|
کائنات کی تخلیق کا تجربہ،سائنس دانوں نےنیا مادہ دریافت کرلیا
04.12.2014, 09:25am , جعمرات (GMT+1)
جینوا میں کائنات کی تخلیق کا تجربہ کرنے والے سائنس دانوں کی ٹیم نے نیا مادہ دریافت کرلیا۔ جو کہ ہائی ڈروجن ایٹم کے مرکز میں پائے جانے والے مادے پروٹون سے ایک سو پچیس گناہ زیادہ طاقت ور ہے۔
نیوکلیس کی تحقیق کرنے والی یورپین تنظیم سرن نے بین الاقوامی پریس کانفرنس میں اس نئی دریافت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ دریافت ہونے والے اس نئے مادے کو ہیگس بوسن کا نام دیا گیا ہے۔
سائنسی تحقیق پر مامور تنظیم کے پاکستانی نمائندے شاہدریاض خان نے بتایاکہ سائنسدانوں کی ایک ٹیم کائنات کی تخلیق کا راز جاننے میں مصروف ہے جس میں پاکستانی سائنسدان بھی شامل ہیں جبکہ یہ تجربہ سوئٹزرلینڈ اور فرانس کی سرحد پر بنائی گئی ایک سو ستائیس کلومیٹر طویل سرنگ میں کیا گیا ہے ۔
انہوں نے بتایا کہ اس تجربے کے دوران سائنسدان ایٹم کے چھوٹے زرات کو روشنی کی رفتار سے ٹکراتے ہیں اور بعد ازاں اس ٹکراؤ میں بننے والے بلاکس کا مشاہدہ کرتے ہیں
اس مادے کی دریافت میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے سائنس دانوں اور انجینیزز نے اہم کردار ادا کیا ہے جبکہ وزیر اعظم کے مشیر برائے پلانگ کمیشن اشفاق احمد نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ اس دریافت میں پاکستان کا مالی تعاون تو نہیں ہے لیکن پاکستانی سائنس دانوں کی صلاحتیں ضرور شامل ہیں
|