یکم مئی ہر برس آتا ہے اپنے ساتھ کتنے ہی سوالات لاتا ہے اور پھر اگلے برس تک یہ سوالات جواب طلب رہتے ہیں ۔ کیا اسی کا نام ‘‘یومِ مزدور‘‘ ہے؟ طے پایا تھا کہ آٹھ گھنٹے کےاوقات کار ہوں گے۔ پاکستان سمیت کتنے ہی ممالک میں یہ حق کب کا سلب ہو چکا۔
پاکستان میں ہر عہد کی حکومت نے مزدوروں کا مزاق اڑایا ہے۔ جمہوریت کے نام پر جمہور کی تضحیک کرنے والوں نے مزدور تو کیا عوام کو بھی اپنے پاوں کی جوتی سمجھا ہے۔ گزشتہ حکومت نے مزدوروں کے نام پر یہ سیاسی کھیل بھی کھیلا کہ بقول انکے انہوں نے کارخانوں اور جائے کار پر مزدوروں کو شیئرز یعنی حصص بھی دیئے اور ایک ٹی وی پروگرام میں پیپلز پارٹی کی ایک وزیر نے تو یہاں تک بڑ ہانک دی کہ انکی جماعت نے مزدوں کو لاکھ پتی بنا دیا ہے۔

حیرت ہے کہ عوام اور مزدوروں کے نام پر حکومتیں حاصل کرنے والی طاقتیں بھی مزدور کے نام پر مزدور کا ہی استحصال کرتی ہیں'
بیچارے مزدور کہ جنہیں ''شیئرز'' کا مطلب بھی معلوم نہیں۔
یاد رہے کہ یہ بھی طے پایا تھا کہ مزوروں کے حقوق اور انکی انجمن سازی کو قانونی حیثیت حاصل ہو گی لیکن آج پوچھنا پڑتا ہے کہ یہ مزدور انجمن اور مزدور کے حقوق کس چیز کا نام ہے۔
پھر اسی مزدور تحریک اور یومِ مئی کے طفیل کام کے لیئے بہتر ماحول اور کم از کم اجرت متعین کرنا طے پایا۔
مگر کیا اس پر عمل ہوا؟ پاکستان اور بھارت جیسے ممالک تو ایک طرف مغرب کے ترقی یافتہ اور انسانی حقوق کے احترام کا ڈھنڈورا پیٹنے والے ممالک کا کیا حال ہے۔
برطانیہ جیسے ملک میں کم ازکم اجرت کا قانون ابھی کوئی دس سال پہلے نافذ ہوا ہے لیکن اس پر عمل در آمد؟
پا کستان میں بھٹہ مزدور تو سامنے کی بات ہے۔پھر کھیت مزدوری کرنے والے،اور سیالکوٹ جیسے شہر میں کھیلوں کا سامان بنانے والی فیکٹریوں میں کام کرنے والے بچے اور اسکے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں سلائی کڑھائی کرنے والی خواتین کا جو استحصال ہو رہا ہے اس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مزدور حقوق کی تحریک نے جو حقوق حاصل کیے گئے تھے آج دوبارہ سلب ہوچکے ہیں۔
معاشی غلامی اس عہد کی اپنی طرز کی غلامی ہے جس نے افراد کے ساتھ ساتھ اقوام کو بھی اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ کسی بھی ترقی پزیر یا ترقی یافتہ ملک کے عام مزدور سے‘‘یومِ مئی‘‘ کے بارے میں دریافت کر کے دیکھ لیں شاید ہی کوئی اس سے آگاہ ہو۔
یکم مئی کی پہچان اگرچہ مزدوروں کے دن کے حوالے سے ہے لیکن مزدوروں کی اکثریت اس دن کی اہمیت اور اپنے ان حقوق سے بے خبر ہے جن کی یاد یہ دن دلاتا ہے۔
پاکستان میں یوم مئی پر غیر سرکاری اور سرکاری تقریبات بھی ہوتی ہیں اور معاشرے میں مزدورں کے کردار کو سراہا بھی جاتا ہے لیکن ایک عام مزدور کو تو صرف کام کرنے میں ہی اپنا فائدہ دکھائی دیتا ہے اسے یوم مئی سے کیا غرض ۔
وہ تو یہ کہتا ہے کہ کیا ‘‘یوم مئی‘‘ نے میرے حالات بدلے ہیں؟ میں کتنے ہی ایسے ہنر مندوں کو جانتا ہوں جو جس ماحول میں پیدا ہوئے اسی میں چل بسے۔ ان کی کتنی ہی نسلیں مزدوری کی آگ میں جل چکی ہیں مگر مسلہ وہی ہے کہ ‘‘ ہیں تلخ بہت بندہء مزدور کے اوقات‘‘۔
سچی بات تو یہ ہے کہ یوم مئی کی تعطیل بھی گھر بیٹھ کر آرام سے بڑے لوگ ہی منا سکتے ہیں، ایک مزدور نہیں۔‘
ذرا دیکھیں تو پیٹ کے جہنم کو بھرنے کے لیئے روزانہ کنواں کھودنے والے مزدور یوم مئی پر کیا کہتے ہیں ’ میرےچار بچے ہیں، میرےگھر کا روزانہ خرچ ڈیڑھ سو روپے ہے اگر میں ایک دن چھٹی کروں تو، تو یہ ڈیرھ سو روپے کہاں سے لاؤں۔ ہمیں یہ دن ’یوم مئی‘ کچھ نہیں دیتا۔‘ ‘‘میں نے تو نہ کبھی اتوار کو چھٹی کی اور نہ جمعہ کو اور مجھے نہیں پتہ یہ مزدورں کا دن کیا ہوتا ہے؟
’مجھے تو پہلے کسی نے بتایا ہی نہیں کہ مزدورں کا بھی کوئی دن ہوتا ہے۔ لیکن اگر ہوتا بھی ہے تو میں کیا کروں! اس سے مجھے کیا ملے گا؟
میرے لیے تو یہ کام کرنا ضروری ہے۔ اس کے بغیر ہمارا گزارہ نہیں۔‘
یوم مئی ہے تو مزدور کا دن لیکن اسے مناتے بھی صاحبانِ ثروت اور صاحبانِ اقتدار؟
لیکن کیا طرفہ تماشہ ہے کہ اس کے باوجود اس یومِ مئی کے بارے میں کہا یہی جاتا ہے کہ
‘‘آج کا دن مزدور کا دن ہے‘‘۔