|
شعبان اور امام مہدی صاحب الزمان ۔ از ۔ سید اکمل حسین ۔ لندن
06.07.2012, 05:11am , جمہ (GMT+1)
سید اکمل حسین ۔ لندن
بسم اللہ الرحمن الرحیم شعبان المعظم اپنی تمام تر رحمتوں اور برکتوں امام زمان کی خوشیان لے کر گزر رہا ہے، اس مہینے میں ایک خاص اور فضیلت کی رات بھی موجود ہے جو ایک مولود کی شب ولادت ہے۔ اس رات اور اسکے مولود دونوں ہی کی عظمت میرے لئے بیان اور ادراک سے بالاتر ہے۔ تقریباً ایک ہزار سال پہلے شیخ الطائفہ نے کتاب "المتہجد" میں اس دعا کا ذکر کیا جسکا آغاز اس طرح سے ہوتا ہے: "اللھم بحق ليلتنا هذه و مولودها ۔۔۔۔۔۔۔" یہ کیسی رات ہے کہ اس دعا میں خدا کو اس رات کی قسم دینی چاہئے، اسکی منزلت کا کیا مقام ہے جو امام اسکے بارے میں اس ذکر کا حکم دیتے ہیں: بحق ليلتنا هذه ۔ اس بامنزلت سب میں متولد ہونے والے مولود کو دیکھ کر عقل بھی اپنا ادراک کھو بیٹھتی ہے۔ اس عالم ھستی کے اندر ایک منظومہ موجود ہے جسکے اندر خدا نے سورج کو مقرر فرمایا ہے۔ اسی طرح سے ملکوت (عالم ماوراء) کے اندر بھی ایک منظومہ موجود ہے جسکا سورج حضرت ولیعصر امام زمانہ عج ہیں۔ اگر آنکھ کو ایسی قدرت حاصل ہے کہ وہ سورج کو دیکھ سکتی ہے تو عقل بھی اس عالم ھستی کے اندر یہ قدرت رکھتی ہے کہ اس خورشید کو جسکا نام صاحب الزمان اور مہدی موعود عج ہے درک کر سکے۔ زمانہ گزر گیا اور ہم یہ نہ سمجھ سکے کہ ہم کس امام کی امت ہیں۔ امام زمانہ عج کی پہچان تب ہی ممکن ہے جب خاتم الانبیاء ص جو جہان ھستی کی اولین شخصیت ہیں کی پہچان حاصل ہو۔ سوال پیش آتا ہے کیوں؟۔ اسکے بارے میں ایک "صحیح" حدیث موجود ہے۔ صحیح حدیث ایسی حدیث کو کہا جاتا ہے جس پر اس مذھب کے تمام تر فقھاء بغیر کسی استثناء کے ہر چھوٹے بڑے فقہی مسئلے میں اس کے مطابق فتوا صادر کریں۔ خبر کی حجیت کے بارے میں فقہاء کے مبانی مختلف ہوتے ہیں۔ اکثریت موثق روایت کو حجت سمجھتی ہے لیکن بعض افراد جیسا کہ صاحب مدارک فقیہ نحریر ایک موثق خبر کی بنیاد پر فتوا صادر نہیں کرتے بلکہ صحیح خبر کے مطابق فتوا دیتے ہیں۔ بیان شدہ مطالب ایک صحیح خبر کے اندر بیان ہوئے ہیں اور وہ صحیح خبر یہ ہے: رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "المھدی من ولدی اسمہ اسمی و کنیتہ کنیتی اشبہ الناس بی خلقا و خلقا "۔ یہ وہ مقام ہے جہاں عقل اپنی حیثیت کھو بیٹھتی ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ خاتم الانبیاء ص کون ہیں؟، یہ وہ شخص ہیں جنکے بارے میں قرآن میں ایک سورہ ہے جسکا نام "بلد" ہے۔ قرآن کی طرف رجوع کیجئے کیونکہ اس سورہ کے نام مختلف ہیں۔ سورہ یس، سورہ صافات، سورہ ملک۔ سورہ کا وہ عمود اس سورہ کے نام کا نقطہ بن جاتا ہے جسکا نام سورہ "بلد" ہے۔ بلد کا مطلب کیا ہے؟، یعنی "شہر"۔ جیسے مشہد ایک شہر ہے، تہران ایک شہر ہے، مدینہ اور مکہ شہر ہیں۔ خداوند متعال جسکے ارادے سے کروڑوں کہکشانیں گھوم رہی ہیں اور تمام تر عالم ھستی "فیکون" ہونے کیلئے اسکے فقط ایک "کن" کی منتظر ہے۔ وہی ذات اقدس اس شہر کے خدا ہونے کی حیثیت سے جس میں خاتم الانبیاء ص رہ رہے ہیں، اس شہر کی قسم کھاتے ہوئے کہتا ہے: "لا اقسم بھذا البلد و انت حل بھذا البلد"۔ چونکہ آپ اس شہر میں رہتے ہیں میں نے اس کی قسم کھائی ہے۔ یہ ہے خاتم الانبیاء ص کی عظمت۔ کون ہے وہ ھستی؟۔ یہ وہی ھستی ہے جسکے بارے میں قرآن کے اندر "اسراء" نام کی ایک سورہ موجود ہے۔ اس سورہ کا آغاز یوں ہوتا ہے: "سبحان الذی اسری بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصی الذی بارکنا حولھا لنریہ من آیاتنا ۔۔۔۔۔" یہاں آ کر شیخ انصاری جیسے لوگ بھی مبہوت و حیران رہ جاتے ہیں۔ خدا ان الفاظ میں اپنی تسبیح بیان کر رہا ہے کہ سبحان الذی (پاک ہے وہ ذات) جو اس رات اسکو معراج پر لے گیا۔ یہ ہے خاتم الانبیاء کی عظمت کا عالم۔ "اس رات ہم اسکو لے کر گئے تاکہ اپنی نشانیاں اسکو دکھائیں"۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ آیات یا نشانیاں کیا ہیں؟۔ ایک سورہ قرآن میں موجود ہے جسکا نام ہے سورہ "نجم"۔ "والنجم اذا ھوی ما ضل صاحبکم و ما غوی و ما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی"۔ خداوند متعال اس پیغمبر کی شرح حال کو بیان کرنے کیلئے نجم یعنی ستارے کی قسم کھاتا ہے۔ یہ سب تو مدح ہے، دیکھئے کہ مداح کون ہے؟۔ مداح خود خدا ہے اور مدح سورہ نجم ہے۔ مدح یہ ہے: "و ما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی علمہ شدید القوی ذومرۃ فاستوی و ھو بالافق الاعلی ثم دنا فتدلی فکان قاب قوسین او ادنی ۔۔۔۔۔۔۔" سے لے کر وہاں تک کہ خدا یہ فرماتا ہے: "لقد رای من آیات ربہ الکبری"۔ یہ آیات کونسی ہیں؟، اس شب انہوں نے کیا دیکھا؟۔ جس رات آپ ص معراج تشریف لیکر گئے، وہ معراج جسکو خود خدا نے معراج کے نام سے تعبیر کیا ہے، اس رات آپ ص کی آنکھوں کے سامنے سے پردے اٹھا لئے گئے۔ جب آپ ص نے نظر ڈالی تو بارہ ستاروں کو دیکھا۔ ان میں سے پہلا ستارہ امیرالمومنین علی ع کی ذات تھی۔ پھر آپ ص نے دیکھا کہ ان میں سے ایک ستارہ باقی ستاروں کے درمیان صبح کے ستارے کی مانند جگمگا رہا ہے۔ آپ ص نے خدا سے پوچھا: "پروردگارا، یہ کون ہے؟"۔ خدا نے یوں تعارف کروایا: "یہ آل محمد ص کا مھدی ہے، یہ زمانے کا امام ہے"۔ صحیح حدیث یہ ہے کہ "المھدی من ولدی"۔ وہ خاتم الانبیاء جسکا مداح خدا ہے وہی اب امام زمانہ عج کا مداح ہے۔ یہ ہے حضرت ولیعصر عج کا مقام۔ "المھدی من ولدی، اسمہ اسمی، کنیتہ کنیتی ۔۔۔۔۔"۔ دنیا میں کسی پر بھی خاتم الانبیاء ص کا نام و کنیہ ایک ساتھ رکھنا جائز نہیں ہے جبکہ صرف ایک شخص ایسا ہے جسکا نام اور کنیہ دونوں آپ ص کے نام اور کنیہ پر ہیں۔ رسول خدا ص کے دو نام ہیں۔ ان میں سے ایک نام آسمانی ہے جو "احمد" ہے اور ایک زمینی جو "محمد" ہے۔ آپ ص نے یہ دونوں نام امام زمانہ عج کو ھدیہ کے طور پر دیئے ہیں۔ اپنے نام کو بھی اور اپنی کنیت کو بھی۔ آپ ص کا نام بھی اور کنیت بھی جو ابوالقاسم ہے۔ یہ نام اور کنیت سوائے حضرت ولیعصر عج کے کسی بھی امام کیلئے نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امام زمانہ عج کو پہچاننا چاہئے۔ وہ مقام جہاں عقل حیران رہ جاتی ہے وہ یہ ہے: "اشبہ الناس"۔ دنیا کے سب افراد سے زیادہ خُلق اور ُخلق میں مجھ سے شبیہ ترین فرد۔ جو کچھ بھی رسول خدا ص اپنے وجود میں رکھتے تھے، انکے وجود میں بھی اسکا انعکاس موجود ہے۔ جو چیز رسول خدا ص کے اندر موجود تھی وہ کیا تھی؟، یہ وہ علم تھا جس کے بارے میں خداوند متعال قرآن میں فرماتا ہے: "و علمک ما لم تکن تعلم و کان فضل اللہ علیک عظیما"۔ رسول خدا ص کا علم اس حد تک گہرا ہے جسے آیۃ الکرسی پڑھ کر سمجھا جا سکتا ہے۔ خدا فرماتا ہے: "العلی العظیم"۔ یہی خداے علی العظیم جب خاتم الانبیاء کے علم کو بیان کرنا چاہتا ہے تو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے: "و کان فضل اللہ علیک عظیما"۔ آپ ص کے علم کو وہ عظمت حاصل ہے کہ خداے علی العظیم نے اسکو "عظیم" شمار کیا ہے۔ جب آپ ص کے ُخلق کو بیان کرنا چاہتا ہے تو فرماتا ہے: "انک لعلی ُخلق عظیم"۔ یہ علم اور یہ ُخلق دونوں ہی مھدی آل محمد ص کو عطا کئے گئے ہیں۔ یہ ہیں امام زمان عج۔ آج کے بعد ہمیشہ خیال رکھیں۔ اس نگاہ کے ساتھ ان سے ان کلمات کے ذریعے گفتگو کریں۔ جس قدر معرفت کی سطح بڑھتی جائے گی اسی قدر قدر و قیمت بھی بڑھتی جائے گی۔ یہ کیا مقام و منصب ہے؟۔ قرآن پڑھ کر دیکھئے۔ موسی ابن عمران کون ہیں؟۔ وہ ہیں جنکے بارے میں خدا قرآن میں فرماتا ہے: "و کلم اللہ موسی تکلیما و نادیناہ من جانب الطور الایمن و قربناہ نجیا"۔ موسی ابن عمران وہ شخص ہیں جنہیں خدا نے نو نشانیاں عطا کی تھیں۔ ان میں سے ایک وہ عصا تھا جسکو ڈالتے ہی وہ سارے جادو کو ہڑپ کر گیا۔ دوسری نشانی یہ تھی کہ جب وہ اپنا ہاتھ آستین سے نکالتے تھے تو نورانی ہو جاتا۔ موسی ابن عمران نے جب تورات کے پہلے جزء (سِفر) میں اس مقام و منزلت کا جو خدا نے امام زمانہ عج کو عطا فرمائی ہے مطالعہ کیا اور انکے عظیم مقام سے باخبر ہوئے تو فرمایا: "بار الہا، یہ کتنا عظیم مقام ہے، مومن بھی ایسے مقام کی آرزو رکھتا ہے"۔ انکی اس بات کے بعد خدا کا یہ جواب آیا: "اے موسی، یہ مقام کسی بھی دوسرے شخص کو نہیں مل سکتا"۔ حضرت موسی ع نے دوبارہ نگاہ ڈالی اور آپ عج کے فضائل و مناقب و مکارم و کمالات کو دیکھا تو دوبارہ خدا سے دعا کی کہ خدایا، مجھے وہ شخص قرار دے۔ جواب ملا ایسا ممکن نہیں ہے۔ تیسری مرتبہ وہ ہے جہاں سب علماء، حکماء و فقہاء کی عقل حیران رہ جاتی ہے۔ انہوں نے تیسری مرتبہ پھر دعا کی کہ خدایا مجھے خاتم الانبیاء کا وہ آخری جانشین قرار دے تو جواب آیا کہ ہر گز ایسا ممکن نہیں ہے۔ یہ ہے امام زمان عج کا مقام۔ انکے ساتھ رابطہ کیا چیز ہے؟۔ ان کے ساتھ رابطہ کرنے کی راہ یہ ہے۔ کیا اس شیشے کو دیکھا ہے؟۔ اس شیشے کی تاریخ کو دیکھو۔ جو کچھ بھی ہے اسی کے اندر ہے۔ یہ بلب پہلے ایک شیشہ تھا جو پتھر کے دل میں موجود تھا۔ اس پتھر کو بھٹھی میں ڈالا گیا جو وہاں جا کر پگھل گیا جس سے شیشہ الگ ہو گیا۔ اس شیشے کے ذرات کو جو ایکدوسرے سے جدا ہو چکے تھے، شیشہ گر نے خمیر کی صورت دی۔ آخر میں اس میں پھونک دیا جس سے وہ بلب کی صورت اختیار کر گیا۔ پھر اسکو ہولڈر میں لگا کر بجلی کے ساتھ متصل کیا گیا۔ اب یہ شیشہ نہ رہا بلکہ سر تا پا نور بن گیا۔ میرے اور تمہارے دل کی بھی یہی مثال ہے۔ ہماری روح بھی یہی ہے۔ یہ روح ہوا و ہوس کے پتھروں سے آلودہ ہو چکی ہے۔ مجاہدت کے ذریعے ان پتھروں وک اس روح سے جدا کرنے کی ضرورت ہے۔ جب ایسا ہو گیا تو یہ روح بھی اس مثال کی طرح ایک صاف شیشے کی صورت اختیار کر جائے گا۔ جب بلب کی صورت اختیار کر گیا تو بجلی سے اتصال کا مرکز امام زمانہ عج ہیں۔ جب یہ دل اس منبع کے ساتھ متصل ہو گیا تو یہی دل نور میں تبدیل ہو جائے گا۔ راہ یہی ہے۔ جب امام زمانہ عج آئیں گے تو وہ خاتم الانبیاء ہی کی مجسم شکل ہوں گے۔ خاتم الانبیاء کون تھے؟۔ "و ما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین"۔ امام زمانہ عج کا وجود رحمۃ للعالمین ہے۔ بعض نادان افراد یہ سمجھتے ہیں کہ وہ آئیں گے تو قلع قمع کرنا شروع کر دیں گے۔ جب ایسا سوچتے ہیں تو پھر انکے ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ جب وہ ہمیں مار ہی دیں گے تو ہم بھی کیوں ان کا انتظار کریں؟۔ ان میں اتنا شعور نہیں ہے کہ یہ سمجھ سکیں۔ کیا آپ نے باغ دیکھا ہے؟۔ باغبان جب اپنے باغ میں آتا ہے تو زمین سے کانٹوں کو اکھاڑ پھینکتا ہے۔ کیا اسے یہ کانٹے اکھیڑنے چاہئیں یا نہیں؟۔ باغ تو پھولوں کی نگہداشت کی جگہ ہے نہ کانٹوں کی۔ جیسا کہ باغبان اپنے باغ سے کانٹوں کو دور کرتا ہے اسی طرح امام زمانہ عج بھی انسانیت کے باغ سے کانٹوں کو نکال پھینکیں گے۔ اگر تم پھول بنو گے تو باغبان بھی تمہاری نگہداشت کرے گا۔ سرجن کیا کرتا ہے؟۔ جب ایک ٹیومر پیدا ہو جائے تو پہلے اسکا معالجہ کرتا ہے اور جہاں تک میسر ہو اسکا دواوں اور مرھم پٹی سے علاج کرتا ہے۔ اگر دواوں نے اپنا اثر چھوڑ دیا یا مرھم پٹی نے کوئی نتیجہ نہ دیا تو پھر اسکا راہ حل کیا ہو گا؟۔ یا یہ کہ وہ شخص (اس مرض کے ساتھ) مر جائے گا یا یہ کہ اس ٹیومر کو نکال دیا جائے۔ یہاں پہنچ کر ایک سرجن آپریشن کر کے اس ٹیومر کو نکال دیتا ہے۔ آیا اس سرجن سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ کیونکر اس ٹیومر کو آپریشن کر کے نکالا؟۔ امام زمانہ عج بھی انسانیت کے ٹیومرز کا علاج کرتے ہیں۔ یہاں یہ بات آتی ہے کہ انکی تلوار بھی رحمت ہے اور عفو و بخشش بھی رحمت ہے۔ انکا تمامتر وجود رحمت ہے۔ خدایا، تجھے خون شہداء کی قسم اور علی ابن موسی علیہ السلام کے زہر خوردہ لبوں کی قسم، ہم سب کو انکی نگاہ خاص میں قرار دے۔ جب وہ ایک نگاہ کریں گے تو وہ نگاہ کیا کچھ کر ڈالے گی؟۔ انکی ایک نظر کا اثر یہ ہے: راس المحدثین شیخ صدوق اعلی اللہ مقامہ کتاب "کمال الدین" میں محمد ابن حسن صیرفی سے ایک داستان نقل کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ یہ شخص بلخ کی سرزمین کا رہنے والا تھا۔ وہاں کے لوگوں نے اپنے اموال میں سے وجوھات نکال کر اس شخص کو دیں تاکہ وہ انہیں بغداد میں امام زمانہ عج کے نائب ابوالقاسم حسین ابن روح کے حوالے کر دے۔ اب سوچئے ذرا کہ بلخ کہاں اور بغداد کہاں؟۔ وہ بھی اس زمانے میں جب تہران سے مشہد تک سوارہ دو ماہ لگ جایا کرتے تھے۔ بلخ سے بغداد۔ صیرفی نے بھی اس مال کو سونے اور چاندی کی اینٹوں میں تبدیل کر دیا اور سفر کیلئے آمادہ ہو گیا۔ کافی عرصہ چلتے رہنے کے بعد وہ "سرخس" کے مقام پر پہنچا اور وہاں اس نے ایک ریتلی جگہ پر اپنا خیمہ نصب کیا۔ جب وہ اینٹیں گننے لگا تو ان میں سے ایک ریت میں گر کر گم ہو گئی۔ وہ امانت دار شخص گیا اور اپنے مال میں چاندی خریدی۔ کچھ عرصہ چلنے کے بعد ہمدان پہنچا۔ اس زمانے کے سرخس سے ہمدان تک۔ وہاں پہنچ کر اس نے چاندی کو اینٹ میں تبدیل کروایا اور اس اینٹ کو باقی اینٹوں میں اضافہ کر دیا۔ ہمدان سے دوبارہ چل پڑا یہاں تک کہ بغداد پہنچ گیا۔ ابوالقاسم حسین ابن روح کے گھر کا پتا معلوم کیا۔ انکے گھر گیا اور سونے اور چاندی والی اینٹوں کے تھیلے کو سامنے رکھ دیا۔ محمد ابن حسن پریشان تھا۔ حسین اب روح نے اینٹوں کو اوپر نیچے کرنے کے بعد ان میں سے ایک اینٹ نکالی اور کہا: "یہ ہماری نہیں۔ جو اینٹ ہم سے تعلق رکھتی تھی وہ سرخس میں ریت کے درمیان گم ہو گئی ہے اور تم نے بھی اس خیال سے کہ امانت میں خیانت نہ وہ ہمدان پہنچنے کے بعد اپنے مال میں یہ اینٹ بنوائی اور ان اموال میں رکھ دی۔ یہ تم سے متعلق ہے۔ جب واپس لوٹو تو سرخس میں اپنے ساتھ لیتے جانا۔ اس وقت تم مجھ سے نہیں مل سکو گے۔ میرے بعد اس کو میرے نائب کے حوالے کر دینا۔ یہ وہ شخصیت تھی جس پر امام زمان عج کی صحبت کا اثر تھا۔ اس صحبت نے اسے اس مقام پر پہنچا دیا تھا جسکی وجہ سے وہ ماضی اور مستقبل کو دیکھ سکتا تھا۔ بغداد، بلخ اور سرخس اسکے زیر نظر تھے۔ ہمدان اسکے قبضہ قدرت میں تھا۔ اگر نوکر اور نائب امام زمانہ عج یہ ہے تو خود امام زمانہ عج کا مقام کیا ہو گا؟۔ یہی وہ بات ہے جسکی وجہ سے حضرت موسی ع کلیم اللہ اس مقام کی حسرت کھاتے نظر آتے ہیں۔ کتنے خوش نصیب ہیں آپ اگر اسکی قدر و قیمت جان جائیں تو۔ اس سال نیمہ شعبان کو 11 بجے سب کو دعای فرج پڑھنی چاہئے۔ سارے سال اس عادت کو ترک نہ کریں۔ روزانہ جس قدر آپ کا وقت اجازت دیتا ہے قرآن پاک کی تلاوت کریں اور امام زمانہ عج کو ھدیہ کر دیں۔ اگر اس کام کو عملی کریں اور روزانہ اس گوھر گرانبھا جو کلام خدا ہے کرتے رہین اور انکو ارسال کرتے رہیں تو رمضان کی تئیسویں تاریخ (23 رمضان) کو جو کہ شب قدر ہے آپکے اعمال کا کاغذ انکے دستخط کیلئے پہنچ جائے گا۔ کیا سوچتے ہیں کہ وہ آپکے ساتھ کیسا معاملہ کریں گے؟۔ افسوس ہے کہ عمر گزر گئی اور ہم اس سے وہ فائدہ جو اٹھانا چاہئے تھا نہ اٹھا سکے۔ آپ لوگ جوان ہیں۔ اسی جوانی کے دور سے کام شروع کر دیں۔ کسی بھی دن قرآن کی تلاوت کو ترک نہ کریں اور ہر روز اسے اپنے امام زمانہ عج کو ھدیہ کیا کریں۔ اگر کبھی مٹی کو ایک ماہ پھولوں کے دستے کے پاس رکھا جائے تو پہلے دن انکا کوئی اثر نہیں دیکھیں گے لیکن ایک ماہ بعد جب دیکھیں گے تو اس مٹی سے بھی پھولوں کی خوشبو آنے لگے گی۔ میرے اور آپ کے دلوں کی بھی یہی مثال ہے۔ ایک دن قرآن کی تلاوت کے بعد تمہارا دل وہی گیلی مٹی ہے جو ایک دن پھول کے ساتھ رہی۔ لیکن اگر ہر روز قرآن کی تلاوت کریں اور اسکا ثواب انہیں بھیجیں تو یہ ھدیہ ان تک پہنچ جائے گا۔ اسکے بعد پھر آپکا کوئی کام نہیں ہے۔ ہماری طرف سے زمانے کے سلیمان کو ھدایا۔ پھر وہ اپنے کرم کے مطابق ہمارے ساتھ کیا معاملہ کریں گے؟۔ یہ ہے وہ مقام و منصب اور یہ ہے امام زمانہ عج کے ساتھ رابطہ برقرار کرنے کا راستہ۔ آپ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ نظروں سے اوجھل ہیں لیکن اس بات کی خبر نہیں رکھتے کہ یہ نظریں تو انہیں دیکھنے سے محروم ہیں لیکن انکے نور کی شعاعیں سب ہی دلوں پر پڑتی ہیں۔
حضرت مہدى علیہ السلام كا نسب
علی (ع) کے کلام میں امام زمانہ (ع) کی تعارف کے سلسلے میں کثیر روایات پائی جاتی ہیں. اور ایک لحاظ سے ان روایات کو تین اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے. آپ (ع) ایک قسم کی روایات میں امام زمانہ (ع) کو اپنے فرزند کی حیثیت سے متعارف کراتے ہیں؛ دوسری قسم کی روایات میں آپ کو حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) کی اولاد میں اور تیسری قسم کی روایات میں آپ کو امام حسین (ع) کی اولاد میں شمار کرتے ہیں.
* عن ابى جعفر محمد بن على علیه السلام قال: خطب امیرالمؤمنین على بن ابیطالب علیه السلام بالكوفة بعد منصرفه من النهروان... فحمد اللّه و اثنى علیه و صلىّ على رسول اللّه صلى الله علیه و آله و ذكر ما انعم اللّه على نبیه و علیه ثم قال: ...و مِنْ وُلدى مهدىُّ هذِهِ الاُمّة (5)
امام محمد باقر(ع) فرماتے ہیں: امیرالمؤمنین على بن ابی طالب (علیہما السلام) جنگ نہروان کے بعد کوفہ لوٹے تو آپ نے (ع) نے لوگوں کے لئے خطبہ پڑھا... اس خطبے میں آپ (ع) نے سب سے پہلے خداوند متعال کی حمد و ثناء ادا کی اور رسول اللہ (ص) پر دورد و سلام بھیجا اور ان نعمتوں کو یاد کیا جو خداوند متعال نے رسول اللہ (ص) اور خود آپ (ع) پر عنایت کی تھیں اور پھر فرمایا: ...
«اور میری اولاد میں سے ہیں اس امت کے مہدی».
* عن زرّبن حبیش سمع علیاً [علیه السلام ] یقول: المهدىّ رجلٌ منّا مِنْ وُلد فاطمة. (6)
زرّبن حبیش نے امیر المؤمنین (ع) کو فرماتے ہوئے سنا: مہدى ہم اہل بیت سے اور حضرت فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کی اولاد میں سے ہیں.
* ...عن على بن موسى الرضاعلیه السلام عن ابیه... عن ابیه امیرالمؤمنین على بن ابیطالب علیه السلام انه قال: التّاسِعُ مِنْ وُلْدِك یا حُسَینُ هُوَ القائِمُ بالحق... (7)
... حضرت امام رضا(ع) اپنے والد بزرگوار امام موسى بن جعفر (ع) سے اور وہ بھی اپنے والد سے... اور امام سجاد (ع) اپنے والد ماجد حضرت امام حسین (ع) سے اور امام حسین (ع) امیرالمؤمنین على بن ابیطالب(علیہما السلام) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے (امام حسین (ع) سے مخاطب ہوکر) فرمایا: میرے فرزند حسین! تمہاری اولاد میں «نواں» قائم بر حقّ (مہدى (ع) ) ہے...
* عن ابن العیاش قال: حدثّنى الشیخ الثقة ابوالحسین بن عبدالصمد بن علىّ... عن نوح بن دراج عن یحیى عن الاعمش ... انهم كانوا عند علىبن ابیطالب علیه السلام ... و اذا اقبل الحسین علیه السلام یقول: بأبى انت یا ابا ابن خیرة الاماء. فقیل یا امیرالمؤمنین ما بالك؟ تقول ... هذا للحسین علیه السلام ؟ و من ابن خیرة الاماء؟ فقال: ذاك الفقید الطرید الشرید م-ح-م-د بن الحسن بن على بن محمّد بن علىبن موسى بن جعفربن محمّدبن على بن الحسین هذا و وضع یده على رأس الحسین علیه السلام. (8)
ابن عیاش اپنی کتاب «مقتضب» میں لکھتے ہیں: شیخ ابوالحسین بن عبدالصمد بن على نے نوح بن دراج اور کئی دیگر افراد سے نقل کیا کہ یہ افراد امام امیرالمؤمنین علی (ع) کی خدمت میں شرفیاب تھے کہ امام حسین (ع) وارد ہوئے. حضرت امیر (ع) نے امام حسین (ع) سے مخاطب ہوکر فرمایا: تمہارا باپ تم پر فدا ہو اے بہترین کنیزوں(8-1) کے بیٹے کے باپ!
آپ (ع) سے کہا گیا: یا امیرالمؤمنین سبب کیا ہے کہ آپ امام حسین (ع) کے لئے یہ تعبیرات بروئے کار لارہے ہیں؟ بہترین کنیزوں کا بیٹا کون ہے؟
حضرت على (ع) نے جواب میں فرمایا: وہ ایک گمشدہ ہے جو اپنے اقارب اور رشتہ داروں اور اپنے وطن سے دور ہے. اس کا نام «م ـ ح ـ م ـ د» ہے اور حسن بن على بن محمد بن على بن موسى بن جعفر بن محمد بن على بن الحسین کا فرزند ہے؛ اس کے بعد آپ نے اپنا دست مبارک امام حسین (ع) کے سر مبارک پر رکھا اور فرمایا: حسین یہی ہیں.
مہدى علیہ السلام كا خاندان
امیرالمؤمنین (ع) حضرت مہدى (ع) کے خاندان کا تعارف کراتے ہوئے مختلف تعبیرات سے استفادہ کرتے ہیں اور ہر تعارف حقائق کے کسی ایک پہلو پر دلالت کرتا ہے. یہ تعبیرات جب دیگر ائمۂ طاہرین (علیہم السلام) سے منقولہ دیگر تعبیرات و توصیفات کے ساتھ ملادیا جائے تو انسان ان کا مطالعہ کرکے امام مہدی (ع) کی ذات با برکات سے پوری طرح سے واقف ہوسکتا ہے. مثال کے طور پر آپ (ع) ایک مقام پر فرماتے ہیں:
مہدی قریش میں سے ہیں.
ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:
مہدی بنوہاشم میں سے ہیں.
تیسرے مقام پر فرماتے ہیں:
مہدی عترت نبی (ص) لی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں سے ہیں...
ان میں سے ہر تعبیر امام زمانہ (ع) کی شخصیت کے کسی ایک پہلو پر دلالت کرتی ہے. جبکہ الفاظ اور عبارات کا یہ اختلاف کسی تضاد و تنافی کا باعث نہیں بنتا اور یہ سب تعبیرات ایک ہی نورانی حقیقت کے اوصاف کو روشن کرتی ہیں.
* عن الحسین بن على علیه السلام قال: جاء رجل الى امیرالمؤمنین علیه السلام فقال له: یا امیرالمؤمنین نبئّنا بمهدیكم هذا؟ فقال: اذا درج الدارجون و قلّ المؤمنون و ذهب المجلبون فهناك. فقال: یا امیرالمؤمنین علیك السلام ممّن الرجل؟ فقال علیه السلام: من بنىهاشم من ذروة طود العرب... (9)
امام حسین بن على (ع) سے منقول ہے کہ: ایک شخص امیرالمؤمنین (ع) کی خدمت میں حاضر ہؤا اور عرض کیا: یا امیرالمؤمنین! ہمیں مہدی آل محمد (ع) کے بارے میں بتائیں. امیرالمؤمنین (ع) نے فرمایا: جب جانے والے چلے جائیں اور اہل ایمان کی تعداد کم ہوجائے اور بلوائی اور جنگ پسند عناصر نیست و نابود ہوجائیں ایسے ہی حالات میں وہ ظہور کریں گے.
پوچھنے والے شخص نے عرض کیا: یا امیرالمؤمنین! درود و سلام ہو آپ پر! ہمیں یہ بھی بتائیں کہ حضرت مہدى (ع) کس خاندان سے ہیں؟
حضرت امیر (ع) نے فرمایا: وہ بنو ہاشم میں سے ہیں جو عرب كا بہترین خاندان اور شرف و جوانمردی كی چوٹی سمجھا جاتا ہے.
* ...عن ابن زریر الغافقى، سمع علیاًعلیه السلام یقول هو من عترة النبىصلى الله علیه و آله (10)
منقول ہے کہ ابن زریر غافقى نے على بن ابیطالب (ع) کو فرماتے ہوئے سنا: مہدى (ع) نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عترت میں سے ہیں.
* قال على بن ابىطالب علیه السلام: هو فتىً من قریش... (11)
على بن ابیطالب (ع) نے فرمایا: وہ (حضرت مہدى (ع) ) قبیلہ قریش سے ہیں.
حضرت مہدی علیہ السلام كا نام مبارک
امیر المؤمنین (ع) کے کلام میں حضرت امام زمانہ (ع) کا نام مبارک مختلف روشوں سے سامنے آتا ہے:
ایک مقام پر آپ (ع) کے نام پر تصریح حرام قرار دی گئی ہے؛
دوسرے مقام پر آپ (ع) کا نام اشارتاً لیا گیا ہے اور آخر کار
ایک مقام پر صراحت کے ساتھ آپ (ع) کا مخصوص نام سامنے لایا گیا ہے.
* ...عن جابر بن یزید الجعفى قال: سمعت ابا جعفرعلیه السلام یقول: سأل عمر امیرالمؤمنین علیه السلام عن المهدىّ فقال: یا ابن ابى طالب اخبرنى عن المهدىّ ما اسمُهُ؟ قال علیه السلام: امّا اسمُهُ فلا، انّ حبیبى و خلیلى عَهِدَ اِلىَّ ان لا اُحدِّث باسمِهِ حتّى یبعثه اللَّه عزّوجلّ و هو ممّا استودع اللَّه عزّوجلّ رسوله فى علمه. (12)
جابربن یزید جعفى کہتے ہیں: میں نے امام محمد باقر (ع) کو فرماتے ہوئے سنا کہ: ایک روز عمر بن خطاب نے امیرالمؤمنین (ع) سے کہا: اے فرزند ابوطالب! مہدی کا نام کیا ہے؟ مجھے ان کا نام بتائیں.
على (ع) نے فرمایا: میں ان کا نام زبان پر نہیں لاتا کیونکہ میرے حبیب و خلیل (حضرت محمد (ص)) نے مجھ سے عہد کیا ہے کہ میں ان کا نام کسی کے سامنے بیان نہ کروں حتی کہ خداوند متعال انہیں مبعوث فرمائے اور یہ ان امور میں سے ہے جو خداوند عز و جل نے اپنے نبی (ص) کے پاس امانت و ودیعت کے طور پر رکھے ہیں.
* ...عن على بن ابیطالب علیه السلام قال: المهدىُّ مولِدُهُ بالمدینة من اهل بیت النبىُّ اسمُهُ اسم نبىٍّ... (13)
على بن ابیطالب (ع) نے فرمایا: مہدى (ع) کی ولادت مدینہ میں ہوگی؛ وہ اہل بیت (ع) میں سے ہیں اور وہ ایک نبی کے ہم نام ہیں.
امیرالمؤمنین (ع) سے منسوب ایک شعر میں اسی بارے میں فرمایا گیا ہے:
فثم یقوم القائم الحق منكمو
بالحق یاتیكم و بالحق ّ یعمل
سمىُّ نبى ّ اللّه نفسى فدائه
فلا تخذلوه یا بنىّ و عجّلوا (14)
اس كے بعد تم ہی میں سے قائم بالحق قیام کریں گے
وہ حق ساتھ لائیں گے اور حق پر عمل پیرا ہونگے
میری جان ان پر فدا ہو كہ وہ نبی اللہ (ص) كے ہمنام ہیں
اے میرے فرزندو! انہیں بےیار و یاور نہ چھوڑو اور ان كی نصرت كے لئے عجلت سے كام لو
* عن على علیه السلام قال: اسم المهدىُّ محمد (15)
حضرت على (ع) نے فرمایا: حضرت مہدى (ع) کا نام «محمد» ہے.
مہدی علیہ السلام كا چہرہ مبارک
امیرالمؤمنین (ع) کی روایات کے ایک حصے میں حضرت امام مہدی (ع) کی جسمانی خصوصیات اور بدنی امتیازات کی طرف اشارے ہوئے ہیں. ایک روایت میں یہ خصوصیات کلی طور پر بیان ہوئی ہیں. جہاں آپ فرماتے ہیں کہ حضرت مہدی (ع) خلقت کے لحاظ سے نبی اکرم (ص) سے شباہت رکھتے ہیں مگر دیگر روایات میں امام زمانہ کے چہرے اور اعضاء جسمانی کی خصوصیات بیان کرتے ہیں.
حضرت امیر (ع) حضرت مہدی (ع) کی جسمانی خصوصیات کے بارے میں فرماتے ہیں:
* ...فقال علیه السلام: رجلٌ اجلى الجبین، اقنى الأنف، ضخم البطن، اذیل الفخذین، ابلج الثنایا، بفخذه الیمنى شامة. (16)
امام مہدی کی جبین بلند اور درخشان؛
ناک نقشے کی تراش خوبصورت؛
پیٹ نسبتاً بڑا اور ران چوڑے ہیں؛
دانت سفید اور چمکیلے ہیں اور
دائیں ران پر ایک نشان ہے.
مہدى علیہ السلام کے اوصاف
حضرت امیر (ع) کی بعض روایات میں امام زمانہ (ع) کی روحانی اور اخلاقی خصوصیات بیان ہوئی ہیں؛ مثال کے طور اس روایت کی طرف توجہ فرمائیں:
* ...ثم رجع الى صفة المهدى علیه السلام فقال: اوسعكم كهفا و اكثركم علما و اوصلكم رحما، اللهم فاجعل بیعته خروجا من الغمّة و اجمع به شمل الامة... (17)
حضرت امیر (ع) نے اپنا ایک خطبہ کو جاری رکھتے ہوئے حضرت مہدی (ع) کے اوصاف پر روشنی ڈالتے ہوئے اور فرماتے ہیں: آپ کا آستانہ ـ بےپناہ لوگوں کو پناہ دینے کے سلسلے میں ـ تم سب کے آستانوں سے وسیع تر ہے؛ آپ کا عمل و دانش تم سب سے زیادہ ہے؛ اور تم سب سے زیادہ صلۂ ارحام کا لحاظ رکھنے والے (اور اقارب کا حق قربت ادا کرنے والے) ہیں؛ پروردگارا! ان کی بیعت کو غم و اندوہ کے پردوں سے نکلنے کا سبب قرار دے اور امت اسلامی کے اختلاف و تفرقے کو آپ کے ہاتھوں یگانگت و یکجہتی میں بدل دے...
* ...عن اصبغ بن نباته قال: سمعت امیرالمؤمنین علیه السلام یقول: صاحب هذا الامر الشریدُ الطریدُ الفرید الوحید. (18)
اصبغ بن نباتہ کہتے ہیں: میں نے امیرالمؤمنین (ع) کو فرماتے ہوئے سنا: صاحب الامر (مہدى (ع)) وہ ہیں جو دور افتادہ سرزمینوں میں سکونت اختیار کرتے ہیں اور لوگوں سے دوری اختیار کرکے تنہائی میں زندگی بسر کرتے ہیں.
امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت
حضرت مہدی (ع) کی زندگی کے اہم واقعات میں سے ایک نہایت اہم واقعہ غیبت کا وقوع ہے. یہ واقعہ دو مرحلوں میں رونما ہؤا ہے.
غیبت صغرى جو 260 ہجری میں امام حسن عسکری (ع) کی شہادت کے بعد واقع ہوئی اور 329 ہجری تک جاری رہی.
غیبت کبرى، جو 329 ہجری میں غیبت صغری کے خاتمے پر شروع ہوئی اور آج تک جاری ہے.
امیرالمؤمنین (ع) کے ارشادات میں اس موضوع اور دوران غیبت پیش آنے والے واقعات کی طرف بھی اشارے ہوئے ہیں. ایک روایت کے ضمن میں ـ جسے حضرت عبد العظیم حسنى (ع) نے سلسلہ سند کے ساتھ علی بن ابیطالب (ع) سے نقل کیا ہے ـ یوں وارد ہؤا ہے:
* ...عن امیرالمؤمنین علیه السلام قال: للقائم منّا غیبة امدها طویل كانّى بالشیعة یجولون جولان النّعم فى غیبته یطلبون المرعى فلا یجدونه، ألا فمن ثبت منهم على دینه و لم یقْسُ قلْبُهُ لطول امد غیبة امامه فهو معى فى درجتى یوم القیامة. (19)
امیرالمؤمنین (ع) نے فرمایا: ہمارے قائم کے لئے ایک غیبت ہے جس کی مدت بہت طویل ہوگی. میں دیکھ رہا ہوں کہ ہمارے شیعیان اس زمانے میں بِن مالک ریوڑ کی مانند دشت و صحرا میں منتشر ہوکر چراگاہ و مرتع کی تلاش میں ہیں، مگر ان کی یہ تلاش بےسود ہے. [یعنی امام کو ڈھونڈنے نکلتے ہیں مگر آپ (ع) تک نہیں پہنچ پاتے].
آگاہ رہو! اس دور میں ان (شیعیان) میں سے جو بھی اپنے دین اور عقیدے پر استوار رہے اور اپنے امام کی طویل غیبت کی وجہ سے سنگدلی اور قساوت قلبی کا شکار نہ ہو، وہ روز قیامت میرے پاس اسی مقام پر ہوگا جہاں میں ہونگا.
* ... عن الاصبغ بن نباته عن اميرالمؤمنين عليه السلام انّه ذكر القائم عليه السلام فقال: أما ليغيبَنَّ حتّى يقولَ الجاهلُ: ما للّه في آلِ محمّدٍ حاجةٌ. (20)
اصبغ بن نباتہ سے مروی ہے کہ ایک دن امیرالمؤمنین (ع) نے حضرت قائم (ع) کو یاد کیا اور فرمایا: آگاہ رہو کہ ان کی غیبت طویل ہوگی یہاں تک کہ [جو لوگ خدا کی مصلحتوں سے] آگہی نہیں رکھتے کہہ دیں گے: خدا کو آل محمد (ص) کی حاجت نہیں ہے اور آل محمد (ص) کے لئے خدا کے پاس کوئی منصوبہ نہیں ہے.
یعنی یہ کہ نادان لوگ امام کی طویل غیبت کی وجہ سے آپ (ع) کے ظہور سے مأیوس اور ناامید ہوجائیں گے.
امام زمانہ علیہ السلام كی غیبت كا سبب
امام عصر(ع) کی غیبت کے لئے اہل بیت علیہم السلام کی روایات کے مجموعے میں متعدد حکمتیں اور اسباب بیان ہوئے ہیں. امیرالمؤمنین (ع) کی روایات میں کم از کم تین اسباب بیان ہوئے ہیں؛ یعنى:
اہل ہدایت کا اہل گمراہی و ضلالت سے پہچانا جانا
امام کی گردن پر سلاطین اور حکمرانوں کی بیعت کا نہ ہونا
لوگوں کی کوتاہیاں، ظلم و ستم اور نا شکری
حضرت امیر علیہ السلام کے کلام میں فلسفہ غیبت کے یہ تین اسباب بیان ہوئے ہیں.
* اِنّ القائم منّا اذا قام لم یكن لاحد فى عنقه بیعة فلذلك تخفى ولادته و یغیب شخصه. (21)
بتحقیق ہمارے قائم جب قیام کریں گے کسی کی بیعت ان کی گردن پر نہ ہوگی؛ اسی وجہ سے ان کی ولادت مخفی ہوگی اور خود بھی لوگوں کی نظروں سے غائب ہوجائیں گے.
* ...فقال على علیه السلام ...اما واللّه لَأقتلنَّ انا و ابناى هذان و لیبعثنّ اللّه رجلا من ولدى فى آخر الزمان یطالب بدمائنا و لیغیبنّ عنهم تمییزا لاهل الضلالة حتى یقول الجاهل ما للّه فى آل محمد من حاجة. (22)
امیرالمؤمنین (ع) نے امام حسن (ع) اور امام حسین (ع) کی موجودگی میں فرمایا: لوگو! آگاہ رہو کہ میں اور میرے یہ دو بیٹے قتل کئے جائیں گے. اور آخر الزمان میں خداوند متعال میری اولاد میں سے ایک مرد کو مبعوث فرمائے گا تا کہ ستمگروں سے ہمارے خون کا مطالبہ کریں؛ وہ لوگوں کی آنکھوں سے اوجھل ہوں گے تا کہ گمراہی اور ضلالت میں مبتلا لوگ دوسروں سے پہچانے جائیں [اور ان کی تمیز و تشخیص ممکن ہوجائے] اور یہ غیبت اتنی طویل ہوجائےگی کہ نادان لوگ کہہ دیں گے کہ خداوند متعال کا آل محمد (ص) کے لئے کوئی منصوبہ ہے نہیں ہے.
* ...ان اميرالمؤمنين عليه السلام قال عَلى منبر الكوفة...: واعلموا ان الارض لا تخلو من حجة للّه و لكن اللّه سيعمى خلقه منها بظلمهم و جورهم و اسرافهم على انفسهم. (23)
... مفضلبن عمر نے امام صادق (ع) سے روایت کی ہے کہ آپ (ع) نے فرمایا: ایک روز امیرالمؤمنین (ع) نے مسجد کوفہ کے منبر پر رونق افروز ہوکر فرمایا: ... لوگو! جان لو کہ زمین کبھی بھی حجت خدا (امام معصوم) سے خالى نہ رہےگی؛ لیکن خداوند متعال بہت جلد لوگوں کو ظلم و ستم اور اپنے اوپر اسراف کی وجہ سے اپنی حجت کے دیدار سے محروم فرمائے گا. [یعنى لوگ اپنے ہے اعمال کی وجہ سے مستقبل میں امام معصوم (ع) کی ملاقات سے محروم ہوجائیں گے].
آپ سب انکی نظر میں ہیں۔ کوشش کریں کہ اس نگاہ سے کبھی بیگانے نہ ہوں۔ ہمیشہ اول وقت نماز ادا کریں۔ خدا کے ساتھ اپنے رابطے کی حفاظت کریں۔ روزانہ قرآن کی تلاوت کریں اور اسے انکی طرف ھدیہ کریں۔ ان دو اعمال کے ذریعے آپ اس عالم ھستی کے مبداء سے بھی متصل رہیں گے اور اسکی حجت کے ساتھ بھی۔ دنیا اور آخرت کی سعادت آپ کے نصیب میں لکھ دی جائے گی۔ اللھم کن لی ولیک الحجۃ ابن الحسن صلواتک علیہ و علی آبائہ فی ھذہ الساعۃ و فی کل ساعۃ ولیا و حافظا و قائدا و ناصرا و دلیلا و عینا حتی تسکنہ ارضک طوعا و تمتعہ فیھا طویلا۔ اللھم اصلح کل فاسد من امور المسلمین اللھم صل و سلم علی ولیک و حجتک صاحب العصر و الزمان
اس مضمون کو تیار کرنے میں انٹر نیٹ سے مدد لی گئی
|