
لندن سمیت مختلف یورپی ممالک اور امریکہ سے آنے والی ای میلز میں عبادت گاہوں کے منتظمین اور تنظیموں کی من مانیوں اور غیر شرعی کاموں کے حوالے سے اس سلسلے کو سراہا گیا ہے اور متعدد احباب بے اسے بقول انکے قلمی جہاد قرار دیا ہے۔ کچھ احباب کا کہنا ہے کہ مسلمانوں اور مومنین کی ایک بڑی تعداد دنیا بھر میں بالعموم اور برطانیہ سمیت یورپ اور امریکہ میں بالخصوص اس سے بھی بہت زیادہ جانتی ہے جو کچھ ابھی تحریر کیا گیا ہے لیکن لوگ مولوی کے خوف سے یا کیمونٹی کے دباؤ کی وجہ سے نہیں بولتے۔ کیونکہ انہی مولانا حضرات نے بچوں کے نکاح بھی پڑھانے ہیں اور مرنے والوں کے نماز جنازہ بھی
بات کو آگے بڑھانے سے پہلے اللہ کے آخری نبی کی ایک حدیث اور امیر المومنین حضرت علی کا ایک قول بتاتا چلوں کہ ‘‘ظلم سہنا اور خاموش رہنا بھی ظالم کے برابر ہی ہے‘‘۔ ظلم سے مرآد صرف مار پیٹ اور حقوق پر ڈاکہ نہیں بلکہ انسان کی فکر پر غلبہ اور اسے اپنا ذہنی غلام بنا لینا بھی ظلم کے ہی زمرے میں آتا ہے
ایک عام مسلمان اور مومن کو یہ کس طرح سمجھایا،بتایا اور باور کروایا جائے کہ بچے کے کان میں اذان دینے سے لیکر قبر میں میت اتارنے تک کے کام افراد کے ہیں مولانا حضرات کے نہیں۔ کون ان لوگوں کو بتائے کہ نکاح پڑھنے کے لیئے شرعی طور پر کسی مولانا کی شرعی ضرورت نہیں۔ دولہا دلہن خود اپنا نکاح پڑھ سکتے ہیں۔ ہم جسے نماز جنازہ کہتے ہیں وہ نماز نہیں ہے بلکہ دعا ہے اور اسکے لیئے شرعی ضرورت ملاں یا مولوی نہیں ہے۔ دراصل عام مسلمان نے خود اپنے فرائض میں کوتاہی کی ہے جس کا بدلہ اسے اس سزا کے طور پر مل رہا ہے ۔اس موضوع پر بھی کسی وقت مزید تفصیل سے لکھونگا۔گزشتہ قسط میں جہاں بات ختم ہوئی آج اس کو آگے نہیں لے جانا چاہتا کیوں کہ سربراہان عبادت گاہ نے جو اپنی من مانی شروع کر رکھی ہے اس بارے میں جو خبریں عوام الناس میں پھیلی ہوئی ہیں اس بارے میں کچھ باتیں عرض کرنی ہیں
ابھی حال ہی میں مشرقی لندن کی ایک عبادت گاہ کے سربراہ نے ایک نمازی مومن کو عبادت گاہ میں ذکر حسین کرنے کی اجازت نہیں دی ۔معلوم ہوا ہے اور عوام الناس اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ نام نہاد لیڈرجو چور دروزے سے عبادت گاہوں میں داخل ہوتے ہیں اور کس طرح سے غیرقانونی ہتھکنڈے استمعال کر کے عوام الناس کو پریشان کرتے ہیں۔
پہلے اپنا عقیدہ تو درست کرلیں کہ جو اپنے منہ سے اقرار اور بہت فخر سے یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم تمام عمر کسی اور عقیدے پر نمازیں پڑھتے تھے اور (نعوذ باللہ) شراب سے روزہ کھولتے تھے۔ ایسا شخص ایک مسلمان کو عبادت گاہ میں ذکر حسین کرنے کی اجازت کیوں نہیں دیتا۔یاد داشت کا تو یہ حال ہے کہ کہیں کی بات کو کہیں جوڑ دیتا ہے اور الزام دوسروں کو دیتا ہے۔ میں نے جب بخاری صاحب کا انتقال ہوا تھا لکھا تھا کہ اس عبادت گاہ پر غیر قانونی انتظامیہ کا قبضہ ہے اور ذکر حسین کی اجازت نہ دینا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ ملت کے حق کو غصب کرنا ان کا وتیرا بن چکا ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ ان افرادکی من مانی اور طرح طرح کے الزامات لگا کر عبادت گاہ میں عبادت نہ کرنے کی اجازت نہ دینے کی وجہ سے ان عبادت گاہوں میں افراد کی کمی واقع ہو تی جا رہی ہے اور ایک عالم کی جو ہتک کی گئی وہ تو ایک طرف ہے۔ کیا اس کے اجازت نہ دینے سے اس مومن کی عبادت میں کوئی خلل پڑا اور کیا ذکر حسین کو روک لیا گیا
اسی مشرقی لندن میں اور بھی عبادت گاہیں موجود ہیں جہاں پر ذکر حسین احسن طریقے سے انجام پایا اور اس ذکر حسین میں تقریبا ٢٥٠ مرد اور خواتین نے شرکت کی اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ اس عبادت گاہ میں پاکستان سے آنے والے ان عالم کو پڑھنے کی اجازت نہ دی گئی مگر اگلے روز جو یورپ کی سب سے بڑی مجلس میں عبادت گاہ سے ایک بس شرکت کے لئے روانہ گی گئی تو اسے کیا نام دیا جائے
نہ جانے غاصبوں کی سیرت پر عمل کرنے والے ایسے لوگوں سے عبادتگاہوں کی جان کیسےچھٹ جائے گی۔
یہ لوگ عبادت گاہوں کی انتظامیہ کو بھی اقتدار سمجھتے ہیں اوراپنے اقتدار کے نشے میں اپنی عاقبت بھی بھول جاتے ہیں کہ جعلی ووٹ استمعال کر کے یہ لیڈر تو بن جاتے ہیں مگر اپنی عمر اور عہدے کا بھی خیال نہیں کہ عبادت گاہ کے سربراہ کی حیثت سے کیا فرائض ہیں اور کسی عالم کی عزت کیسے کی جاتی ہے جو کہ ایک مہمان بھی ہے اور کسی دوسرے ملک سے آئے ہوئے مہمان کو کس طرح عزت دی جاتی ہے۔
مرد حضرات تو جانے کس خوف یا منافقت میں مبتلا ہیں لیکن ان آوازوں میں اب ان خواتین کی آوازیں بھی شامل ہیں جو یہ کہتی ہوئی نظر آتی ہیں کہ عبادت گاہ کو بدنام مت کریں ۔
جرمنی کے شہر فرنکفرٹ کی عبادت گاہ کا تنازعہ ابھی تک الجھا ہوا ہے اور اطلاعات ہیں کہ ہائیڈل برگ کے سید جمال الدین کے پولیس سے رابطے کے بعد پاک حیدری سے الگ ہو کر نئی تنظیم بنانے والوں نے سید جمال سے رابطے کی کوششیں بھی کی ہے اور دبی زبان میں ان سے ایک بار پھر مالی امداد کی درخواست کی ہےمبینہ اطلاعات کے مطابق سید جمال الدین کا کہنا ہے کہ پا ک حیدری سے الگ ہونے والے ان لوگوں میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو پہلی عبادت گاہ کی مالی بدعنوانی میں شامل رہے ہیں اس لیئے انہیں اپنے دامن کے داغ صاف کرنا ہونگے، اس صاف جواب کے بعد ان لوگوں نے ایک بار پھر سید جمال الدین کے خلاف ایک نئی مہم یہ کہہ کر شروع کر دی ہے کہ وہ بھارت کے ایجنٹ اور کافر ہیں۔ یہ ایسا کریہہ الزام ہے جسے لگانے والے کو لگانے سے پہلے اپنے دامن میں جھانکنا چاہیئے
اس سلسلے میں مزید معلومات مل رہی ہیں جنہیں اگلی قسط میں شامل کرؤنگاجاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔