پے در پے مرنے
والوں کی خبروں نے اس دنیا سے دل اُچاٹ کر دیا ہے۔ ابھی تو بلی بھائی کا
سوئم کل ہی کر کے ہٹا ہوں اور آج ارشاد حسین کے انتقال کی خبر ملی ہے۔
اسلام آباد ریڈیو پر ایف ایم کے ڈپٹی کنٹرولر
اور میری بہت عزت کرنے والے وحید شیخ سے بہت مختصر سی بات ہوئی تو اس نے
ارشاد حیسن کے انتقال کر جانے کی خبر سنا کر مجھے جیسے سکتے میں ڈال دیا۔
ارشاد مجھ سے عمر میں چھوٹا اور ریڈیو کی ملازمت میں جونیئر ہونے کے
باوجود میرے بہت کم اچھے دوستوں میں سے ایک دوست ہے۔ جی ہاں ‘‘تھا‘‘ کا
لفظ میں نے جان

بوجھ
کر استعمال نہیں کیا کہ بلامفاد اور محبتوں کے امین دوست بس ہوتے ہیں اور
رہتے ہیں۔ اسوقت مجھ سے کچھ زیادہ نہیں لکھا جارہا۔ یہ چند سطور لکھنے کا
مقصد ایسے دوستوں کو ارشاد حیسن کے انتقال کی خبر دینا ہے جن کو اس دکھ
بھری خبر کا علم نہیں ہو سکا۔ ارشاد حسین بہت اچھا ڈرامہ نگار تھا،بہت
پیارا شاعر تھا،بہت خوبصورت انسان تھا اور محنتی کارکن بھی۔ شاید اسی لیئے
وہ زیادہ عرصہ ریڈیو پاکستان میں نہ گزار سکا اور جلد ہی اس ادارے کو چھوڑ
گیا۔ اسکے بعد اس نے دیار امریکہ میں کچھ روز گزارے اور پھر خانگی زندگی
کے نشیب وفراز سے گزرا۔ اس نے اپنے اصولوں کی وجہ سے کسی جگہ بھی‘‘ٹِک‘‘
کر نوکری نہیں ۔ میرا اس سے مستقل رابطہ رہا ہے ماسوائے اسکے امریکہ میں
قیام کے دوران۔ ابھی گزشتہ برس دو ہزار چھ اگست میں جب میں لاہور میں تھا
تو میں نے اسے ایک بار پھر ڈھونڈھ نکالا کیونکہ دو سال پہلے میں اسے پنجاب
یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات میں چھوڑ کر دگیا تھا جہاں اس نے یونیورسٹی
کا پہلا ایف ایم ریڈیو لگایا تھا اور وہ اس کا انچارج تھا۔ اس بار اگست
میں وہ مجھے بورےوالہ ملا جہاں وہ کسی نجی پارٹی کے ساتھ ایف ایم ریڈیو
لگانے کے کام میں مصروف تھا۔ لیکن اب تو اُس سے کسی ربطے کی ضرورت نہیں
رہی کہ دنیا میں اسکا کوئی پتہ نہیں رہا۔ ارشاد حسین تمہاری یادوں کا ایک
بہت بڑا خزانہ میرے پاس ہے میرا وعدہ کہ ذرا تمہارے جانے کے دکھ سے سنبھل
جاؤں تو تمہارے بارے میں دل کھول کر لکھوں گا۔ مجھے یقین ہے کہ اس بے
اصولی دنیا میں ناخوش رہنے والا ارشاد حسین اصول کی بنیاد پر قائم اگلی
دنیا میں ضرور شاداں رہے گا۔