غیر مطبوعہ
غزل
تختہء مشق بنوں، جاں بہ سپر ہوجاؤں؟
تو بتا ! کون سا چہرہ لوں، کدھر ہوجاؤں؟
بے زبانوں کی رفاقت بھی میسر کر لی
بولیے! آپ کا منظورِ نظر ہوجاؤں؟
یونہی بے سمت سفر کتنا رہا ہے باقی
اُس طرف جاؤں مری جاں، یا اِدھر ہوجاؤں؟
راہ تکتے ہوئے آنکھیں تو ادھوری ٹہری
کہیے سرکار ! کہ اب راہ گذر ہوجاؤں؟
میری آواز سے ہمت کو جلا ملتی ہے
بے کسی ٹوٹ پڑے،میں کہ جدھر ہوجاؤں
خیر ٹہری ہے زمانے کے موافق ہونا
ہونے کو جی نہیں چاہے ہے مگر ہوجاؤں؟؟
بے گھری اوب گئی ، اب تو یہ عالم ہے کہ بس
کون سی راہ چنوں ، جانے کدھر ہوجاؤں؟
جو بغاوت پہ وعیدوں سے نکھر جاتا ہے
فرحت ِ تلخ نوا ، تیشہ نظر ہوجاؤں؟