مجھ سے کہتا ہے کہ ایمان کو تازہ نہ کرو
کلمہء پاک نہ پیغام محمد کو سنو
پنجتن پاک کے کردار کا پالن نہ کرو
جس نے کونین بنایا اسے اقا نہ کہو
ذرے ذرے میں نماياں ہیں جو جلوے رب کے
بن کے نابینا کرامات خدا مت دیکھو
مجھ سے کہتا ہے کہ انسان مجسم نہ بنو
دل کے کاشانے میں قند یل کو دوشن نہ کرو
جہل کی قید میں ظلمت کی سلاخوں میں رہو
پھول کو خار کہو خار کو کلیاں سمجھو
ایتیں ورد کرو ان کو نہ سمجھو بو جھو
مجھ سے کہتا ہے کہ اد راک سے بے بہرہ رہو
ظلم کو ظلع نہ شیطان کو فتنہ سمجھو
پاکبازوں سے فقیروں سے نہ ناطہ جوڑو
زرگری فتنہ گری خون گری شرو فساد
قہر بن جاؤ جہانوں پہ شرربار بنو
مجھ سے کہتا ہے اگر شاہ جہاں بننا ہے
نعرہء بغض لگاؤ جو تمھیں بڑھنا ہے
قوم کو طیش دلاؤ کہ اسے لڑنا ہے
کربلا اور بناؤ کہ ستم کرنا ہے
خون کچھ اور بہاؤ کہ یہی سستا ہے
خود کو شیطان بناؤ کہ یہی رستہ ہے
مجھ سے کہتا ہے مساوات کا پرچم نہ بنو
امن و انصاف کی اخلاص کی باتبں نہ کرو
ایٹم و ڈالر و ایرو کے گھنے ساۓ میں
مکر اور جھوٹ کے ایوان سجانا سیکھو
نیک لوگوں کو گناہوں میں پھنسانا سیکھو
ہے وہ شیطان تو باتبں بھی وہی کرتا ہے
نوع انساں کی تباہی کا سبب بنتا ہے
میرے احساس کی جذ با ت کی توہین ہے یہ
اس لۓ شکر خدا عظمت انساں کی قسم
اس کی ہر بات پہ لاحول پڑھا کرتا ہوں۔