آہ! الحاج مقبول حسین بھٹی

رپورٹ : نصر ملک ۔ کوپن ہیگن
ڈنمارک میں پاکستانی برادری کی ہر دلعزیز شخصیت الحاج مقبول حسین بھٹی بدھ کی رات قضائے آلٰہی سے وفات پا گئے ہیں ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون ۔
مقبول حسین بھٹی، ڈنمارک کے اُن پاکستانیوں میں شمار ہوتے تھے جو سنہ ساٹھ کے
عشرے میں یہاں آئے تھے ۔ بدیگر الفاظ مقبول بھٹی ڈنمارک میں پاکستانیوں کی
پہلی نسل سے تعلق رکھتے تھے اور یوں وہ اُن پاکستانیوں میں تھے جنہوں نے
اپنے روزگار کے لیے ڈنمارک دریافت کیا اور پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے ۔
مقبول حسین بھٹی کی شخصیت کا احاطہ کرتے ہوئے، ڈنمارک کے معروف شاعراورصاحب دیوان، جناب اقبال اختر نے اُن کے بارے میں لکھا تھا کہ ’’ آپ شگفتہ مزاج،
صبر وتحمل کے پیکر، سرمگیں رنگ پہ روشن آنکھیں، داڑھی کے باعث چہرہ غیر
معمولی جاذب نظر اور نورانی۔ دھیما لہجہ، ہنس مکھ۔ دل کے انتہائی نرم، اور
محبت سے بھرپور۔ اُن کے ظاہر سے باطن زیادہ اُجلا اور خوبصورت ہے ‘‘۔
جناب
اقبال اختر نے پاکستانی برادری کی سماجی و رفاعی اور دینی سرگرمیوں میں
مقبول حسین بھٹی کی شمولیت کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’ بھٹی صاحب مخلص
اور مجلسی انسان ہیں اور یاروں کے یار ۔ ہر شعبۂ حیات میں ساتھیوں کے
ساتھ برابر کا تعاون کرتے ہیں ۔ سیاست، شعر و ادب، الغرض متفرقات میں قلم
اٹھانے، پرچم اٹھانے اور جلسے جلوس برپا کرنے میں ساتھیوں سے پیچھے نہیں
رہتے ۔ دامے درمے سخنے حسب توفیق ہاتھ بٹاتے ہیں ۔ لوگوں میں عزت و وقار سے
پر سکون زندگی گزار رہے ہیں ۔ وہ معروف معنوں میں شاعر و ادیب نہیں ہیں
لیکن بوقت ضرورت اپنی خواہش اور حالات کے مطابق کچھ نہ کچھ لکھ لیتے ہیں‘‘۔
آج
اس وقت جب، الحاج مقبول حسین بھٹی رحلت کر گئے ہیں میں یہ چند سطور لکھتے
ہوئے سوچ رہا ہوں کہ ، ان کے متعلق کیا لکھوں، اُن کی زندگی و شخصیت کے کس
پہلو کو اجاگر کروں، اُن کی سماجی و ثقافتی اور ادبی سرگیوں پر کچھ لکھوں
یا پھر ان کے حج فاؤنڈیشن ڈنمارک کے بانی ہونے کے ناطے ان کی دینی سرگرمیوں
کو قلم بند کروں؟ مقبول حسین بھٹی کی ر حلت میرے لیے ایک بھاری صدمہ ہے اور میں اس سے ابھی تک سنبھل نہیں پایا اور نہ ہی شاید کبھی سنبھل پاؤں ۔
یہ
حقیقت ہے کہ بھائی مقبول بھٹی کے متعلق اگر میں یہ کہوں کہ وہ ڈنمارک میں
ایک چلتا پھرتا پاکستان تھے تو کوئی مبالغہ نہیں ہوگا۔ سنہ دو ہزار سات میں
جب اُن کی کتاب ’’ منزلیں ‘‘ شائع ہوئی تو انھوں نے مجھے اس پر کچھ لکھنے کو کہا، میں اپنا وہی لکھا ہوا مضمون جو اُن کی کتاب میں بھی شامل ہے، آج یہاں دوبارہ اس امید کے ساتھ پیش کررہا ہوں کہ بھائی مقبول بھٹی بیشک میری ظاہری آنکھوں سے اوجھل ہو گئے ہیں لیکن وہ ہمیشہ میرے دل میں رہیں گے ۔ انشا اللہ۔