16.10.2026, 11:48pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » صفدر ھمٰدانی
 

عراق پر امریکی قبضے کے چار سال مکمل ہو گئے
14.10.2008, 01:45pm , منگل (GMT+1)

صفدر ھمٰدانی-لندن
عراق میں امریکی قیادت میں یلغار کو چار سال مکمل ہو گئے اور اس دوران عراق میں امن قائم ہونا تو درکنار بلکہ خود کُش حملوں، فرقہ وارانہ ہلاکتوں، قتل وغارت اور دہشت گردی میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔
آزادی اور جمہوریت کے نام پر چار سال سے عراق میں جو خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے اور اب عراق کی فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کے منسوبے کو عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے اس سے امریکہ اور اسکے حواریوں کے عزائم تو کھُل کر سامنے آ گئے ہیں لیکن عالمِ اسلام کے غالب تعداد میں خفتہ ضمیر اور ملت فروش حکمرانوں کی آنکھوں پر ناعاقبت اندیشی کی ایسی پٹی بندھی ہے جو انہیں اپنے محلات اور حرم سراؤں کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں سوچنے دیتی۔ اس نا گفتہ صورت حال میں امریکہ میں حالیہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والے ڈیموکریٹس نے امریکی صدر بش کے لیئے یہ کہتے ہوئے شدید مشکلات پیدا کر دی ہیں کہ وہ عراق سے امریکی فوجوں کی واپسی کی تاریخ طے کریں۔ اسی قسم کی صورت حال کا سامنا برطانیہ کے وزیر اعظم ٹونی بلیئر کو بھی ہے جو اشک شوئی کی خاطر اس سال چند ہزار برطانوی فوجیوں کی عراق سے واپسی کا اعلان کر چکے ہیں۔ قابض افواج عراق میں وسیع پیمانے پر تباہی کے وہ ہتھیار برآمد کرنے میں بھی ناکام رہیں جن کو بنیاد بنا کر عراق پر حملہ کیا گیا تھا۔اس دوران جو کچھ ہوا ہے اور اس چار سال کے عرصے میں عراق کی معیشت،ثقافت اور تہذیب کو جس طرح تباہ و برباد کیا گیا ہے وہ ایک طویل اور دل ہلا دینے والی داستان ہے جسے لکھنے کے لیئے صفحات نہیں کتابیں درکار ہیں لیکن حد درجہ افسوسناک بات یہ ہے کہ عالمِ اسلام کے ناعاقبت اندیش حکمرانوں کا اس بات کا ذرہ بھر احساس تک نہیں کہ ایک اسلامی ملک کو کس طرح نیست و نابود کیا جارہا ہے اور اسکے وسائل سے قابض فوجیں مستفید ہو رہی ہیں۔ یہ جبہ پوش حکمران آج بھی اپنے آقا امریکہ کو خوش کرنے میں لگے ہوئے اور اپنے مستقبل سے آنکھیں بند کیئے ہوئے ہیں۔ جب امریکہ اور برطانیہ نے عراق پر حملہ کیا تھا تو واشنگٹن اور لندن میں توقع کی جا رہی تھی کہ جب ایک سال بعد عراقی اپنی ’آزادی‘ کی پہلی سالگرہ منائیں گے تو کیک کا پہلا نوالہ ان کے جرنیلوں کو پیش کیا جائے گا۔ آج جب عراق پر قبضے کی چوتھی سالگرہ منائی جا رہی ہے تو اتحادی فوجیوں کو تحفے میں ملے ہزاروں تابوت، لاتعدادزخمیوں اور امریکہ و برطانیہ سمیت انکے سب اتحادیوں کے لیئے عراقیوں سمیت دنیا بھر کی جانب سے تنقید اور بےزاری کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔ ان چار برسوں میں قابض فوجوں نے عراق کے ساتھ کیا کیا اور عراق پر قبضہ کرنے والوں نے اسے کیسے کیسے لوٹا اور جعفرو صادق کی نسل کے حکمرانوں نے کیسے اپنے ہی عوام کے خون سے ہاتھ رنگے۔ یہ ساری کہانی عبرت کی داستان ہے۔ اس جنگ سے اور کچھ بھی حاصل نہ ہو ا سوائے اس کے کہ صدام حسین کے دور جبر کا اختتام ہو گیا جو خود عراقیوں اور ہمسایہ ممالک کے لئے باعث اطمینان ہے لیکن عراق کی زمین کو اسکی بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔ امریکی سربراہی میں عراق میں ایک کٹھ پتلی حکومت بن گئی اور ملک کا نیا آئین بھی منظور ہو گیا اور بظاہر منتخب نمائندوں کو اقتدار کی منتقلی بھی ہو گئی لیکن لاشیں اٹھانے اور دفنانے کا ایک ایسا سلسلہ جاری ہے جو رکنے کا نام نہیں لیتا اور نہ ہی اس کے خاتمے کے کوئی آثار نظر آ رہے ہیں۔ ان چار برسوں میں کتنے عراقی فوجی مارے گئے یہ تو کوئی بھی نہیں جانتا لیکن شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق شاید کوئی بھی نہ کر پائے لیکن یہ طے ہے کہ قابض فریق کے لئے اقوام متحدہ کی سرپرستی میں وضع کیے گئے اصولوں کے مطابق ان ہلاکتوں کی ذمہ داری بھی امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔اور ممکن ہے کہ مستقبل قریب کی تاریخ امریکہ کے بُش اور برطانیہ کے ٹونی بلیئر کو انسانیت کے خلاف جرائم کی پاداش میں ہیگ کی عالمی عدالتِ انصاف میں دیکھے۔

:دیگر مضامین
(14.10.2008) ‘‘سوچا بہت کہ لکھوں مگر لکھ نہیں سکا‘‘
(14.10.2008) عرب لیگ کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ نا اتفاقی پر اتفاق کر لیا ہے ۔
(14.10.2008) ڈاکٹر قدیر کی معافی سے جنرل مشرف کی معافی تک
(14.10.2008) بھگوان کی کرپا ہے کہ ہمارے۔۔۔۔بھگوان داس خیریت سے ہیں
(14.10.2008) قانون سے ناواقف وزیر قانون
(14.10.2008) سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج رانا بھگوان داس کہاں ہیں؟
(14.10.2008) قدم قدم پر پہرے ہیں ....حاکم گونگے بہرے ہیں
(14.10.2008) کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں؟



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں