15.10.2026, 12:23pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 

مضامین/تجزیات » صفدر ھمٰدانی
 

کیوں نہ میں آپ کے لب ورُخسار چوم لوں
14.10.2008, 01:49pm , منگل (GMT+1)

صفدر ھمٰدانی۔۔ لندن
ایرانی حراست سے رہا ہونےوالی برطانوی بحریہ کی واحد خاتون فے ٹرنے نے برطانوی وزارت دفاع کی طرف سے اپنی حراست کی کہانی بیچنے کی اجازت سے قبل ہی ‘‘ڈیلی سن‘‘ سے معاہدہ طے کر رکھا تھا اور اگلے ہی روز اسی کی کہانی سب سے پہلے‘‘سن‘‘ نے شائع کی جس میں ایرانی ٹی وی پر ہنس ہنس کر ایرانیوں کی میزبانی پر اظہار تشکر کرنے والی فے ٹرنے کو اب واپس لند ن پہنچ کر یہ خیال آیا ہے کہ بقول خود انکے ‘‘میں خوفزدہ ہو گئی تھی کہ کہیں ایرانی مجھے زیادتی کا نشانہ نہ بنائیں‘‘۔

یہ تو شکر ہے کہ ایرانیوں نے فے ٹرنے کو کسی زیادتی کا نشانہ نہیں بنایا کیونکہ اگر کچھ نہ کرنے کے بعد ان رہا شدگان کی اپنی برطانوی حکومت کی ایما پر اسقدر چیخ پکار ہے تو نہ جانے ایسی حالت میں کیا صورت حال ہوتی
۔جب یہ پندرہ لوگ ایران سے چل رہے تھے تو ایرانی سوٹ پہنے اور ایرانی تحائف ہاتھوں میں لیئے ایران کی میزبانی اور کشادہ دلی کی تعریفیں ٹی وی پر ہو رہی تھیں لیکن یہ شاید مٹی کا اثر ہے یا نوکری کی مجبوری کہ برطانیہ پہنچتے ہی سرکاری‘‘ڈی بریفنگ‘‘ کے بعد سرکاری چھتری تلے لندن میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس ہوئی اور ان پندرہ میں سے چھ لوگوں نے ‘‘دلائی کیمپ‘‘ کی دکھ بھری داستان اس نوحہ و سوز کے انداز میں سنائی کہ اصولوں کی پابند برطانوی وزارت دفاع نے ان لوگوں کو اپنے زیر حراست ایام کی کہانیاں ہزارہا پاؤنڈ کے عوض اخبارات کو فروخت کرنے کی اجازت دے دی۔
لیکن اس فیصلے پر ایسا وبال اٹھا کہ ٹونی بلیئر کو کابینہ کے اجلاس میں شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور اگلے چوبیس گھنٹے میں وزارت دفاع نے اپنا فیصلہ مسنوخ کر دیا اور اخبارات میں یہ خبر نہایت نپے تلے الفاظ کے ساتھ اس طرح شائع ہوئی‘‘برطانوی وزارت دفاع نے ’سابق ایرانی قیدی‘ فوجیوں کو اپنی کہانیاں فروخت نہ کرنے کا پابند کیا ہے۔ یہ پابندی اس وقت تک نافذ رہے گی جب تک اس سلسلے میں متعلقہ قوانین پر نظر ثانی نہیں ہو جاتی‘‘۔
حکومت پر اندر اور باہر سے ہونے والی اس شدید تنقید کا یہ اثر تھا کہ سیاست کی زبان میں وزارت دفاع نے ‘‘یو ٹرن‘‘ لیا لیکن اس اثنا میں صرف اگر فائدے میں رہیں تو یہ واحد خاتون فے ٹرنے کہ جنہوں نے اخبار سن سے انٹرویو کے لیے ڈیڑھ لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ رقم ملی اور باقی لوگ ابھی اڑنے بھی نہ پائے تھے کہ گرفتار ہوگئے۔
متعدد مبصرین نے برطانوی ذرائع ابلاغ میں کھُل کر اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ حکومت کی یہ حکمت عملی‘‘بیک فائر‘‘ کر گئی۔
زیادہ تفصیل میں جائے بغیر اور بلا تبصرے کے  موصوفہ فے ٹرنر کے اس انٹرویو سے ایک اقتباس آپ بھی پڑھ لیجئے اور فیصلہ خود کیجئے کہ ملازم کی کیا مجبوری ہے کہ دوسرے کی قید میں ہو تو اسکی مرضی کا بیان اور اپنے محکمے کی زنجیر میں بندھا ہو تو اسکی مرضی کا بیان ۔ایسے میں اپنا ضمیر؟
 26 سالہ فے ٹرنے کہتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
‘‘میں خوفزدہ ہو گئی تھی کہ کہیں مجھے گرفتار کرنے والے ایرانی زیادتی کا نشانہ نہ بنائیں۔ مجھے دوسرے سیلرز اور میرینز سے الگ کر دیا گیا۔ مجھے ایک چھوٹے سے سیل میں بند کر کے مجھ سے میری نیکر سمیت سب کچھ لے لیا گیا مجھے حکم دیا گیا کہ میں کپڑے اتار دوں۔ بعد میں کاٹن کا ایک پاجامہ دے کر وہ پہننے کے لئے کہا گیا۔ مجھے چار گندے سے کمبل دیئے گئے تھے۔ اس کے بعد اس سیل کا لوہے کا دروازہ پھر بند کر دیا گیا۔ چند گھنٹوں بعد کہا گیا کہ میں سیاہ اسلامی ٹوپی پہنوں پھر افسر انچارج کے پاس لے جایا جائے گا۔ جب ہمیں لے جایا جا رہا تھا تو مجھے خدشہ پیدا ہوا کہ شاید مجھ سے زیادتی کی جائے گی۔ اس نے بتایا کہ میں نے اپنے پیچھے آنے والے ساتھیوں کی آواز سنی جو چلاتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ وہ ہمیں قتل کرنے کے لئے لے جا رہے ہیں۔ اس وقت میں پہلی بار حقیقی طور پر خوفزدہ ہوئی تھی ۔گرفتار کرنے والے ایرانی حکام نے مجھے قتل کی دھمکی دی تھی اور کہا تھا کہ اگر تعاون نہ کیا تومیں اپنی بیٹی کو کبھی نہیں دیکھ سکے گی۔ میرے ساتھ ان تمام دنوں میں ناروا سلوک کیا گیا۔ مجھ سے پوچھا گیا تھا کہ میں اپنے ملک کے لئے مرنے پر کیسا محسوس کرینگی۔ اگلے دن ایک اور تحقیقات کار نے پوچھا کہ آپ ہمارے ساتھ تعاون نہیں کر رہیں کیا آپ نہیں چاہتیں کہ آپ اپنی بیٹی کو دوبارہ دیکھ سکیں‘‘۔
 ڈیڑھ لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ مالیت کے اس طویل انٹرویو کا یہ ایک چھوٹا سا اقتباس تھا جسے پڑھنے کے بعد فی البدیہہ شعر کی صورت میں یہی کہنے کو جی چاہتا ہے کہ۔۔۔۔
(0) آپکی رائے        پرنٹ        احباب کو بتائیے        اُوپر


:دیگر مضامین
(14.10.2008) ہم نے نہیں ایک امریکی نے کہا ہے کہ بش خود کو امریکہ کا بادشاہ نہ سمجھیں
(14.10.2008) عراق پر امریکی قبضے کے چار سال مکمل ہو گئے
(14.10.2008) ایرانی میزبان گونتانامو کے میزبانوں سے بدرجہا بہتر تھے
(14.10.2008) ‘‘سوچا بہت کہ لکھوں مگر لکھ نہیں سکا‘‘
(14.10.2008) عرب لیگ کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ نا اتفاقی پر اتفاق کر لیا ہے ۔
(14.10.2008) ڈاکٹر قدیر کی معافی سے جنرل مشرف کی معافی تک
(14.10.2008) بھگوان کی کرپا ہے کہ ہمارے۔۔۔۔بھگوان داس خیریت سے ہیں
(14.10.2008) قانون سے ناواقف وزیر قانون
(14.10.2008) سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج رانا بھگوان داس کہاں ہیں؟
(14.10.2008) قدم قدم پر پہرے ہیں ....حاکم گونگے بہرے ہیں
(14.10.2008) کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں؟



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں