مجھے کچھ علم نہیں کہ میں اپنے اس استاد زادے کی موت پر اس تحریر کو کہاں سے شروع کرؤں اور کیسے ختم کرؤں۔ اب اس وقت جب میں یہ سطور قلمبند کر رہا ہوں تو شبیہ الحسن کو اپنے خالق حقیقی کے حضور حاضر ہوئے چوبیس گھنٹے سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ احباب،دست ،ساتھی،شاگرد،محبت کرنے والے اور اس سے فکری و ادبی اختلاف رکھنے والے اسے منوں مٹی تلے دباکر واپس آ چکے ہیں اور شبیہ الحسن اپنے والد وحید الحسن کے پاس پہنچ چکا ہے۔ اسکے گھر میں جو کہرام بپا ہے اسکی آواز میں ہزاروں میل دور بیٹھا سن سکتا ہوں، عرفی آسٹریلیا سے لاہور پہنچ چکا ہے لیکن علم نہیں کہ وہ اپنے محسن صفت بڑے بھائی کا آخری دیدار بھی کر پایا کہ نہیں؟شبیہ الحسن یوں تو مجھ سے کوئی 8 سال عمر میں چھوٹا تھا لیکن شاید علم اور فکر کے حوالے سے مجھ سے کوئی بیس برس بڑا تھا۔ میں نے اسے پہلی بار 1965 میں اپنے والد وحید الحسن ہاشمی کے ساتھ حسینہ ہائی سکول موچی دروازے میں دیکھا تھا جہاں ہاشمی صاحب پرنسپل تھے اور میٹرک کے طلبا کو انگریزی پڑھایا کرتے تھے۔ یہ سکول نواب مظفر علی قزلباش نے نثار حویلی میں ہی قائم کیا تھا ۔ میں نے میٹرک کے امتحان سے قبل فقط چند ماہ اس سکول میں گزارے اور یہیں مجھے وحید الحسن ہاشمی مرحوم کی محبت آمیز اور پرخلوص شخصیت کا ادراک ہوا۔ میرااپنا سکول رنگ محل مشن ہائی سکول تھا لیکن 65 کے جنگی حالات کی وجہ سے اس سکول میں تعلیم کا سلسلہ منقطع ہو گیا تو میرے والد مرحوم نے ہاشمی صاحب سے کہہ کر مجھے حسینہ ہائی سکول بھجوا دیا تاکہ میرا سال ضائع نہ ہو۔ یہ تو ظاہری وجہ تھی یہاں آنے کی لیکن قدرت کو یہ منظور تھا کہ میں وحید الحسن ہاشمی سے مرثیے کی خوشبو سمیٹوں اور مرثیہ نگاروں کی فہرست میں اپنا نام لکھواؤں۔اسی زمانے میں کرشن نگر میں حلقہ شعرائے اہلبیت بنا تو مجھ جیسے کم عمر کو ہاشمی صاحب اور سیف زلفی وہاں لیکر گئے جہاں میں نے قیصر بارہوی،ڈاکٹر صفدر حسین ، ظفر شارب اور ایسے ہی بڑے لوگوں کو بہت قریب سے دیکھا اور یہیں سے میرے اندر مرثیہ نگاری کا گلستان کھلا۔

یہ تمہید میں نے اس لیئے لکھی کہ اس علمی ادبی خاندان کی محبت اور بے لوث ادبی،فکری مشقت کا ایک ہلکا سا عکس دکھا سکوں کہ جس ماحول میں شبیہ الحسن نے پرورش پائی اور اس ادبی روایت کو زندہ رکھا جو انکے والد نے قائم کی تھی۔ شبیہ الحسن سے میری بالمشافہ ملاقاتیں فقط چار پانچ ہیں لیکن اس سے شناسائی جیسے کئی برس کی ہے کہ وہ میرے ادبی قبیل کا ایک بیدار مغز فرد تھا۔ ہم بد بختوں نے جس طرح اللہ کے پسندیدہ دین اسلام کو فرقوں اور مسالک میں تقسیم در تقسیم کیا اسی طرح ادب کو بھی مسالک کی جنگ میں سولی چڑھا دیا اور آل رسول کی پسندیدہ صنف مرثیے کو شیعوں سے منسلک کر کے اسکو جیسے ادب کے مرکزی دھارے سے نکال باہر کیا
ان حالات میں پاکستان کی سطح پر ڈاکٹر یاور عباس مرحوم نے اور پنجاب کی سطح پر وحید الحسن ہاشمی اور سید قیصر بارہوی نے جو عملی مساعی کیں انہیں نہایت صدق دل سے اور روشن خیالی سے شبیہ الحسن نے جاری وساری رکھا اور اب ایسا وقت آ گیا تھا کہ وہ مرثیے پر تنقید کے حوالے سے ایک سند کی حیثیت اختیار کر گئے تھے کہ اسلام کے نام پر کافر بنانے کی فیکٹریاں کھولنے والوں نے اس ہیرے کو ادبی دنیا سے چھین لیا۔
میں اس معاشرے کی بے حسی اور بے شرمی پر حیران ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ اس سے شبیہ الحسن کا کوئی قد کاٹھ نہیں بڑھ جانا تھا کہ حکومت یا سرکاری ادبی ادارے اسکے قتل کی مذمت کرتے اور تعزیت کرتے لیکن ایک اصول کے طور پر یہ بات کہتے ہوئے عجیب سے کسک محسوس ہو رہی ہے کہ چوبیس گھنٹے گزر گئے اور تادم تحریر میں نے کسی سرکاری حکام،کسی مقتدرہ قومی زبان،کسی اکیڈیمی آف لیٹرز،کسی قومی اور مقامی ادبی تنظیم کی طرف سے اس ادب دوست کے قتل کی مذمت تک نہیں پڑھی اور یہی وہ بے حسی ہے جس نے آج وطن عزیز میں ایسے حالات پیدا کر رکھے ہیں کہ ایسا ملک جہاں پہلے ہی تعلیم کی کمی اور صاحبان علم و ادب کا کال ہے وہاں ایسے روشنی کے میناروں کو اسلام کے نام پر اسطرح چن چن کر مارا جا رہا ہے کہ یہ قوم اور معاشرہ ادبی طور پر بانجھ اور فکری طور پر یتیم ہو جائےکل اٹھارہ مئی کی رات لندن کے وقت کے مطابق میں رات کوئی گیارہ بجے گھر پہنچا تو مجھے فیس بک سے شبیہ الحسن کے قتل کی خبر ملی تو جیسے ہاتھوں سے جان نکل گئی۔ متعدد ذرائع سے خبر کی صداقت چاہی۔ ابھی تک کسی پاکستانی اخبار نے آن لائن بھی خبر نہیں دی ہوئی تھی۔لندن میں دستیاب پاکستانی ٹی وی چینل دیکھے لیکن کہیں بھی اس نقصان کی خبر نہیں تھی۔ کوئی نصف شب کے بعد ایک پاکستانی نجی ٹی وی نے اس خبر کی تصدیق کر دی کہ شبیہ الحسن دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بن گئے
معروف مرثیہ نگار اور شاعر مرحوم وحیدالحسن ہاشمی کے بڑے
بیٹے،استاد،شاعر،ادیب،نقاد اور مرثیے کی صنف پر تنقید نگار کے طور پر سند
رکھنے والے سید شبیہ الحسن ہاشمی کو لاہور میں گولیاں مار کر جاں بحق کر
دیا گیا
انا اللہ و انا الیہہ راجعون
معروف ادیب ،نقاد اور محقق ۔۔۔
27 اکتوبر 1958 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ 1996ءمیں پنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ
ڈی کی سند حاصل کی اور تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئے۔
ان کے تخلیقی کاموں کی طویل فہرست ہے تاہم اہم تصانیف میں مفاہیم،
ترجیحات، اردو مرثیہ اور مرثیہ نگار، تصریحات، آل رضا کا فن غزل گوئی، جدید
لہجے کا شاعر :سیف زلفی، آغا صاحب، شام و سحر کی باتیں، کلیات حبیب، مختصر
مرثیے کی روایت اور سید وحید الحسن ہاشمی، باقیات آل رضا، بجھی وہ شمع،
بیسویں صدی کا شعری ادب، منتخب مرثیے اور معتبر مرثیے شامل ہیں۔ ڈاکٹر شبيہ الحسن کو قاتلانہ حملے ميں زخمي ہونے کے بعد طبي امداد کے لئے
سروسز اسپتال پہنچايا گيا تھا جہاں رات کے تيسرے پہر وہ زخموں کي تاب نہ
لاتے ہوئے دم توڑ گئے.
ڈاکٹر شبيہ الحسن پر اس وقت حملہ کيا گيا تھا جب وہ
شمالي چھاوني ميں اپنے کالج کے باہرکھڑے تھے کہ موٹر سائيکل سوار
دونامعلوم افراد نے ان پرفائرنگ کردي. ڈاکٹر شبيہ الحسن کو ايک گولي پيٹ
ميں اوردوسري سينے ميں لگي ، انہيں سروسز اسپتال منتقل کيا گيا.
پوليس نے
مقتول کي لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھجوا کر ان کے بھائي شريف الحسن کي
درخواست پر قتل کا مقدمہ درج کر ليا.
مرحوم لاہور کے ادبی حلقوں میں ایک خاص مقام رکھتے تھے اور
بہترین مقرر ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین قلم کار اور نقاد تھے اور انہوں نے
خاص طور پر مرثیہ نگاری پہ بہت کام کیا ہے
مرحوم متعدد کتابوں کے
مصنف ہونے کے علاوہ کتنی ہی کتابوں کے مولف بھی تھے۔انہوں ےنے اپنے والد
وحید الحسن ہاشمی کے مراثی کی کتابیں نقد ونظر کے ساتھ شائع کیں اور معروف
افسانہ نگار اور استاد پروفیسر ڈاکٹر آغا سہیل کی سوانح عمری بھی تحریر کی
سید
شبیہ الحسن کے قتل کا ذمیدار مبینہ طور پر سپاہ صحابہ پاکستان کو ٹھہرایا
جاتا ہے اور یہ ملک میں اہل تشیح کی ٹارگٹ کلنگ اور لاقانونیت کا تازہ
واقعہ ہے۔
ابھی چند دن قبل انہوں نے سید بدر سعید کی کتاب"خودکش
بمبار کے تعاقب میں" کی تقریب رونمائی کے موقع پر وہ اپنی مخصوص گرجدار
آواز میں قلم کی حرمت اور سچ کی سربلندی کے ساتھ ساتھ فلسفہ شہادت کو واضح کیا اور کہا تھا کہ سر کٹتا ھے تو کٹ جائے لیکن سچ کی سر
بلندی ہمارا فرض ھے ۔ شہادت بھی ملے گی اور سچ بھی لکھیں گے ۔
اسوقت کسے معلوم تھا کہ شبیہ الحسن جو بات کر رہے ہیں وہ الہام ہے۔اور پھر چند ہی روز بعد اس نے اپنے ہی کہے کی تصدیق کر دی اور دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بن گیا
کہتا ہے کون ختم ہوئی کربلا کی جنگ۔
ہم لڑ رہے ہیں آج بھی فوج یزید سے۔
اسکے دوست محمد ظہیر بدر نے اسکے بارے میں جب یہ سطور لکھیں تو شبیہ الحسن جیسے زندہ ہو کرمیری آنکھوں کے سامنے آ کھڑا ہوا
''بہت پیارا
دوست تھا میرا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا محسن تھا ۔ ہم نے ایک ساتھ سالوں
پڑھایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت تحمل تھا اس میں والدین کی وۃ خدمت کی کم کی ہو گی
کسی نے آغا سہیل مرحوم کی شاگردی کا حق ادا کیا ۔دوستوں کو صرف مشورہ ہی
نہیں دیتا تھا ۔آگے بڑ ھ کر ان کا ہاتھ بھی تھامتا تھا۔بہت مصروف رہتا ۔مگر
دوستوں کو وقت بھی دیتا۔۔کونسی تقریب تھی جہان نہ پہنچتا ۔اگر کوئی بلاتا
۔ایک بار مجھے کہا گھر پر نام کی تختی لگالو۔ ایک سے مکان ہیں بندہ نمبر
بھول جائے تو۔ ۔۔ ۔ ۔ ! میں نے کہا خود ہی لکھوا دو۔ میں کہاں لکھواتا
پھروں ۔اگلے دن جب مین گھر آیا تو پتہ چلا کہ شبیہ نیم پلیٹ دے گیا
تھا۔۔پھر آیا تو تختی نہ لگی دیکھ کر بولا اب لگواون بھی میں ۔۔۔۔۔۔۔ مجھے
شرم آئی اور اسی وقت کیل ہتھوری لے کر لگا دی ۔بہت خوش ہوا۔ یہ تختی کوئی
دس سال تک ، جب تک میں پاکستان میں رہا لگی رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایم فل کے لئے
مجھے عبد اکریم خالد نے اور شہید شبیہ نے نہ صرف اکسایا بلکہ آغا جی سے
لیٹر لے کر دونون اسلام اآباد مجھے گھسیٹ لے گیے ۔۔۔۔۔ اور ایم فل کے دوران
ہر مرحلے پر میں شبیہ پر پڑا ہوتا۔سوچا تھا کہ اب پاکستان جاوں گا پی ایچ
ڈی بھی وہی کرنے پر مجبور کرے گا۔کیونکہ اس کے ساتھ جو بھی رہے ۔سب کو اس
نے پی ایچ ڈی کے لئے تیار کیا۔۔ ان کی راہنمائی کی ۔ڈاکٹر عبد الکریم خالد
ہو یا نواز حسن زیدی یا عباس رضا یا دیگر شاگرد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آہ ۔کس کس بات
کو کس کس احسان کو یاد کروں ۔ جعفری صاحب آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے شبیہ کا
سوانحی خاکہ لگایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آج سار ا دن دوستوں سے پاکستان میں غم بانٹتا
رہا۔۔۔۔۔۔۔۔ تین بجے اسے سپرد خاک کر دیا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کل تو وہ اسی فضا
مین تھا ۔۔ آج اس کی روح ہمارے ارد گرد موجود ہے ۔۔۔۔۔۔ شہید
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو یوں بھی زندہ ہوتے ہیں ۔اور پھر راہ علم میں شہید ہونے
والے کا مرتبہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ اکبر۔۔۔۔۔۔
شبیہ الحسن
جیسا عزت کرنے والا انسان اور خاص طور پر ادیب شاعر میں نے کم ہی دیکھا ہے۔
جب رحمان پورہ کے گھر میں انکے والد ہاشمی صاحب نے انہیں بتایا کہ صفدر
میرا شاگرد تھا تو وہ باقاعدہ اٹھ کر کھڑے ہوئے اور بڑھ کر میرے ہاتھ کو
چوم لیا۔ اس دن کے بعد سے وہ میری ایسی عزت کرتے تھے کہ میں سبکسار ہو جاتا
تھا۔ ان سے آخری بالمشافہ ملاقات میرے محسن اور عزیز استاد آغا سہیل کے
الحمرا میں ہونے والے ریفرنس میں ہوئی تھی۔
حیران تھے ملائکہ منظر یہ دیکھ کر
تھا قبر میں بھی نور شبیہ الحسن کے ساتھ
جہاں حکومتیں
حکمت ابن زیاد پر عمل پیرا ہوں،جہاں قاتلوں کو حاکموں کی پشت پناہی حاصل
ہو،جہاں انسانی جان کی حرمت صفر سے بھی کم ہوں ان معاشروں میں انسانیت اور
تہذیب اسی طرح خود کشی کرتی ہے۔ وہ لوگ جو برابر صبر و تحمل کا درس دیتے
ہیں کیا کبھی انہوں نے ان گھروں کا حال دیکھا ہے جہاں سے مسلسل ایسے لاشے
اٹھائے جاتے ہیں۔ابھی تو گلگلت اور سکردو کے شہدا کا خون تازہ ہے۔ ابھی تو
کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ رکی نہیں ہے۔ وطن عزیز میں ایسے تو قانون کو یتیم
ہوتے کبھی نہیں دیکھا تھا
میں کبھی کبھی
حیران ہوتا ہوں جب لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ کام مسلمان کا نہیں۔ ارے بھائیو
انکو کیسے یقین دلائیں کہ یہ کام مسلمان ہی کرتا آ رہا ہے چودہ سو سال سے۔
کربلا میں نواسہ رسول اور انکے خاندان کو بھولا پییاسا مورنے والے ہندو،سکھ
یا عیسائی اور یہودی نہیں تھے۔ مسلمان تھے۔ یہ جو کام آج انہی یزیدوں کی
باقیات کر رہی ہے وہ بھی مسلمان ہیں۔ انکو پہچانیئے اور انکو اپنے درمیان
سے ختم کریں۔ ہاں یہ شیعہ سنی،بریلوی،حنفی نہیں۔انکا مذہب صرف حیوانیت ہے۔
لعنت ہے ان قاتلوں کی نسلوں پر
حسینیت کا مقدر شہادتوں کا نزول
یزیدیت کے مقدر میں ذلتیں لکھیں
جس اللہ کے
حبیب نے غیر مسلموں کو عزت کےساتھ تحفظ بھی دیا ہو اسکی امت کا ایک
طبقہ۔اسکے نام لیوا،اسکے کلمہ گو،اسے رہبر ورہنما کہنے والے ظلم کا یہ
بازار گرم رکھیں۔ ایسے لوگوں کو اپنی نجس زبانوں سے حضور کا نام نہیں لینا
چاہیئے۔ جب معاشروں سے عدل و انصاف اٹھ جاتا ہے تو پھر وقت
خود فیصلہ کیا کرتا ہے اور مجھ جیسا لفظ گر وقت کے قدموں کی چاپ سن رہا
ہے۔ اس ملک کے حاکم ہی دراصل مجرم ہیں کہ انہوں نے اپنے ذاتی اور سیاسی
مقاصد کے لیئے قاتلوں اور دہشت گردوں سے سمجھوتے کر رکھے ہیں۔ اللہ کی قسم ان سایست دانوں کا کوئی
دین،مسلک نہیں ہوتا۔ انکا دین صرف اقتدار کی کرسی ہے۔ دراصل یہ حاکم ہی بے
گناہ عوام کے قاتل ہیں۔ یہ قاتل کیسے کیسے ذہین لوگ اس معاشرے سے چھین رہے
ہیں تا کہ آخر میں ان جاہلوں اور قاتلوں کی ہی حکومت رہے
گلشن سے جیسے روٹھ کے سرووثمن گئے
اپنے وطن میں رہ کے بھی وہ بے وطن گئے
نس نس میں عشقِ آلِ محمد رواں رہا
پہنے ہوئے بھی سرخ لہو کا کفن گئے
یہ قتل ہیں خدا و محمد کے نام پر؟
تہذیب کے جہان سے سارے چلن گئے
عالِم کی موت سچ ہے کہ عالَم کی موت ہے
یہ وہ ہیں ساتھ جن کے زمین و زمن گئے
جن کے سخن میں خوشبوئے علمِ رسول تھی
دنیا سے آج کیسے وہ اہلِ سخن گئے
سچ کہہ کے کر رہا ہوں ادا سنت حُسین
یہ کہہ کے سوئے خُلد شبیہ الحسن گئے
صفدر، علی کے علم کے عاشق تھے یہ شہید
ساتھ اپنے لے کے خوشبوئے نامِ حَسن گئے