ہڈیوں تک سے عرق کشید کر لینے والی جون کی چلچلاتی دوپہر میں زندگی سے عاری سڑکوں پہ وہ موٹر سائیکل پہ سوار اپنے گھر کی طرف رواں تھا۔ رفتار بہت کم تھی۔ رفتار کم ہونے کی وجہ کچھ بھی رہی ہو لیکن اُس کے تاثرات سے یہی لگتا تھا کہ اُسے گھر پہنچنے کی کوئی جلدی نہیں۔ وہ اپنے دوستوں سے مل کے آ رہا تھا۔امتحانات ہو چکے تھے، اب نتیجہ آنے تک فراغت ہی فراغت تھی۔دوستوں کا مل بیٹھنا روز کا ہی معمول تھا لیکن وہ کافی دنوں بعد اِس بیٹھک میں آیا تھا۔سبھی نے اُس کے آنے پہ یوں خوشی منائی جیسے برسوں بعد مل رہے ہوں۔ سویپ کی بازی کے دوران چائے اور ہنسی مذاق چلتا رہا۔ سبھی دوستوں نے ہی اُسے آڑے ہاتھوں لیا تھا۔
کسرتی بدن کا یہ وجیہ نوجوان بہت نفیس تراش کا لباس زیب تن کئے ہوئے تھا۔اچھی تعلیم و تربیت کے واضح آثار اس کے بشرے سے نمایاں تھے۔دھوپ کے چشمے کے پیچھے سے وہ مختلف مناظر دیکھ رہا تھا لیکن اس کے خیالات کہیں اور ہی بھٹک رہے تھے۔
اپنے رکھ رکھاؤ کا ہمیشہ خیال رکھنے والے اس نوجوان کے پاؤں میں آج خلاف معمول اچھے گریڈ کے جوتوں کی بجائے عام سے چپل تھے۔دائیں پاؤں پہ ٹخنے کے اوپر تک پٹی چڑھی ہوئی تھی۔ ڈھائی تین ہفتے پہلے قریبی پارک میں صبح کے وقت ہلکی جوگنگ کرتے ہوئے پارک میں گھومتی دو لڑکیوں پہ ایک نظر ڈالتے ہی وہ بری طرح لڑکھڑایا اور اُس کا سارا چہرہ ہی زمیں کو چُوم گیا تھا۔ اِس کا احساس اُسے اُس وقت ہوا جب کھی کھی کھی کی اُونچی آواز سنائی دی تھی۔ جسم گرم تھا سو اُسے فوری طور پر چوٹ کا بالکل احساس نہ ہوا۔کھی کھی کھی سن کے وہ شرمندہ ہوئے بغیر جھٹکے سے اُٹھا لیکن پوری طرح سنبھلنے سے پہلے ہی درر کی شدت سے دوبارہ ڈھے گیا۔۔۔۔۔۔۔کھی کھی کھی کھی کھی!!!
ٹخنے کی چوٹ اتنی شدید تھی کہ وہ بلبلا اُٹھا۔ اُسے آس پاس کی کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ الّھڑ پن سے ہنستی ہوئی لڑکیاں ایک دوسرے میں خود کو گھسیڑتی ہوئی دور جا چکی تھیں۔پوچھنا تک گوارا نہ کیا تھا۔ آٹھ دس منٹ تک وہیں بیٹھے رہنے کے بعد جیسے تیسے گھر پہنچا۔ پانچ سات منٹ کا فاصلہ شائید آدھے گھنٹے میں طے ہوا ہوگا۔ ایک نادانستہ اور اُچٹتی ہوئی نظر کی اتنی بڑی سزا! وہ اپنے آپ کو، اپنی نظر کو اور ان لڑکیوں کو بری طرح کوس رہا تھا۔ اس مخلوق سے آج تک کس کا بھلا ہوا ہے! لڑکیوں کو اس لیے کوس رہا تھا کہ وہ صبح صبح پارک میں بھلا لینے کیا آئیں تھیں؟ شائید اُن کے آنے کا مقصد صرف اُسے چوٹ لگوانا ہی تھا۔ نہ وہ پارک میں آتیں، نہ وہ انہیں دیکھتا اور نہ۔۔۔۔ ٹینڈن ٹوٹ گئے تھے۔ڈاکٹر نے کم از کم دو مہینے مکمل آرام کا مشورہ دیا تھا۔ کہہ رہا تھا کہ مکمل ٹھیک ہونے میں پانچ چھ ماہ لگ سکتے ہیں۔ زیادہ بھی ہو سکتے ہیں۔۔۔۔شکر ہے ناک بچ گئی تھی۔ ایک ہلکی سی خراش آئی اور تھوڑا سا خون بہا، ورنہ ناک پہ لگی پٹی سے چہرہ تو بدنما ہوتا ہی ہوتا دیکھنے والے جانے کیا کیا سوچتے۔
عیادت کے لیے آنے والوں دوستوں کو بھولپن میں وہ سارا قصہ سچ سچ سنا بیٹھا تھا اور آج سبھی نے جی بھر کے اُس کی درگت بنائی تھی۔
’’چل میرے راجا!۔۔۔ ذرا یہ تو بتا، گرا کیسے تھا!‘‘ ھاھاھا۔ اُس کے علاوہ سبھی ہنس پڑے تھے۔
’’مابہ دولت صبح سویرے حسب عادت ورزش کر رہے تھے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ دو مہتاب صورت لڑکیاں خراماں خراماں سیر گلشن فرما رہی ہیں۔ نظر اُٹھا کے دیکھا ہی تھا کہ ایک قتالہ سے نظریں چار ہوگئیں۔ آنکھیں چندھیا گئیں۔ آنکھوں کی روشنی ذرا بحال ہوئی تو کیا دیکھتے ہیں کہ آگے ایک کھڈا اپنی پوری آن بان کے ساتھ موجود ہے۔ ہم نے موقع غنیمت جانا اور لڑکیوں کی ہمدردی اینٹھنے کے لیے پاؤں اُس میں گھسیڑ دیا اور پھر انتہائی سلو موشن میں زمیں پہ گرتے چلے گئے۔‘‘سہیل نے چھیڑ چھاڑ سے تنگ آ کے مصنوعی غصے سے کہا۔
’’اچھا سلو موشن میں گرے تھے تو یہ چوٹ کیسے آئی میرے ہیرو کو!‘‘ بلال نے گرہ لگائی۔
’’یہ چوٹ! اچھا، ہاںںں۔ یہ تو ہم نے فلم ایڈٹ کرا کے بعد میں ڈلوائی ہے۔ تم لوگوں کی ہمدردی بھی تو انیٹھنا تھی نا!!!‘‘ سہیل کی برجستگی اور زندہ دلی پہ سبھی ہنس دیئے۔
’’اپنا یار بھی عجب ہے! کھایا نہ پیا، گلاس توڑا بارہ آنہ۔ ہمیں دیکھو سبھی کچھ کرتے ہیں۔۔۔۔مجال ہے کبھی ہلکی سی کھرونچ بھی آئے۔ نہ دل و دماغ پہ، نہ بدن پہ۔۔۔۔ ہاں ترک تعلق سے دُکھ ضرور ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر۔۔۔۔۔۔ مگر۔۔۔۔۔۔ صرف اُس لڑکی کو!۔۔۔۔ ھاھاھاھا۔‘‘ سبھی کے قہقہے سے کمرہ گونج اُٹھا تھا ۔’’ اپنے دکھ کا مداوہ کرنے کو تو پھر کوئی نہ کوئی آ ہی جاتی ہے۔۔۔‘‘ بائیں آنکھ دباتے ہوئے’’۔۔۔ میرا مطلب ہے ریزروّ کوٹے میں سے۔‘‘ نوید نے لاپروائی سے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’یہ کچّے کنوارے بدنوں والی میڑک، ایف اے کی لڑکیاں بڑی آسانی سے چکر میں آجاتی ہیں۔بلکہ فرسٹ اِئیر کی تو اس معاملے میں بڑی آئیڈئل ہوتی ہیں۔کالج کی تازہ تازہ ہوا لگتی ہے۔ قید سے نئی نئی آزادی کا خمار۔ اور پھر سکول کا بھولپن بھی ابھی تک بچھڑا نہیں ہوتا۔اِس دور سے نکل جائیں تو سالیاں سینیئرز سے بہت کچھ سیکھ سمجھ کے سیانی ہو جاتی ہیں۔۔۔۔ تب ان پہ بہت محنت کرنا پڑتی ہے، اور تم جانتے ہو محنت سے تو یاروں کی جان جاتی ہے بھئی۔‘‘ الطاف نے سنجیدگی سے فلسفہ بگھارا۔
’’اپنے جسم کی اتنی دیکھ بھال۔۔۔۔جوانی سنبھال سنبھال کے تُو اِس کا کرے گا کیا! کسی کے کام تو آتی نہیں۔اس گرمی میں بھی تجھے آرام نہیں۔ لے بیٹا، اب لمبا ہی آرام کر۔ تیرے جسم بیچارے کو کوئی سال بھر تو سکون ملے گا نا۔‘‘ عابد نے سہیل کے پہلو میں انگلی چبھوتے ہوئے کہا۔
گپیں ہانکنے، تاش کھیلتے، چائے پیتے، کُھلے قہقہے لگاتے، دوستوں سے بے ہمتی اور بزدلی کے طعنے سنتے اب اُس کا جی اُوب سا گیا تھا۔دوا کھانے اور گھر پر ضروری کام کا بہانہ کر کے سہیل نے دوستوں سے بڑی مشکل سے جان چھڑائی۔
دوستوں کی باتیں یاد کر کے کبھی کبھی وہ دائیں بائیں ہلکا سا سر ہلاتا دیتا۔۔۔ کمینے! ہونٹوں پہ ایک مسکراہٹ سی مچل جاتی جسے وہ دبانے کی کوشش کرتا۔ ایسی بہت سی باتیں یاد کرتے وہ اُس بڑی سڑک پہ آگیا جہاں سے ایک چھوٹی گلی اُس کے گھر کو جاتی تھی۔ گلی میں مڑنے کے لیے اُس نے موٹر سائیکل کی رفتار مزید کم کرنا چاہی۔ جیسے ہی بریک پر اپنے پورے پاؤں کا دباؤ بڑھایا، رفتار کم ہوئی، ابھی گلی تک پہنچنے میں کچھ قدم باقی تھے کہ مخالف سمت والی گلی سے ایک برقعہ پوش عورت بے دھیانی سے نکلی اور موٹر سائیکل کے سامنے آگئی۔سہیل نے اپنے آپ کو تیزی سے سنبھالا اور اُس کا انگوٹھا خود بہ خود ہارن پہ چلا گیا۔ اپنے پیچھے ہارن کی چنگھاڑ سن کر عورت بدک گئی۔ بجائے پیچھے ہٹنے کے عورت نے تیزی سے اپنے اوسان بحال کیئے اور اُسے روکنے کے لیے اپنا ہاتھ لہرا دیا۔ سہیل نے ایڑھی کا پورا دباؤ بریک پہ ڈال دیا۔رکنے کے سوا اُس کے پاس اور کوئی چارہ نہ تھا۔
’’کیا آپ مجھے فرید ٹاؤن تک چھوڑ دیں گے؟ ‘‘ موٹر سائیکل رکتے ہی عورت نے سہیل کے چشمے میں بغور دیکھا اور اُسے کچھ سوچنے کا موقع دئے بغیر سوال داغ دیا۔ عورت کی نظروں میں شوخی اور گہری بے نیازی کے ساتھ ساتھ اپنے سوال کے جواب کا انتظار ایک مسکراہٹ کی صورت میں معلق تھا۔
سہیل اِس اچانک آ پڑنے والی افتاد پہ بھونچکا رہ گیا۔ یہ کیسا سوال ہے!!! وہ ہاں اور نہ کے درمیان کہیں الجھ کر رہ گیا۔ ایک ہی لمحے میں ہزاروں سوچوں اور سوالوں نے اُس کو جکڑ لیا۔ یہ کون ہے؟ اسطرح تو کوئی عورت راہ چلتے کسی کو نہیں روکتی! کم از کم کوئی شریف عورت تو ایسا کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی! ساتھ ہی وہ عورت کے جسم کو بھی آنکنے کی کوشش کر رہا تھا۔ برقعے کا پھیلاؤ عورت کے جسم کے بھرپور ہونے پہ دلالت کر رہا تھا۔
اگرچہ سہیل کا تعلق ایک اوسط درجے کے خاندان سے تھا لیکن اپنے خاندان اور اپنے وسیع حلقہ احباب کی وجہ سے وہ سارے قصبے میں پہچانا جاتا تھا۔
میں اِس کو لے تو جاؤں، لوگ کیا کہیں گے! اور پھر میرا پاؤں۔۔۔ فرید ٹاؤن کی طرف تو بہت رش ہوتا ہے۔ میں تو اتنے دنوں بعد جانے خود کیسے موٹر سائیکل چلا پایا ہوں! اتنے رش سے گزرتے ہوئے دکھتے پاؤں کے ساتھ موٹر سائیکل کیسے سنبھال پاؤں گا۔تازہ چوٹ، دوستوں کی تیکھی باتیں اور اپنا سماجی وقار اُس کے ذہن میں لہرا کے رہ گئے۔ چلو اِس کو کسی طرح بٹھا بھی لوں تو لوگ۔۔۔۔مصیبت کھڑی ہو جائے گی۔ سہیل پھر لوگوں کے بارے میں سوچنے لگا۔
نکڑ کی دکان والے طیّب نے تو بہت کچھ سوچنا شروع بھی کر دیا تھا۔ بار بار سر باہر نکال کر وہ اِن دونوں کو دیکھ رہا تھا۔ دو تین کھڑے گاہکوں نے بھی طیب کی دیکھا دیکھی انہیں تاکنا شروع کر دیا۔ سبھی اُن دونوں میں ہونے والی گفتگو کا نتیجہ جاننے کو بیتاب تھے۔
عورت نے جواب پانے تک ایک لمحے کو بھی اپنی نظریں سہیل سے نہ ہٹائیں۔ اُس نے آج تک کسی عورت کو نظر بھر کے نہ دیکھا تھا، اور یہ ہے کہ مسلسل مسکراتی نظروں سے اُسے دیکھے جا رہی ہے۔
سہیل نے چشمہ اتارا۔ ’’جی۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔۔ میرا تو پاؤں خراب ہے۔‘‘اُس نے اپنا زخمی پاؤں آگے کر دیا۔’’ میں تو خود بہت دنوں بعد ڈرتے ڈرتے سوار ہوا ہوں۔ کسی کھلی سڑک پہ تو چلا سکتا ہوں، لیکن اتنے رش میں میرے لیے کسی کو بٹھا کے لے جانا ممکن نہ ہوگا۔۔۔۔ آپ کو کیسے لے جا سکتا ہوں۔ معافی چاہتا ہوں‘‘ سہیل نے عورت سے نظریں چراتے ہوئے اپنے پاؤں کو دیکھا۔ جی تو بہت مچلا کہ پاؤں دُکھنے کے باوجود عورت سے ہاں کہہ دے۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔
زخمی پاؤں دیکھ کر عورت ایک دم گبھرا گئی، اُس کی آنکھیں ایک ہی ساعت میں سکڑیں اور پھیلیں اور آنکھوں کی ساری شوخی اور بے نیاری وہ ایک ساعت بہا لے گئی۔ فوراََ الجھے ہوئے سے لہجے میں بولی۔ ’’ اوہ! ویری سوری، سس سوری۔۔۔ویری سوری مجھے پتہ نہ تھا کہ!۔۔۔۔۔چلیئے کوئی بات نہیں، میں کسی نہ کسی طرح چلی ہی جاؤں گی۔ آپ جایئے پلیز۔۔۔۔ آئی ایم ویری سوری! ‘‘ عورت کی مایوسی اور پریشانی نمایاں تھی۔ عورت کی مایوسی دیکھ کر سہیل کا دل پسیج گیا۔ ساتھ ہی عورت کے کردار کے متعلق خیالات پھر سے اُس کے ذہن میں کلبلانے لگے۔۔اگر یہ واقعی ایسی ویسی ہوئی توووو!!!۔۔۔۔ یہ سوچتے ہی بہت سی گرم خواہشات اُس کے رگ و پے میں اپنے ہونے کا پرشور اعلان کرنے لگیں۔ لوگ گیئے بھاڑ میں! کیوں نہ آج!۔۔۔۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے!۔۔۔۔ تجربہ ہی سہی۔۔۔۔۔ ایک دَبی ہوئی خواہش انگڑائی لینے لگی۔ وہ عورت کے حوالے سے ہمیشہ ہی سے کوئی ایسا تجربہ کرنا چاہتا جس کے لیے اُسے کچھ نہ کرنا پڑے اور وہ تجربہ آپ سے آپ ہی واقع ہو جائے۔۔ بالکل کسی حادثے کی طرح جو بغیر چاہے ہی ہو جاتا ہے۔ کچھ سوچتے ہوئے اُس نے چشمہ واپس لگایا۔ چشمہ لگاتے ہی اُسے یوں محسوس ہوا جیسے چشمے نے اُسے ساری دنیا سے چھپا دیا ہو۔
’’ بیٹھیئے چھوڑ آتا ہوں!‘‘
’’مگر آپ کا پاؤں!!!‘‘
’’ کہا نا چھوڑ آتا ہوں۔آپ پلیز بیٹھیئے تو!‘‘ سہیل نے سارے اندیشوں کو ذہن سے جھٹکتے ہوئے اس انداز سے کہا کہ اگلے ہی لمحے وہ اُس کے پیچھے بیٹھ چکی تھی۔ عورت کا لمس اپنی پشت پہ محسوس کرتے ہی سہیل کی نس نس میں نشہ دوڑنے لگا۔ چلنے سے پہلے عورت نے اپنا ہاتھ سہیل کے کاندھے پہ رکھ دیا۔ نشہ دو آتشہ ہونے لگا۔ دکاندار اور گاہکوں کو تجسس، حسرت اور معنی خیز انداز میں سوچتا چھوڑ کے وہ آگے بڑھ گیا۔ دو اڑھائی فرلانگ آگے سڑک دو شاخہ تھی۔ فرید ٹاؤں کو جانے والی دائیں سڑک پر مڑنے کی بجائے جیسے ہی وہ بائیں طرف کو مڑا۔ عورت بول اٹھی۔ ’’ یہ آپ کس طرف لیئے جا رہے ہیں! فرید ٹاؤں کو تو دوسرا راستہ جاتا ہے۔ کیا آپ کو فرید ٹاؤن کا نہیں پتہ!!!‘‘ عورت نے کچھ گھبرا کر سہیل کے کاندھے کو دباتے ہوئے کہا۔
’’جی میں جانتا ہوں۔ پریشان مت ہویئے، آرام سے بیٹھئے، آپ کو فرید ٹاؤن ہی جانا ہے نا! آپ کو بتایا تو ہے کہ میرا پاؤں دُکھتا ہے اور میں اتنے رش میں موٹر سائیکل نہیں چلا سکتا! اِس طرف سے اِس لیئے لے کے جا رہا ہوں کہ اِدھر ٹریفک بہت کم ہوتا ہے اور بریک لگانے کی زیادہ ضرورت نہیں پڑتی۔‘‘
’’جی ٹھیک ہے، جیسے آپ کی مرضی۔‘‘ میں سمجھی کہ آپ کو راستے کا پتہ نہیں ہے ، اِس لیے ٹوکا۔ ورنہ مجھے کیا پریشانی ہوگی بھلا! اپنے دکھتے پاؤں کے باوجود میرے لیے آپ نے اتنی زحمت کی۔ سمجھ نہیں آتی آپ کا شکریہ کیسے ادا کروں۔
‘‘
’’جی کوئی بات نہیں۔۔۔ میں نے سوچا شدید گرمی میں آپ اتنی دور کیسے جائیں گے۔ میرے پاؤں کی خیر ہے!‘‘
’’آپ رہتے کہاں ہیں؟‘‘
’’جہاں سے آپ نے مجھے پکڑا ہے وہاں سے کچھ ہی آگے۔‘‘
’’ اوووف اللہ، جیسے میں نے آپ کو زبردستی پکڑا ہے۔ بلکہ آپ کا زخمی پاؤں دیکھ کے تو میں خود بہت شرمندہ اور پریشان ہوئی تھی، بھلا مجھے کیا پتہ تھا! پھر آپ نے خود ہی چلنے کو کہہ دیا۔آپ کا پاؤں دیکھ کے جی تو چاہا کہ انکار کردوں لیکن آپ کے کہنے کا انداز ہی کچھ ایسا تھا کہ انکار نہ کر سکی۔۔۔‘‘ سہیل خاموش سنتا رہا۔ ’’اپنی سہیلی کے ہاں آئی تھی۔ صبح چھوٹا بھائی چھوڑ گیا تھا۔ کہہ رہا تھا کہ گیارہ بجے لینے آؤں گا۔ اب ایک بج رہا ہے اور وہ ابھی تک نہیں آیا۔ بڑے لا پروا ہوتے ہیں یہ چھوٹے بھائی۔ رابعہ نے تو بہتیرا کہا بیٹھ جاؤ آ ہی جائے گا۔ پر میں۔۔۔۔ رابعہ شمس صاحب کی بڑی بیٹی کا نام ہے۔ میں اِن کے ہاں آتی جاتی رہتی ہوں۔ آپ تو شمس صاحب کو یقیناََ جانتے ہوں گے، بہت اچھے انسان ہیں!‘‘
’’جی نہیں، میں شمس صاحب کو نہیں جانتا!‘‘
’’ہیں، اپنے محلے دار کو نہیں جانتے‘‘
’’بس کچھ ایسا ہی ہے!‘‘
’’آپ اتنی مختصر بات کیوں کرتے ہیں جی؟‘‘
’’بس کچھ ایسا ہی ہے!‘‘
’’بس کچھ کیسا ہے!‘‘ عورت نے شوخی سے الفاظ سہیل پر الٹ دیئے۔
’’ جی۔ جی۔۔ وہ۔۔ میں۔‘‘ سہیل ایک دم گڑبڑا گیا۔ ذرا توقف کے بعد سنبھل کے بولا۔ ’’اور پھر میں بھلا آپ سے کیا بات کروں گا۔ آپ کو چھوڑنے جارہا ہوں۔۔۔ اور بس! آپ سے کوئی جان پہچان تو ہے نہیں!‘‘ بات کرتے ہوئے سہیل کو اپنی آواز کہیں دور سے آتی ہوئی محسوس ہوئی۔ جیسے وہ خود نہیں، کوئی اور بول رہا ہو۔
’’جو بات بھی پُوچھو، ’بس ایسا ہی ہے!‘ اور جان پہچان کا کیا ہے۔ آپ کچھ بات کریں، کچھ پوچھیں، کچھ بتائیں تو جان پہچان بھی ہو جائے گی۔ میرا نام سیما ہے۔ اور آپ کا؟‘‘
سہیل نے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ سہما سہما سا ارد گرد کا جائزہ لے رہا تھا۔ اِس پہر سڑک پر اکا دُکا لوگ ہی پھر رہے تھے۔اگرچہ راستے میں ابھی تک اُس کا کوئی جاننے والا نظر نہ آیا تھا لیکن اسے محسوس ہو رہا تھا کہ راہ چلتی ہر آنکھ اُس کے کسی نہ کسی جاننے والے ہی کی ہے اور ہر کوئی جان بُوجھ کے دیکھی ان دیکھی کر رہا ہے۔ سیما کے لمس کا نشہ اپنی جگہ لیکن چشمے کے پیچھے جس اعتماد اور تحفظ کا احساس اُسے شروع میں ہو رہا تھا اب جاتا رہا تھا۔ وہ اپنی غلطی پہ پچھتا رہا تھا۔ اُس کا جی چاہا کہ سیما کو راستے میں ہی اتار کے فرار ہو جائے۔ اُوپر سے یہ بولتی بھی بہت ہے، ذرا پردہ نہیں رہتا۔ ساتھ ہی حادثے جیسے کسی تجربے سے گزر جانے کا اشتیاق اُس کی سب شرمندگیوں اور الجھنوں سے گتھم گُھتا ہو رہا تھا۔
’’یہاں سے! یہاں سے دائیں مڑ جائیں پلیز۔ یہ راستہ بھی فرید ٹاؤن کو جاتا ہے‘‘
’’یہاں سے نہیں جا سکتا!!!‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’کیونکہ یہاں سے کی گلیاں بہت تنگ اور اُونچی نیچی ہیں۔۔۔ اور میرا۔۔۔‘‘
’’ ’۔۔پاؤں خراب ہے۔‘ ھاھا، مجھے یاد ہے بابا کہ آپ کا پاؤں خراب ہے۔‘‘ سیما نے سہیل کا فقرہ اُچک کے کہا۔ ’’ میں نے تو یونہی کہ دیا تھا، کیونکہ یہ راستہ بھی صاف ستھرا ہی ہے۔ اچھا اگر یہاں سے بھی نہیں جائیں گے تو پھر کہاں سے جائیں گے؟۔۔۔ آگے کونسا راستہ ہے؟‘‘
سہیل چاہتا تو واقعی اِس راستے سے فرید ٹاؤں جا سکتا تھا لیکن وہ جان بوجھ کے راستہ لمبا کرنا چاہتا تھا۔ لمبا راستہ لینے کا فیصلہ وہ سیما کو بٹھاتے ہی کر چکا تھا۔
’’آپ کو نہر کے دائیں کنارے سے لے کر جا رہا ہوں۔ راستہ لمبا سہی لیکن اُس طرف ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ اور پھر نہر کا کنارہ بہت خوبصورت ہے، درخت لگے ہوئے ہیں۔۔۔بہت اچھے لگتے ہیں۔ آپ کو کوئی تکلیف نہ ہوگی۔ آپ آرام سے بیٹھئے!‘‘
’’جی مجھے اُس راستے کا پتہ ہے۔ اور واقعی بہت خوبصورت اور رومینٹک ہے۔۔۔۔۔ لیکن وہ راستہ تو بہت لمبا ہے۔۔۔۔ اور میں تو آرام سے ہی بیٹھی ہوئی ہوں۔ آپ ہی بہت گھبرائے ہوئے لگ رہے ہیں۔ کیا پہلے کبھی عورت نہیں دیکھی!!!۔۔۔۔ہوںںں۔۔۔۔سمجھی! لوگوں سے ڈرتے ہیں۔ وہی عزت وغیرہ، ہے نا!‘‘
عجیب عورت ہے، دل کی بات پڑھ لیتی ہے۔ چوری پکڑے جانے پہ سہیل خاصا شرمندہ ہوا لیکن خاموش رہا۔
’’آپ سے نام پوچھا تھا، بتایا نہیں آپ نے!‘‘
’’نام جان کے کیا کریں گی، کیا ملے گا بھلا!!!‘‘
’’بس ایسے ہی۔۔۔ ساتھ جو جا رہے ہیں۔ میں نے بھی تو اپنا بتا ہی دیا ہے نا۔۔۔بِن پوچھے ہی۔۔۔۔۔۔ آپ تو یقیناََ نہ پوچھتے۔‘‘
’’شائید!‘‘
’’اگر کوئی اچھا لگے تو اُس کا نام پوچھ لینے میں برائی ہی کیا ہے۔ کیا ڈر ہے!‘‘
’’آپ تو مجھے جانتی بھی نہیں ہیں اور میں آپ کو اچھا کیسے لگنے لگا۔‘‘ سہیل نے بہت سپاٹ لہجے میں پوچھا۔
’’جی۔ آپ بھلے آدمی لگتے ہیں۔ دیکھئے نا اتنی تکلیف کے باوجود مجھے اتنی دور چھوڑنے جا رہے ہیں۔‘‘ سہیل کے لہجے سے سیما نے فوراََ بات بدلی۔
’’جی شکریہ!‘‘
’’لو آپ بھلے آدمی ہیں تو ہیں۔ اس میں شکریہ کہاں سے آگیا۔ کوئی میں نے آپ کو بھلا آدمی بنایا ہے جو میرا شکریہ ادا کر رہے ہیں!‘‘
’’ھاھاھاھاھا‘‘ سہیل اس کے بیساختگی پہ بے اختیار ہنس دیا۔
’’شکر ہے آپ کو بھی ہنسی آئی۔ورنہ میں تو سمجھی تھی کہ آپ میں ہنسی والے غدود ہی نہیں ہیں ۔ھاھا۔‘‘
’’ ھاھاھاھاھاھاھاھاھا‘‘
موٹر سائیکل نہر کنارے مڑ گئی تھی۔ اتفاق کی بات الگ ہے لیکن اِس تنہا راستے پر اُسے کوئی نہیں دیکھ سکتا تھا۔ سہیل ایک دم اپنے آپ کو تمام بوجھ سے آزاد اور بلکا محسوس کرنے لگا۔ اس تنہائی میں کچھ نہ کچھ ضرور ایسا ہوگا یا کوئی ایسا اشارہ ہی ملے گا جو۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر سیما باتیں بھی تو کچھ کُھلی سی کرتی آئی ہے۔۔۔ سوچ کر ہی سہیل کے بدن میں شرارے پھوٹنے لگے۔ لیکن خود پیش قدمی کر کے کچھ کرنے کا حوصلہ اُس میں نہیں تھا۔اِس بے حوصلگی کی وجہ اعتماد کی کمی نہیں تھی بلکہ اُس کے اندر جانے کب، کیسے اور کیوں یہ سوچ جڑ پکڑ گئی تھی کہ اگر وہ کوئی ایسی پیش قدمی کرے گا تو آگے سے جانے کیا ردعمل آئے۔ کسی نے اُسے جھڑک کے رکھ دیا تو۔ یہ بات سوچ کے ہی وہ شرمندہ سا ہو جاتا۔ کوئی پکے ہوئے پھل کی طرح اُس کی جھولی میں خود ہی آ گرے تو آ گرے ورنہ وہ تو۔۔۔لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ کچھ حادثے خود بہ خود رونما نہیں ہوا کرتے۔
’’اچھا نام نہیں بتاتے تو نہ سہی۔ چلیئے آپ کو معاف کیا۔۔۔ کیا یاد کریں گے۔۔ یہ تو بتا سکتے ہیں نا کہ آپ کرتے کیا ہیں؟‘‘
’’پڑھتا ہوں‘‘
’’اچھا، واہ! کس جماعت میں؟‘‘
’’ایم اے کر رہا ہوں‘‘
’’ہائے ئے ئے، مجھ سے تو ایف اے بھی نہ ہو سکا۔ اماں کو مجھے پڑھانے کا بہت شوق تھا۔ بہت گالیاں بھی کھائیں۔ پر ایک دفعہ جو فیل ہوئی تو دل ہی اُٹھ گیا۔۔۔۔ لگتا ہے آپ بڑے پڑھاکو ٹائپ ہیں جو اتنا پڑھ گئے ہیں۔‘‘
’’جی، کچھ خاص نہیں۔ اِدھر اُدھر کی کتابیں پڑھنے کا زیادہ شوق ہے۔‘‘
’’یعنی رسالے وغیرہ۔‘‘
’’ ھاھاھا۔ایسا ہی سمجھ لیں۔‘‘
’’ رسالے تو میں بھی بہت پڑھتی ہوں۔ پر اِن مُوئی سکول کالج کی کتابوں میں دل نہیں لگتا۔‘‘
’’آپ کیا کرتی ہیں۔‘‘
’’جی میں سلائی کڑھائی۔۔۔‘‘ایک دم موٹر سائیکل کی رفتار تیز ہوئی تو سیما نے لپک کے سہیل کی کمر میں ہاتھ ڈال دیا۔ ناف کے قریب سیما کا ہاتھ پڑتے ہی ایک لہر ٹانگوں سے ہوتی ہوئی اُس کے پاؤں سے نکل گئی اور اپنے پیچھے ایک مزے دار سی ٹیس چھوڑ گئی۔ ہاتھ کے نیچے پیٹ کے اعصاب خود کار انداز میں پھڑکنے لگے۔ وہ اینٹھن سی محسوس کرنے لگا۔ سہیل کے لیے یہ کیفیت بالکل اجنبی تھی۔ وہ ہل کے رہ گیا۔ اپنی پیشانی پہ پسینے کا ہلکا سا احساس ہوتے ہی سہیل کا ہاتھ خود بہ خود پیشانی کی طرف اُٹھ گیا۔ وہ اپنے آپ پر قابو پانے کی سر توڑ کوشش کر نے لگا۔
’’آہستہ چلائیں پلیز۔ اگر ایکدم بریک لگانے پڑ گئے تو۔۔۔آپ کا پاؤں!‘‘ سیما اپنی سلائی کڑھائی کو بھول کر اونچی لیکن گھبرائی سی آواز میں سہیل کو سمجھانے لگی۔ سہیل نے دیکھا کہ بے دھیانی میں اُس کی رفتار واقعی بہت تیز ہو چکی ہے لیکن سیما کی بات سُن کر اُس کا جی چاہا کہ وہ موٹر سائکل کی رفتار مزید تیز کر دے۔ لیکن اُس نے لمحہ بھر اپنے پاوں کی تکلیف اور سیما کے سہم کا سوچا اور دھیرے دھیرے رفتار کم کرنا شروع کر دی۔رفتار کم ہوئی مگر سیما کے بازو کی گرفت کم نہ ہوئی۔
’’آپ کے پاؤں پہ یہ چوٹ کیسے لگی‘‘ رفتار کم ہونے پہ سیما نے اطمینان کا سانس لیا۔
’’بس لگ گئی۔ گر گیا تھا۔‘‘
’’کیسے، کہاں؟‘‘
’’یہ بتانا ضروری ہے کیا۔۔ اچھا چلیں۔۔لڑکیوں کی وجہ سے!‘‘
’’آپ کی سہیلیاں ہوں گی، ھاھاھا۔ زیادہ جگہ آنکھ مٹکا کرنے کا کچھ نہ کچھ تو نقصان تو ہوتا ہی ہے۔‘‘
’’جی نہیں، میری کوئی گرل فرینڈ نہیں۔‘‘
’’کیوں!!! آجکل تو سب لڑکے اور لڑکیاں۔۔۔حیرت ہے۔۔ ویسے آپ جھوٹ تو نہیں بول رہے نا‘‘
’’میں نے کبھی سوچا نہیں کہ کیوں نہیں ہیں۔ نہیں ہیں تو نہیں ہیں۔ میں کیا کروں!
’’کبھی جی بھی نہیں چاہتا کہ کوئی گرل فرینڈ ہو؟‘‘
’’پتہ نہیں‘‘ کہ کر سہیل چُپ ہو گیا۔سیما کی ایسی باتیں سن کے اُس کی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی ۔ شائید سیما اِس قسم کی باتیں کر کے اُسے اپنے مطلب پہ لانا چاہ رہی تھی۔۔ اب کسی بھی لمحے وہ۔۔۔۔ وہ کوئی نہ کوئی ایسی بات ضرور کرے گی جو۔۔۔ وہ پہلے بھی کہ چکی ہے کہ ’’اگر کوئی اچھا لگے تو اُس کا نام جان لینے میں کیا برائی ہے، کیا ڈر ہے!‘‘ وہ مسلسل خیالات کے دلدل میں دھنستا چلا جا رہا تھا۔
کچھ دیر کے لیے دونوں طرف گہری خاموشی چھا گئی۔ اِس خاموشی کو توڑنے میں پھر سیما نے ہی پہل کی۔’’ہائے ئے ئے۔۔۔ میں نے آپ کو کتنی مصیبت میں ڈالا ہے، ہے نا! خواہ مخواہ میں ہی۔۔۔۔ آپ کا پاؤں بھی تو شدید دکھتا ہے نا۔ آپ بھی میرے بارے میں جانے کیا سوچتے ہوں گے۔‘‘
’’جی کوئی بات نہیں۔اب تکلیف زیادہ محسوس نہیں ہو رہی۔ اور پھر میں کونسا آپ کو کاندھوں پہ اٹھا کے لے جا رہا ہوں۔‘‘
’’پھر بھی آپ نے تکلیف تو اُٹھائی ہی ہے۔ کوئی کسی انجان کی خاطر بھلا کب ایسا کرتا ہے اور وہ بھی آجکل کے دور میں۔‘‘
سیما بہت کچھ کہنا چاہتی تھی۔ بہت سی باتیں کرنا چاہتی تھی۔ لیکن سہیل کی گہری خاموشی اور کم بات کرنے کی عادت دیکھ کے وہ بھی چُپ ہو گئی۔ اُسے نسوانی غیرت نے آن گھیرا۔ ۔۔۔۔کتنی شاندار ایکٹنگ کر رہا ہے کمبخت۔ مجال ہے جو منہ سے کچھ پھوٹ کے دیا ہو۔ میں ہی بکے جا رہی ہوں۔۔۔اتنا ہی پارسا ہے تو۔۔۔۔ خدا جانے یہ مزاجاََ ایسا ہی ہو، میں ایسے ہی!۔۔۔ میرے متعلق بھلا کیا سوچتا ہوگا۔
دونوں ایک دوسرے سے لاتعلق سے بنے ایک دوسرے کے متعلق ہی الگ الگ انداز میں سوچتے چلے جا رہے تھے۔ اپنی اپنی خاموشی اوڑھے وہ نہر کی پٹڑی سے اتر کر شہر جانے والی سڑک پر مڑ گئے۔
’’پلیز آپ مجھے یہیں اتار دیجیئے!‘‘ تھوڑا آگے جا کے ایک آبادی کے نزدیک سیما نے کہا۔ سحر ایک دم ٹوٹ گیا۔ اچانک ساتھ چھٹنے کے تصوّر نے سہیل کو بنوّلا کے رکھ دیا۔
’’اچھا تو آپ کا گھر اِس آبادی میں ہے۔ آپ نے تو مجھے فرید ٹاؤں جانے کا کہا تھا۔‘‘ سہیل نے اپنا لہجہ سنبھالتے ہوئے کہا۔
’’جج جی نہیں۔۔۔۔‘‘ سیما جھوٹ نہ بول سکی۔
’’ تو پھر کہاں ہے؟‘‘
’’تھوڑا سا آگے، فرید ٹاؤن کے ساتھ ایک آبادی ہے، وہاں!‘‘
’’تو پھر یہاں کیوں اتری ہیں؟ چلیئے میں آپ کو گھر تک چھوڑ کے آتا ہوں۔‘‘ سہیل کے دل میں ابھی تک ایک موہوم سی امید باقی تھی۔
’’دیکھیئے آپ اچھے آدمی ہیں۔ میں نہیں چاہتی کہ آپ خواہ مخواہ بدنام ہوں۔ بس اب آپ جایئے پلیز!۔۔۔۔۔ آپ کو تکلیف دینے کی بہت معافی چاہتی ہوں۔ زندگی رہی تو شائید کبھی دوبارہ ملاقات ہو۔‘‘
’’اچھا آپ بیٹھیئے۔ بعد کی زندگی اور ملاقات کا بعد میں دیکھا جائے گا۔ فی الحال تو میں آپ کو آپ کے گھر تک چھوڑ کے آؤں۔‘‘ سیما کسی فرمانبردار بچے کی طرح خاموشی سے پیچھے بیٹھ گئی۔ چلتے چلتے اُس نے سہیل کو ایک کچی آبادی میں مڑنے کے لیے کہا۔
’’آپ یہاں اِس آبادی میں رہتی ہیں!۔۔۔۔‘‘ سہیل نے اُس کے اشارے پہ موٹر سائیکل موڑ تے ہوئے حیرانی سے پوچھا۔
’’بس کیا کریں جی مجبوری ہے۔ یہاں مکان سستا مل گیا تھا۔‘‘
آبادی کے شروع میں پیپل کے ایک بڑے درخت کے نیچے گرمی سے بچنے کے لیے بڑی بڑی چار پائیوں پر کالے پیلے اور میل زدہ کچھ مرد اور عورتیں بیٹھی تھیں۔ اردگر ادھ ننگے آوارہ پھرتے بچے اپنے اپنے مشاغل میں مصروف تھے۔گلی میں داخل ہونے کے لیے جیسے ہی اُس نے برگد کے پاس سے اپنی موٹر سائیکل کو گھمایا، ایک دوسرے کے سروں میں الجھی ہوئی عورتیں اور گپیں ہانکتے مرد ایک خوش پوش اجنبی کو اپنی آبادی کی ایک عورت کے ساتھ بیٹھا دیکھ کر متجسس ہوئے۔ سب تیز نظروں سے سر تا پا سہیل کا جائزہ لینے لگے۔سہیل گھبرا گیا۔ اگر کسی نے روک کر کچھ پوچھ لیا تو!
سیما نے سہیل کے کان میں سرگوشی کی ’’پلیز آپ کسی کی طرف مت دیکھئے گا۔ اگر کچھ بکتے ہیں تو بکنے دیں۔ یہ بدتمیز لوگ ہیں۔ آپ سے نظر ملتے ہی کچھ ایسا بکیں گے یا کوئی اشارہ کریں گے کہ بات لازمی جھگڑے کی طرف جائے گی۔
‘‘
’’نظر کیسے ملے گی، میں نے تو چشمہ پہنا ہوا ہے۔‘‘ سہیل نے سیدھا دیکھتے ہوئے دبے دبے سے کہا۔
’’پھر بھی۔۔ چشمے میں سے بھی احساس تو ہو ہی جاتا ہے۔۔بس آپ بے دھیان سے گزر جایئے پلیز۔۔۔ اور گھبرانے کی ایسی بھی کوئی ضرورت نہیں!۔۔۔ آپ میرے ساتھ، وقت پڑنے پر میں سب سنبھال لوں گی۔‘‘
متجسس نظروں کو اپنے تعاقب میں آتے چھوڑ کر وہ گلی میں داخل ہو گئے۔سیما کے اشارے پہ تین چار گلیاں اِدھر اُدھر مڑنے کے بعد ایک خاموش سی گلی میں سیما نے اُسے رکنے کا اشارہ کیا۔ وہ موٹر سائیکل سے اتری اور کچھ قدم چلتی ہوئی ایک مکان کے آگے رک گئی، اُس نے چہرے سے نقاب الٹ دیا تھا۔ سیما بہت زیادہ خوبصورت نہ تھی، ہاں اُس میں اتنی کشش ضرور تھی کہ کوئی بھی مر د اپنی مہم جُوئیوں کے دوران اُس کے پاس بخوشی پڑاو کر سکتا تھا۔ لیکن سیما کو بے نقاب دیکھ کر سہیل کو اُس میں بے پناہ کشش محسوس ہوئی تھی۔
سہیل سوچ رہا تھا کہ اب سیما ضرور اُسے اندر آنے اور بیٹھنے کے لیے کہے گی اور وہ روائیتی سے تکلف کا اظہار کرکے اُس کی دعوت قبول کر لے گا اور پھر۔۔۔۔ بے نقاب سیما کی کشش نے سہیل کو مجبور کر دیا تھا کہ اب وہ خود بھی کچھ نہ کچھ ہمت سے کام لے۔ وہ کسی صورت بھی اِس آخری موقع کو گنوانا نہیں چاہتا تھا۔
’’یہ ہے میرا گھر۔ آئے نا پلیز۔‘‘ نقاب اُلٹے ہی سیما نے سہیل کو دعوت دی، اُس کی دعوت میں بلا کا خلوص اور بے تکلفی تھی
’’جی نہیں شکریہ۔۔۔ میں اب چلتا ہوں۔‘‘ سہیل کے کان تپنے لگے۔ بدن پر کپکپی سی طاری ہو گئی۔ اُس کی گرفت کلچ سے ایک دم ڈھیلی ہوئی اور موٹر سائیکل ایک جھٹکے سے بند ہو گئی۔
’’لو بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے! یہاں تک آ ہی گئے ہیں تو آپ کو ٹھنڈا گرم پیئے بغیر نہیں جانے دونگی! جان نہ پہچان پھر بھی آپ نے میرے لیے اتنی تکلیف اُٹھائی۔ حیرت ہے اِس دور میں آپ سے فرشتے بھی ہیں!!!اتنا لمبا راستہ اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ سہیل اِس سے آگے کچھ نہ سن سکا۔ چاروں طرف سے ایک پُرشور طوفان نے اُس کو گھیر لیا۔ جانے کس لمحے سہیل کی موٹر سائیکل سٹارٹ ہوئی اور وہ کیسے وہاں سے روانہ ہوا، اُسے کچھ خبر نہ رہی۔ جب وہ وہاں سے نکلا تو سیما کے ہونٹ ہل رہے تھے ۔ جانے وہ کیا کچھ کہ رہی تھی۔
’’حیرت ہے اِس دور میں آپ سے فرشتے بھی ہیں‘‘ سیما کا یہ جملہ واپسی پہ اُس کے ذہن پر ہتھوڑے برساتا آیا۔ اُس کے پاؤں کا درد بھی شدید ہوتا چلا جا رہا تھا۔