جب سے میں نے اپنی اس سلسلے وار تحریر کو شروع کیا اسوقت سے اب تک کتنے ہی لوگ ہیں جو نجی محفلوں میں ملتے ہیں تو منبر نشینوں کے ساتھ عبادت گاہوں کے سربراہوں کے کردار کے اس رخ کےبارے میں حیرانگی کا اظہار کرتے ہیں۔ میں اکثر ایسے لوگوں کو یہی بتاتا ہوں کہ آپ لوگوں کی اسی نہ جاننے اور جستجو نہ کرنے کی عادت نے م م م یونی ملاں،منتظمین مافیا کو ایسا بے باک کر دیا ہے کہ ان کے سامنے کسی ایک عام مسلمان یا مومن کی اوقات حشرات کی طرح ہے اور اسی لیئے ان لوگوں سے ایسا سلوک ہوتا ہے جو شاید زر خرید غلاموں سے بھی نہ ہوتا ہو۔ اس سلوک کی داستان ابھی آگے چل کر بتاؤنگا۔

ایک صاحب نے جرمنی کے شہر کولون سے ای میل ارسال کر کے اپنا نام نہ لکھنے کا پابند کیا ہے تا ہم یہ پوچھا ہے کہ میری معلومات کیسے مان لی جائیں کہ درست ہیں اور کیا یہ کسی مولوی یا منتظم سے میری ذاتی رنجش ہے جو یہ سب کچھ لکھ رہا ہوں۔ تو کولون جرمنی کے بھائی صاحب معلومات کو تسلیم کرنے پر تو میں کسی کو بھی مجبور نہیں کر سکتا لیکن ایک بات آپکو وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ابھی تک جو کچھ میں نے لکھا ہے اسکی تردید کسی کی ہمت نہیں ہوئی جو اس امر کی دلیل ہے کہ ہماری معلومات درست ہیں۔ رہی بات کسی مولوی یا منتظم سے میری زاتی رنجش کی تو اس ضمن میں بھی عرض کر دوں کہ ایک طویل عرصہ میں نے عبادتگاہوں میں منتظمین کے ساتھ ایک خادم محمد و آل محمد کے طور پر گزارا ہے اس لیئے نوے فیصد چیزیں میری آنکھوں کے سامنے ہوئی ہیں اور میں کود انکا چشم دید گواہ ہوں۔
آیئے اب اپنے موضوع کو اگے بڑھاتے ہیں ۔علمی ماحول اور دوستانہ سلوک قدیم زمانوں سے لیکر آج تک ہم سب کا شیوہ رہا ہے ۔ رجب گزر گیا اور شعبان اپنی تمام تر رحمت اور برکتوں اور تمام نیک اور بد تواریخ کے ساتھ گزر رہا ہے۔ دل تو بہت کچھ چاہ رہا ہے کہ لکھا جائے ان مست ہاتھیوں کے لئے جو قول رسول کے صادق ہونے کی سند دیتے ہیں لیکن جن پیشہ ور منبر نشینوں کی بڑی تعداد منبر پر اداکاری کرتی ہے۔ ان لوگوں کے ساتھ کچھ وقت گزاریں یا انکو قریب سے دیکھیں تو اپ حیران رہ جائیں کہ قرآن کی آیات ۔احادیث اور اقوال معصومین کو رٹا لگا لگا کر پڑھنے والے ان لوگوں کا اپنا کردار اور زاتی زندگی اسکے کسقدر بر عکس ہے
پچھلی قسط سے اب تک واقعات تو بہت سے ہو گزرے ہیں مگر میرا ذہن اس بات سے پریشان ہے کہ بات کو کہاں سے شروع کروں

رجب المرجب کی ایک اہم نیاز اور محفل پر محسن نقوی جیسے مقبول اور قادر الکلام شاعر کے کلام میں غطلیاں نکالنا اور جس نفرت بھرے لہجے میں منبر سے اس کا اظہار کیا گیا اللہ کی پناہ۔ شاید ان مولانا کو اپنی موت بھی یاد نہیں ۔جس رتبے پر وہ مرحوم فائز ہوا یہ سب بھی اسی خواہش میں زندہ ہیں اور جب کہیں گولی چلتی ہے تو سب سے چند ایک کو چھوڑ کر سب سے پہلے بھاگتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
برطانیہ اور یورپ کی عبادت گاہوں پر اگر نظر دوڑائی جائے تو علم میں آتا ہے کہ قابض افراد ایک دوسرے کے رشتے دار ہیں اور ایک دوسرے کا پیٹ بھرنے میں لگے ہوئے بیں چاہئے وہ کوئی وردی پوش ہو یا کوئی خود ساختہ ادارہ کا ٹرسٹی ہو۔ کسی کی دختر یاپسر کی وجہ سے ناطہ جڑا ہو نظر آتا ہے۔ اور ان ادروں میں بیٹھ کر عیش و عشرت کا سامان کرتے نظر آتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں لندن کے ایک ادارے میں کراچی کے ایک مشہور ذاکر کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا گیا اس رویہ سے عنیی شاہد خوب واقف ہیں ۔ اگر کسی شاعر کا کلام پڑھنا اور کسی کےکردار کی طرف توجہ دلانا جرم ہے تو اس جرم کی سزا تو پڑھنے والے کو ملے گی اور ملی ہے۔ اب اگر کسی ان اشعار میں اپنا چہرہ نظر آئے تو اس فرد کو چاہہے کہ اپنے کردار پر نظر ثانی کر ے نہ کہ پڑھنے والے کو لعن طعن کرے صرف اس لیئے کہ وہ خود اس عبادت گاہ کے مالک ہیں

میں خود اس محفل میں موجود تھا اور یہ سب سن کر اور دیکھ کر افسوس ہوا ہے ایک وردی پوش اس کراچی سے ائے ہوئے مہمان فرد کو اپنے ادارے میں ذلیل کرتا ہے اور دوسرے روز وہی شخص کسی دوسرے وردی فروش اور ضمیر فروش کے ہمراہ مسلکی ٹی وی پر دیکھا جاتا ہے اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ وہ فرد وہی کلام پڑھتا ہوا نظر آتا ہے جس پر اسے عبادت گاہ میں مولوی کی ملامت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ان وردی پوش افراد پر جو مبر سے وابستہ ہیں اور شعرا حضرت کے پیام کو اپنی طرف رغبت دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان کو چاہئے کہ شعرا کو ان اپنی قوم اور لسٹ سے خارج کر دیں تاکہ جس طرح پورے یورپ اور برطانیہ میں ایک نام نہاد ادارئے کی طرح قابض ہیں اس پر بھی ان کا قبضہ ہو جائے۔ اور جو چاہے ان کے دل میں آئے کرتے ہوئے نظر آئیں۔ اب آپ ہی بتائیں مافیا کی اور کیا تعریف گی
اوپر کی سطروں میں میں نے محسن نقوی شہید کے بارے میں ذکر کیا۔ عبادت گاہ میں ایک مقبول عام اور چرب زبان اور بزعم خوش خود کو شاعر کہنے والے مولانا موصوف نے محسن نقوی کاایک کلام سنا اور اس میں غلطیاں نکالنا شروع کر دی۔افسوس تو اس بات کا ہے کہ مرحوم کی زندگی میں تو کسی کو اخلاقی جرات نہ ہوئی کہ ان کی شعری زندگی پر کوئی اعتراض کر سکے اور ایک جم غفیر میں اپنے اشعار کو اپنی زبان سے اداکرنے والے فرد کے خلاف کوئی آواز بلند کر سکے۔  |
| محسن نقوی کا کلام |
ایک پختہ یقین سے میں ایک بات کو کہہ سکتا ہوں کہ محسن نقوی کے زندہ اشعار آج بھی زندہ ہیں ۔میرے علم کے مطابق جو الفاظ ہوا میں نکل جاتے ہیں وہ دوبارہ سننے کونہیں ملتے مگر مرحوم کے اشعار بھی اور تقاریر کے الفاظ بھی ان وردی پوش افراد کے منہ سے سننے کو بھی ملتے ہیں اور یہ اپنے خطاب کو محسن کے ہی کتنے شعروں سے مزین کرتے ہیں بلکہ یہاں تک دیکھنے اور سننے کو ملا ہے کہ پوری کی پوری تقریر مرحوم محسن اکی انکے زبان زد ہوتی ہے۔ مگر کسی کو عتراض نہیں ہوتا اور نہ ہی ان میں یہ اخلاقی جرات ہے کہ جس کے الفاط ادا کر رہے ہیں یا جسکا شعر پڑھ رہے ہیں کم از کم اُس فرد کا نام ہی لےدیں
محفل میں تو وقتی طور پر داد مل جاتی ہے مگر علم میں اضافہ نہیں ہو پاتا کہ شاید کچھ اپنے علم میں سے بھی اپنے سامعین کی نزر کر دیں مگر اتنا شعور اور علم کہاں کہ فرقہ بندی اور فتہ انگیز تقاریر سے فرصت ہو تو کسی دوسری جانب سوچیں۔دوسری طرف افسوس بھی ہے کہ خاص طور پاکستان میں اور پوری دنیا کے اسلامی ممالک میں جو مسلمانوں کے خلاف قتل و غارت جاری ہے اس کا سہرا بھی انہی وردی پوش افراد کے سر پر باندھا جا سکتا ہے
۔ مسلکی ٹیلی ویژن ہر جو پروگرام پیش کیئے جاتے ہیں ان کو اگر دیکھا جائے یہ نہ تو تعمیری پروگرام ہیں بلکہ ایک تفرقہ پھیلانے والے پروگرام ہیں۔ ایک بات سمجھ سے باہر ہے کہ ایسے پروگرام کرنے کیا فائدہ کہ جس سے تفرقہ پھیلے تما م باتیں تواریخ اور کتب میں موجود ہیں۔ جس کو مکتب اہلبیت سے محبت ہے وہ اس قسم کی باتیں ہرگز نہیں کرتا ہو نظر آتا بلکہ اشاروں اور کناروں میں اپنی تمام بات کر جاتا ہے اور جس کو خدا نے بدایت دینی ہو وہ اس کی طرف راغب ہو جاتا ہے۔
میں نے ایسے ایسے علما بھی دیکھے اور سننے ہیں جن کا انداز تربیت اور تبلیغ ہی مختلف ہوتا تھا ۔ اب وہ نہ تو علما رہے اور نہ ہی ان کے شاگرد۔ صرف اپنا نام چمکانے اور تفرقہ پھیلانے کے سوا کوئی کام نہیں ۔تقریبا دو برس قبل میں نے ایک محفل میں یہ جملہ ادا کیا تھا کہ جو کچھ ان مسلکی ٹیلی ویژن پر کیا جا رہا ہے اس کی فصل کا پودا پاکستان میں پھل دے گا اور پاکستان کے مسلمان بھگنتے کو تیار جائیں ۔ اور آج یہ فصل تیار ہے اور جس بے دردی سے کاٹی جا رہی ہے وہ سب آپ سب کے سامنے ہے ۔
افسوس تو اس بات کا ہے کہ سوائے چند شدت پسندوں اور کم علموں کے نہ تو کو ئی ان وردی پوش افراد کی بات سنتا ہے اور نہ ہی جس قدر یہ بڑے بڑے جلسہ اور ریلی نکالتے ہیں ان کا کوئی اثر ہے۔ ہم سب کے لئے ڈوب مرنےکا مقام ہے ۔
میں وہ فرد ہوں کہ جس نے اپنی آنکھوں سے صادق گنجی اور باقر نقوی کے علاوہ بہت سے افراد کو لقمہ اجل بنتے ہوئے دیکھا ہے یہ صرف اور صرف محبت اہل بیت کا نتیجہ ہے جس درجہ پر حالیہ شہدا فائز ہوئے۔ مگر ان مسلکی ٹیلی ویژن کے مالکان نے تو اس شہادت کو بھی ذریعہ آمدن اور اپنے نام نمود کے لئے استمعال کرنا شروع کر دیا ہے۔ کوئی ٹیلی ویژن یہ کہتا ہوا نظر آتا ہے کہ ہم نے سب سے پہلے شہادت کی خبر دے کر بہت بڑا تیر مارا ہے جب کہ حالات حاضرہ کا کوئی تعمیری پروگرام یا کسی خبر کی نشر کرنے کا ان کے پاس کوئی ذریعہ موجود نہیں ہے۔ مگر اس بات کو بڑے فخر سے کہا جاتا ہے کہ ہم نے اس خبر کو سب سے پہلے نشر کیا۔
ابھی کچھ دن کے بعد دیکھ لیجئے گا کہ ان کی سکرین پر مالکان ٹی وی خود اس واقعے کو ذریعہ آمدن بنا لیں گے۔ بہر حال افسوس ہے ان جانوں کے ضائع ہونے کا جو ایک نیک مقصد کو پورا کر کے اور بقول امام رضا علیہ السلام کے جو فرد چاہتا ہے کہ وہ بے گناہ نہ مارا جائے اس کو چاہئے کہ وہ زیارت امام حسین علیہ السلام کو جائے اور یہ وہ خوش نصیب افراد تھے جو زیارت امام حسین علیہ سے واپس کر رہے تھے اور ان کو درجہ شہادت نصیب ہوا ۔خدا ان پر اپنی رحمت کرئے۔ آمین ثمہ آمین !
دوسری طرف ابھی نارتھ ہمپٹن والا قضیہ اپنی جگہ موجود ہے جن افراد نے مجھے ای میل اور خط یا ایس ایم ایس کئے ان میں شکر گزار ہوں کہ جو اطاعات انہوں نے مہیا کی ہیں، مگر لگتا ہے کہ یہاں پر بھی وہی نام اور نمود والی بات ہے کہ نام نہ ہو گا تو بد نام نہ ہوں گے۔ ایک ای میل اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ ان کے درمیان کوئی صلح نامہ ہو گیا ہے۔ جیسا کہ چند دن قبل ایک پروگرام میں اس ادارہ کو مسجد زرار بھی کہا گیا جس پر جرمنی اور ناروے سے جو فون کئے گئے اس پر مالکان ٹیلی ویژن معقول جواب نہ دے سکے اور پروگرام کے درمیان جو سوالات اٹھائے گئے اس سے قوم کے وہ فرد بھی مطعمن نہیں ہیں ۔ آج کی بات یہیں تمام۔ اگلی قسط میں اسی موضوع کو آگے بڑھائیں گے۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔