لاہور( احتشام جمیل شامی سے ) گذشتہ دنوں معروف نوجوان صحافی سید بدر سعید کی تحقیقاتی کتاب ’’خودکش بمبار کے تعاقب میں ‘‘ کی تقریب رونمائی لاہور پریس کلب میں منعقد ہوئی ۔جس کی نظامت روزنامہ جناح کے کالم نگار عبدالماجد ملک نے کی۔ مقررین کی آمد سے قبل ہی پریس کلب کا ہال مہمانوں سے کھچا کھچ بھر چکا گیا ۔ ادیبوں ، صحافیوں ، دانشوروں اور پروفیسرزکی آ مد کا سلسلہ جاری تھا ، پریس کلب میں موجود کرسیاں ختم ہوگیءں ۔اور انتظامیہ کو ٹی وی لاوئنج سے صوفہ لا کے رکھنے پڑے مقررین میں سب سے پہلے جیو ٹیلی ویژن کے معروف اینکر ، صحافی سہیل وڑائچ تشریف لا ئے اور آتے ہی اعلان کرنے کے انداز میں کہا مجھے یہ کتاب یہاں کھنچ لائی ہے ۔
تقریب کا آغاز معروف عالم دین قاری عارف علوی نے تلاوت قر آن پاک سے کیا جس کے بعد عزیر الطاف نے نعت رسول مقبول ﷺپیش کی ۔
سٹی پریس کلب اوکاڑا کے جوائنٹ سیکرٹری اور عالمی اخبار لندن کے نمائندہ خصوصی برائے پاکستان احتشام جمیل شامی نے کہا کہ ہم سید بدر سعید سے اظہار یکجہتی کے لیے یہاں آئے ہیں ۔ سید بدر سعید نے جس مو ضوع کا انتخاب کیا اور جس انداز سے تحقیق کرتے ہوئے اہم انکشافات کیے اس پر ہم انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں انہوں نے کتاب سے چند اقتباسات بھی حاضرین کو سنائے۔ معروف ادیب ، نقاد اور دانشور ڈاکٹر شبہیہ الحسن نے کہا کہ سید بدر سعید نے23سال میں جو کارنامہ کر دکھایا اس پر میں انہیں مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ اس عمر میں نوجوان کتابوں میں پھول رکھتے اور درختوں پر نام لکھتے ہیں ۔لیکن سید بدر سعید نے اپنے لیے دوسرا راستہ چنا ۔اب دنیا بھر میں دہشت گردی اور خودکش بمبار کے حوالے سے یہ ایک ایسی دستاویز بن گئی ہے جسے روکنا ممکن نہیں رہا۔ انہوں نے کہا سچ کے راستے میں جان جاتی ہے تو جائے مگر حق کا پرچم نہ گرنے پائے اور سید بدر سعید اس کی عملی تصویر بن چکا ہے ۔(اس تقریب کے چند روز بعد ڈاکٹر شبیہ الحسن کو نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر شہید کر دیا)۔ ڈاکٹر شبیہ الحسن نے پاکستان میں قیام امن کی خاطر اس کتاب کی اہمیت اور نڈر اور بے باق صحافت میں سید بدر سعید کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے حاضرین اور اپنی جانب سے مصنف کو بیش قیمت تحفہ پیش کیا ۔روزنامہ جنگ کرائم ایڈیشن کے انچارج اعجاز احمد بٹ نے کہا سید بدر سعید نوجوانوں کے لیے ایک مثال ہے جو دوران تعلیم ہی صحافتی دنیا میں اپنی الگ پہچان بنا چکا ہے اور بہت سے سینئر صحافیوں سے آگے نکل چکا ہے اب جب بھی کوئی سینیئر صحافی دہشت گردی کی بات کرے گا تو لازماََ اسے سید بدر سعید کی کتاب کا حوالہ دینا پڑے گا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سید بدر سعید ان لوگوں سے مل کر ان کے انٹرویو کر چکا ہے جن سے مجھ سمیت بہت سے سینیئر صحافی نہیں مل سکے یہاں تک کہ یہ نوجوان ڈاکٹر عبد القدیر خان کا بھی انٹرویو کر چکا ہے ۔ روزنامہ نئی بات کے ایڈیٹوریل انچارج اور ٹی وی اینکر حافظ شفیق الرحمن نے اپنے مخصوص گرجدار لہجے میں فن خطابت کے جوہر دکھائے انہوں نے عراق، بوسنیا، فلسطین ، کشمیر اور افغانستان کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ جب تک استعماری قوتیں اور سپر پاورز اپنے مفادات کے لیے میدان سجاتی رہیں گی تب تک خودکش بمبار پیدا ہوتا رہے گا اور سید بدر سعید اس کا تعاقب کرتا رہے گا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں سید بدر سعید کی ہمت ، جرات اور بہادری کو سلام کرتا ہوں اور اس اہم موضوع پر اس قدر بھرپور معلوماتی کتاب لکھنے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔
مصنف کے والد اور صدر محفل ابو الحفاط الحاج سید ظفر سعید نقوی صاحب نے کہا جب سید بدر سعید نے اس حوالے سے کام شروع کیا تو ہم نے انہیں منع کرتے ہوئے کہا کہ ہم اتنی طاقت نہیں رکھتے کہ اس کے نتیجے میں سامنے آنے والی مشکلات کا سامنا کر سکیں نہ ہم مالی طور پر اتنے مضبوط ہیں کہ اپنی حفاظت کر سکیں لیکن میرے بیٹے نے کہا کہ اگر حق اور سچ کی سربلندی کے لیے مجھے تنہا نکلنا پڑا تو بھی میں نکلوں گا ۔آپ دیکھیے گا میرا کارواں بنتا چلا جائے گا اور میرا رب میری مدد کرے گا ۔ تب میں نے کہا کہ مجھ میں اتنی طاقت نہیں لہذا میں تمہیں اپنے رب کی حفاظت میں دیتا ہوں اور میرا ایمان ہے کہ جس کی حفاظت رب کرے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا ، پھر وہ وقت آیا کہ ہم نے سجدہ شکر ادا کیا اور اس کتاب کی صورت میرے بیٹے نے پہلا بھر پور قدم اٹھایاجسے جس قدر پزیرائی ملی وہ آپ کے سامنے ہے ۔ یہ جب چلا تو تنہا تھا لیکن آج اس کے ساتھ پورا قافلہ حق کی سر بلندی کے لیے قدم سے قدم ملائے کھڑا ہے ۔ اس دوران اس پر دو سنگین حملے ہوئے اور اس سے کیمرا اور ریکارڈر چھین لیے گئے اسی طرح تعلیمی میدان میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور دھمکیاں دی گئیں لیکن میرا بیٹا سینہ سپر رہا ۔ ہمیں سید بدر سعید پر فخر ہے ۔ مصنف کے والد نے اس موقع پر ایٹمی سائنس دان اور قومی ہیرو ڈاکٹرعبد القدیر خان کا کتاب پر ان کے ہاتھ سے لکھا گیاتبصرہ پڑھ کر سنایا جس میں ڈاکٹر عبد القدیر خان نے تعریف کرتے ہوئے یہ پیغام بھیجا کہ کتاب بے حد دلچسپ اور سید بدر سعید کی بے انتہا کاوش و ریسرچ کا نتیجہ ہے ۔ انداز بیاں اور زبان کو بہت خوبصورتی سے استعمال کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا میری دعا سید بدر سعید کے لیے یہی ہے کہ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ۔
آخر میں سید بدر سعید کو بلایا گیا انہوں نے کتاب کے حوالے سے پیش آنے والی مشکلات بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے مختلف پہلوں پر بریفنگ دی اور سب کا شکریہ ادا کیا ۔ تقریب کے اختتام پر تمام حاضرین محفل کو مکتبہ داستان کی جانب سے کتابیں اور ماہنامہ حکایت کا تحفہ دیا گیا حکایت کے اس شمارے میں سید بدر سعید کا ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب سے خصوصی انٹرویو تھا ۔اس کے بعد پرتکلف چائے کے ساتھ ہی یہ خوبصورت تقریب اختتام پذیر ہوئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
معروف آرٹسٹ خطاط گلزار احمد بٹ اور بشیر حیدر کے اسلامی خطاطی فن پاروں کی نمائش نصرت فتح علی آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی جسکا افتتاح ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر عابد کمالوی نے کیا ۔نمائش میں نوجوان آرٹسٹ انعام قلمکار،نوید اقبال، ماسٹر ریاض، اشرف ہیرا، خالد ملک، محسن علی ، نوید احمد ،احتشام جمیل شامی اور نامور ڈیزائنر ، آرٹسٹ غلام مصطفے مغل نے شرکت کی اس موقع پر عابد کمالوی نے کہا کہ اسلامی خطاطی کی نمائشوں کا نعقاد اشاعت قرآن و تبلیغ اسلام کا بہترین ذریعہ ہے انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ خطاطی کے روشن مستقبل کیلئے آرٹسٹوں کی حوصلہ افزائی اور سرپرستی فرمائی جائے جس سے آرٹسٹوں کی فلاح و بہبود کو سنبھالا مل سکے