں وہی جگہ ہے جہاں 1933اور1935 کے درمیان سر مراتب علی شاہ نے امام باڑہ سیدہ مبارک بیگم تعمیر کروایا جہاں لاہور کے قدیمی اور معروف مجالس منعقد ہوتی رہیں اور یہ سلسلہ تا دم تحریر جاری ہے۔ اسی علاقے میں  کوچہ فقیر خانے میں امام باڑہ فقیر سید حسن الدین بھی معروف ہے۔

شہر کے اندر ہی اندر اس جلوس کے نکلنے کا ایک نقصان یہ بھی ہوا کہ تین یا چار بار بہت شدید شیعہ سنی فسادات اسی جلوس کے موقع پر اندرون شہر میں ہوئے۔1963میں بھاٹی دروازے کی اونچی مسجد ے ذوالجناح پر انیٹوں کی بارش کی گئی جس سے کئی ہلاکتیں بھی ہوئیں اور لاہور شہر کی فضا کافی عرصے تک خراب رہی۔

ایک زمانہ تھا جب لاہور میں واحد ذوالجناح نوابین کا تھا لیکن پھر الف شاہیوں اور آغا شاہ زمان نے بھی ذوالجناح رکھنے شروع کیئے اور اب آج دو ہزار آٹھ میں لاہور میں ساٹھ سے زیادہ ذوالجناح ہیں اور شہر میں سات محرم کو سات ذوالجناح نکلنے کی روایت بدستور قائم ہے۔

لاہورشہر کے طول وعرض میں ایک ہزار سے زیادہ مقامات پر مجالس امام حسین کا سلسلہ محرم کی پہلی شب سے شروع ہوکرچہلم امام تک جاری رہتا ہے اور اسی طرح لاہور میں کربلا گامے شاہ بھی محرم کی مجالس کا ایک مرکزی نکتہ ہے۔

اسی طرح آہستہ آہستہ لاہور میں جو عزاداری کے مراکز قائم ہوئے ان کی تعداد بلا مبالغہ اتنی ہے کہ صرف یہ نام لکھنے کے لیئے ایک مکمل کتاب درکار ہے لیکن اسوقت میں نہایت اختصار سے چند  عزا خانوں کی صرف فہرست لکھ رہا ہوں

موچی دروازہ میں مبارک اور نثار حویلی اور وسن پورہ کی مسجد علامہ حائری کے علاوہ ہزاروں عزا خانوں میں سے چند نام اس طرح ہیں۔ رباط حیدریہ موچی دروازہ، حسینہ حال جس کا پرانا نام امام باڑہ تکیہ نتھے شاہ تھا،امام باڑہ ارسطو جاہ رجب،امام باڑہ سید واجد شاہ،امام باڑہ کشمیریاں،امام باڑہ شیر گڑھیاں،امام باڑہ غلام علی اور ڈپٹی غلام حسن، امام باڑہ رضا شاہ صفوی،امام باڑہ ایوب شاہ،امام باڑہ لال حویلی،امام باڑہ خواجگان نارووالی، امام باڑہ جعفر علی میر،امام باڑہ قصر سکندر، امام باڑہ غریب نینوا، امام باڑہ امیر پہلوان اور اکبر شاہ، امام باڑہ سیدے شاہ اور خواجہ علی محمد، امام باڑہ بازار حکیماں اور تکیہ میراثیاں، امام باڑہ مائی عیداں، حسین منزل، مبارک بیگم،کاشانہ رضویہ، گامے شاہ،ایرانیاں، حسینیہ پاک نگر، مرزا نتھا، ڈاکٹر ریاض علی شاہ(جہاں لاہور میں صبح کی سب سے پہلی مجلس ہوتی ہے) امام باڑہ علی مسجد، قصر حسن، مسجد نور، رشی بھون، شیخ سعادت علی، سید اظہر حسن زیدی، عطیہ اہلبیت، دربار حسینی، بھوگیوال، ریلوے بیرکس، بی بی پاک دامناں، قصر زہرہ، آغا شاہ زمان، امام باڑہ مظفر علی شمسی،حافظ کفایت حسین، کرنل فدا حسین، سجادیہ، خواجہ ذوالفقار علی، امامیہ ہال،خیمہ سادات، بیت السادات، باغ گل بیگم، قصر بتول، سید شوکت حسین رضوی، سادات منزل،گلستان زہرا، خانہ زینبیہ، نجف منزل، شاہ نجف گلبرگ، اسد بخاری، میڈم نور جہان، مراتب علی شاہ، علی رضا آباد، کلسی ہاؤس،زیدی ہاؤس، پانڈو سٹریٹ، بلاک سیداں، بلتستانیہ، جامعی المنتظر،سیٹھ نوازش علی، کوٹھے پنڈ، مرزا محمد عباس،  مومن پورہ،باٹا پور، سید حسن عباس زیدی، وجاہر عطرے، عالم شاہ، سیدن شاہ، جیا موسیٰ، کٹرہ ولی شاہ، الف شاہ دلی دروازہ، سوڈیوال، شاہ خراسان، محلہ داراشکوہ،حویلی میاں خان، لال پُل مغلپورہ اور کاشانہ شیخ دولت علی۔

لاہو رمیں اردو مجالس کے علاوہ فارسی،عربی ،پنجابی اور کشمیری مجالس کا بھی رواج رہا ہے جووقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب ختم ہو چکا ہے یا پھر شاید کسی ایک جگہ پر جاری ہو۔ کشمیری مجالس کا رواج تو ابھی ستر کے عشرے کے اوخر تک خوب تھا اور کشمیری ذاکرین میں موسیٰ شاہ اور احمد علی کو بہت مقبولیت تھی۔

اسی طرح لاہور میں جن علما نے اپنے علم و فضل کے چراغ روشن کیئے ان میں مہدی خطائی، ملا ابراہیم، ملا معصوم، ملا فقیر اللہ، عماد الدین، راجو بن حامد، ابوالقاسم حائری، سید علی الحائری، شیخ عبدالعلی ہروی تہرانی، آغائے بارھوی، ارسطو جاہ سبزواری، شمس العلما سید سردار حسن، علامہ ابن حسن نو نہروی، علامہ ہندی، سید کلب حسین، ضمیر الحسن نجفی، حافظ کفایت حسین اور لکھنؤ کے علامہ نقی عرف نقن میاں  حافظ ذوالفقار علی ،مولانا اظہر حسن زیدی، فاتح ٹیکسلا مولانا بشیر، ابن حسن نجفی، مرزا یوسف حسین اور ضامن حسین،   مولانا ظفر مہدی، حافظ سیف اللہ، اسمعیل دیو بندی، مرتضیٰ حسین فاضل، نصیر الاجتہادی ، مفتی جعفر حسین ،مولانا اختر عباس، علامہ طیب الجزائری، مولانا اکبر عباس اور افسر عباس، سید محمد جعفر زیدی „ محبوب ھمدانی اور سید ظفر حسین  کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اسی فہرست میں ایک نام غلام الحسنین ‘‘پنڈت نیک رام‘‘ کا ہے جنہیں سننے کی سعادت ہمیں بھی نصیب ہوئی۔ عشق شبیر کی لو کب اور کہاں بھڑک اٹھے کچھ علم نہیں ۔ اسی کا اعجاز پنڈت نیک رام تھے جو ہندو سے شیعہ ہوئے تھے اور پھر انہوں نے اپنی ساری زندگی فضائل و مصائب آل محمد بیان کرنے میں گزار دی۔

اسی طرح سے لاہور میں،ذاکرین، مرثیہ نگاروں، شعرائے اہلبیت، سلام ،سوز اور نوحہ خوانوں کی بھی ایک نہایت طوپل فہرست ہے جن میں سے چند نام یہ ہیں۔ منظور حسین برا، ریاض حسین موچھ، سائیں اختر حسین، حامد علی بیلا، بشیر علی ماہی، رجب علی، سید ناصر جہان، نذر حسین، پرویز مہدی، میر ناظم حیسن ناظم، شکور بیدل، اداکار محمد علی، منظور جھلا،سید نازش رضوی، آفتاب حسین لکھنوی، فیروزعلی کربلائی، مشیر کاظمی، فیروز علی کربلائی، ظہور حیدر جارچوی ۔ کاظمی برادران۔ سہیل بنارسی۔ سید جرار حسین۔سید محسن علی۔امانت علی فتح علی، پیارے خان، حسین بخش گلو، چھوٹے غلام علی، شوکت علی، غلام علی، ڈاکٹر صفدر حسین، فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی حکیم احمد شجاع،قیصر بارھوی، وحید الحسن ہاشمی،پروفیسر مسعود رضا خاکی، میر ناظم حسین ناظم،سیف زلفی، ظفر شارب، جعفر طاہر، جوش ملیح آبادی اور ایسے ہی کتنے ناموں کو بھلایا نہیں جا سکتا۔

مرثیہ تحت اللفظ کے بعد اب جیسے علما اور جید خطبا کا عہد ختم ہو چکا ہے اور مجالس پڑھنے والوں میں کمرشل ازم کے رواج نے علمی اور فکری مجالس کا خاتمہ کر دیا ہے۔ اب محرم کی مجالس میں  مقبول ذاکروں، نوحہ خوانوں کی آڈیو اور ویڈیو کیسٹیں اور سی ڈیز بڑی تعداد میں رواج پاگئی ہیں اور پہلی محرم سے کیبل آپریٹرز نے چند چینلوں کو دن رات کے لیے مسلسل مجالس اور نوحہ خوانی کے پروگراموں کے لیے مخصوص کردیا ہے جو محرم کی تقریبات میں ایک نیا اضافہ ہے۔ اسی طرح ٹی وی چینل اور ایف ایم ریڈیو کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ پر بھی ریکارڈ شدہ مجالس کے ساتھ ساتھ براہ راست یعنی لائیو مجالس کا نشر کرنا بھی رواج پا گیا ہے۔

محرم کی مجالس کا بنیادی پہلو تو مذہبی ہے لیکن اس سےانکار نہیں کہ لاہور شہر کی تہذیبی روایات بھی اس میں گہری پیوست ہیں اور بہت بڑے پیمانے پر ہونے والی نذر نیاز اور لاکھوں لوگوں کے شہر میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کےلیے ٹرانسپورٹ کے استعمال سے کاروبار کو جو فروغ ملتا ہے وہ اس کا ضمنی پہلو تو ہے لیکن کم اہم نہیں۔

مجھے اس امر کا ادراک بھی ہے اور اعتراف بھی کہ میں موضوع کے ساتھ انصاف نہیں کر پایا۔ ابھی بھی صرف لاہور کے محرم کے اتنے پہلو باقی ہیں کہ جن پر لکھا جانا چاہیئے جیسے وہ مجالس جو صبح سے شروع ہو کر رات تک جاری رہتی ہیں۔

میں نے صرف پہلے سے کی گئی تحقیق میں بس ایک جرعہ تحقیق شامل کیا ہے۔ دعویٰ ھمہ دانی کا قطعی نہیں۔ اس تحریر میں اگر کوئی کمی یا خامی رہ گئی ہے تو وہ میری کم علمی ہے۔ علم میں اضافے کی دعا کے لیئے کوئی وقت یا دن معین نہیں۔ یہ دعا ہر کوئی ہر وقت اور ہر جگہ کر سکتا ہے۔

دنیا یہ نہ ہو گی مگر اسلام رہے گا
شبیر   بہر   حال  تیرا  نام   رہے گا(نجم آفندی)

:دیگر مضامین
(01.01.2010) لاہور میں عزاداری کی تاریخ(3)
(30.12.2009) لاہور میں عزاداری کی تاریخ(2)
(28.12.2009) لاہور میں عزاداری کی تاریخ(1)
(16.12.2009) مولوی جلال الدین بلخی،وفات 17 دسمبر
(15.12.2009) پاکستانی فلم لال طوفان کا ایک مقبول پنجابی نغمہ
(11.12.2009) سوئس منی لانڈرنگ کیس کے شواہد کی منتقلی کی وڈیو
(11.12.2009) فیصل آباد: 35 ہزارشمعیں روشن کرکےعالمی ریکارڈ قائم کردیا گیا
(10.12.2009)  ڈنمارک میں ماحولیاتی تبدیلی پر عالمی کانفرنس
(09.12.2009) ماحولیات سے متعلق کانفرنس میں اختلافات ۔از؛گوہر نذیر گیلانی
(08.12.2009) برلین کے شہر کے وسط میں پانی سے چلنے والی گھڑی
(07.12.2009)  کوپن ہیگن میں ماحولیاتی کانفرنس جاری ہے۔از؛ ندیم گِل
(07.12.2009) معروف شاعر،ادیب مترجم اور محقق باقر نقوی کی نئی کتاب
(06.12.2009) عید غدیر آپ سب کو مبارک ہو
(06.12.2009) ایک تھی بابری مسجد ۔از؛ سید حسین افسر ۔لکھنو
(05.12.2009) عظمتِ آبائے رسول
(04.12.2009) بابری مسجد کی مسماری کی سترویں برسی کے موقع پر ماحول گرم
(02.12.2009) این آراو کیخلاف درخواستیں، سپریم کورٹ کا لارجر بینچ تشکیل پاگیا
(02.12.2009) قیام امن کیلئے مزید 30 ہزار فوجی افغانستان جائیں گے
(01.12.2009)  یکم دسمبر ایڈز کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے
(01.12.2009) عید پر بڑی تعداد میں لوگ موہنجو دڑو کے آثار قدیمہ پر گئے



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں