یہ عجب اتفاق ہے
کہ یہ نعرہ ہر جماعت لگاتی ہے۔جماعت اسلامی بھی اور پیپلز پارٹی بھی۔مسلم
لیگ بھی اور اے این پی بھی۔ایم ایم اے بھی اور ایم کیو ایم بھی۔مگر شاید
بہت کم لوگوں کو یہ علم ہو یہ کس شاعر کی نظم کا مصرعہ ہے اور کس زمانے
میں لکھا گیا۔
اصل نظم میں یہ مصرعہ اس طرح ہے ‘‘ ظالمو حساب دو خون کا جواب دو‘‘ لیکن کثرت استعمال سے اب یہ نعرہ اسی طرح لگایا جاتا ہے ‘‘ظالمو جواب دو خون کا حساب دو‘‘۔
بہت سے لوگ اس نعرے کا خالق ہر جبر کے خلاف آواز بلند کرنے والے حبیب جالب کو
قرار دیتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر عہد ِ بے بصر اور حکمت ابنِ زیاد کو
للکارنے والا یہ نعرہ‘‘ظالمو جواب دو خون کا حساب دو‘‘ پاکستان میں
انقلابی اور مزاحمتی شاعری کی پہچان رکھنے والے اور 27کتابوں کے خالق شاعر‘‘فارغ بخاری‘‘
کا ہے جنہوں نے یوں تو اپنی ساری زندگی پشاور شہر میں گزاری اور اپنے
برادر نسبتی معروف شاعر اور محقق رضا ھمٰدانی کے ساتھ مل کر صوبہ سرحد میں
اردو زبان و ادب کی ترویج اور تشہیر کے لیئے وہ کام کیا جسے لسانی ماہرین
نے تاریخ میں وہ مقام دیا ہے جو اداروں اور شعبوں کو دیا جاتا ہے لیکن
انکی انقلابی اور مزاحمتی شاعری کے مداح دنیا بھر میں موجود ہیں۔
ہے فخر اسوہء شبیر پر ہمیں فارغ۔۔۔
بغاوتوں کی روایت ہمارے گھر سے ہوئی فارغ
بخاری نے اپنی زندگی کا یہ بڑا حصہ جیلوں میں گزارا اور اپنی اصول پسندی
اور غیرت و حمیت کی سیاست اور انقلابی سوچ کو اپنے بیٹے سید قمر عباس میں منتقل کیا جنہیں ابھی چند روز قبل چھ مئی دو ہزار سات کو پشاور میں قتل کر دیا گیا۔
قمر
عباس نے بھی اپنے والد فارغ بخاری کی طرح اپنی نوجوانی جیلوں میں گزاری
اور آمرِ مطلق ضیا الحق کے زمانے میں ایسے ایسے ستم برداشت کیئے کہ اور
کوئی ہوتا تو ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جاتا۔ قمر عباس کا ذکر کسی اور نشست میں
کیونکہ یہ تحریر فارغ بخاری کے نام ہے کہ جنہوں نے پاکستان میں انقلابی
اور مزاحمتی شاعری کو اپنا خون دیکر زندہ رکھا۔
فارغ بخاری ترقی پسند تحریک کا ایک روشن باب تھے اور جرآت اظہار کی قوت نے انہیں ایک کوہِ پُر عزم بنا دیا تھا اور جب کوئی 80برس
کی عمر میں پشاور میں انکا انتقال ہوا تو اس سے کچھ عرصہ قبل انکا دماغی
توازن بگڑ گیا تھا اور بہت سی کہانیاں اور زندگی کے گرم سرد زمانے انکی
یاداشت سے محو ہو گئے تھے۔
میں انکی وفات سے چند ماہ قبل اپنے ماموں رضا ھمٰدانی کی تعزیت کے لیئے اپنی
اہلیہماہ پارہ
اور بچوں کے ہمراہ پشاور گیا تو میں نے اس عالمِ وارفتگی میں بھی انکا ایک
وڈیو ریکارڈ کیا جو بلاشبہ انکی زندگی کا آخری وڈیو تھا۔ جس میں کچھ کچھ
باتیں جو انہیں یاد تھیں وہ ریکارڈ ہو گئی ہیں۔
ذہنی عدم توازن کی اس
حالت میں بھی انہیں اپنی دو تاریخ ساز نظموں کے کچھ کچھ مصرعے یاد تھے جو
انہوں نے وڈیو میں رکارڈ کروائے۔ ان میں سے ایک نظم تھی
‘‘ ظالموحساب دو خون کا جواب دو‘‘۔
اس نظم کی تخلیق کے بارے میں خود فارغ بخاری نے اپنی سوانح حیات
''مسافتیں‘‘
میں لکھا ہے جسے انکی وفات کے بعد انکی انقلابی فکر کے وارث بیٹے قمر عباس
نے ایمِ اسیری کے دوران جون 1997 میں سنٹرل جیل پشاور میں مکمل کیا اور
پھر شائع کروایا۔
فارغ بخاری لکھتے ہیں۔
‘‘
ایوبی مارشل لا کے دوران بھٹو کی تحریک شروع ہوئی تو میں نے مارشل لا کے
خلاف لکھنا شروع کیا ۔جنرل شیر علی خان ان دنوں وزیر اطلاعات تھے اور
پیپلز پارٹی کا نوجوان شیر دل رہنما حق نواز گنڈا پور شہید کر دیا گیا۔
پورے ملک میں چرچا تھا کہ اسے حکومت نے مروایا ہے۔ میں نے ایسے میں ارشاد
راؤ کے ادبی مجلے ‘‘ الفتح‘‘ میں یہ نظم لکھی تھی جس پر مجھے قید کر لیا
گیا،رسالہ ضبط ہو گیا اور فوجی عدالت نے مجھے ایک سال قید بامشقت کی سزا
سنائی‘‘
گنڈا پور کا لہو رائیگاں نہ جائے گا
بے گناہ کا خون ہے اپنا رنگ لائے گا
ایک دن ضرور یہ کوئی گُل کھلائے گا
بانیانِ ظلم کو خاک میں ملائے گا
قاتلو حساب دو خون کا جواب دو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناصر و ظہیر کا مولوی فقیر کا
سانگھڑ کبیر کا جنگِ کاشمیر کا
حاکمِ شریر کا شیر علی وزیر کا
ایک ایک زخم کا ایک ایک تیر کا
قاتلو حساب دو خون کا جواب دو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قوم کے عتاب سے بچ کے جاؤ گے کہاں
حشرِ احتساب سے بچ کے جاؤ گے کہاں
قاتلو حساب سے بچ کے جاؤ گے کہاں
خونی انقلاب سے بچ کے جاؤ گے کہاں
قاتلو حساب دو خون کا جواب دو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راستوں کے پیچ و خم کوئی دن کی بات ہے
کھُل رہے گا یہ بھرم کوئی دن کی بات ہے
یہ جفائیں یہ ستم کوئی دن کی بات ہے
فیصلہ کریں گے ہم کوئی دن کی بات ہے
قاتلو حساب دو خون کا جواب دو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فارغ بخاری کی
زندگی اور شاعری کا محور انقلاب،غریب اور مظلوم کی آواز اور فکر یزیدی کا
پردہ چاک کرنے کے خلاف رہا ہے اور وہ ہر دور میں اپنے اسی شعر کی تصویر
نظر آئے۔
قتل گاہوں سے عَلَم کون چُنے
سب ہیں لاشے ہی اٹھانے والےفارغ بخاری کے
بارے میں مجھے تفصیل سے لکھنا ہے کہ یہ قرض ایک مدت سے میرے سر پر ہے لیکن
اسوقت ایک خیال رہ رہ کر کچوکے لگا رہا ہے کہ حبیب جالب اور فارغ بخاری
جیسے وہ بیدار فکر اور بیدار ضمیرتخلیق کار کیا ہوئے۔ یہ
عجب بات ہے کہ ایک حق نواز کے مارے جانے پر فارغ بخاری جیسا شاعر ایسا
ابدی اور آفاقی نعرہ تخلیق کر دے اور آج جب آئے روز شہر شہر گھر گھر کتنے
ہی حق نواز بے گناہ مارے جا رہے ہیں تو ہمارے قلم کار یا تو بے حس ہو چکے
ہیں،مفادات کی خاطر خاموش ہیں یا خفتہ ضمیر ہیں کہ اپنے ارد گرد فضا میں
لہو کی بو بھی انہیں جگا نہیں پا رہی۔
صفدر اب یہ شہر بھی شہر کوفہ لگتا ہےقافلہ کوئی شام کے جو بازار چلے