رجب المرجب 25 حضرت امام موسی
کاظم علیہ السلام کی شہادت کا دن ہے، شیعہ اوراہل سنت دونوں نے آپ کے
فضائل بیان کئے ہیں ، جیسا کہ اہل سنت کے بزرگ عالم دین ابن طلحہ تحریر
کرتے ہیں:
« هو؛ الامام ، الكبير القدر العظيم الشأن
، الكثير التهجّد ، الجادّة في الإجتهاد، المشهود له بالكرامات ، المشهور
بالعبادة ، المواظب علي الطاعات ، يبيّت الليل ساجدا و قائما و يقطع النهار
متصدقاً و صائماً ولفرط علمه و تجاوزه عن المعتدين عليه دُعي كاظما ، كان
يجازي المسيء بإحسانه إليه ، ويقابل الجاني عليه بعفوه عنه ، و لكثرة
عباداته كان يسمي بالعبد الصالح ، ويُعرف بالعراق بباب الحوائج إلي الله ،
لنجح المتوسلين إلي الله تعالي به ، كراماته تحار منها العقول ....۱»

”وہ ایک عظیم القدر اور عظیم الشان امام تھے،
بہت زیادہ تہجد گذار اور محنت و کوشش کرنے والے تھے ، جن کی کرامات ظاہر
تھیں اور جو عبادت میں مشہور اور اطاعت الٰہی پر پابندی سے گامزن رہنے والے
تھے،راتوں کو رکوع و سجود میں گزارتے تھے اور دن میں روزہ رکھتے اور خیرات
فرمایا کرتے تھے، اور بہت زیادہ حلم و بخشش اور اپنی شان میں گستاخی کرنے
والوں کی بخشش کی وجہ سے آپ کو کاظم کے نام سے پکارا جاتا تھا، اور جو شخص
آپ کی شان میں گستاخی کرتا تھا آپ اس کا جواب نیکی اور احسان کے ذریعہ دیتے
تھے، اپنے اوپر ظلم و ستم کرنے والوں کو بخش دیا کرتے تھے، اور بہت زیادہ
عبادت کی وجہ سے آپ کا نام ”عبد صالح“ پڑ گیا، اور آپ عراق میں ”باب
الحوائج الی اللہ “ کے نام سے مشہور ہوئے، کیونکہ ان کے وسیلہ سے خدا ئے
قادر سے متوسل ہوا جاتا ہے جس کا نتیجہ بھی برآمد ہوتا ہے۔ اور آپ کی
کرامات عقلوں کو حیران کردیتی ہیں۔۔۔“
اسی طرح آپ کی شان میں اہل سنت کے بہت زیادہ تعصب رکھنے والے عالم ابن حجر لکھتے ہیں:
« و كان معروفاً عند أهل العراق بباب قضاء الحوائج عند الله و كان أعبد أهل زمانه و أعلمهم و أسخاهم ۲»
”آپ عراقیوں کے درمیان خدا کی طرف سے باب اللہ
کے نام سے مشہور تھے اور اپنے زمانہ کے سب سے بڑے عبادت گزار، سب سے بڑے
عالم اور سب سے زیادہ سخی انسان تھے“۔
آپ کے کرامات بہت زیادہ ہیں، منجملہ صحیح حدیث میں حماد بن عیسیٰ سے منقول ہے:
”میں شہر بصرہ میں حضرت موسیٰ کاظم علیہ السلام
کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی: آپ میرے لئے دعا
کریں کہ خداوندعالم مجھے ایک مکان، زوجہ، بیٹا اور ایک نوکر عطا کرے، نیز
پچاس حج میرے مقدر میں لکھ دے۔ حماد کہتے ہیں: جیسے ہی میں نے پچاس حج کے
سلسلہ میں کہا تو مجھے معلوم ہوا کہ میں پچاس حج سے زیادہ بجا نہیں لاسکتا،
اس کے بعد حماد کہتے ہیں کہ میں اس وقت میں ۸۴ حج بجا لا چکا ہوں، اور یہ
میرا مکان ہے جو مجھے ملا، اور یہ میری اہلیہ ہیں جو پردہ کے پیچھے سے میری
باتوں کو سن رہی ہیں اور یہ میرا بیٹا اور یہ میرا خادم ہے یہ تمام
چیزیںمجھے ملی ہیں، اور ان باتوں کے بعد حماد نے دو حج انجام دئے اور ان کے
پچاس حج مکمل ہوگئے، اور جب اکیاونوے حج کے لئے روانہ ہوئے ان کے ساتھ ابو
العباس نوفری تھے اور جس وقت احرام باندھنا چاہتے تھے، اور حماد غسل کرنا
چاہتے تھے، سیلاب آیا اور وہ غرق ہوگئے اور اسی میں ان کا انتقال ہوا،
خداوندعالم ان پر اپنی رحمت نازل کرے“۔
اسی طرح ایک دوسری صحیح حدیث میں بیان ہوا ہے:
”امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سر زمین منیٰ میں
ایک ایسی خاتون کے پاس سے گزرے جو بیٹھی ہوئی رو رہی تھی اور اس کے بچے
بھی اس کے اردگرد بیٹھے رو رہے تھے، کیونکہ اس خاتون کی جمع پونجی ایک گائے
تھی جو مرچکی تھی، امام علیہ السلام اس عورت کے نزدیک گئے اور اس سے
فرمایا: اے کنیز خدا! تو کیوں روتی ہے؟ چنانچہ اس خاتون نے جواب دیا: اے
خدا کے بندے! میرے چند یتیم بچے ہیں اور میرے پاس یہ ایک گائے تھی جس سے
اپنی اور اپنے بچوں کی زندگی بسر کیا کرتی تھی لیکن اب یہ مرچکی ہے، اور
میں اور میرے بچہ لاچار ہوگئے ہیں، چنانچہ امام علیہ السلام نے فرمایا: کیا
تم چاہتی ہو کہ میں اسے زندہ کردوں! چنانچہ اس خاتون کے دل میں آیا کہ
کہوں: ہاں اے خدا کے بندے! اس کے بعد امام علیہ السلام ایک مقام پر گئے اور
دو رکعت نماز پڑھی اور اپنے ہاتھوں کو بلند کیا اور اپنے مبارک ہونٹوں کو
جنبش دی اور اٹھ گھڑے ہوئے۔
اور پھر گائے کو ایک ٹھوکر ماری اور وہ گائے
زندہ ہوگئی، چنانچہ اس عورت نے جیسے ہی یہ منظر دیکھا تو اس نے چلاکر
پکارا: خدا کی قسم! یہ تو عیسی بن مریم ہیں، اس کے بعد امام علیہ السلام
وہاں سے روانہ ہوئے اور لوگوں کے مجمع سے نکلتے ہوئے چلے گئے“۔
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ہارون الرشید کے
قید خانہ میں زہرِ دغا سے مظلومانہ اور غریبانہ طور پر شہید ہوئے اور آپ کی
قبر مبارک کاظمین میں امام جواد علیہ السلام کے برابر میں ہے۔
آخر میں تبرک کے طور پر آپ کی چند احادیث کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
«ياهشام ، إنّ العاقل نظر إلي الدنيا وإلي
أهلها فعلم أنها لاتنال إلا بالمشقة ، و نظر إلي الآخرة ، فعلم أنها لاتنال
إلا بالمشقة ، فطلب بالمشقة أبقاهما .۳ »
« السخي قريب من الله ، قريب من الجنة ، قريب من الناس۴ »
« إنّ خواتين أعمالكم قضاء حوائج إخوانكم و إحساناً عليهم ما قدره و الا لم يقبل منكم عملا هنو علي إخوانكم و رحموهم تلقو بنا۵ »
« جهاد الإمرأة ، حسن التبعّل۶ »
« ما من شيء تراه عينيك إلا فيه موعظة۷»
بشکریہ۔www.vahid-khorasani.ir
حضرت قیصر بارہوں کے مرثیے سے اقتباس
ہائے امام موسیٰ الکاظم علیہ السلام
یہ مرثیہ مرحوم نےاپنے لاہور کے قیام کے دوران ١٩٧٨ میں تحریر کیا ڈاکٹر شبہہ الحسن ہاشمی شہید جن کو حال ہی میں لاہور میں شہید کیا گیا نے معتبر مرثیے میں اپنے ایک تحققی مضمون سن تحریر کو واضع طورپر شامل کیا ہے٧٨ بند کے اس مرثئے سے چند بند اقتباس کے طور پر قارئیں کو پرسے کے ساتھ پیش کرتا ہوں اور ہر دو افراد پر خصوصی اور جملہ مرحومین اور مرحومات کے لئے سورہ فاتحہ کی گزراش بھی کرتا ہوں۔
1
ہفت اقیلم سے بہتر ہے مقدر میرا
سات سیاروں میں کوئی نہیں ہمسر میرا
کیوں نہ قبضہ ہو ثریائے سخن پر میرا
سایہِ موسیِٰ کاظم میں ہے بستر میرا
مجھ سے بڑھ جائے زمانہ یہ کسی طور
نہیں
اپنے مولا کا بھکاری ہوں کوئی اور نہیں
2
اور ہونگے جو بُرے وقت سے گھبرائیں گے
جتنے غم ہیں مرے غمخوار نظرآئیں گے
میرے دشمن مری تودیر کہاں پائیں گے
دُھوپ کی طرح جو نکلے ہیں وہ ڈھل جائیں گے
حق بیانی مری دولت ہے مکن رہتا ہوں
میں تو دریا ہوں سمندر کے لئے بہتا ہوں
3۔
الفت آل محمد کے سمندر کی قسم
دفتر نظم سفینہ ہے تو موجین ہیں قلم
گد پاپوش سے زاہئد نہیں دنیا کے ستم
دستِ کردار میں نادعلی کا پرچم
ناز کرتا ہوں اس انداز گل افشانی پر
ٍحر ہے باغِ رسالت کی ثنا خوانی پر
4
فن کی دنیا میں فقط مرثیہ گوئی کا شرف
لفظ ہیں گوہر نایاب تخیل ہے صدف
کعبہ دل میں بچھاتا ہوں جو ایمان کی صف
ماتمی آنکھ لُٹا دیتی ہے کچھ دُر نجف
درد کے آئینے کاغذ پہ بکھر جاتے ہیں
حرف زنجیر کی مانند نظر تے ہیں
5
ایک زنجیر جسے سلسلہ ناز کہوں
عالمِ قید میں مظلوم کی دم ساز
کہوں
ایک زنجیر جسے امر کہوں راز کہوں
جس کی جھنکار کو اسلام کی آواز کہوں
تازیانوں کی صدا آئی تو لب دوز رہی
ایک زنجیر جو غربت میں جگر سوز رہی
6
آندھیوں سے نہ بجھیں کے یہ محمد کے چراغ
تا قیامت نظر آئیں گے مشیت کے ایاغ
اب وہ شداد کی جنت ہے نہ فرعوں کا باغ
جس طرح جھومتا پانی ہے زراعت کے لئے
اس طرح موسی کاظم ہیں امامت کے لئے
۸
ذہن میں سات مبنیوں کا تبسم لے کر
قلب میں سازِ مودت کا ترنم لے کر
جعفری بحر سے انداز تلاطم لے کر
کاظمی علم سے معراج تکلم لے کر
آدمی وقت کے شعلوں پہ سنبھل سکتا ہے
یا علیّ کہہ کے زمانے کو بدل سکتا ہے
۹
ارض بغددا و مسافر پہ مصیبت کا مقام
وہ مقام جو شریفوں کی اجل کا پیغام
خونِ سادات پہ دربارَ ستم کا انعام
جہاں ظالم کے شکنجے میں زمانے کا امام
اس تصور کو دلَ اہل حرم سے پوچھو
باپ کی قید ہے اولاد کے دم سے پوچھو
۱۰
کیا چھپائے گا کوئی موسی کاظم کی ادا
کیا مٹائے گا کوئی نورِ امامت کی ضیا
علم صادق ہے زمانے میں محمد کی بقا
کیا بھلائے گا کوئی گاشن جعفر کی ہوا
قید خانوں سے عیاں صبح کے مخزن ہوں گے
آندھیوں میں یہ چراغ اور بھی روشن ہو گے
١١
اس شہادت کی تجلی میں پڑھے گا انساں
زندگی کیا ہے فقط آلِ محمد کا بیاں
ہر طرف دیکھ کے بغداد کے محلوں کا دھواں
راز کھولے گی تڑپتے ہوئے دریا کی زباں
انقلاب آئے گا احساس کی تصویروں میں
پل بتا ئیگا یہاں لاش کی زنجیروں میں
١٢
پل پہ رکھی ہوئی اک لاش اک انسان کی لاش
لاش
میزبانوں کی گزرگاہ پہ مہان کی لاش
لاش
ایل ااسلام کے ستے میں مسلمان کی لاش
لاش
وہ ازانوں کی صاد اور وہ قران کی لاش
صبر کا آئینہ یوں غم کے اثر نے چوما
دھوپ نے پیار کیا راہ گزر نے چوما
انا للہ و انا علیہ راجعون