
یہ تو شکر ہے کہ ایرانیوں نے فے ٹرنے کو کسی زیادتی کا نشانہ نہیں بنایا کیونکہ اگر کچھ نہ کرنے کے بعد ان رہا شدگان کی اپنی برطانوی حکومت کی ایما پر اسقدر چیخ پکار ہے تو نہ جانے ایسی حالت میں کیا صورت حال ہوتی
۔جب یہ پندرہ لوگ ایران سے چل رہے تھے تو ایرانی سوٹ پہنے اور ایرانی تحائف ہاتھوں میں لیئے ایران کی میزبانی اور کشادہ دلی کی تعریفیں ٹی وی پر ہو رہی تھیں لیکن یہ شاید مٹی کا اثر ہے یا نوکری کی مجبوری کہ برطانیہ پہنچتے ہی سرکاری‘‘ڈی بریفنگ‘‘ کے بعد سرکاری چھتری تلے لندن میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس ہوئی اور ان پندرہ میں سے چھ لوگوں نے ‘‘دلائی کیمپ‘‘ کی دکھ بھری داستان اس نوحہ و سوز کے انداز میں سنائی کہ اصولوں کی پابند برطانوی وزارت دفاع نے ان لوگوں کو اپنے زیر حراست ایام کی کہانیاں ہزارہا پاؤنڈ کے عوض اخبارات کو فروخت کرنے کی اجازت دے دی۔
لیکن اس فیصلے پر ایسا وبال اٹھا کہ ٹونی بلیئر کو کابینہ کے اجلاس میں شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور اگلے چوبیس گھنٹے میں وزارت دفاع نے اپنا فیصلہ مسنوخ کر دیا اور اخبارات میں یہ خبر نہایت نپے تلے الفاظ کے ساتھ اس طرح شائع ہوئی‘‘برطانوی وزارت دفاع نے ’سابق ایرانی قیدی‘ فوجیوں کو اپنی کہانیاں فروخت نہ کرنے کا

پابند کیا ہے۔ یہ پابندی اس وقت تک نافذ رہے گی جب تک اس سلسلے میں متعلقہ قوانین پر نظر ثانی نہیں ہو جاتی‘‘۔
حکومت پر اندر اور باہر سے ہونے والی اس شدید تنقید کا یہ اثر تھا کہ سیاست کی زبان میں وزارت دفاع نے ‘‘یو ٹرن‘‘ لیا لیکن اس اثنا میں صرف اگر فائدے میں رہیں تو یہ واحد خاتون فے ٹرنے کہ جنہوں نے اخبار سن سے انٹرویو کے لیے ڈیڑھ لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ رقم ملی اور باقی لوگ ابھی اڑنے بھی نہ پائے تھے کہ گرفتار ہوگئے۔
متعدد مبصرین نے برطانوی ذرائع ابلاغ میں کھُل کر اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ حکومت کی یہ حکمت عملی‘‘بیک فائر‘‘ کر گئی۔
زیادہ تفصیل میں جائے بغیر اور بلا تبصرے کے موصوفہ فے ٹرنر کے اس انٹرویو سے ایک اقتباس آپ بھی پڑھ لیجئے اور فیصلہ خود کیجئے کہ ملازم کی کیا مجبوری ہے کہ دوسرے کی
قید میں ہو تو اسکی مرضی کا بیان اور اپنے محکمے کی زنجیر میں بندھا ہو تو اسکی مرضی کا بیان ۔ایسے میں اپنا ضمیر؟
26 سالہ فے ٹرنے کہتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
‘‘میں خوفزدہ ہو گئی تھی کہ کہیں مجھے گرفتار کرنے والے ایرانی زیادتی کا نشانہ نہ بنائیں۔ مجھے دوسرے سیلرز اور میرینز سے الگ کر دیا گیا۔ مجھے ایک چھوٹے سے سیل میں بند کر کے مجھ سے میری نیکر سمیت سب کچھ لے لیا گیا مجھے حکم دیا گیا کہ میں کپڑے اتار دوں۔ بعد میں کاٹن کا ایک پاجامہ دے کر وہ پہننے کے لئے کہا گیا۔ مجھے چار گندے سے کمبل دیئے گئے تھے۔ اس کے بعد اس سیل کا لوہے کا دروازہ پھر بند کر دیا گیا۔ چند گھنٹوں بعد کہا گیا کہ میں سیاہ اسلامی ٹوپی پہنوں پھر افسر انچارج کے پاس لے جایا جائے گا۔ جب ہمیں لے جایا جا رہا تھا تو مجھے خدشہ پیدا ہوا کہ شاید مجھ سے زیادتی کی جائے گی۔ اس نے بتایا کہ میں نے اپنے پیچھے آنے والے ساتھیوں کی آواز سنی جو چلاتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ وہ ہمیں قتل کرنے کے لئے لے جا رہے ہیں۔ اس وقت میں پہلی بار حقیقی طور پر خوفزدہ ہوئی تھی ۔گرفتار کرنے والے ایرانی حکام نے مجھے قتل کی دھمکی دی تھی اور کہا تھا کہ اگر تعاون نہ کیا تومیں اپنی بیٹی کو کبھی نہیں دیکھ سکے گی۔ میرے ساتھ ان تمام دنوں میں ناروا سلوک کیا گیا۔ مجھ سے پوچھا گیا تھا کہ میں اپنے ملک کے لئے مرنے پر کیسا محسوس کرینگی۔ اگلے دن ایک اور تحقیقات کار نے پوچھا کہ آپ ہمارے ساتھ تعاون نہیں کر رہیں کیا آپ نہیں چاہتیں کہ آپ اپنی بیٹی کو دوبارہ دیکھ سکیں‘‘۔ ڈیڑھ لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ مالیت کے اس طویل انٹرویو کا یہ ایک چھوٹا سا اقتباس تھا جسے پڑھنے کے بعد فی البدیہہ شعر کی صورت میں یہی کہنے کو جی چاہتا ہے کہ۔۔۔۔