۔ آپ کاادبی نام "گلِ زہرہ" تو بہت خوبصورت ہے۔ کیا یہی آپکا اصلی نام بھی ہے؟

ادبی نام ، قلمی نام - یہ تو فیض و فراز جیسے بڑے لوگوں کی باتیں ہیں ۔ ہم جیسے جو لفظوں کا استعمال محض درد کی لذت لینے کو کرتے ہوں ، ان نزاکتوں کو کیا
جانیں- "گُل زہرا" شرعی نام بھی ہے، اور شعری نام بھی ۔۔
۔ اپنی فیملی، تعلیمی پس منظر، تجربات، پیشہ اور نجی مصروفیات کے بارے میں کچھ بتائیے۔
گرم کافی اور ٹھنڈی بارشوں کے شہر اسلام آباد کے ایک نیم تاریک نیم نجی ہسپتال میں آنکھ کھولی - دادا عالم دین اور پرداد مجتہد العصر ، خُدا جانے اس نسلٍ پیمبری میں مجھ سے مرتد کا بیج کیسے پھوٹ پڑا ۔ کُلبلاتی کمزور سی بچی ، حسب روایت خوشی منائی گئی ۔ گھر والوں کو ‘کچھ ہے‘ کا ادراک تب ہوا جب پہلی جماعت میں ‘غالب کے خطوط‘ اور چوتھی جماعت میں ‘منٹو نامہ" سکول کے بستے سے برآمد ہوئے ۔ حسب روایت مار بھی بہت کھائی ، لیکن ہمارے گدی نشین نابینا تایا جی نے خوب حوصلہ افزائی کی ۔ اور ہم جی بھر کے پڑھنے لگے ۔ اور آٹھویں جماعت تک مںٹو، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی ، قدرت اللہ شہاب ، پطرس، مُشتاق یوسفی ، نسیم حجازی سمیت اور کئی ناموں کے کاموں کو چاٹ ڈالا ۔
۔ کیا آپکا تعلق کسی ادبی گھرانے سے ہے یااپنے خاندان میں صرف آپ ہی میں ادبی صلاحیتیں ہیں؟
میرا تعلق نجیب الطرفین سیّد گھرانے سے ہے، جسکا ایک فائدہ ہے اور ایک نقصان - فائدہ یہ کہ نسلی سید ہونے کے ناتے پُشت در پُشت شعر و سُخن کا وہ ذوق منتقل ہوا جو چودہ سو سال پہلے محض عربوں کا خاصہ تھا ۔ نُقصان یہ کہ ایسے خاندان میں لڑکیاں گوشت سبزی تو بہت آرام سے ہو جاتی ہیں، لیکن ‘چاند تارے‘ ہونا خاصہ مُشکل کام ہے ۔
۔ ادب کا سفر کب ، کیسے اور کہاں شروع ہوا؟
1994 کی بات ہے، جب بچوں کے ایک مُشاعرے میں وقفے کے دوران میزبان نے اعلان کیا، اگر کوئی بچہ خصوصی کلام پیش کرنا چاہتا ہے تو آ جائے ۔ اور ہم آگئے ۔ اس تقریب کے مہمانانٍ خصوصی حکیم محمد سعید صاحب اور پروین شاکر صاحبہ تھیں ۔ ہماری ٹوٹی پھوٹی فی البدیہہ نظم پہ دونوں نے نہایت سراہا اور حکیم صاحب نے اپنا قلم تحفتا دے دیا ۔ میرے شعور میں موجود وہ پہلا دن ہے جب میں نے باقاعدہ کچھ لکھا - عُمر یہی کوئی آٹھ نو سال ۔
۔ آپ صرف شاعرہ ہی ہیں یا اپنے تصورات کو قلم کے زریعے کسی اور انداز میں بھی پیش کر لیتی ہیں؟
میں ذاکر بھی ہوں، خطیب بھی - لیکن جو بھی کروں میرے اندر کا شاعر ساتھ ساتھ ہمسفر رہتا ہے ۔ میری جان کھاتا رہتا ہے
۔ کن کن اصناف میں شاعری کرتی ہیں اور ذاتی طور پر کونسی صنف پسند ہے؟
غزل، نظم اور تروینی - تروینی کو باقاعدہ صنف کے طور پر گُلزار صاحب نے متعارف کروایا ہے ، اور غزل کے بعد یہی میرا پسندیدہ انداز ہے ۔
۔ آپکی شاعری کا انداز عام ڈگر سے ہٹ کر ہے۔ اس سلسلے میں آپکا ادبی مرشد کون ہے؟
محسن نقوی میرے رُوحانی مرشد ہیں۔ شعر کے نام پر جس شاعر سے میری اولین واقفیت ہوئی، وہ محسن نقوی ہیں ۔ انہوں نے مجھے ذاتی ڈائری بنانے سے لے کر شعر کہنے تک کا ہُنر سکھایا۔ الفاظ کی معنوی کروٹوں سے آگاہ کروایا ۔
۔ آپکی شاعری میں احساس اور محبت جیسے حسین جذبات نمایاں نظر آتے ہیں۔ محرکات کے بارے میں کچھ بتانا پسند کریں گی؟
تخیل ، اور صرف تخیل ۔ میں خوابوں کے، تخیل کے سہارے زندہ ہوں ۔ اور اگر مجھے اس حقیقی دُنیا میں جینا پڑ جائے ، تو شاید میرا قلم بانجھ ہو جائے ۔
۔ کس شاعر سے آپ جنون کی حد تک متاثر ہیں؟
سلسلہ تو میر، غالب، اقبال، فیض سے ہوتا محسن نقوی کو چھوتا جاتا ہے ۔ یہ تمام نام میرے محسنوں میں سے ہیں ۔ انکے علاوہ ہندوستان کے شاعر گُلزار صاحب نے اردو زبان میں بڑے خوبصورت تجربے کئے ہیں۔ ۔میرے کلام میں پڑھنے والوں کو کہیں کہیں انکے انداز کی جھلک بھی دکھتی ہے ۔
۔ چاند اور پھول سے اتنا لگاؤ کیونکر ہواَ؟
چاند میری شدید ترین کمزوری ہے ، یہ میری شاعری کا ذائقہ ہے ۔ نجانے کتنی کُمنام راتیں میں نے چاند کے سائے میں بسر کی ہیں ، فنی بھوک کے دور میں چاندنی پھانک پھانک کر گُزارا کیا ہے ۔ پھول سے لگاؤ کی ایک وجہ تو عین انسان فطرتٍ خود پسندی ہے، کہ میں خود گُل ہوں، ایک اور وجہ طبیعت کی شدید حُسن پرستی ہے، جو بدنما انسانی رویوں کے اس دور میں پھولوں کا کنوارا حُسن نظر میں گھولتی رہتی ہے ۔
۔ کس طرح کی کتب سے لگاؤ ہے؟
کُتب تو خالی پیالے ہوتی ہیں، آپ جیسا بھی سالن، جیسا بھی مفہوم ان سے نکال لیں ، ان میں ڈال لیں ۔ میری ذاتی لائبریری میں مذہب سے لیکر کُفر تک، شاعری سے لیکر نثر تک ، دلی دکنی سے لیکر سنڈے میگزین تک ہر طرح کی کُتب، رسائل ہیں ۔ پڑھنے کو کچھ بھی مل جائے ، سب پسند ہے ۔
۔مذہب کے بارے میں آپکا کیا خیال ہے؟ کیا آپ مذہبی ہیں؟
کسی بھلے شاعر کا بھلا سا شعر ہے،
خُدا کے نام کا ہم احترام کرتے ہیں
مگر غزل یہ کسی بُت کے نام کرتے ہیں ۔
بس اتنا ہی ، ایسا ہی تعلق ہے مذہب سے اپنا بھی ۔
۔ آپ کو کھانے میں کیا پسند ہے؟
شعری تقاضہ ہے کہ کھانے سے زیادہ پینے پر زور دیا جائے ، اور شرعی تقاضہ ہے کہ یہ پینا پلانا چائے سے آگے نہ بڑھنے پائے ۔ سو بس چاندنی گھُلی چائے سے عشق ہے ۔
۔ آپ کا پسندیدہ رنگ کون سا ہے؟
پیا رنگ کالا ۔۔
۔ موسم کونسا بھاتا ہے؟
موسم سارے خوبصورت ، پر کبھی کبھی دل کرتا ہے کہ کیا ہی اچھا ہو اگر سردیوں میں ہی ساون بھی آجائے ، سردیوں میں ہی گرمی بھی آجائے ۔ جُولائی میں دسمبر، اور دسمبر میں جُولائی ۔۔
۔ آپ کو کیا چیز نا پسند ہے؟
دوغلا پن ۔ سمجھ نہیں آتا کہ آج کے اس دور میں جب آپکو خود "اپنے"ہونے کا یقین نہیں ہوتا، کوئی کیسے ایک ہی وقت میں کوئی "اور" بھی ہو جاتا ہے ۔
۔ آپ کو کس بات پر غصہ آتا ہے؟
دوغلے پن پر ۔ آتا تھا ، اب سمجھوتہ ہو گیا ہے ، کہ کہاں تک نظر چُرائے کوئی ۔ اب تو ہر ایک اپنی اصل ذات کو تراش تراش کر کوئی اور کچھ اور نظر آنے کی جدوجہد میں مصروف رہتا ہے ۔
۔ آپکا غصہ کس صورت میں نکلتا ہے؟
خاموش رہ کر- ایک زمانہ ہوتا تھا چیخنے چلانے کا ، اب تو غصے کے عالم میں اپنے ہی حواس پگھلتے رہتے ہیں ۔
۔ آپ کا بہترین دوست کون ہے؟
چاند ، کتابیں ، چائے کا سیاہ مگ ۔
۔کیا اپنے دوستوں سے توقعات بھی وابستہ ہیں؟
ہوتی تھیں ، جب آتش جواں تھا، اب نہیں۔
۔ فارغ وقت میں کیا کرتی ہیں؟
فارغ وقت ملتا ہی نہیں ہے ۔ اگر مل بھی جائے تو اپنے اندر کے پُر ہول دشت کی آوارہ گردی میں خوب وقت گُزرتا ہے ۔
۔کوئی ایسا واقعہ بتائیں جو آپکی زندگی میں بہت اہم ہو جیسے کوئی ناقابل فراموش یا اُس واقعے سے آپ نے کچھ سیکھا ہو؟
ایسے بہت سے واقعات ہیں ۔ "درد و غم کتنے کئے جمع تو دیوان ہوا"۔ لمبی تفصیل ہے ، پھر کبھی سہی ۔
۔ زندکی کا کوئی خوشگوار لمحہ؟
جب کسی بھی خواب کی تعبیر مل جائے ، کسی کے چہرے پر مسکراہٹ آ جائے ، کوئی نیا شعر ہو جائے - لمحے ہی لمحے ۔
مستقبل سے وابستہ کوئی امید؟
کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک ۔ میں تو اپنے آج کے بارے میں بھی ، اپنے ہونے کے بارے میں بھی یقین و گُمان کے بیچ بیچ ہوں، مستقبل کے بارے کبھی سوچا ہی نہیں۔
۔ کوئی ایسا کام جسے کرنے پر شرمندگی یا پشیمانی ہوئی ہو؟
کچھ جھوٹ بولے ہیں زندگی میں ۔ آج بھی پشیمان ہوں۔ دل چاہتا ہے وقت کا پہیہ گھُما کے واپس لے آؤں ان جھوٹ بولنے کے لمحوں سے پہلے ۔ پھر یہ سوچ کر تسلی ہو جاتی ہے ، کہ وقت لوٹ بھی آیا ، پھر بھی اُس صورتحال میں جھوٹ ہی سے کام چلے گا ۔
۔ مستقبل میں کیا کرنے کا ارادہ ہے؟
فی الحال کچھ نہیں۔ میں لمحہءموجود کی قید میں ہوں ،مستقبل آئے گا تو دیکھ لیں گے ۔
۔ زندگی سے کوئی گلہ؟
کچھ بھی نہیں۔ اچھی گُزر رہی ہے، من کی موج میں۔
۔ عالمی اخبار کے قاریئین کے لئے کوئی پیغام دینا پسند فرمائیں گی؟
فرصت کے لمحات کی قدر کیجیئے۔ اور کُتب کے ساتھ رشتہ قائم رکھیں ، انکا واقعی کوئی بدل نہیں ۔
۔ اپنی پسند کی کوئی نظم یا غزل سنا دیجیئے۔
بہت مشکل ہے کوزے میں دریا کو بند کرنا ۔ہاں میری ادبی زندگی کے اول اول دنوں میں محسن نقوی کا ایک انتساب بہت پسند تھا مجھے ، پیش ہے
محفلٍ شامٍ غریباں کے چراغوں کا دھواں
مقتلٍ عشق و جلوسٍ غمٍ ایام کے نام ۔۔
شورشٍ کُنجٍ قفس نزرٍ شہیدانٍ وفا،
صبحٍ اعزاز کی ساعت، شبٍ الزام کے نام
موسمٍ دید، تیری جُنبشٍ ابرو پہ نثار،
سجدہء اہلٍ وفا، تیرے در و بام کے نام
میری پلکوں پہ سُلگتی ہوئی صدیوں کے نجوم
تیری زلفوں سے مہکتی ہوئی اک شام کے نام
میرے بُجھتے ہوئے ہونٹوں پہ غزل کی خواہش،
تیری آنکھوں پہ اُترتے ہوئے الہام کے نام ۔۔
اس موقع پر محتمہ گل زہرہ نے اپنا کلام بھی سنایا ۔۔
رات اک بیکراں سمندر ہے،
چاند اک بے ثمر شناسائی،
ایک شاعر کا برزخٍ بستر،
اور کمرے میں طاقٍ تنہائی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جب بھی فنکار میں تخلیقی عمل پُھوٹتا ہے،
چاند ، تارا ہو ، یا دل ۔۔۔۔ ٹُوٹتا ہے ۔۔۔۔
چاند ، تارا ہو ، یا دل ۔۔۔۔ ٹُوٹتا ہے،
تُو اگر مجھے سے کبھی رُوٹھتا ہے ۔۔۔
تُو اگر مجھ سے کبھی رُوٹھتا ہے،
تیرے فنکار میں تخلیقی عمل پُھوٹتا ہے ۔۔۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
رنگ رنگیلے آنچل رنگتے ،
عشق کا رنگ چڑھا بیٹھا
سیدانی کا کالا آنچل
سارے رنگ بُھلا بیٹھا ۔۔۔
---------------------------------------------------------------------------------
کبھی چائے تمہاری زندگی کا جُزوٍ لازم تھی،
تمہارا ‘جُزوٍ لازم‘ میرا حصہ ہو گیا ہے
تمہاری یاد سے دل یوں اُبلتا ہے،
سُلگتی آگ پر رکھی ہوئی ہو کیتلی جیسے ۔۔۔
بہت بہت شکریہ۔ خدا آپکو ہر میدان میں ترقی عطا فرمائے۔ آمین۔