
ملک بھر سے بڑی تعداد میں علماء اور ذاکرین و خطباء، کے علاوہ اسکالرز اور مرد و خواتین سمیت بچوں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے ’’قرآن و سنت کانفرنس‘‘میں شرکت کرکے یہ ثابت کر دیا کہ بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی اولادیں سرزمین پاکستان پر عالمی استعمار امریکہ اور اسرائیل سمیت بھارت کی سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے، ہم اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے کہ وہ اپنے شیطانی عزائم کی تکمیل کیلئے مملکت خداداد پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرے۔
قرآن و سنت کانفرنس کو روکنے کیلئے پنجاب حکومت کی طرف سے مختلف اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے تھے، اور کانفرس کی تشہیری مہم کے حوالے سے حکومت پنجاب کی جانب سے کہیں پر بینرز اتارے جا رہے تھے تو کہیں وال چاکنگ کو مٹانے کا سلسلہ جاری تھا، جس کی ہم شدید مذمت کی گئی اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ اقدام نہ صرف غیر اخلاقی تھا بلکہ غیر جمہوری بھی تھا ۔ چاہئے تو یہ تھا کہ حکومت پنجاب مکمل تعاون کرتی، لیکن الٹا اس کانفرنس کو خراب کرنے کیلئے مختلف احمقانہ حرکتیں کی جا رہی تھیں، ہ۔

یکم جولائی ’’قرآن و سنت کانفرنس‘‘ کا عظیم الشان اجتماع عالمی استکبار امریکہ اور اس کے حوایورں کی مملکت خداداد پاکستان میں جاری دہشتگردی کے خلاف سنگ میل ثابت ہوگا ’’قرآن و سنت کانفرنس‘‘ کی تمام تر تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں جبکہ جلسہ گاہ (مینار پاکستان) میں شرکائے کے لئے 60,000 (ساٹھ ہزار) نشستوں کا اہتمام کیا گیا تھااور جلسہ گاہ میں ایک اندازے کے مطابق 5 لاکھ افراد کی شرکت کی۔
’’قرآن و سنت کانفرنس‘‘ پاکستان کا تاریخی اجتماع ہوتھا ، جس میں ملک کے گوشہگوشہ سے اپنی مدد آپ کے تحت اپنے وسائل خرچ کرتے ہوئے عوام نے شرکت کی۔ کافرنس میں پنجاب حکومت سے مطالبہکیا گیا کہ ’’قرآن و سنت کانفرنس‘‘ کے اجتماع اور ملک بھر سے آنے والے قافلوں کی سکیورٹی کے لئے خاطر خواہ انتظامات کئے جائیں، ایک ایسے وقت میں کہ جب لاہور میں شائع ہونے والے اخبارات میں اس طرح کی خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ جس میں دہشتگردی کے حملوں کے بارے میں باتیں بھی کی جا رہی تھیں ، پولیس اور حساس اداروں کی جانب سے سکیورٹی کا کوئی خاطر خواہ انتظام نہ تھا قوم کے اسکاوٹ گروپس کے رضا کاروں نے سکیورٹی کا انتظام کیا ہوا تھا اور برادر تنظیموں کی معاونت سے 4000 رضاکار سکیورٹی کے انتظامات کے لئے تعینات کر دئیے، تاکہ پولیس اور رضاکار باہم مل کر سکیورٹی کو مزید بہتر طور پر انجام دے سکیں اور کسی بھی شیطانی منصوبے کو ناکام بنا دیں۔ کانفرنس میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی جانب سے ملک میں جاری دہشتگردی کے خاتمہ، ملک دشمن عناصر کے راستوں کو روکنے، دہشتگردوں کا خاتمہ، ملک کو درپیش مسائل، امریکی مداخلت، ڈرون حملوں سمیت دیگر اہم قومی امور پر روڈ میپ کا اعلان کیا جائے گا۔

پریس کانفرنس میں مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے علاوہ علامہ شیخ حسن صلاح الدین سربراہ شورایٰ عالی مجلس وحدت مسلمین پاکستان، علامہ مرزا یوسف حسین رکن شوریٰ عالی مجلس وحدت مسلمین پاکستان، علامہ شفقت حسین شیرازی سیکرٹری امور خارجہ مجلس وحدت مسلمین، مولانا عبد الخالق اسدی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین، صوبۂ پنجاب، مولانا مختار امامی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندھ، مولانا مقصود علی ڈومکی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین صوبہ بلوچستان، مولانا سبیل حسین مظاہری سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین صوبہ خیبر پختونخواہ، مولانا شیخ نیر مصطفوی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان، مولانا تصور حسین جوادی سیکرٹر ی جنرل مجلس وحدت مسلمین آزاد جموں کشمیر شریک تھے۔
قرآن و سنت کانفرنس کی تیاریاں عروج پر تھیں، اس سلسلے میں مینار پاکستان کے میدان پر علم حضرت عباس ع نصب کر دیا گیا تھا۔
قرآن و سنت کانفرنس کی پہلی نشست کا آج صبح گیارہ بجے ہوا پہلے حصے مین کانفرنس میں حجت الاسلام و المسلمین مولانا شیخ اعجاز حسین بہشتی کا خطاب کیا۔ اس سے قبل ضلع لاہور کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل عمران شیخ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج 25 سال کے طویل عرصے کے بعد ملت تشیع اپنی طاقت کا مظاہرہ کرے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آج اہل تشیع کا سونامی مینار پاکستان کی طرف امڈے گا۔ جھنگ سے ستانوے بسوں کا قافلہ دس ہزار شرکائے کو لیکر مولانا اظہر کاظمی کی قیادت میں مینار پاکستان پہنچا تھا۔

مولانا اعجاز بہشتی کا کہنا تھا کہ ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، جب تک پاکستان کی قومی اسمبلی میں پرچم عباس سرکار وفا بلند نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ بنو امیہ اور بنو عباس کے ظلم و ستم کے باوجود آج مکتب اہل بیت قائم ہے اور ملت کے زندہ ہونے کا ثبوت مینار پاکستان پر قرآن و سنت کانفرنس کا انعقاد ہو رہا ہے۔
سلطان ذاکرین سید خدا بخش قیصر بخاری نے کہا کہ انہیں ایسی جماعت چاہیے تھی جو عزاداری کا تحفظ یقینی بنائے اور قوم کی آواز کو بلند کرے، الحمد اللہ مجلس وحدت مسلمین کی شکل میں وہ جماعت مل چکی ہے، ہم ایم ڈبلیو ایم کے تمام علمائے کرام کو یقین دہانی کراتے ہیں کہ ہمیں جب بھی پکارا جائے گا تو ہم میدان میں ہونگے اور اس رستے میں ہر قربانی دینے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ تمام ذاکرین عظام کی طرف سے قرآن و سنت کانفرنس اور مجلس وحدت مسلمین کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ انشاءاللہ یہ کاروان یونہی چلتا رہے گا۔
انکا مزید کہنا تھا کہ مجلس وحدت نے موقع فراہم کیا ہے کہ ہم اپنا موقف پیش کریں اور قومی معاملات پر اپنا موقف بیان کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بنانے والے شیعہ تھے اور پاکستان کو بچانے والے بھی شیعہ ہی ہونگے۔ لہٰذا پاکستان کے اندر باقی شہریوں کی طرح جینے کا حق دیا جائے، ملک بھر میں شیعہ نسل کشی جاری ہے، جسے روکا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مجلس وحدت کے شکر گزار ہیں، جنہوں نے قومی معاملات پر انہیں موقع فراہم کیا اور اپنی قوت سمجھا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مجلس وحدت مسلمین ہمیں ہروقت اور ہر موقع پر ملت کی خدمت کیلئے ساتھ رکھے گی۔

علامہ آغا علی موسوی کے فرزند علامہ آغا حیدر علی موسوی نے کہا ہے کہ ہمیں مجبور کیا اور بند گلی میں دھکیلا جا رہا ہے۔ ملت تشیع عاشورہ عقیدت کیساتھ مناتی ہے، حکمران اس وقت سے ڈریں جب ہم عاشورہ طاقت سے منائیں گے، اور ملک کے تمام شہروں سے ماتمی، ذاکرین اور مومنین اسلام آباد کا رخ کریں گے اور اس وقت ایوان لرز جائیں گے، انہوں نے کہا کہ ہم نے یزید کو ایسی گالی بنا دیا ہے کہ آج تک کوئی اپنی اولاد کا نام یزید نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم بانیان پاکستان ہیں، لیکن تمام حقوق سے محروم ہیں، ایسا کیوں ہے؟ حکومت اور سیاسی جماعتیں کیوں شیعہ نسل کشی پر خاموش ہیں؟ ہم یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ہمارے قتل میں ملکی ایجنسیاں ملوث ہیں۔ کوئٹہ میں آئے روز کے واقعات ثابت کرتے ہیں کہ وہاں پر قانون نام کوئی چیز نہیں، زائرین کو بسوں سے اتار کا قتل کر دیا جاتا، مگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ اگر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا تو ملک خانہ جنگی کی طر ف جاسکتا ہے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ ہم عالمی استعمار امریکہ کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ اس دنیا پر حاکمیت کا حق صرف اللہ کا ہے، جب اللہ کا امام آئے گا تو دنیا سے یزیدیت خود بخود مٹ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہداء ملت جعفریہ کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے، اس سال کو آمادہ رہنے اور میدان میں رہنے کا سال قرار دیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مینار پاکستان لاہور میں منعقدہ قرآن و سنت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ دشمن کا مقابلہ منظم ہوکر ہی کیا جاسکتا ہے۔ جس دن تیس لاکھ شیعہ اکھٹے ہوگئے کوئی ہمارا حق نہیں چھین سکے گا۔ ہم ظالموں سے خنجر چھین کر انہی کے سینے میں گھونپیں گے۔
علامہ ناصر عباس جعفری نے اپنے تحریری بیاں میں کہا کہ ملک کی موجودہ صورتحال برقرار رہی تو پارلیمنٹ سمیت جی ایچ کیو کا گھیراؤ کریں گے۔ جن اداروں کی ذمہ داری سیکیورٹی ہے انہوں نے اپنی ذمہ داریاں ادا نہ کیں تو ہم انہیں گھروں سے نکلنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا اگر دہشتگردوں کا راستہ حکومت نے نہ روکا تو ہم مجبور ہوجائیں گے کہ ان کا راستہ روکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہیں، کیوں کہ یہ ہماری سالمیت کیخلاف ہے۔ دہشتگردوں کے خلاف کارروائی ہماری فوج کرے نہ کہ امریکہ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ پر اعتماد نہ کیا جائے، ڈاکٹر عافیہ صدیقی جو وطن کی بیٹی ہے اگر ہندو بھی ہوتی تو ہم حمایت کرتے ہیں، مجلس وحدت مسلمین اُس کی ملک واپسی کا مطالبہ کرتی ہے اور حکومت سے تقاضہ کرتی ہے کہ وہ اسے وطن واپس لانے کے اقدامات کرے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں شیعہ سنی اکھٹے رہتے تو آج قوم ذلیل وخوار نہ ہوتی، آج کے بعد کوئی سیاسی پارٹی شیعوں کو دھوکہ نہیں دے سکے گی، یہ ووٹ کسی سیاسی جماعت کیلئے نہیں بلکہ علی ع اور حسین ع کا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم آئندہ کسی دہشتگرد کو پارلیمنٹ میں نہیں جانے دیں گے، ہماری جانب سے معتدل غیرت مند شیعہ سنی امیدوار پارلیمنٹ جائیں گے، علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ملک میں بھرپور سیاسی کردار ادا کریں گے اور آئندہ الیکشن میں طاقتور مرکزی حکومت لائیں گے تاکہ امریکہ کا راستہ روکا جاسکا۔ اور ملک سے منافرت کا خاتمہ ہوسکے۔
انہوں نے کہا کہ اہل سنت بریلوی حضرات کے بعد شیعہ دوسری بڑی قوت ہیں، ہم بکنے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت آئے گا جب شیعہ پاکستان کی طاقتور قوم ہوگی اور ہم دوسروں کو بھی مضبوط بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب ہم نے مجالس کیلئے کوئی اجازت نہیں مانگنی، یہ ہمارا آئینی حق ہے، جہاں دل کرے گا وہیں پر عزارداری کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس ملک میں عزاداری امام حسین ع عام ہوتی تو آج دہشتگردی عام نہ ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی پارٹیوں سے کہتا ہوں کہ اگر جس پارٹی نے دہشتگردوں سے کوئی معاہدہ کیا شیعہ قوم اس پارٹی کو ووٹ نہیں دیگی۔
راجہ ناصر عباس نے کہا کہ پنجاب حکومت نے دہشتگرد چھوڑ دیئے لیکن مولانا غلام رضا نقوی آج بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند ہیں۔ ہم ان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ اگر ان کی رہائی عمل میں نہ لائی گئی تو ہم سمجھنے پر مجبور ہونگے کہ تم لوگ شیعیوں کے دشمن ہو۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ برسوں سے لہو لہو ہے، اگر ہم آج منظم ہوجائیں تو حالات بہتر ہوسکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ پی پی پی سے کہتا ہوں کہ اگر اس نے ملک بھر میں شیعیوں کی نسل کشی نہ رکوائی تو ہم پیپلزپارٹی کو ووٹ نہیں دیں گے۔ اور پاکستان کے شیعہ اسلام آباد کی طرف رخ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ قوم تیاری کرے ہم ان یزیدیوں کو سبق سکھائیں گے۔ مجلس وحدت مسلمین ماتمی انجمنوں، علماء، اور نوجوانوں کا پلیٹ فارم ہے اور اس کا ایک نعرہ ہے، لبیک یاحسین ع۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے پنجاب یونیورسٹی میں غنڈے پال رکھے ہیں، اگر انہیں قابو نہ کیا گیا تو جماعت اسلامی والے بھی کھلے عام چل پھر نہیں سکیں گے۔ انہوں نے ن لیگ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ رانا ثناء اللہ کے دھوکے میں نہ آئے، اور دہشگردوں کو سپورٹ کرنے سے باز آئے۔