احادیث کے جوہری علوم
(حسینی دائرۃ المعارف کی روشنی میں احادیث کے جوھری علوم پر ایک نظر)
تجزیہ و تبصرہ: حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا میرزا محمد جواد

بشر کی ہدایت ایک ایسا اھم موضوع ہے جس کے لئے خداوند عالم نے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کو بھیجا، اور ان میں سے بہتیروں پر آسمانی کتابوں کو نازل فرمایا، تمام انبیاء انسانوں کے درمیان معصوم بشر کی حیثیت سے تشریف لائے، تاکہ خود خطا و نسیان و سھو سے محفوظ رہ کر دوسروں کا تزکیہ کر سکیں۔
ذات احدیت نے انبیاء کو آسمانی کتاب کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ کتاب کے مطابق عمل کرکے یہ بتلادیں کہ کونسا عمل کس طرح بجا لایا جائے، اور جب بشر ہونے کی حیثیت سے وہ تمام واجبات کو انجام دے سکتے ہیں تو خدا کا کوئی بھی حکم تکلیف مالا یطاق نہیں ہوگا۔
امت مسلمہ کی ہدایت کا پہلا ذریعہ قرآن اور دوسرا اہلبیت اطہار ہیں، لہذا ہر مسلمان کو قرآن پڑھ کر یہ دیکھنا ہے کہ اہلبیت نے قرآنی احکامات پر کس طرح عمل کیا ہے، ایک دور ایسا بھی تھا کہ جب قرآن مجید کے ساتھ ساتھ ساتھ لوگوں کو معصوم تک رسائی بھی حاصل تھی، اس دور میں جب کسی بھی قسم کا اختلاف ہوتا تو مسلمان، مفسر قرآن کی طرف رجوع کیا کرتے تھے، قرآن مجید کے سب سے پہلے مفسر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تھے جن پر قرآن مجید نازل ہوا، اس دور میں اگر اصحاب کے درمیان کسی بھی قسم کا اختلاف ہوتا تو وہ حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے اختلاف کو برطرف کیا کرتے تھے، چونکہ قرآن کی روشنی میں آنحضرت عصمت کے درجہ پر فائز تھے لہذا ان کے کسی بھی قول و فعل و سکوت کی مخالفت کرنا ایمان میں اخلال کے مساوی تھا۔
جب آنحضرت اس دنیا سے تشریف لے گئے تو آپ نے اپنے بعد دو گرانقدر چیزیں چھوڑیں اور تاکید فرمائی کہ جب تک تم ان کے ساتھ رہوگے تو تمھارے درمیان نہ کسی قسم کا اختلاف ہوگا اور نہ ہی تم کسی اختلاف کی بنا پر گمراہ ہو گے، اور وہ دو چیزیں قرآن و اہلبیت ہیں، رسول اسلام نے فرمایا: انی تارک فیکم الثقلین ما ان تمسکتم بھما لن تضلوا کتاب اللہ و عترتی اھل بیتی فانھما لن یفترقا حتی یردا علی الحوض (تفسیر برہان: ۱/۹)
یہ وہ حدیث ہے جو تمام مسلمانوں کے درمیان قابل قبول ہے اور ہر ایک نے اپنی معتبر کتاب میں اس حدیث کو نقل کیا ہے اس حدیث شریف سے بہت سارے مفید نکات واضح ہوتے ہیں:
۱۔ قرآن و اہلبیت ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔
۲۔ قرآن و اہلبیت میں کسی قسم کا اختلاف نہیں ہے۔
۳۔ اہلبیت کو قرآن سے اور قرآن کو اہلبیت سے سمجھانا چاہئے چونکہ یہ دونوں ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔
۴۔ جو خصوصیات قرآن مجید کی ہیں وہی خصوصیات اہلبیت میں بھی موجود ہیں۔
۵۔ جو فضائل قرآن مجید کے ہیں وہی فضائل اہلبیت کے ہیں، بطور مثال اگر قرآن رجس، و خطا و باطل سے دور ہے تو اہلبیت بھی رجس و خطار و باطل سے دور ہیں۔
۶۔ جس کے ساتھ انسان زیادہ وقت گزارتا ہے وہ اس کی سب سے زیادہ معرفت بھی رکھتا ہے چونکہ قیامت تک اہلبیت قرآن کے ساتھ ہیں لہذا قرآن کی معرفت سب سے زیادہ انھیں کو ہوگی۔
گرچہ تاریخ اسلام میں تمام مسلمانوں نے موجودہ قرآن پر اتفاق کیا ہے لیکن جس چیز میں اختلاف ہوا وہ مفسرین قرآن ہیں جنکا تذکرہ تو اہلبیت کے عنوان سے حدیث ثقلین میں موجود ہے لیکن مصداق کے تعین میں مسلمان ایک دوسرے سے اختلاف کر بیٹھے جبکہ رسول اسلام کی مذکورہ حدیث کی تشریح وہ حدیث کرتی ہے کہ جس میں آنحضرت نے فرمایا علی مع القرآن و القرآن مع علی، یعنی علی قرآن کے ساتھ اور قرآن علی کے ساتھ ہے، ان دونوں جملوں(علی مع القرآن والقرآن مع علی، ولن یفترقا) کو اگر ایک ساتھ رکھا جائے تو واضح ہو جاتا ہے حدیث ثقلین میں اہلبیت سے مراد علی و آل علی ہیں۔
یہ تاریخ اسلام کی ایک حقیقت ہے کہ ہر دور میں جس طرح رسول اسلام امت مسلمہ کے مسائل کو حل فرمایا کرتے تھے بالکل اسی طرح ائمۂ اہلبیت نے بھی امت کی مشکل کشائی فرمائی، حاکمان وقت کو جب کبھی کوئی مشکل مسئلہ درپیش ہوا یا قرآن مجید کی کوئی آیت سمجھ میں نہ آئی تو وہ علی و آل علی کی طرف رجوع کرکے اپنے مسائل کا جواب حاصل کیا کرتے تھے، جس سے ایک صاحب بصیرت کے لئے واضح ہو جاتا ہے کہ اولین مفسر قرآن یعنی رسول اسلام کے قائم مقام خلفاء، یہی ائمۂ اہلبیت ہیں، جو رسول اسلام کی طرح امت مسلمہ کی مشکلکشائی فرماتے ہیں۔
لہذا اس حدیث ثقلین کی روشنی میں اہل تشیع نے ہر دور میں قرآن مجید کو ائمۂ اہلبیت سے سیکھا، جو آنحضرت کے قائم مقام اور انکی طرح عصمت کے حامل ہیں، یہی وجہ ہے کہ آج تک اہل تشیع امام وقت کے ذریعہ وحی الٰہی سے منسلک ہیں لیکن جہاں مسلمانوں نے اہلبیت کا دامن چھوڑا وہیں پر وہ اختلاف کا شکار ہوئے اور ان میں مختلف فرقے نمایاں ہوگئے جو ایک دوسرے کی تکفیر کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے، اگر ان اختلافات کی ریشہ یابی کی جائے تو واضح ہو جائے گا کہ اس اختلاف کی اصل وجہ احادیث رسول میں تحریف یا جعلی احادیث کا گڑھنا ہے جو کہ بعض مفاد پرست حکمرانوں کے کہنے پر وجود میں آئیں، اسی لئے اہل تشیع نے احادیث رسول و ائمہ علیہم السلام کی جامع تحقیق کے لئے مخلتف علوم کا سہارا لیا جن کو علوم حدیث کے نام سے جانا جاتا ہے، یہ وہ علوم ہیں جن کی کسوٹی پر ہر حدیث اپنی سند و متن کے ساتھ پرکھی جاتی ہے۔
 |
| علامہ محمد صادق الکرباسی |
اسی مقصد کے پیش نظر دائرۃ المعارف نویسی میں ایک معتبر شخصیت علامہ محمد صادق الکرباسی نے کتاب "الحسین فی السنة" کی پہلی جلد (جو ۵۵۹ صفحات پر مشتمل ہے اور سنہ ۲۰۰۸م میں چھپ کر منظر عام پر آ چکی ہے) میں علوم احادیث کو بڑی تفصیل اور خوبصورتی کے ساتھ بیان فرمایا ہے، کتاب "الحسین فی السنة" بارہ جلدوں پر مشتمل ہے جسکی پہلی جلد میں علوم حدیث پر گفتگو کی گئی ہے اور بقیہ جلدوں میں ان تمام احادیت کو تحقیق کے ساتھ پیش کیا جائے گا جو معصومین(ع) سے امام حسین علیہ السلام کے بارے میں وارد ہوئی ہیں ہم اس مقام پر کتاب "الحسین فی السنة" کی پہلی جلد میں موجودہ مطالب پر اجمالی روشنی ڈالتے ہیں۔
امام حسین(ع) سنت کی روشنی میں:
سنت سے مراد قول، فعل، اور تقریر چہاردہ معصومیں علیہم السلام ہے، اور سنت کا اطلاق چار چیزوں پر ہوتا ہے: روایت، حدیث، خبر، أثر، اس جلد میں محدث زمان آیت اللہ محمد صادق الکرباسی نے عناصر حدیث (یعنی سند حدیث اور متن حدیث) پر مقدماتی و علوم جوہری کے ذریعہ بحث کی ہے، جن کے ذریعہ سند و متن حدیث کی صحت اور اس کا معصوم سے صادر ہونا واضح ہو جاتا ہے۔
علوم حدیث:
علوم حدیث کی دو قسمیں ہیں، علوم مقدماتی(علوم عام)، علوم جوہری (علوم خاص)۔
علوم مقدماتی وہ علوم ہیں کہ جن کا حاصل کرنا متن اور معانی حدیث کو درک کرنے کے لئے لازم و ضروری ہے، اور انہی علوم کے ذریعہ سند حدیث کا معتبر یا غیر معتبر ہونا ثابت ہوتا ہے، اور وہ علوم یہ ہیں:
علم صرف، علم نحو، علم بلاغت، علم منطق، علم کلام، علم فقہ،علم اصول، علم تاریخ، علم تفسیر، علوم قرآن۔
علوم جوہری وہ علوم ہیں کہ جن کے ذریعہ براہ راست سند اور متن حدیث پر تحقیق کی جاتی ہے اور وہ چھ علوم ہیں:
علم درایت، علم رجال، علم تاصیل، علم تصنیف، علم تاریخ حدیث، علم روایت حدث۔
کتاب "الحسین فی السنة" کی اس پہلی جلد میں مصنف نے علوم جوہری حدیث کی مذکورہ چھ اقسام پر تفصیل کے ساتھ بحث و گفتگو فرمائی ہے۔
علم درایت
لغت میں درایت فہم کو کہتے ہیں اور اصطلاع میں علم درایت اس علم کو کہا جا تا ہے کہ جس کے ذریعہ حدیث کی نص کو اور متن و سند کے اعتبار سے اس کے مقبول یا مردود ہونے کو سمجھا جاتا ہے۔
اس تعریف کی بیشتر وضاحت کے لئے آیت اللہ شیخ کرباسی نے ان تمام فروعات پر بحث کی ہے کہ جن کے ذریعہ علم درایت کے تمام جوانب روشن ہوتے ہیں، مثلا نص کا قوی و سالم ہونا، اقسام حدیث و اصناف سند، تعادل و تراجیح، حدیث شریف میں استعمال شدہ ادبیات، نص شریف کا حجت ہونا، حدیث کو قرآن و عقل و اجماع کے معیارات پر پرکھنا۔
ہم اس مقام پر بطور نمونہ چند اہم اور بنیادی مطالب کو قارئین کے خدمت پیش کرتے ہیں:
نص کا قوی و سالم ہونا: کسی بھی حدیث کی صحت و حجیت کے لئے چند امور شرط ہیں:
۱۔ حدیث، قرآن مجید اور عقلم سلیم سے معارض و مخالف نہ ہو۔
۲۔ حدیث، معصوم کی طرف منسوب ہو۔
۳۔ عربیت کے اعتبار سے متن حدیث بر شک و شبہہ وارد نہ ہو یعنی اس کی عربی فصیح و بلیغ ہو۔
۴۔ حدیث ذوق اور روش عصمت سے خالی نہ ہو۔
۵۔ حدیث میں تقیہ کا احتمال نہ ہو۔
۶۔ راوی، حدیث کے مراد اور معنی کو نقل کرنے کے بجائے خود الفاظ حدیث کو نقل کرے۔
اصناف نقل: نقل کے اعتبار سے حدیث کی پانچ اصناف ہیں أثر، حدیث، خبر، روایت، سنت۔
اثر: کل کلام تَسَلْسَلَ واتصل خلفا عن سلف، ھر وہ کلام کہ جو خلف سے سلف پر منتہی ہو اسے اثر کہتے ہیں۔
حدیث: ھو الکلام المنقول عن المعصوم، وہ کلام جو معصوم سے نقل ہوا ہو، اس تعریف کے ذریعہ افعال وتقریر معصوم خارج ہو جاتے ہیں۔
خبر: ھو حدیث غیر المعصوم، غیر معصوم کی حدیث کو خبر کہتے ہیں، اور مجازا احادیث معصوم کو بھی خبر کہا جاتا ہے۔
روایت: ہر وہ حدیث کہ جو ناقلین سے نقل ہوتے ہوئے معصوم پر منتہی ہو اسے روایت کہتے ہیں۔
سنت: جو چیز جو قول، فعل اور تقریر سے معصوم سے صادر ہو اسے سنت کہتے ہیں۔
اصناف روایت: سند کے اعتبار سے روایت کی دو صنف ہیں، روایت متواترہ اور روایت آحاد.
روایت متواترہ: وہ روایت کہ جس کے راوی ہر طبقۂ روات میں بہت زیادہ ہوں، جس سے یہ اطمینان حاصل ہوتا ہے کہ کسی نے بھی اس روایت کو نہ جعل کیا ہے اور نہ ہی اس میں کسی قسم کا تصرف کیا گیا ہے، اور روایت متواترہ میں اگر تمام راویوں نے ایک ہی الفاظ نقل کئے ہوں تو اسے تواتر لفظی اور اگر مضمون روایت متواتر ہو (گرچہ الفاظ مختلف ہوں) تو اسے تواتر معنوی کہا جاتا ہے۔
روایت آحاد: وہ روایت کہ جو متواترہ نہ ہو اور جس میں شرائط تواتر (یعنی ہر نسل میں راویوں کی کثرت کا ہونا جس سے سند کی صحت پر اطمینان حاصل ہو جائے) نہ پائی جائیں۔
روایت آحاد کی دو قسمیں ہیں:
روایت مرسل: وہ روایت کہ جس کے راویوں کا سلسلہ کلی یا جزئی طور پر کامل نہ ہو۔
روایت مسند: وہ روایت کہ جس کے راویوں کا سلسلہ ہر طبقہ میں مکمل طور پر مذکور ہو۔
حدیث مسند کی کمیت کے اعتبار سے دو قسمیں ہیں، حدیث مستفیض اور حدیث مشہور۔
حدیث مستفیض: اس حدیث کو کہا جاتا ہے کہ جس کے ہر طبقہ میں تین یا تین سے زیادہ راوی موجود ہوں۔
حدیث مشہور: وہ حدیث کہ جس کے راویوں کے طبقات میں عام طور سے تین یا دو راوی پائے جاتے ہیں جن کے ذریعہ اس حدیث کو حدیث مشہور کہا جاتا ہے، گرچہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اس کے بعض طبقات میں ایک ہی راوی ہوتا ہے۔
راوی کے موثق اور غیر موثق ہونے کے اعتبار سے حدیث مسند کی پانچ قسمیں ہیں، حدیث صحیح، حدیث حسن، حدیث موثق، حدیث قوی، حدیث ضعیف۔
حدیث صحیح: اس حدیث کو کہا جاتا ہے کہ جس کے تمام راویوں میں حدیث نقل کرنے کی شرائط اعلی معیار پر پائی جاتی ہوں، نقل حدیث کی شرائط میں سے راوی کا شیعہ اثنا عشری اور عادل ہونا بے حد ضروری ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اس قابل بھی ہو کہ روایات کو صحیح طرح محفوظ کر سکے۔
حدیث حسن: وہ حدیث کہ جس کے اکثر راویوں میں شرائط نقل حدیث پائی جاتی ہیں لیکن ان میں سے بعض کی عدالت کی صراحت نہ ہوئی ہو۔
حدیث موثق: وہ حدیث کہ جس کے تمام راویوں میں شرائط نقل حدیث پائی جاتی ہیں لیکن ان میں سے بعض راوی ایسے ہیں جو شیعہ اثنا عشری تو نہیں لیکن انکے موثق ہونے کو علماء شیعہ نے قبول کیا ہے۔
حدیث قوی: وہ حدیث کہ جس کے تمام راویوں میں شرائط نقل حدیث پائی جاتی ہیں، لیکن ان میں سے بعض ایسے ہیں کہ جن کی نہ مدح ہوئی ہے اور نہ ہی مذمت۔
حدیث ضعیف: وہ حدیث کے جس کے راوی مجہول، غیر معتبر، غیر موثق ہوں، اور جو حدیث مذکورہ اقسام میں سے نہ ہو اسے حدیث ضعیف کہتے ہیں۔
اگر ضعیف حدیث کے مضمون کو علماء نے قبول کیا ہو تو اسے مقبول، اور کر رد کردیا ہو تو اسے مردود کہتے ہیں۔
سند حدیث کے اعتبار سے حدیث مسند کی دو قسمیں ہیں، حدیث مصرح، حدیث مضمر۔
حدیث مصرح: وہ حدیث کہ جس میں راوی نے صراحت کے ساتھ معصوم کا نام بیان کیا ہو۔
حدیث مضمر: وہ حدیث کہ جس میں راوی نے صراحت کے ساتھ امام کا نام نہ لیا ہو بلکہ ضمیر کے ذریعہ معصوم کی طرف اشارہ کرے، مثلا کہے: سمعته یقول۔
علم رجال
علم رجال وہ علم ہے کہ جس میں راویوں کے ان حالات سے آگاہی حاصل ہوتی ہے کہ جن کی بنیاد پر ان کی نقل کردہ حدیث مقبول یا مردود قرار پاتی ہے، چاہے روایت کرنے والے مرد ہوں یا عورت، لہذا اس علم کو علم رجال مجازا کہا جاتا ہے جس سے مراد وہ مرد اور عورتیں ہیں کہ جن کی شخصیت کامل ہو، اس علم کے ذیل میں محقق شیخ الکرباسی نے مندرجہ ذیل عنوانات پر بحث فرمائی ہے:
راوی کا تعین، وثاقت کے اعتبار سے راوی کے حالات، راوی کے اعتقادات، راویوں کے درمیان راوی کی حیثیت، ان افراد کا تعین جن سے راوی نے روایت کو نقل کیا ہے، حدیث نقل کرنے کی اہلیت، جرح و تعدیل، مدح و قدح میں دقت، جرح و تعدیل کے اصول۔
حدیث کے نقل کرنے کی اہلیت: حدیث کا نقل کرنا ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ جس کے ذریعہ احکام، عقائد، اخلاق اور تاریخ کو نقل کیا جاتا ہے، اگر کسی مقام پر کمی یا زیادتی ہو جائے تو پوری تاریخ پر اس کا اثر باقی رہ جاتا ہے لہذا راوی کے لئے کچھ شرائط ہیں جن کا پورا ہونا ضروری ہے:
(الف) راوی عاقل ہو۔
(ب) راوی رشید ہو یعنی اس میں فکری پختگی اور بیداری پائی جائے۔
(ج) راوی، روایت کے نقل کرنے میں امین ہو۔
(د) راوی کے لئے روایت کا لکھنا یا اسے حفظ کرنا ممکن ہو۔
جرح و تعدیل: علم رجال میں جرح وتعدیل ایک اہم موضوع ہے جس کی بنیاد پر یا تو راوی کو عادل جان کر اس کی روایات کو قبول یا پھر اسے فاسق قرار دیکر اس کی روایت کو رد کر دیا جاتا ہے لہذا اگر از لحاظ صفات، راوی کی مدح کی جائے تو اسے تعدیل اور اگر مذمت کی جائے تو اسے تجریح کہتے ہیں، جرح وتعدیل غیبت نہیں بلکہ ایک مشروع عمل ہے جس کی مشروعیت آیۂ ان جاءکم فاسق بنبأ فتبینوا (حجرات: ۶) سے ثابت ہوتی ہے، خداوند عالم فرماتا ہے اگر کوئی فاسق تمھارے پاس خبر لے کر آئے تو تم اس خبر کی تحقیق کرلو لہذا اس آیۂ مبارکہ کی روشنی میں راوی کے کاذب یا صادق ہونے کی تحقیق کرنا جائز ہی نہیں بلکہ ایک وجوبی امر ہے۔
علم رجال میں مروجہ الفاظ جرح و تعدیل کو ہم یہاں اجمال کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔
الفاظ تعدیل: عدل، ثقہ، عین، ثبت، سدید، حجت، وجہ، جلیل، معتمد، مستقیم، صدوق، متقدم، سلیم، خیر، عظیم القدر، لاباس بہ، مسکون الیہ، من اصحابنا، من خواص الامام، حسن الطریقہ، نقی الحدیث، صحیح الحدیث۔
الفاظ جرح: کذاب، غال، لاخیر فیہ، ضعیف یا ضعیف الحدیث، فاسد المذہب، متھم فی دینہ، مضطرب یا مضطرب الامر، مختلط، لا یلتفت الیہ، غمز علیہ، لا یعبأ بہ، یصنع الحدیث یا وضاع الحدیث، لم یکن بالمرضی، یتساہل فی روایتہ عن غیر الثقہ، یعرف و ینکر، امرہ ملتبس، لا یعتمد علیہ، متروک فی نفسہ یا متروک الحدیث، مرتفع القول، حدیثہ لیس بالنقی، فی حدیثہ بعض الشیء، مجہول۔
علم تاصیل
علم تاصیل حدیث وہ علم ہے کہ جس کے ذریعہ صدور حدیث کے اسباب و عوامل کو کشف کیا جاتا ہے، اس باب میں درج ذیل امور پر روشنی ڈالی گئی ہے:
ایک حدیث کے مختلف طرق سے وارد ہونے کے اسباب،حدیث میں تحریف کے اسباب، بدعت اور اس کی اقسام، غلو و نصب، صدور حدیث کے اسباب، صدور حدیث کا وقت اور مکان، وہ افراد کہ جن کو احادیث لکھوائی گئیں، اس بات کا انکشاف کہ آیا حدیث مکمل طور پر نقل کی گئی ہے یا ناقص، یا پھر صرف معنی حدیث کو بیان کیا گیا ہے۔
ایک حدیث کے متعدد طرق:
احادیث معصومین علیہم السلام میں بہت ساری حدیثیں ایسی ہیں کہ جو مختلف راویوں سے مختلف مواقع میں وارد ہوئی ہیں جن کا کبھی صرف مضمون ایک ہوتا تو کبھی الفاظ بھی ایک جیسے ہوتے ہیں، اگر مضمون و الفاظ ایک ہوں اور حدیث مختلف طرق سے نقل ہوئی ہو تو اسکی مندرجہ ذہل وجوہات ہیں:
۱۔ معصوم نے اس روایت کو کسی عمومی مقام پر ارشاد فرمایا جس کی وجہ سے اس روایت کو مختلف اصحاب نے نقل کیا۔
۲۔ حدیث کا موضوع معصوم علیہ السلام کی خدمت میں اہم تھا لہذا امام نے اس حدیث کو مختلف مقامات پر بیان فرمایا۔
۳۔ بعض اوقات اعادہ کی نیت سے احادیث کو بارہا بیان کیا جاتا ہے جیسے حدیث کسا ء کو برکت اور دیگر فوائد کے پیش نظر دہرایا جاتا ہے۔
لیکن اگر ایک ہی مضمون، مختلف الفاظ میں مخلتف راویوں سے نقل ہو تو اس کی بھی تین وجوہات ہیں:
۱۔ ہو سکتا ہے کہ ضرورت و حالات کے پیش نظر راوی نے مضمون روایت کو مختصر طور پر یا صرف معنی حدیث کو بیان کیا ہو۔
۲۔ اگر روایت کے طولانی ہونے یا کسی اور وجہ سے راوی کے لئے اس کا تحریر یا حفظ کرنا ممکن نہ ہو تو اس مقام پر راویان حدیث مضمون اور معنی روایت کو نقل کرتے ہیں جس کی وجہ سے ایک ہی مضمون مختلف راویوں سے مختلف الفاظ میں بیان ہوتا ہے۔
۳۔ بعض اوقات سائل کی استعداد اور سوال کو مد نظر رکھتے ہوئے معصومین علیہم السلام ایک ہی روایت کو مخلتف الفاظ میں مختلف مقامات پر بیان فرماتے تھے جس کی وجہ سے ایک ہی مضمون مختلف الفاظ میں وارد ہوتا ہے۔
علم تصنیف
علم تصنیف کے ذریعہ کتب احادیث کے احوال کی معرفت حاصل ہوتی ہے، اس علم کے ذیل میں مندرجہ ذیل عنوانات کو پیش کیا گیا ہے:
کتاب کی نسبت مؤلف کی طرف، کتاب کی حجیت، تصنیف شدہ کتاب کی روایات کی سند پر بحث، حدیث کی کتاب کو اصول تصنیف پر پرکھنا، کتاب کے مختلف نسخوں یا پھر اس میں تحریف پر تحقیق بررسی۔
اس مقام پر سب سے پہلے مصنف نے اس بات کی طرف قارئین کی توجہ کو مبذول فرمایا کہ کتب احادیث کے لئے استعمال کئے جانے والے الفاظ چار ہیں، بعض کتب حدیث کو کتاب بعض کو اصل، اور بعض دیگر کو نوادر یا مصنف (بفتح نون) کہا جاتا ہے، جن کے معنی ایک دوسرے سے مختلف ہیں، اور علوم حدیث میں ان کے فرق کو جاننا بھی بے حد ضروری ہے، چونکہ علم رجال میں جب کسی صحابی کی شخصیت پر تحقیق کی جاتی ہے تو یہ کہا جاتا ہے کہ مثلا زید کے پاس نوادر تھے، اور حسن کے پاس اصل تھی، لہذا ہم اس مقام پر اجمال کے ساتھ ان کی تعریف پیش کرتے ہیں:
کتاب: اس کا اطلاق تمام قسم کی کتب احادیث پر ہوتا ہے لہذا اصل، نوادر اور مصنف کو بھی کتاب کہا جاتا ہے۔
اصل: اس حدیث کی کتاب کو اصل کہا جاتا ہے کہ جس میں بغیر کسی واسطہ کے روایت کو نقل کیا گیا ہو، یعنی راوی خود معصوم سے حدیث کو سن کر اسے کتابی شکل دے دے۔
نوادر: اس حدیث کی کتاب کو کہا جاتا ہے کہ جس میں مخلتف موضوعات پر احادیث جمع ہوئی ہوں، اور جن میں احادیث کی از حیث موضوع تقسیم بندی نہ کی گئی ہو۔
مصنف: اس حدیث کی کتاب کو کہتے ہیں جس میں بر خلاف نوادر تمام احادیث، موضوع بندی کے ساتھ پیش کئے جائیں۔
کتاب کی نسبت مؤلف کی طرف:
یہ ایک بدیہی امر ہے کہ تمام کتب احادیث کو ان کے مصنف یا مؤلف کی وجہ سے معتبر قرار نہیں دیا جاسکتا، بلکہ ان میں سے ہر ایک حدیث پر چھان بین اور تحقیق کرنا ضروری ہے تاکہ ان کی حجیت کا ہمیں یقین حاصل ہوجائے، لہذا مصنف محترم نے اس مقام پر ان تمام کتب شیعہ کا تذکرہ کیا ہے جن کی روایتیں سند و متن کے اعتبار سے حجیت رکھتی ہیں۔
کتاب کی حجیت:
کسی بھی کتاب کو موثق قرار دینے کے لئے چند امور شرط ہیں:
۱۔ مؤلف کا موثق اور معتبر ہونا۔
۲۔ کتاب میں تالیف کے زمانہ کا لکھا جانا، تاکہ بعد میں اگر مؤلف گمراہ ہو جائے تومعلوم ہو کہ کتاب گمراہی سے پہلے لکھی گئی ہے۔
۳۔ توثیق کرنے والا کتاب کی مدح یا مذمت میں دقیق ہو، اور ساری کتاب کو دقت کے ساتھ پڑھ کر اپنی رائے کا اظہار کرے۔
علم تاریخ حدیث
یہ وہ علم ہے کہ جس میں حدیث کے وجود میں آنے کے وقت اور اس کی پیشرفت پر گفتگو کی جاتی ہے، لہذا علامہ شیخ الکرباسی نے اس عنوان کے تحت، علم درایت، علم رجال، علم روایت، علم تاصیل، علم تاریخ تصنیف اور علم تاریخ حدیث کی ابتدا اور ان علوم پر لکھی جانے والی کتب کو بیان کیا ہے۔
علم درایت: اس علم کی ابتدا رسول اسلام و ائمہ علیہم السلام سے ہوئی اور علی الظاہر اس علم پر سب سے پہلے ابان ابن تغلب (جو امام سجاد، امام باقر، امام صادق علیہم السلام کے صحابی تھے) نے کتاب لکھی جس کا نام "کتاب الاصول فی الروایة علی مذھب الشیعة" تھا۔
علم رجال: بیشک علم رجال کے موجد رسول اسلام اور ائمہ اھل بیت علیہم السلام ہیں، مسلم ابن ابی حیہ نقل فرماتے ہیں کہ ایک دن میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے حدیث شریف سننے کی خواہش کی، امام علیہ السلام نے فرمایا کہ ابان بن تغلب کو بلاؤ کیونکہ انھوں نے مجھ سے بہت ساری احادیث کو سنا ہے لہذا ان کی مجھ سے منسوب کردہ روایت کو تم نقل کرو۔
اس حدیث شریف سے واضح ہو جاتا ہے کہ رجال حدیث کا تعین اور ان کو موثق قرار دینا ایک ایسا اہم کام تھا کہ جس کی بنیاد خود معصومین علیہم السلام نے رکھی، اور دوسری طرف خود حدیث سلسلۃ الذھب (کہ جس کی سند کو امام رضا(ع) نے اپنے بابا سے رسول خدا تک اور رسول خدا سے جبرئیل کے ذریعہ ذات باری تک پہنچایا ہے) سے بھی واضح ہو جاتا ہے کہ علم رجال کے موجد رسول اسلام اور ائمہ اھل بیت ہیں۔
سب سے پہلے علم رجال پر کتاب لکھنے والے حضرت عبید اللہ بن ابی رافع تھے جو رسول اسلام و مولا علی کے صحابی تھے اور جنھوں نے کتاب "تسمیة من شھد من الصحابة مع امیر المومنین" لکھی، اس کتاب میں ان افراد کے اسامی درج کئے گئے ہیں جو حق یعنی امام علی علیہ السلام کے ساتھ تھے اور انھوں نے امام کی معیت میں شہادت پائی، پھر عبد اللہ ابن جبلۃ الکنانی (متوفی ۲۱۹ھ یا ۲۲۹ھ) نے کتاب الرجال لکھی، پھر آہستہ آہستہ مخلتف علماء اسلام نے بہت ساری کتابیں اس فن میں تحریر فرمائیں جنمیں سے درج ذیل کتابوں کو رجال کی بنیادی کتابیں جانا جاتا ہے۔
۱۔ رجال کشی: اس کتاب کے مصنف محمد بن عمر الکشی ہیں جو تقریبا ۲۵۰ھ میں پیدا ہوئے اور ۳۳۶ھ میں وفات پائی۔
۲۔ رجال نجاشی: اس کتاب کے مصنف احمد بن علی النجاشی ہیں جو ۳۷۲ھ میں پیدا ہوئے اور ۴۵۰ھ میں وفات پائی۔
۳۔ رجال طوسی: اس کتاب کے مصنف محمد بن حسن الطوسی ہیں جو ۳۸۵ھ میں پیدا ہوئے اور ۴۶۰ھ میں وفات پائی۔
۲۔ رجال برقی: اس کتاب کے مصنف احمد بن محمد متوفی ۲۷۴ھ ہیں، رجال ابن غضائری: اس کتاب کے مصنف احمد بن حسین ہیں جو تقریبا ۴۲۰ھ کو وفات پائے، یہ دو کتابیں مفقود ہو چکی ہیں۔
علم تاصیل: جیسا کہ ہم نے عرض کیا تھا کہ علم تاصیل میں حدیث کے صادر ہونے کے اسباب و عوامل پر گفتگو کی جاتی ہے اور چونکہ یہ علم، آیات کے اسباب اور شان نزول کی مانند ہے، لہذا جس طرح آیت کی وجہ نزول کو رسول اسلام کے زمانے میں بیان کیا جاتا تھا اسی طرح اسی زمانے سے احادیث کے صادر ہونے کی وجوہات کو بیان کیا جانے لگا۔
علم تصنیف: اس علم میں ان کتابوں کی تحقیق و بررسی کی جاتی ہے جن میں معصومین علیہم السلام کی احادیث وارد ہوئی ہیں، اور یہ دیکھا جاتا ہے کہ آیا وہ کتاب مجموعی طور پر حجیت رکھتی ہے یا نہیں؟ آیا کتاب کی نسبت کاتب کی طرف درست ہے یا نہیں؟ اور اسی طرح مختلف زاویوں سے حدیث کی کتاب کو پرکھا جا تا ہے لہذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ تدوین کتاب کے ساتھ ساتھ علم تصنیف کی بھی ابتدا ہوئی۔
علم تاریخ حدیث: اس علم میں حدیث شریف کے معصوم سے صادر ہونے کے وقت اور مکان کو معین کیا جاتا ہے، اس علم میں مستقل طور پر تو کوئی کتاب نہیں لکھی گئی لیکن صحابہ و اکابر علماء شیعہ نے بہت ساری ایسی روایات نقل کی ہیں جن میں حدیث کے نقل کرنے کے وقت اور مکان کو معین کیا گیا ہے۔
علم روایت: یہ علم رسول اسلام کے مبعوث بہ رسالت ہونے سے شروع ہو کر اہل سنت کے یہاں وفات رسول اللہ پر ختم ہوا جبکہ اہل تشیع کے یہاں یہ علم امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کبری تک جاری رہا۔
نقل حدیث اور تدوین حدیث کا حکم خود رسول اسلام نے فرمایا تھا لہذا امام علی اور حضرت زہراعلیہما السلام نے سب نے پہلے حدیث کی کتاب لکھی، آج بھی جنھیں کتاب علی اور صحیفۂ فاطمہ سے یاد کیا جاتاہے۔
علم روایت
ایک شخص سے دوسرے شخص تک حدیث کے منتقل کرنے کو روایت کرنا کہتے ہے، علم روایت میں آداب روایت، استحباب روایت، مروی عنہ پر گفتگو کی جاتی ہے۔
آداب روایت: آداب روایت سے مراد وہ آداب ہیں کہ جن سے ایک راوی کا مزین ہونا ضروری ہے، مثلا ایک راوی کے لئے ضروی ہے کہ وہ مومن، عالم، با اخلاق، رشید، عادل، اور با عمل ہو، اس مقام پر مصنف نے ۲۳ آداب روایت کو نقل فرمایا ہے۔
مروی عنہ: وہ معصوم کہ جن سے روایت کو نقل کیا جاتا ہے انھیں مروی عنہ اور روایت نقل کرنے والے کو راوی کہتے ہیں، اہل تشیع کے یہاں تمام روایتیں صرف چھاردہ معصومین علیہم السلام سے نقل کی جاتی ہیں کیونکہ یہی وہ افراد ہیں جو قرآن کی روشنی میں عصمت کے درجے پر فائز تھے، اس مقام پر مصنف نے معصومین علیہم السلام کے اسامی، القاب، اور ان مختلف کنیتوں کو بیان فرمایا ہے جو احادیث میں وارد ہوئی ہیں۔
کتاب "الحسین فی السنۃ "کے آخر میں محدث شیخ کرباسی نے امام حسین (ع) کی شان میں وارد شدہ چند روایات کو بطور نمونہ و تبرک پیش کیا ہے اور دیگر تمام احادیث کو بعد میں آنے ولی جلدوں پر موکول فرمایا ہے۔
فھرست: مصنف کے طریقہ کار کے مطابق دائرۃ المعارف کی تمام دیگر جلدوں کی طرح کتاب "الحسین فی السنۃ "کے خاتمہ میں بھی مخلتف فہرستوں کو درج کیا گیا ہے جنمیں فھرست آیات مبارکہ، فھرست احادیث و اخبار، فھرست امثال، فھرست اعلام و شخصیات، فھرست قبائل و انساب و جماعات، فہرست طوائف و ملل، فہرست اشعار، فہرست تاریخ، فہرست لغوی، فہرست مصطلحات شریعت اور دیگر مفید فھارس شامل ہیں، فھارس کے اختتام پر مفتی محمد خان قادری (جو جامعۂ اسلامیہ لاہور کے پرنسپل ہیں) کا مقالہ پنجابی زبان میں درج ہوا ہے،جنھوں نے اس کتاب کے مطالعہ کے بعد اس میں موجودہ علوم حدیث سے متاثر ہو کر فرمایا: کتاب "الحسین فی السنة" علوم حدیث کی کتابوں میں مرجعیت کی حیثیت رکھتی ہے، اور یہ ایک ایسی نایاب کتاب ہے جو اس خوش اسلوبی کے ساتھ پہلے کبھی نہیں لکھی گئی۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم حضرت امام حسین علیہ السلام کے حوالے سے حضرت رسول اسلام کے ارشادات و فرمودات سے آگاہی حاصل کرنا چاہیں اور اس موضوع پر علمی و تحقیقی مطالب جاننا چاہیں تو دائرۃ المعارف الحسینیہ تالیف آیت اللہ محمد صادق کرباسی کا مطالعہ کرکے اپنا مقصود پانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں اور اس سلسلہ میں کتاب "الحسین فی السنة " بہترین راہنما ثابت ہو سکتی ہے۔