
گزشتہ قسط میں بات یہاں ختم ہوئی تھی کہ‘‘ماضی میں دوکانوں پر کام کرنے کے دوران غیر محرموں سے ہاتھ ملانے والی یہ خواتین آج دوسروں کو درس حجاب دیتی ہیں۔ خدا را اپنی آواز کو ایسے افراد کے خلاف بلند کریں اور مالکان ٹیلی ویژن سے گزارش کریں کہ ایسے افراد کو سامنے مت لائیں اور اس دین متین کو بدنام مت کریں‘‘۔
آج کی بات اس ایک شعر سے شروع کرتا ہوں جو سارے فسانے کو بیان کر دیتی ہے۔ یہ شعر میں نے اپنی فیس بک میں لکھا تو جناب صفدر ھمدانی نے اسکے جواب میں جو شعر لکھا اس نے سوچ کے دروازے وا کر دیئے۔
میں سوچنے لگا واقعی مسلہ امیر شہر کا نہیں ہے کہ تاریخ میں تو مومنین کے امیر بھی کیسے کیسے گزرے ہیں۔ اسلامی تاریخ میں منبر رسول کو کیسے کیسے امیر المومنین نے استعمال کیا ہے اور یہ وراثت آج بھی جاری ہے کہ سطحی معلومات اور واجبی علم والے ملاں ،مولوی نے عالم دین کے نام کا سہارا لیکر اور اسکا لباس پہن کر عام مسلمان کو ذہنی غلام بنا رکھا ہے اور منبروں سے ایسی ایسی احادیث، روایات،واقعات اور من گھڑت تفاسیر بیان کی جاتی ہیں کہ اب خود صاحبان علم مولانا حضرات نے بھی کھل کر ٹی وی پر کہنا شروع کر دیا ہے کہ۔۔منبروں سے ہمارے مولوی غلط اور جھوٹی احادیث اور روایات پڑھتے ہیں۔
میں نے جو شعر لکھا وہ یہ تھا
امیر شہر منافق ہے اور بزدل ہےیہ بات سچ ہے مگر انکشاف مت کرنااور اسکے جواب میں جناب صفدر ھمدانی نے یہ شعر کہاامیر شہر منافق ہے اسکا ڈر کب ہےفقیہ شہر بھی جھوٹا ہے مسئلہ یہ ہےمیری سلسلے وار تحریر کا مرکزی نکتہ بھی یہی ہے کہ امیر شہر نے تو جو لوٹ مار مچا رکھی ہے وہ اپنی جگہ لیکن فقیہ شہر ہونے کا دعویٰ کرنے والے کیا کر رہے ہیں۔ عام مسلمان کی کم علمی اور دینی علم سے نوے فیصد عدم واقفیت کی وجہ سے صورت حال اسقدر بگڑ چکی ہے کہ بہتری کی کوئی صورت نظر نہیں آتی لیکن حئی اللفلاح کا تقاضہ ہے کہ اسکی طرف توجہ دلواتی جاتی رہے
تازہ درد انگز المیے سے ایک سمجھ دار فرد اس امر کا اندازہ تو لگا سکتا ہے کہ عصر حاضر کی عبادت گاہوں کی انتظامیہ کی غیر انسانی سفاکانہ سیاستوں کی گھناونی فضاؤ ں میں اکثریت چاہے وہ جس سطح کی ہو جب چاہے جہاں چاہے اقلیت یا اقلیت در اقلیت کو پیس کر خاکستر بنا سکتی ہے ایسا ہی ایک کھیل ایک سفاک اور لومڑی کی طرح چالاک معاویہ صفت عبادت کا سربراہ کھیل رہا ہے۔
عبادت گاہ میں عبادت کی اجازت نہ دینا بھی ایک یزید ی عمل ہے ۔مشاہدہ بتاتا ہے کہ عبادت گاہوں میں افراد کی آمد پر پابندی لگانا اور قوم کی رقوم میں خرد برد کرنا بھی تو ابوسفیان کا عمل ہے۔ افسوس آج کے عبادت گاہوں میں بیٹھ کر افراد کے درمیان نفاق کی نا خوش گوار فضا کو پیدا کرناان افراد کا شیوہ ہے ان بد قماش افراد میں اب تو کچھ وردی پوش اور عمامہ پوش اور ایسے افراد بھی شامل ہیں جو اپنے دوستوں کی کمر میں چھری گھوپنے کے عادی ہو چکے ہیں دوست نما دشمنوں کا عبادت گاہوں میں ان درند صفت افراد کے ہمراہ مل کر لوٹنا ایک عام سی عادت بن چکی ہے۔ اور اس لوٹ مار کے عمل کو وہ ایک دوسرے کی مدد کرنا کہتے ہیں ،ایک اچھا فارمولہ قوم کو لوٹنے کا استمعال کیا جا رہا ہے افضال بن غنی کی ایک رپورٹ کا حوالہ یاد آ گیا کوئی مسلکی ٹی وی کے بہانے اور کوئی مدد کے بہانے سے قوم کو لوٹ رہا ہےابھی حال ہی میں برمنگھم ایک بارات کے ہمراہ جانے کا موقع ملا وہاں پر چند افرادتذکرہ کر رہے تھے یہ کہانی بھی ان کی زبانی کچھ

اس طرح تھی ایک خاتون جو ایک خطیب اور محق اسلام ہیں اور پاکستان سے مخصوص ایام میں مغرب کے دورے پر تشریف لاتی ہیں اور ایک محفل یا تقریب میں تقریر کرنے یا اس میں شمیولیت کرنے کے
چھ سو پونڈ ہدیہ کے نام پر وصول کرتی ہیں حالانکہ یہ طے کردہ معاوضہ ہوتا ہے۔ یہ خطیب خاتون حال ہی میں برمنگھم میں آئیں جہاں ایک مذہبی عبادت گاہ میں ان کے ایام خمسہ کے لئے پروگرام طے ہوا ۔پہلے دو روز تو وہ خاتون وقت مقررہ پر تشریف لائیں۔ نا جانے یوم سوئم پر کیا ہوا کہ تقریب میں شرکت کے لئے دو گھنٹے تاخیر سے آئیں
اس میں جو بات قابل غور ہے ان کے دوسرے روز کی تقریر ہے جس پر انہوں نے اول وقت میں نماز ادا کرنے پر جو لفاظی اور خطابت کے جوہر دکھائے وہ قابل تعریف ہے ۔مگر اگلے روز ہی ان کے قول فعل میں اس قدر تضاد ملا کہ موقع پر موجود افراد اور خواتین نے کہنا شروع کر دیا کہ یہ خاتون منبر سے جو کچھ کہتی ہے اس پر عمل نہیں کرتی ۔ واقعہ کچھ ایسے ہوا کہ ان کو تیسرے روز کہیں اور چھ صد پونڈ کا پروگرام مل گیا تو خاتون نے اس کے لئے ہاں کر دی اور جو پروگرام پہلے سے طے تھا اس کو پس پشت ڈال کر وہاں چلی گئیں
اب دوسری طرف تین صد خواتین اس انتظار میں کہ خاتون تشریف لائیں تو پروگرام کو شروع کیا جائے ۔دو گھنٹے کے طویل انتظار کے بعد تشریف لائیں اور آتے ہیں منبر پر چڑھ بیٹھی اور خطاب جاری ہوا۔ اسی دوارن نماز ظہر کا وقت ہو چکا تھا مگر خاتون نے اپنی ایک روزقبل کی گفتگوکو بھی پس پشت ڈال دیا اور صرف دنیاوی دولت کی خاطر بقول ان خاتون کے اول وقت نماز کہاں گئی ۔خواتین کے ایک نجی محفل میں ان سے بات کی تو اس پر جواب پایا کہ پروگرام یا خطاب شروع ہو چکا تھا تو میں اس کو بریک نہیں کر سکتی تھی اس پر سوال کرنے والی بی بی نےکہا کہ آپ دو گھنٹے تاخیر سے تو پروگرام میں تشریف لائی تھیں اگر بیس منٹ اور انتظار کر لیتی تو کوئی حرج نہ تھا۔ اس پر پھر ان سوال کرنے والی خاتون کو لا جواب کیا گیا کہ میں نے وعدے کے مطابق اگلے پروگرام میں شرکت کے لئے جانا تھا اس لئے میں انتظار نہیں کر سکتی ۔
یہ تو آج کی معروف خطیبہ سکالر اور عالم دین کا حال تھا صرف اور صرف دین کی باتیں جو خطابت کے جوہر دکھا کر اور لفاظی اور عوام کے جذبات سے کھیلنے والے خطیب قوم کو کس طرف لے جا رہے ہیں۔ یہ سب باتیں میں اس لئے لکھ رہا ہوں کہ عبادت گاہوں کے سربراہ بھی اس میں برابر شامل ہیں اور جو ان افراد کو آگے بڑھنے کی ترغیب دیتے ہیں اور قوم کو گمراہ کرتے ہیں۔

دوسری طرف مسلکی ٹیلی ویژن پر آج کل کچھ پروگرم کئے جا رہے ہیں جن میں پروگرام کا نام تو تربیت اولاد یا سماجی مشکلات اور ہمارے مسائل ہیں اور ان میں طلاق اور تربیت کے حوالے سے زیادہ گفتگو کی جاتی ہے۔ جو میزبان اس پروگرام میں شمولیت کرتا ہے وہ خاتون خود تین بار طلاق یافتہ ہیں اور ایک مزے کی بات تو یہ کہ ان کے اپنے بچے دوسرں کے رحم و کرم پر پاکستان میں پل رہے ہیں۔
گھریلو خواتین جو ان پروگرموں میں شرکت کرتی ہیں اگر ان کے بارے میں لکھ دوں تو مجھ پر فتویٰ قتل جاری ہو جائے گا۔
ملائیت دراصل ذہنیت ہے جو مرد اور عورت دونوں میں ہو سکتی ہے اسی ملائیت ذہنیت کی حامل اس خاتون نے دین کے نام پر جو جو لوٹ کھوسٹ مچا رکھی ہے وہ کسی اور قسط میں تحریر کروں گا تا کہ وہ غلاظت بھی نظر آ سکے جو اس لبادے کے پیچھے چھپی ہوئی ہے۔ اور تف ہے ان شریف گھروں کی خواتین پر جو صرف اپنے نام نمود کے لئے اور شکل دکھانے کے لیئےان کے ساتھ اس قبلیے میں شامل ہیں۔اپنی بدنامی کو مٹانے کے لئے ٹیلی ویژن کا سہارا لینے سے بدنامی ختم نہیں ہو جاتی یا گناہ مٹ نہیں جاتے گناہ اپنی جگہ موجود ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرنے کی جو ترغیب دی جا رہی ہے وہ بھی اپنی جگہ موجودہے مگر نہ جانے ہمیں کب سمجھ آئے گی اور کب ان افراد کے خلاف آواز کو بلند کریں گے۔
منافقت ہم سے نہیں ہوتی جو بات سچ ہے وہ سپرد قلم کر دیتے ہیں۔ میں اکثر ٹیلی فون بھی وصول کرتا رہتا ہوں اور فیس بک پر جو افراد یا خواتیں ان رپورٹ کے بارے میں اپنے خیالات اور مفید مشوروں سے نوازتے رہتے ہیں میں سے کا بھی شکر گزار ہوں اور دل چاہتا ہے کہ ان مفید مشورں اور خیالا ت کو آپ سے بھی شیئر کر وں۔
مدیحہ جاوید جو ایک برطانیہ کے مسلکی ٹیلی ویژن پر کام کر چکی ہیں اپنے تجربات کو کچھ اس طرح سے لکھتی ہیں
Fariha Javed good, mazhabi channel bhi tou aisi khwateen ko sirf slot cover karney k liye bithatey hain na, un ko iss se gharaz nahi k ye sharab bechti hain ya jo bhi karti hain kam sey kam channel maalkan say zyada tankha tou nahi mangti na iss tarah channel malkan apni jaibein zyada bhar saktey hain.Fariha Javed yehi dekh kar tou afsos hota hai, ab aap kese kisi ko role model bana saktey hain jab aap jantey hon k screen par aaney wal shakhs ya khatoon program khatm hotey hi apni oqat pe wapas chala jaey ga aur ye makhsus libada tou uss ne tv dekhney wale masum zehno ko qabo karney ke liye oRrha hua tha. qol-o-fel ka tazad rakhney waley log kese ummat ki rehnumai kar saktey hein aur kesey inn ke ilfaz asar pazeer ho saktey hein. aur phir aksariyat to mehez adakaar hain ab bhala kisi naqqal aur aalim ka kya muqabala???Fariha Javed 110% agreed kyunk mei ne ye sab dekha hai... Allah aap ko sabit qadam rakhe aur aap ki maddad farmaye (Ameen)ایک اور ای میل میں محترم ڈاکٹرسید علی عباس نے تحریر کیا
اکمل بھائی کا کالم لا جواب ہے مذہبی مافیا کے خلاف آواز اٹھانا ہم سب کا فرض ہے ‘‘ دین ملا فی سبیل اللہ فساد‘‘
Akmal Bhai ka column lajwab hay. Mazhabi Mafia kay khilaf awaaz uthana hum sab ka ferz hay. " Deen e Mulla fi Sabeelillah fasad "" Waeaan kein jalwa der mehrab o minber mikunand Choon bakhilwat mirwnd aan kar e deegar meekunand ". Yeh " Kar e Deegar " ayan kernay main aik aham sang e meel hay.. Jazak Allahu Ahsan al Jaza. Meri taraf sey tehniat aur dheron Duaen.Duago wa Talib e Dua,Ali Abbasکسی وقت موقع ملا تو ایسی متعدد ای میلز جو میری تحریروں کے حق اور مخالفت میں آئی ہیں ایک قسط انکے حوالے سے بھی لکھونگا۔