|
معروف نعت خوان اور لکھاری بشیر حسین ناظم انتقال کر گئے
23.06.2012, 09:30am , ہفتہ (GMT+1)
عالمی اخبار مرکزی بیورو
تاخیر سے ملنے والی اطلاعات کے مممتاز نعت گو بشیر حسین ناظم 17 جون کو اسلام آباد میں انتقال فرما گئے انہوں نے نعت گوئی اور نعت خوانی کے فروغ میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں
غالب کی زمینوں میں اک یاد گار مجموعہ نعت اور متعدد مضامین ھمیں ان کی یاد دلاتے رھیں گے الله کریم ان کی مغفرت فرمائے اور ان کو جنت میں اعلا مقام عطا فرمائے
مرحوم کو اردو کے علاوہ پنجابی اور فارسی پر بھی دسترس حاصل تھی اور اساتزہ کا کلام بھی پڑھا کرتے تھے۔ ایک عرصہ انہوں نے اسلام آباد میں وزارت مذہبی امور میں خدمات سرانجام دیں اور ریڈیو ٹی وی کے پروگراموں میں بھی شرکت کی۔
عالمی اخبار بشیر حسین ناظم کے انتقال پر انکے اہل خانہ سے تعزیت کرتا ہے اور انکی مغفرت کے لیئے دعا گو ہے
عائشہ مسعود نے روزنامہ نوائے وقت میں انکی یاد میں ایک تحریر لکھی ہے جو انکے شکریے کے ساتھ پیش کی جا رہی ہے
گلاب شاہ نے آگرے میں ایک پھلواری میں مکان اپنے مرشد کے نام پر بنوایا تھا....گلاب شاہ اس مکان میں تیس برس تک گوشہ نشین رہے.... اوراس مکان میں رہنے اورمرشد کے ساتھ محبت کے اظہار کاایک اور طریقہ بھی گلاب خان نے اپنائے رکھا تھا ....وہ طریقہ یہ تھا کہ تیس برس تک وہ سیدھے ہو کر زمین پر نہیں لیٹے تھے بلکہ ایک پتھر دیوار میں لگایا جب نیند غالب ہوتی تو وہ پتھر سے پشت لگا لیتے ....یہ مکان گلاب شاہ کے لیے مرشد کی محبت سے کتنا آباد ہوگیا تھا کہ جہاں تیس برس تک وہ گوشہ نشین ہو کر خوش رہ سکے تھے .... اور پھر مرشد کے لیے قربانی دینے اورمرشد کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرنے کا کیسا انداز تھا کہ جو ان کے لیے تکلیف دہ نہیں تھا تو پھر کسی عاشق رسول کے لیے قبر کی طرف جانے کا سفر اور بقول احسان اکبر ” زمیں اندر اک اور زمانے“ کا سفرکیسے دشوار ہوسکتا ہے .... بشیر حسین ناظم کل رخصت ہوگئے ....کہا جاتا ہے کہ جو رات قبر میں ہوتی ہے وہ باہر کیسے گزاری جاسکتی ہے ؟ .... اور علامہ بشیر حسین ناظم شب معراج کو کیسے باہر گزار سکتے تھے انہیں جب رخصت ہونا تھا کسی ایسے ہی رات میں جاکر قبر کو اپنا کمرہ بنا کر رہنا تھا.... امتحان سے اٹھا لئے گئے.... بشیر حسین ناظم کواپنے علم وفن اور اردو کے علاوہ عربی فارسی پر دسترس پر گھمنڈ تو نہیں تھا مگر ایک احساس تفاخر ضرور تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر علم کے دریچے وا کئے ہوئے ہیں.... لہذا کم علموں کو بڑھکیں مارتا دیکھ کر نرم نرم انداز میں مسکراتے رہتے تھے اور یہ مسکرانا ان کی شخصیت کی خوبصورتی بھی تھی.... اور پھر کون ہے کہ جو حضور پاک کا غلام اور عاشق رسول ہونے پر اتراتا نہ ہو.... قبر کو گھر سمجھ کر اور پھر رسول پاک کی آمد پر نظریں جھکا کر سامنا کرنے کا حوصلہ بہت ساروں کو شرمسار کرتا ہے کہ زندگی کے امتحان سے گزرتے گزرتے نہ جانے کیا کیا مراحل ایسے بھی آئے ہونگے کہ دنیا کے علم میں نہ سہی مگر انسان کے خود علم میں تو ہوتے ہیں لہذا رسول پاک کی شفاعت اور اپنی امت کے بارے میں بخشش کی خواہش شرمسار کر دیتی ہے .... بشیر حسین ناظم تو تقریبات میں نعت پڑھتے وقت اتنے بلند آہنگ میں آجاتے تھے کہ کئی مرتبہ تو میں ان کا قد کاٹھ‘ عمر اور پھر سینہ دیکھتی رہ جاتی تھی کہ جہاں سے نعتیہ اشعار ترنم کے جھرنے سے بڑھ کر سمندر بن کر پھوٹ پڑتے تھے اور پھر مائیک ہو یا نہ ہو اس بات کی اہمیت نہیں رہ جاتی تھی کیونکہ بشیر حسین ناظم بھرے مجمع میں نعت پڑھنا شروع کرتے تو آواز ہال کے آخری کونے تک سنی جانے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوا کرتی تھی.... علامہ بشیر حسین ناظم میرے کالمز پڑھا کرتے تھے.... ادبی صفحہ بناتے وقت نوائے وقت کے دفتر میں جا پہنچی تو اکثر پہلے سے ندیم‘ ناصر افضل یا قمر الاسلام کے آگے پیچھے دکھائی دیتے تھے اور پھر ایک ایک لفظ خود لکھوا رہے ہوتے کہ اتنی اعلٰی اردو اور فارسی اور عربی کے الفاظ کی چاشنی شاعروں ادیبوں کو امتحان میں ڈال دیتی تھی تو یہاں کمپوزنگ میں غلطی نہ رہ جانے کی وجہ سے ایک ایک لفظ بول کر لکھوا دیا کرتے تھے مگر مجھ سے مل کر جاتے تھے اور دست شفقت سر پر رکھ کر دعائیں بھی دیا کرتے تھے۔ علامہ بشیر حسین ناظم بات چیت میں پنجابی کے الفاظ بھی استعمال کیا کرتے تھے ایک دن تحسین کے الفاظ روک نہ سکے اور نوائے وقت کے دفتر میں سب کے سامنے بولے.... ”کڑیے تو بہت اچھا لکھ رہی ہے“.... میں نے ہنس کر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ناظم صاحب اب یہ الفاظ صرف نوائے وقت کے دفتر میں نہیں بلکہ کسی بڑے فورم پر سب کے سامنے تسلیم کریں گے تو مانوں گی.... اور وہ کچھ سوچتے ہوئے اور مسکراتے ہوئے باہر نکل گئے۔ علامہ بشیر حسین ناظم تقریبات میں خصوصی طور خوش لباس ہو کر آیا کرتے تھے۔پچھلے برس میری شاعری ”سخن اس کے ستارے ہیں“ کی تقریب پذیرائی میں آئے۔ بہت چمک دمک کے ساتھ اگلی سیٹوں میں بیٹھے ہوئے تھے۔
میں نے ایک مرتبہ نئی غزل کے اشعار سنا کر شاباش بھی حاصل کی تھی انہوں نے اقبال کی زمین میں لکھے گئے ان اشعار پر پانچ روپے کا نوٹ دیا تھا۔ وہ اشعار کچھ اس طرح تھے
کب سہولت سے میں لیتی ہوں ترا نام ابھی راس آتی ہی نہیں گردِشں ایام ابھی اک نہ اک دن یہی دیوار قفس توڑیں گے یہ پرندے جو تڑپتے ہیں تہہ دام ابھی کتنی بے رنگ تھی وہ شام جدا ہونے کی میری آنکھوں میں سلگتی ہے وہی شام ابھی
بہت ساری شامیں آنکھوں میں سلگتی رہ جاتی ہیں مگر علامہ بشیر حسین ناظم کے بچھڑنے والی شام بے رنگ نہیں ہے یہ نبی پاک کے سفر معراج کی رات ہے اور آسمانوں کے سیر کی رات ہے علامہ بشیر حسین ناظم کی نعت کا شعر ہے
بعد از ممات قبر میں جب لیٹنے لگا ناظم کا جسم مثل گلاب و سمور تھا
بشیر حسین ناظم کو شب معراج کا سفر مبارک ہو قبرستان کی پھلواری میں ایک مکان نبی پاک کے عاشق نے اپنے نام کا بنوا لیا ہے۔
|