بائیس اپریل کو پاک یورو فورم کے فرینکفرٹ میں ہونے والے کامیاب افتتاحی اجلاس اور علامہ
اقبال کے یوم وفات کی مناسبت سے ہونے والے سیمینار پر دنیا بھر سے
ادیبوں،صحافیوں اور دانشوروں کے پیغامات کا سلسلہ جاری ہے اور ان پیغامات میں اکثر اس یقین
کا اظہار کیا ہے کہ پاک یورو جرنلسٹس فورم پاکستانی صحافیوں کو یورپ بھر
میں موجود سائبر صحافیوں کے قریب تر لانے میں مدد دے گا اور خبروں کی تقسیم
میں مدد گار ہو نے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے تشخص کو بہتر بنائے گا
کینڈا کے شہر ٹورنٹو سے کالم نگار اور شاعرہ روبینہ فیصل نے ایک پیغام میں پاک یورو فورم کی انتظامیہ اور تمام اراکین کو اس فورم کے قیام پر مبارکباد دیتے ہوئے کامیابی کی دعا کی ہے اور اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ یہ فورم عام تنظیموں کی طرح نہیں ہو گا جنکا کام صرف فوٹو سیشن کروانا اور موسیقی کی محفلیں کروانا ہوتا ہے بلکہ جس معیار کے صحافی اس فورم سے وابستہ ہیں انکی موجودگی میں اس فورم سے امید ہے کہ یہ ایک عملی اور فکری پلیٹ فارم ثابت ہو گا
امریکہ کے شہر بوسٹن سے شاعر،صحافی اور استاد جاوید امام زیدی نے پاک یورو جرنلسٹس فورم کے چیئرمین صفدر ھمدانی کو ای میل کے ذریعے فورم کے قیام اور اسکی کامیاب افتتاحی تقریب پر مبارک دی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ کم از کم یورپ کی سطح پر اس طرح پاکستانی اور اردو صحافت کو فروغ ملے گا اور مختلف یورپی شہروں میں موجود عملی اور حقیقی صحافی پاکستان کے حقیقی تاثر کو اجاگر کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ان ممالک میں انٹر نیٹ پر مختلف ناموں سے خبروں کی سائٹیں کھول کر لوگ سفارتخانوں میں لوگ رسائی حاصل کر لیتے ہیں اور بلیک میلنگ کے ذریعے سفارت خانوں سے اپنے کام کروانے کے علاوہ مالی فوائد بھی حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیئے
انہوں نے فورم کی کامیابی کے لیئے بھی دعا کی۔
بھارت کے شہر لکھنؤ سے سینئر صحافی سید حسین افسر نے پاک یورو جرنلسٹس فورم کے قیام کو یورپ کی سطح پر عملی صحافیوں کو ایک جگہ جمع کرنے کے حوالے سے نیک فال قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس فورم میں جو مستند صحافیوں کے نام شامل ہیں انکی موجودگی میں یہ یقین کیا جاسکتا ہے کہ یہ فورم یورپی اور دنیا کی سطح پر پاکستانی اور اردو صحافت کے لیئے نیک فال اور نیک نام ہو گا۔ سید حسین افسر نے کہا کہ اسوقت صحافت ہی ایک ایسا شعبہ ہے جسمیں ہر قسم کا آدمی گھس آیا ہے چاہے اسکا صحافت سے تعلق ہے یا نہیں اور یہی طبقہ صحافت کو اپنے مقاصد کے لیئے استعمال کر رہا ہے۔ ایسے میں سینئر اور تربیت یافتہ عالمی سطح کے صحافیوں کا ایک جگہ جمع ہونا قابل تعریف ہے۔ انہوں نے فورم کی کامیابی کی دعا کی۔
صحافیوں
اور دانشوروں نے فورم اور اسکے مرکزی قائدین کے خلاف چند شرپسند اور مفاد
پرست حلقوں کی بے جا تنقید اور جھوٹے پرپیگنڈے کی مذمت کی اور کہا کہ ایسے
حلقوں کو اپنا وقت جھوٹے الزامات لگانے اور سازشیں کرنے کی بجائے کچھ مثبت
کام کرنے میں صرف کرنا چاہیئے