
جرمنی : (ایس آر چوہان) تین جون کو پاکستان پیپلز پارٹی جرمنی نے پاک
یورو جرنلسٹس فورم کو ایک نہایت شاندار استقبالیہ دیا جس میں گریل پارٹی کا
انتظام کیا گیا تھا شدید بارش کے باوجود پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن ،
رہمناوں ، پاکستانی کیمونٹی اور دینی مدارسوںکے عہدیداروں نے بھر پور شرکت
کی اور انہوں نے ملکر پاک یور جرنلسٹس فورم کو نہایت خوش دلی اور جوش وخروش
سے خوش آمدید کہا ۔
یہ استقبالیہ پرائیوٹ گارڈن میں کیا گیا تھا جو پیپلز پارٹی جرمنی کے
بانی اور بنیادی کارکن محمد شفیق ڈیتھو ۔ کا تھا ۔ بارش کی وجہ سے یہاں
پہلے ہی ٹینٹ لگا دئیے گئے تھے ۔ اس لیے بارش کی وجہ سے پروگرام متاثر نہ
ہوا اور وقت پر شروع ہوا ۔ پاک یورو جرنلسٹس فورم کو خوش آمدید کہنے والوں
میں پاکستان پیپلز پارٹی جرمنی کے عہدیداروں کے علاوہ منہاج القران کے
مقامی اور یورپین عہدیدار ، دراالسلام اور دیگر مذہبی اور کمیونٹی کی سماجی
تنظموں کے عہدیدار شامل تھے ۔<سب سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی جرمنی کے مرکزی چیف آرگنائزر سید واصف
بخاری اور کواڈینیٹر رانا بشیر نے پاک یورو جرنلسٹس فورم کو اپنے اور اپنے
تمام ساتھیوں اور جرمنی میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی طرف سے تہہ دل سے
شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پاک یورو جرنلسٹس فورم کا قیام ایک مثبت
اور خالص جمہوری قدم ہے جنہوں نے جرمنی اور تمام یورپ میں جس طرح اپنی
عوامی شعوری جدوجہد اور غیر جانبدارانہ صحافت کی منافقت کی بجائے عوامی
صحافت کو پاکستانی کمیونٹی میں جاری رکھا ہوا ہے اس سے یقینا یورپ میں مقیم
پاکستانی دیار غیر میں اپنی ایک ترقی پسند پہچان بنائیں گئے ۔ پاک یورو
جرنلسٹس فورم جہاں پاکستانی کمیونٹی میں بہترین کام کر ہا ہے وہاں اس کے
قیام سے ماضی کے بت منہ کے بل جا گرئے ہیں اور جو گروہی صحافت میں آمریت کے
دیوتا بنے بیٹھے تھے آج ذلیل و سوا ہو چکے ہیں ۔ جو صحافت کی بجائے اقرابا
پروری ، بلیک میلنگ اور بداعنوانی کے بے تاج بادشاہ تھے ۔ آٹھ مئی دو ہزار
دس کو ہار ہائم فراینکفرٹ میں پیپلز پارٹی کا تاریخی قومی سب سے بڑا جلسہ
ہوا لیکن جرمنی کے کسی مقامی اور یہاں کے کسی بھی ایک صحافی جو اپنے آپ کو
صحافت کا بابا آدم کہتے ہیں نہایت تعصب پسندی کا ثبوت دیتے ہوئے ایک چھوٹی
سی خبر بھی نہیں دی ۔ اس کے علاوہ جرمنی میں صحافیوں کی تمام تاریخ اس کی
گواہ ہے کہ یہ صحافت میں کسی ضیا الحق سے کم نہ تھے ۔ یہ پیسے لے کر خبریں
لگا تے تھے یا کھانا کھانے کے بعد ہی خبر لگاتے تھے ۔ لیکن پاک یورو
جرنلسٹس فورم کے قیام سے جرمنی کی کمیونٹی میں خاص طور پر خوشی کی لہر دورڑ
گئی ہے ۔ اور وہ تما م سرگرم ورکرز اور رہمنا جو چند ماضی کے نام نہاد
صحافتی اداروں اور افراد کی وجہ سے انتشار اور مایوسی کا شکار تھے اب وہ
انتشار کم ہو رہا ہے اور مایوسی ٹوٹ رہی ہے یہ استقبالیہ جس کا منہ بولتا
ثبوت ہے کہ شدید بارش کے باوجود بھی یہ پروگرام کامیاب ترین ہے ۔
شکیل چغتائی جو کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں اور پاک عالمی صحافت میں
ایک بڑا نام ہیں پیپلز پارٹی جرمنی کی قیادت کے پرزور اسرار پر خصوصی طور
پر برلن سے اس پروگرام کے لیے تشریف لائے ۔اور انہیں مہان خصوصی کی چیر دی
گئی ۔ دانیال رضا نے پیپلز پارٹی جرمنی اور پاکستانی کمیونٹی کے نمائندوں
کو پاک یورو جرنلسٹس فورم کے اغراض و مقصد سے آگا ہ کیا ۔ اس استقبالیے میں
پاک یورو جرنلسٹس فورم کی طرف سے اس کے سینئر وائس چیرمین ارشاد ہاشمی ،
سینئر نائب صدر سعید خان ، نائب صدر جرمنی طاہر ملک ، صدر دانیال رضا شامل
ہوئے ۔
