|
سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور شب معراج از :۔ جویریہ بتول
17.06.2012, 11:11pm , اتوار (GMT+1)
جویریہ بتول ۔کراچی
گھنٹوں ،پہروں اور ساعتوں کے لحاظ سے دیکھا جائے تو سب را تیں ایک جیسی ہی ہوتی ہیں مگر کچھ راتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو اپنے اندر بے پناہ اہمیت رکھتی ہیں جو انسان کو ہدایت اور ترقی و کامرانی کی را ہوں پر گامزن کرتی ہیں انہیں نشان منزل کا پتا دیتی ہیں اور اپنے ربّ کی خوشنودی و رضا حاصل کرنے کا درس بھی دیتی ہیں ۔
شب معراج بھی یوں تو عام راتوں کی مانند ایک را ت تھی ستاروں کی چمک بھی دوسری راتوں کی طرح جاری تھی مگر اس رات کے نصیب میں ایک ایسی سعادت مقدور تھی ،جس سے دوسری تمام راتیں روز آفرنیش سے آج تک محروم ہیں اور آئندہ بھی محروم ہی رہیں گی ۔
خالق کائنات نے اس شب مقدس کو ایک امتیازی حیثیت عطا فرماتے ہوئے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا”پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اس مسجد تک جس کے ماحول کو اس نے برکت دی ہے تاکہ اسے اپنی کچھ نشانیوں کا مشاہدہ کرائے ۔حقیقت میں وہی ہے سب کچھ سننے اور دیکھنے والا“ (سورہ بنی اسرائیل آیات۱)
ستائیس رجب سن دس نبوی کی شب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بعد نماز عشا ءمکہ مکرمہ میں آرام فرما رہے تھے کہ جبرئیل امین و میکائیل آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جگایا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ مبارک چاک کیا،آب زم زم سے دھویا پھر سونے کا ایک طشت ایمان و حکمت سے لبریز سینہ مبارک میں ڈال کر اسے دوبارہ ٹھیک کر دیا اور دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت لگا دی ،سواری کیلئے ایک سفید رنگ کا براق پیش کیا اور عرض کیا ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوجائیے “اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم براق پہ بیٹھ کر حضرت جبرائیل کے ہمراہ بیت المقدس گئے ۔ حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے براق کو حلق سے باندھ دیا جس طرح انبیاءکرام باندھا کرتے تھے ۔ اس کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے اور دو رکعت نماز ادا کی ۔شب معراج سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیت المقدس آمد پر تمام انبیاءاکرام پہلے ہی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظار میں موجود تھے جن میں حضرت ابراہیم ،حضرت موسیٰ ، اور حضرت عیسیٰ بھی تھے
پھر ایک موذن نے اذان دی اور اقامت کہی ۔سب صفیں باندھ کر امام کے انتظار میں کھڑے ہوگئے ۔حضرت جبرائیل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھایا اور کہا،”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھائیے ۔“
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی ۔پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو جبرائیل امین نے عرض کی ، اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ نے کن لوگوں کو نماز پڑھائی ہے ؟ سرور عالم نے ارشاد فرمایا ۔نہیں ۔ حضرت جبرائیل امین نے کہا،”آج تک جتنے بھی انبیاء مبعوث ہوئے ہیں ان سب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی ہے۔“
اس کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارواح انبیاءسے ملاقات فرمائی اوراللہ کی حمد و ثنا کی۔سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی حمدوثناءسے فارغ ہو کر مسجد اقصیٰ سے باہر تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تین پیالے پیش کئے گئے جن میں سے،ایک پانی کا تھا، دوسرا دودھ کا اور تیسرا شراب کا تھا۔
سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے دودھ کا پیالہ منتخب فرمایا ۔ حضرت جبرائیل نے کہا،”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین فطرت کو اختیار کیا ہے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم شراب کو اختیار کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت گمراہ ہو جاتی اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پانی کو اختیار کرتے تو امت غرق ہو جاتی۔“ اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت المعمور میں نماز پڑھنے کے بعد سدرة المنتہیٰ کی طرف بلند کئے گئے اور سدرةالمنتہیٰ سے جنت کی طرف جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی سیر فرمائی اورآخر میں جہنم پیش کی گئی ۔ بالا آخرآپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام صریف الاقلام سے فارغ ہو کر بارگاہ خداوندی میں حاضر ہوئے۔حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ”شب معراج سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کیلئے ایک رفرف اتری جس میں بیٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلند کئے گئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ربّ کے قریب پہنچ گئے “
حضرت امام طبری اور امام ترمذی سے حضرت انس سے روایت کی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا”میں نے نور اعظم یعنی نور الہٰی کو دیکھا پھر اللہ نے میری طرف وحی بھیجی یعنی مجھ سے بلا واسطہ کلام فرمایا۔“
صحیح مسلم سے روایت ہے ”اللہ ربّ العزت اس کلام کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین عطیے عطا فرمائے،
۔پانچ وقت کی نماز ( ابتداءمیں پچاس تھی ۔سورة بقرہ کی آخری دو آیات (جس میں مسلمانوں کیلئے رحمت اور کفار کے مقابلے میں نصرت کی دعا شامل ہے۔ ۔شرک کے سوا دوسرے تمام گناہوں پر معافی کی امید۔
آسمانوں کی سیر ،انبیاءکرام ،جنت و دوذخ کے مشاہدے ،سدرةالمنتہیٰ اور مقام صریف الاقلام کی زیارت، کلام الٰہی اور دیدار الٰہی سے مشرف ہونے اور احکام و ہدایت پا لینے کے بعد سرورعالم صلی اللہ علیہ وسلم آسمانوں سے واپس زمین کی طرف روانہ ہوئے اور سب سے پہلے بیت المقدس میں اترے اور وہاں سے براق پر سوار ہو کر صبح سے پہلے پہلے مکہ مکرمہ پہنچ گئے۔
سورہ بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ نے معراج کے روحانی منظرکا بیان یوں فرمایا ہے ”ہم نے اپنے بندے کو سیر اس لیے کرائی کہ ہم اپنی کچھ نشانیاں اسے دکھائیں ۔“ پھر ان نشانیاں دکھانے کا جو مقصود تھا اسے بھی اللہ نے اپنے ارشاد ”تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو“ کے ذریعے واضح فرمادیا ہے، چنانچہ جب انبیاءکرام کے علوم کو اس طرح کے مشاہدات کی سند مل جاتی تھی تو انہیں عین الیقین کا مقام حاصل ہو جاتا تھا جس کا ندازہ لگانا ممکن نہیں۔
جب کوئی انسان مصائب و آلام اور ابتلاءو آزمائش کی انتہائی منزلیں رضائے الٰہی کیلئے طے کر لیتا ہے تو اس پر راحت و آرام اور لطف و عنایت کے دروازے کھل جاتے ہیں جب انسان خدائے ذولجلال کی راہ میں ذلت و رسوائی اور لوگوں کی نے اعتنائی صرف اسی کی خوشنودی کیلئے برداشت کر لیتا ہے تو اس کیلئے عزت و رفعت اور ترقی و کامرانی کے دور کا آغاز ہو جاتا ہے۔کاش ہم مسلمان واقعہ معراج کی اصل روح کوسمجھنے کی کوشش کریں ،یہ اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ اس نے اُمت محمدی کیلئے روز آخرت کے حساب و کتاب کو آسان بنا دیا ہے ۔اس شب معراج کا سب سے قیمتی تحفہ اُمت محمدی کو نماز کا ملا ہے یہ وہ انعام ہے جس سے صرف اُمت محمدی کو نوازا گیا ہے ۔معراج النبی کے صدقے اللہ عزوجل نے مومنو ں کو بھی معراج سے نوازا ہے اور ارشاد فرمایا، ”نماز مومنوں کی معراج ہے“
ہم کتنے خوش قسمت ہیں کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں ہیں کہ میں چاہیئے کہ ہم حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر صدقہ دل سے عمل کریں تمام لوگوں کیلئے باعث رحمت بنیں اور پرور دگار عالم کی عطا پر نماز شکرانہ ادا کریں ۔
|