
ناموراُردووکشمیری شاعررساجاودانی کے یومِ وفات 27 مئی ،2012کے موقع پررساجاودانی میموریل لٹریری سوسائٹی اور شعبہ اُردوجموں یونیورسٹی کے اشتراک سے پروفیسرگیان چندجین سیمی نارہال ، شعبہ اُردوجموں یونیورسٹی میںمنعقدہ ”شامِ رسا“ میں مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ رساجاودانی نہ صرف اُردووکشمیرکے قدآورشاعرتھے بلکہ وہ سیکولرذہن وکردارکے مالک کے عام شہری بھی تھے۔
مقررین نے کہاکہ رساجاودانی نے اُردووکشمیری زبان کوذریعہ اظہاربناکرزندگی کی حقائق کومدنظررکھ کرشاعری کے ذریعے امن وآشتی اورمذہبی بھائی چارہ کے پیغام کوعام کیا۔
شامِ رساتقریب میں ایوان صدارت میں تشریف فرماحضرات جناب ویدبھسین نامورصحافی و چیرمین کشمیرٹائمزگروپ آف پبلی کیشنز، پروفیسرارشاداحمدحمال وائس چانسلرباباغلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی، عطامحمددیو، تنویرابنِ رساپیٹرن رساجاودانی میموریل لٹریری سوسائٹی، پروفیسرشہاب عنایت ملک صدرشعبہ اُردوجموں یونیورسٹی وصدررساجاودانی میموریل لٹریری سوسائٹی ،ارشاداحمدتاج ، سینئرنائب صدررساجاودانی میموریل لٹریری سوسائٹی، اسیرکشتواڑی جنرل سیکرٹری رساجاودانی میموریل لٹریری سوسائٹی نے مشترکہ طورپرنامورشاعرکے شعری کلا م پرمشتمل ”کلیات رسا“ کااجراکیا۔تقریب سے خطا ب کرتے ہوئے جناب ویدبھسین نے رساجاودانی میموریل لٹریری سوسائٹی کے عہدیداران کونامورشاعررساجاودانی کے شعری کلام کو”کلیات رسا“ کی شکل میں محفوظ کرنے کےلئے مبارکبادپیش کی۔انہوں نے کہاکہ ریاست جموں وکشمیرکے لوگوں کی دیرینہ خواہش تھی کہ رسا صاحب کی کلیات منظرعام پرآئے جوکہ آج پوری ہوئی ہے۔
وید بھسین نے کہاکہ رساجاودانی ایک عام اورسادہ اورمختلف طبیعت کے شخص تھے جنھوں نے اُردووکشمیری زبان میں شاعری کرکے دُنیامیں امن ،محبت اورآپسی بھائی چارہ کے فروغ میں اہم کرداراداکیا۔انہوں نے کہاکہ رساجاودانی کے فرزندارجمندپروفیسرخیرات محمدابن رسا بھی پاکستان کے قدآورمنتظمین اکیڈمیشن میں شمارہوتے ہیں اوروہ بھی اچھے شاعرہیں اوراُن کی چندغزلیں پرنس آف ویلزکالج کے میگزین ”توی “ میں شائع ہوئی ہیں۔ ویدبھسین نے رساجاودانی کے ساتھ ذاتی مراسم کے بارے میںبھی تفصیلی روشنی ڈالی۔انہوں نے کہاکہ جب میں پاکستان پہلی مرتبہ گیاتورساصاحب نے اپنے بیٹے خیرات محمدکوخط لکھاجوکہ اُس وقت پنجاب یونیورسٹی لاہورکے وائس چانسلرتھے ۔ویدبھسین نے کہاکہ خیرات محمدنے والدکے خط کوپڑھ کرمیرے ساتھ مخلصانہ مراسم رکھے اوربھرپورمہمان نوازی کی۔
پروفیسرارشاداحمدحمال وائس چانسلرباباغلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جب میں ڈگری کالج بھدرواہ کاطالب علم تھاتب مجھے رسا صاحب کی شاعری نے جوانہوں نے بھدرواہ میں ایک مشاعرہ کے دوران پڑھی تھی نے بہت متاثرکیا ۔انہوں نے کہاکہ رساجاودانی دوراندیش سوچ رکھنے والے عام شخص تھے۔پروفیسرحمال نے رساجاودانی میموریل لٹریری سوسائٹی اورنامورشاعرکے فرزندتنویراحمدکو”کلیات رسا“کومنظرعام پرلانے کےلئے مبارکبادبھی پیش کی۔پروفیسرمحمداسداللہ وانی نے ”کلیات رسا“ سے متعلق مقالہ پیش کیاجس میں رساجاودانی کی مذہبی شاعری کوبھی زیربحث لایاگیاجوکہ ابھی تک منظرعام پرنہ آئی تھی۔
پروفیسرمحمداسداللہ وانی نے کہاکہ رساجاودانی صاحب کواللہ اوراس کے پیارے رسول پرکامل ایمان تھا۔انہوںنے کہاکہ رساجاودانی 20 ویں صدی کے قدآورشاعرتھے جس کااعتراف محمدیوسف ٹینگ نے بھی کیاہے۔قبل ازیں صدرشعبہ اُردوجموں یونیورسٹی پروفیسرشہاب عنایت ملک نے استقبالیہ خطبہ پیش کرتے ہوئے رساجاودانی کے ادبی کارناموں پرروشنی ڈالی۔انہوں نے کہاکہ میں نے بچپن نانوں جی کی صحبت میں گذاراجس کے اثرات مجھ پرآج بھی نظرآتے ہیں۔پروفیسرشہاب عنایت ملک نے کہاکہ بھدرواہ سمیت ریاست کے لوگوں نے بلارنگ ونسل رساجاودانی صاحب کوعزت دی ۔انہوں نے کہاکہ مجھے یادہے کہ رساصاحب بھدرواہ کے ایک کاروباری نتھورام جوکہ ان کے قریبی دوست تھے کی دوکان پرروزانہ بیٹھاکرتے تھے ۔انہوں نے کہاکہ رساجاودانی کی وفا ت سے27 مئی،1979 کو بلالحاظ مذہب وملت ریاست کے لوگوں کوگہراصدمہ پہنچا۔
اس موقع پربولتے ہوئے اسیرکشتواڑی جنرل سیکرٹری رساجاودانی میموریل سوسائٹی نے رساصاحب کے ساتھ مراسم سے متعلق تفصیلی جانکاری دی۔انہوں نے کہاکہ جب میں ڈگری کالج بھدرواہ کاطالب علم تھاتب میں اکثراُن کے گھرادب کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے کےلئے اُن کے پاس جایاکرتاتھا۔اسیرکشتواڑی نے کہاکہ رساجاودانی عام آدمی کے شاعرتھے اوراُن کی شاعری امن ومحبت اوربھائی چارہ اورقومی یکجہتی کاپیغام دیتی ہے۔انہوں نے کہاکہ ”کلیات رسا“ کومنظرعا م پرلاناوقت کی اہم ضرورت تھی جس کورساجاودانی میموریل لٹریری سوسائٹی نے پوراکیا۔اس کے لیے تنویرابن رسا بھی مبارکبادکے مستحق ہیں۔نامورشاعررساجاودانی کے فرزندتنویراحمدنے اس موقعہ پرمرحوم شاعرکی زندگی کے مختلف گوشوں پرروشنی ڈالی ۔ انہوں نے کہاکہ والدکی حیثیت سے انہوں نے اپنی اولادکوبے پناہ محبت کی ۔
تنویرابن رسانے کہاکہ رساصاحب بچوں سے بے انتہاپیارکرتے تھے ۔انہوں نے کہاکہ جب اُن کابیٹاپاکستان چلاگیاتووہ اُن کی جدائی برداشت نہیں کرپارہے تھے توانہوں نے اس وقت ایک غزل لکھی جسے بعدمیں نامورکشمیری غزل گائیک غلام نبی ڈولوال نے گایااورعوامی حلقوں میں غزل کوبے پناہ شہرت ملی ۔انہوں نے کہاکہ ”کلیات رسا“ میں مکمل کرنے میں اسیرکشتواڑی اوربشیربھدرواہی صاحب کابہت بڑاہاتھ ہے جنھوں نے اپناقیمتی وقت دے کرریاست کے لوگوں کوکلیات رساکاتحفہ پیش کیا۔واضح رہے کہ ”کلیات رسا“ کی اشاعت رساجاودانی میموریل لٹریری سوسائٹی کی جانب سے کرائی گئی ہے اورکتاب کونامورشاعرکے فرزندتنویرابنِ رسانے مرتب کیاہے۔ 333 صفحات پرمشتمل ”کلیات رسا“ میں معروف شاعررساجاودانی کاوہ شعری کلام بھی شامل کیاگیاہے جواب تک شائع نہ ہواتھااورانتساب مرحوم شاعرکی اہلیہ زیبہ بیگم کے نام ہے ۔”کلیات رسا“ کی رسم رونمائی کے بعدآل انڈیامشاعرہ منعقدہواجس میں شعراءکرام نے اپناکلام پیش کرکے مرحوم شاعررساجاودانی کوخراج عقیدت پیش کیا۔
جن شعراءکرام نے اپنی غزلوں سے سامعین کومحظوظ کیااُن میں عرش صہبائی ، پرویزملک، امین بانہالی، خالدکرار، بیتاب جے پوری، امین صابونیہ، مہندرپرتاپ چند، میکش امبالوی ، دانش لدھیانوی وغیرہ شامل ہیں۔تقریب کی نظامت کے فرائض شعبہ اُردوکے سینئراسسٹنٹ پروفیسرڈاکٹرمحمدریاض احمدنے انجام دیئے جبکہ شکریہ کی تحریک اسیرکشتواڑی جنرل سیکرٹری رساجاودانی میموریل لٹریری سوسائٹی نے پیش کی ۔شام رسا ¿ تقریب میں بھاری تعدادمیں یونیورسٹی اساتذہ ، اسکالرز،نامورشاعررساجاودانی کے احباب وافرادکنبہ جن میں تحسین، مشعود، سلیم، شہزادہ، کیسرابن رسا، وقار، ہازک وغیرہ کے علاوہ سول سوسائٹی ممبران خورشیدکاظمی، راحت حسین، شام طالب ، خالدحسین ، پروفیسرایوب شیخ ودیگران نے شرکت کی ۔