16.10.2026, 09:59am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان کا کردار۔18ویں قسط ۔ سید اکمل حسین
19.06.2012, 03:10am , منگل (GMT+1)

سید اکمل حسین ۔ لندن
ایک بار پھر معذرت  جیسے کہ آپ قارئین کو معلوم ہے کہ رجب المرجب اپنی تمام تر برکتوں اور رحمتوں کے ہمراہ رواں دواں ہے  مگر شیطان بھی اپنی تمام تر خباثت کے ہمراہ ان اپنے تمام تر فتنوں کو ان ملا مافیہ کی شکل میں موجود ہے

گزشتہ دنوں میلاد اور محافل کے سلسلے میں اندروں ملک اور بیروں ملک جانے کا موقع ملا جو کہ ہر سال کی طرح میرے لئے نیا نہیں مگر نہ جانے اس برس میں نے اپنی تمام تر مصرفیات کی باوجود ان محافل میں شرکت کرنے کی حامی بھر لی جبکہ میں ایک عرصہ دارز سے کسی مذہبی عبادت گاہ کے پروگرام میں شرکت نہیں کرتا کیوں کہ میں اس ملا مافیا کے کردار اور ان کی بے عملی سے متنفر ہوں کہ نہ تو ان کی اقتدا میں نماز ادا کرنے کو دل چاہتا ہے اور نہ ہی ان کے منہ سے اللہ کی پاک آیات سننے کو دل چاہتا ہے۔

 کوئی محفل ہو یا کوئی مجلس ہو یہ ملا لوگ اپنی لا حاصل گفتگو میں یا تو چندہ مانگتے ہوئے نظر آتے ہیں یا کسی دوسرے کی پگڑی اچھالتے ہوئے نظر آتے ہیں اور دوسرے کو جاہل مطلق ثابت کرنے کی کوشیش میں لگے رہتے ہیں۔میں اس بات پر حیران ہوتا ہوں کہ پڑھے لکھے لوگ بھی جاہل بن کر یہ سب کچھ سنتے ہیں اور کوئی بھی تو پوچھنے کی جرآت نہیں کرتا۔

ایسا ہی کچھ لندن کے شمالی علاقہ کے ایک میلاد میں شمیولیت کرنے پر دیکھنے کو ملا پہلے تو ایک ملا نےبہلے تو وعدہ کر لیا اور پھر  اس نے میلاد میں شرکت کرنے سے انکار کیا جب کہ اس نے صاف جھوٹ بولا کہ مجھے تو آئیر لینڈ میں پروگرام میں شرکت کرنی ہے اور انہوں نے مجھے ہوائی جہاز کا ٹکٹ بھی روانہ کیا ہوا ہے وہ مجھ کو یاد نہیں تھا کہ میرا ٹکٹ انہوں نے روانہ کیا ہوا ہے ۔

 خدا را جھوٹ کا سہارا کیوں لیتے ہوں مولانا صاف صاف کہو کہ میں ان افراد کے ساتھ اس پروگرام میں شرکت نہیں کر سکتا ۔ پھر انتظامیہ نے دوسرا نام دیا کہ یہ مولوی شرکت کرے گا اس کے نام کا پرچار القاب کے ہمراہ ہوتا رہا عین وقت پر اس ملا مافیہ نے بھی انکار کرنا چاہا کہ وہ اس پروگرام میں شرکت نہیں کر سکتے

 مگر نہ جانے پھر کیا ہوا کہ عمل سے عاری اور لالچ و ہوس کے فرزند اپنے لحیم شحیم اجسام کے ہمراہ جب پروگرام اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہوا تو آ دھمکے اور جو گفتگو کی اسکا نوے فیصد اس تقریب کے حوالے سے نہ تھا بلکہ اپنی تعریف اور اپنے مافیا کی تعریف اور دوسروں کو برا بھلا کہنے میں وقت گزارا اور اپنے  مسلکی ٹی وی کی تعریف شروع کر دی کہ اتنے برس سے اس کو چلا رہے ہیں

عام مسلمان اور مومن تو شاید زیادہ نہ جانتا ہوں لیکن ہم جیسے لوگوں کو بخوبی علم ہے کہ بقول بھارت کے عالم دین کے یہ کوئی دین یا مسلک کی خدمت نہیں ان لوگوں کا  نجی کاروبار ہے اور قوم کی لوٹ مار کا جو بازار گرم ہے وہ سب کے سامنے ہے

شاید ان کو یہ معلوم نہیں کہ  اس محفل میں کچھ نہیں تو بڑی اکثریت ڈاکٹرحضرات کی ہے اور جو راگ و  الاپ رہے ہیں ان پر اس کا کوئی اثر نہیں ہونے والا تھا

موصوف فرماتے ہیں کہ انسان کو اپنے فن اپنی تعلیم اور اپنے خاندان پر غرور نہیں ہونا چاہئے ان کی گفتگو کو سن کر میرے ہسنی چھوٹ گئی کیوں کہ کچھ دیر قبل مولانا نے کہا کہ ہم کو اتنے سا ل ہو چکے ہیں ہم مسلکی ٹی وی چلا رہے ہیں جبکہ لوگ کہتے تھے کہ ملا ٹی وی نہیں چلا سکتے۔ اب ان سے کوئی پوچھے کہ  کیا یہ غرور نہیں؟

ویسے برطانیہ میں مسلک کے نام پر چلنے والے یہ ٹی وی جس طرح چل رہے ہیں یہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔اللہ۔رسول۔، آل رسول،صحابہ اور امام زمانہ کے نام پر بلیک میلنگ ہے۔ گزشتہ دنوں ایسے ہی ایک ٹی وی پر بیٹھا ہوا انتظامیہ کا آدمی یہ کہہ کہہ کر لوگوں کو ڈرا رہا تھا کہ روز حشر آپکو جواب دینا ہوگا کہ آپ نے امام زمانہ کے ٹی وی کی مالی مدد نہیں کی۔

ان  سے کوئی پوچھنے کی جرات کرتا کہ مولانا یہ تو بتائے یہ جو کالا کپڑا آپ سر پر باندھ کر رکھتے ہیں کیا یہ سیادت کی نشانی ہے تو آپ کو اس بات پر غرورہے نا کہ آپ سادات ہیں اور اگر آپ غرور نہیں کرتے تو یہ سب جھنجٹ کیوں، سیادت کا شور کیوں،  یہ سر پر کالا کپڑا باندھنا چھوڑ دیں تاکہ آپ کا تکبر اور غرور بھی مٹ جائے

دوسری طرف آج کل کچھ   ایس ایم ایس بھی ان مسلکی ٹیلی ویژن کے حوالے سے نظر سے گزرتے ہیں اور ان میں کہا جا رہا ہے یہ ٹی وی ان سے کسی قسم کا تعاون نہیں کر رہے اور ان کے آنندہ منقعد ہونے والے پروگراموں کی تشہیر کرنے سے بھی گریز کیا جا رہا ہے ایسی ہی کچھ ای میل مجھے بھی مل رہی ہیں جو میں اس تحریر میں نہیں تو اگلی قسط میں قارئیں کے لئے شامل کرنا چاہتا ہوں۔  تاکہ قومی ٹیلی ویژن کے مالکان کا کردار سامنے آ سکے۔

ان کو چلانے کے لئے قوم کا پیسہ جس بے دردی سے ضائع کیا جارہا ہے اس کا بھی سب کو علم ہو سکے اور جو عقیدے کی جنگ کی جاری کرنے کی کوشیش ہیں وہ خطرہ اپنی جگہ لا حق ہے ۔

مغربی ممالک میں کار کا استمعال عام ہے اور اس چلانا بھی ایک فنکار اور ماہر کا کام ہے جو اپنے تمام تر اور سخت امتحانات سے گزر کر اس فن میں ماہر جانا جاتا ہے مگر کچھ افراد جو قانون کو توڑنے کے عادی مجرم ہوتے ہیں اس پر قانون کو توڑنے کی سزا بھی مقرر ہے ایسے ہی ایک ملا جو ایک  سقیفہ نما  مذہبی تنظیم کا معتمد  اعلی بھی ہے اور اپنی فرائض منصبی کسی لندن کی عبادت گاہ میں انجام دے رہا ہے موصوف کو کار چلانے کا اور عمدہ کار رکھنے کا شوق بھی ہے اور خاص کر تیز رفتار کار چلانے کا

 کچھ ایسا ہی واقعہ ان حضرت کے ساتھ ہوا کہ کار تیز رفتاری سے چلا رہے تھے اور قانونی کیمرے نے ان کو جکڑ لیا اور ان کی تصویر اور تفصیلات کو ان کے رہاشی بتہ پر  خط کی صورت میں روانہ کر دیا خط  ملنے کے بعد ان محترم کو تشویش ہوئی کہ اس کی سزا  تو ان کے کار چلانے کے اجازت نامے پر بطور سزا تین پوانٹ اور ساٹھ پونڈ ہو سکتی ہے

 ملا نے قانون کی آنکھوں میں بھی اس طرح دھول ڈالی کہ ان کے ایک مقتدی نے اپنے کسی ملنے والے سے جو یورپی ملک میں رہتے ہیں  ان کے اجازت نامے کا حوالہ اس خط پر لکھ کر واپس کر دیا کہ میں کار نہیں چلا رہا تھا بلکہ یورپ والے فلاں صاحب چلا رہے تھے ۔ اب یہ جرمانہ ان محب ملا کو ادا کرنا پڑے گا۔

ذرا سوچیئے یہ تو زمین کا جرمانہ ہے ایسے لوگوں کو روز حشر کس امتحان سے گزرنا پڑے گا جنہوں نے عام لوگوں کی ایک غالب اکثریت کو اللہ رسول کے نام پر بے وقوف بنا رکھا ہے اور اسکی وجہ عام لوگوں کی دینی معاملات سے عدم واقفیت ہے اور یہ بیچارے یہ سمجھتے ہیں کہ دین کا سارا کام ملاں مولوی کا ہے حالانکہ یہ انکی غلط فہمی ہے اور اس اصول و قانون قدرت سے عدم واقفیت کہ دین فرد کا معاملہ ہے اور فرد سے ہی جماعت بنتی ہے

 اب ذرا بے عملی اور دروغ گوئی کے اس دیدہ دلیری کے مظاہرے کے بعد آپ دیکھیں کہ اس طرح یہ ملا قانون کی زد سے تو بچ گیا مگر یہ جھوٹ بول کر اور ساٹھ پونڈ بچا کر جو اس کے پیچھے نماز ادا کرتے ہیں ان کا کیا بنے گا کہ ایک جھوٹے شخص کے مقتدی ہونے کے ناطے ان کی نماز کیسے قبول ہو گی ۔

 بہرحال سزا اور جزا تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ نام نہاد ملا جو کہ ایک دنیاوی ملا ہے اور دنیاوی مال کو کس قدر عزیر جانتا ہے کہ جھوٹ بول کر اور قانون کی آنکھوں میں دھول جھونک کر تو قانون سے بچ گیا مگر اللہ کی لاٹھی تو بے آواز نہیں۔

رجب کے ماہ میں کافی مومنین سے ملاقات بھی ہوتی ہے اور اس طرح کے واقعات بھی سننے کو ملتے ہیں ۔ اس ماہ میں مولائے کانئات کی ولادت اور امام جعفر صادق علیہ السلام کی نذر اور ان کے فرزند کی شہادت امام موسی کاظم  علیہ السلام کے علاو آغاز سفر کربلا امام عالی مقام کی تواریخ منسوب ہیں ۔ان محافل و مجالس میں جانا ہوتا ہے وہاں پر بھی اس ملا  مافیا کے  چہرے نظر آتے ہیں

کیا کیا جائے رہنا تو اسی دنیا میں ہے آخر کب تک اس مافیا سے بچا جائے گا۔ اور کس طرح بچا جائے گا اب تو یہ مافیا ہر گھر میں موجود ہے اور فقیر بن کر مانگنے بھی گھر میں آجاتا ہے۔ بس قوم اس کو اپنی جیب خالی کر کے دے دے تاکہ اس کی جیب بھری رہے قوم کو آئمہ اور محمد و آل مجد اجر عطا کرتے رہیں گے کیوں کہ وہ کریم ہیں اور یہ مافیا لٹیرا ہے۔ اس مافیا کو بڑھانے اور مکمل مدد کرنے میں ہمارے مذہبی عبادت گاہ کے سربراہ مکمل طور پر اس میں شامل ہیں۔ خدا را ان نام نہاد اور قابض افراد سے بچیں اور عاقبت کو خراب نہ کریں۔

بائیس رجب کی نیاز کے سلسلے میں ایک جاننے والے کے اصرار پر اسکے گھر جانے کا اتفاق ہوا جہاں ایک مشہور مولانا بھی نیاز میں شرکت کے لیئے آئے ہوئے تھے۔ یہاں کی تفصیلی باتیں اگر لکھوں تو میرے خلاف موت کا فتویٰ جاری ہو جائے۔ بس ایک بات بتانا چاہتا ہوں کہ گھر والوں نے نیاز کھانے کے لیئے مولانا کے آنے کی خوشی میں انہیں کپڑوں کا ایک جوڑا اور پچاس پونڈ پیش کیئے جو انہوں کسی بھی اعتراض کے بغیر قبول کر لیئے اور میں سوچنے لگا کہ ان مولانا حضرات کو خراب کرنے میں خود عام لوگوں کا کتنا بڑا ہاتھ ہے۔ کاش یہ گھر والے نیاز کھانے کے لیئے آنے والے ہر فرد کو ایک ایک جوڑا کپڑوں کا اور پچاس پچاس پونڈ دیتے۔

ایک غیر مصدقہ خبر بھی سن لیجئے کہ لندن کا ایک غصبی مسلکی ٹی وی ایک بار پھر فروخت کی خبروں کی زد میں ہے اور شنید ہے کہ عام لوگوں سے لیئے ہوئے پیسے چلنے والا یہ ٹی وی موجودہ مالکان ایک لاکھ چالیس ہزار پونڈ میں فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں ابھی تک اپنے ذرائع سے اسکی تصدیق نہیں ہو سکی لیکن ذرا سوچیئے کہ عام مسلم ومومن کے پیسے سے چلنے والے ٹی وی کے فروخت کے پیسے مالکان کی جیب میں کس فقہ اور شرح کے اصول کے مطابق جائیں گے؟

آج کی باتیں یہیں تمام۔اگلی قسط میں اس قضیئے کا ذرا تفصیل سے ذکر کریں گے اور ان ای میلز کو بھی شائع کریں گے جو لندن کے دو مسلکی ٹی وی چینلوں اور نارتھمپٹن کے ایک مجالس ومحافل کے منتظم کے درمیان چل رہا ہے

جاری ہے

:دیگر مضامین
(17.06.2012) چاليس سے زائدکتابوں کے مصنف پروفيسر آفاق صديقي انتقال کرگئے
(16.06.2012) آج دی شام خلش دے نام بائیس جون بروز جمعہ شام پانچ بجے۔ جرمنی ، ڈرام شٹاڈ میں‎
(15.06.2012) پاکستانی صحافت بھی پاکستانی سیاست کی طرح بدعنوان ہو چکی ہے۔سب بکاؤ مال
(13.06.2012) پیپلز پارٹی جرمنی فراینکفرٹ. 23 جون کو بے نظیر بھٹو کی سالگرہ پر گریل پارٹی
(12.06.2012) جرمنی ویزبادن میں پروگرام ۔ شاویز کے خلاف ریاستی بغاوت اور عوامی انقلاب کے دس سال
(09.06.2012) برطانیہ کے شہر بولٹن میں امیر المومنین علی علیہ السلام کے یوم ولادت پر محفل میلاد
(07.06.2012) پاکستان پیپلز پارٹی جرمنی کا پاک یورو جرنلسٹس فورم کے اعزاز میں استقبالیہ
(06.06.2012) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان کا کردار۔17ویں قسط ۔ سید اکمل حسین
(04.06.2012) شاعر،ادیب اور محقق سید عاشور کاظی کی دوسری برسی برمنگھم میں منائی گئی
(01.06.2012) شاعر،ادیب اور محقق سید عاشور کاظی کی دوسری برسی تین جون کو برمنگھم میں ہو گی
(30.05.2012) تین جون کو پیپلز پارٹی جرمنی پاک یورو جرنلسٹس فورم کو استقبالیہ دے گی
(28.05.2012) کراچی کی 8 سالہ دعا زہرا کو عالمی اخبار کی سب سے کم عمر لکھاری کا اعزاز
(27.05.2012) جرمنی میں سفیر پاکستان کی پاک یورو جرنلسٹس فورم کے عہدیداروں سے ملاقات اور ویڈیو پریس کانفرنس
(26.05.2012) فرینکفرٹ ۔27 مئی کو بھگت سنگھ اور اس کی جدوجہد پر ایک انقلابی تقریب
(23.05.2012) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان کا کردار۔16ویں قسط ۔ سید اکمل حسین
(19.05.2012) پاک یورو جرنلسٹس فورم' کے قیام اور کامیاب افتتاحی تقریب پر پیغامات ۔چھٹی قسط
(19.05.2012) پاک یورو جرنلسٹس فورم نے سید اکمل کے حسین کے بھانجے کے انتقال پر تعزیت کی ہے
(17.05.2012) کوپن ہیگن کے الحاج مقبول حسین بھٹی قضائے آلٰہی سے وفات پا گئے ہیں
(15.05.2012) عالمی اخبار کے بیورو چیف برائے جرمنی طاہر ملک کے بیٹے کے لیئے دعائے صحت کی اپیل
(11.05.2012) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان کا کردار۔15ویں قسط ۔ سید اکمل حسین



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں