15.10.2026, 09:20am , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
شخصیات، انٹرویوز
 

صدارتی انتخابات میں حصہ لینے پرغور کر سکتے ہیں۔ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق
29.10.2012, 04:15am , سوموار (GMT+1)

مرکز اطلاعات فسلطین
مرکز اطلاعات فسلطین

فلسطین کی منظم مذہبی اور سیاسی جماعت اسلامی تحریک مزاحمت " حماس" کے سیاسی شعبے کے نائب صدر ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں میں پائی جانے والی ناچاقی کو ختم کرنے کا مقصد ایک ایسی قومی حکومت کا قیام عمل میں لانا ہے، جوبروقت پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کرانے کی اہل ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ قومی حکومت کے قیام کے بعد حماس وزارت عظمیٰ اور صدارت کے میدان میں انتخابات میں حصہ لے سکتی ہے۔

ڈاکٹر ابو مرزوق نے یہ بات مرکزاطلاعات فلسطین(پی آئی سی) کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ حماس اور فتح کی قیادت کے درمیان طویل مذاکروں کے بعد اب اختلافات معمولی رہ گئے ہیں۔ دونوں جماعتوں کے درمیان اعتماد کی فضا میں اضافہ ہوا ہے۔ اگر ہم قومی حکومت کی تشکیل میں کامیاب ہو گئے تو یہ فلسطین میں ایک بڑا سیاسی بریک تھرو ہوگا۔

ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق گٓذشتہ پانچ سال سے حماس کے سیاسی شعبے کے نائب صدر ہیں۔ فلسطین کی موجودہ سیاسی صورت حال پران کا یہ انٹرویو ایک ایسے وقت میں لیا گیا جب فلسطین میں قومی اتحاد کی مساعی کی جا رہی ہیں۔ عربی زبان میں دیے گئے ان کے انٹرویو کو اردو کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔

پی آئی سی:۔۔ قاہرہ میں آپ کی سابق امریکی صدر جمی کارٹر کے ساتھ ملاقات ہمارا پہلا سوال ہے۔ ملاقات کا محرک کیا تھا؟

ڈاکٹر مروزق:۔۔۔ امریکا کے سابق صدرجمی کارٹرکے ساتھ حماس کے وفد کی ملاقات ایک معمول کی ملاقات تھی، کوئی ہنگامی یا خصوصی ملاقات نہیں تھی۔ اس ملاقات میں ہم نے فلسطین کی موجودہ صورت حال اور مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے حماس کے موقف سے آگاہ کیا۔ ملاقات میں اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی اسیران کا مسئلہ بھی زیر غور آیا۔ اس کے علاوہ امریکی صدر نے ہم سے فلسطینی سیاسی دھڑوں کے درمیان بات چیت اورمفاہمت کے بارے میں کچھ سوال جواب کیے اور حماس نے انہیں اس سلسلے میں تفصیلی بریفنگ دی ہے۔

پی آئی سی:۔۔۔ حماس اور فتح کے قاہرہ میں قومی حکومت کے سلسلے میں دو روزہ مذاکرات کے نتائج کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟

ڈاکٹر مرزوق:۔۔ مصر کی نگرانی میں حماس اورالفتح کی قیادت کے درمیان ہوئی بات چیت نہایت حوصلہ افزا رہی ہے۔ دونوں جماعتوں لیڈرشپ نے نہایت اعتماد کے ساتھ قومی حکومت کی تشکیل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اللہ نے چاہا تو اس ملاقات کے مثبت اور بہتر نتائج جلد قوم کے سامنے آئیں گے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ حماس اور فتح کی قیادت نے الیکشن کمیشن کے قیام، اس کے لیے غزہ کی پٹی میں ہیڈا کواٹر کے قیام، انتخابی فہرستوں کی تجدید اور قومی حکومت میں وزرا کے انتخاب کے طریقہ کار پراتفاق کرلیا گیا ہے۔ یہ اقدامات  فلسطین میں پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کی طرف اہم قدم ہیں۔

پی آئی سی:۔۔۔ لیکن حماس اور فتح کے درمیان ماضی میں بھی اتحاد کے لیے کئی بار بات چیت مکمل ہونے کی نوید سنائی دی گئی تھی لیکن کچھ دنون بعد معاملات پھر صفر تک آگئے تھے؟ اب کیا ضمانت ہے؟

ڈاکٹر مرزوق:۔۔۔ ماضی میں دونوں جماعتوں کو ایک دوسرے سے اس طرح کی شکایات رہی ہیں۔ تاہم میں سمجھتا ہوں کہ حالیہ مذاکرات میں دونوں جماعتوں نے ماضی کی غلطیوں کا اعادہ نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک دوسرے پر الزام تراشی بند کرنے اور سیاسی کارکنوں کی رہائی پرمکمل اتفاق ہو گیا ہے۔ حماس تو پہلے ہی قومی مفاہمت کی سب سے بڑی وکیل رہی ہے لیکن اب فتح کو بھی خوب احساس ہے کہ قومی مفاہمت وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ کیونکہ مفاہمت کے بغیر قومی اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

پی آئی سی:۔۔۔۔ لیکن سوال یہ ہے کہ قومی حکومت کی تشکیل اتنی ناگزیر کیوں؟

ڈاکٹر مرزوق:۔۔۔۔ فلسطینیوں کے درمیان باہمی انتشار اور ناچاقی مسئلہ فلسطین کے لیے سخت نقصان کا موجب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے سیاسی مذاکرات میں جس امر کو پیش نظر رکھا ہے وہ ایک قومی مشترکہ حکومت کا قیام ہے۔ کیونکہ تمام سیاسی دھڑے قومی حکومت کی تشکیل پرایک دوسرے کے قریب آسکتے ہیں۔

اس سلسلے میں حماس کی قیادت نے غزہ کی پٹی میں اپنے طورپر کئی قابل ذکر اقدات کیے ہیں، تاکہ مفاہمت کے عمل میں غزہ کی طرف سے کوئی رکاوٹ نہ رہے۔ اس وقت ہمیں حقیقی معنوں میں ایک دوسرے پر اعتماد کی فضا۶ کے قیام کی ضرورت ہے۔ اگر ہم اس میں کامیاب ہوگئے اور قومی حکومت تشکیل پا گئی تو یہ فلسطین میں ایک بڑا سیاسی بریک تھرو ہوگا۔

پی آئی سی:۔۔۔۔ حال ہی میں فلسطینی اسیران نے طویل بھوک ہڑتال کے بعد اسرائیل سے ایک سمجھوتہ کیا۔ حماس اس سمجھوتے کواسیران کی فتح قرار دیتی ہے، لیکن حماس کے رہ نما ڈاکٹر الزھار کاکہنا ہے اس میں کئی خطرات بھی پوشیدہ ہیں۔ آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟

ڈاکٹر مرزوق:۔۔۔ اسرائیل کے ساتھ فلسطینیوں کا جب بھی کوئی معاہدہ ہوا ہے تو اسرائیل نے اس میں کسی نہ کسی شکل میں ڈنڈی مارنے کی کوشش کی ہے۔ اگر معاہدے کی ایک جزپرعمل درآمد کرلیا تو دوسرا چھوڑ دیا۔ اس طرح کا امکان ہمیشہ رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم فلسطینی اتھارٹی سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ اسرائیل کے ساتھ طے پائے تمام معاہدوں اورسمجھوتوں کو ختم کردے کیونکہ اسرائیل نے ان کی تمام شرائط پر عمل درآمد نہیں کیا ہے۔ کم از کم اب اوسلو معاہدے کی میری نظر میں کوئی حیثیت باقی نہیں رہی ہے۔

گذشتہ برس حماس نے اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کی رہائی کا ایک سمجھوتہ کیا۔ اس ڈیل میں حماس نے اپنے بیشتر مطالبات منوا لیے۔ ابھی حال ہی میں مصری حکومت نے فلسطینی بھوک ہڑتالی اسیران کواسرائیل کے ساتھ ایک معاہدے تک پہنچایا ہے۔ اس میں وہ کافی حد تک کامیاب اس لیے رہےہیں کہ اسرائیل نے ان کے مطالبات تسلیم کیے ہیں۔ اسیران کی قید تنہائی ختم کی ہے۔ غزہ کی پٹی کے اسیران کو ان کے اہل خانہ سے ملنےکی اجازت مل گئی ہے۔ ہاں اگر اسرائیل ان مطالبات پر عمل درامد نہ کرے یا معاہدے میں ڈنڈی مارنے کی کوشش کرے تو یقینا اس کے خطرات بھی ہیں۔ اس کے نتیجے میں فلسطینی اسیران کو ایک مرتبہ پھر بھوک پڑتال جیسی تحریک شروع کرنے پر مجبورکیا جاسکتا ہے۔

پی آئی سی:۔۔۔ کیا مصریا کسی دوسری طرف سے اس سمجھوتے کی کامیابی کوئی ضمانت بھی دی گئی ہے یا نہیں؟

ڈاکٹر مرزوق:۔۔۔ جہاں تک اسرائیل کی معاہدوں کی پاسداری مین فرار پرمبنی بری شہرت ہے تو اس کے تناظرمیں کوئی گارنٹی دی بھی نہیں جا سکتی۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ اسیران نے معاہدہ کرتے ہوئے یہ واضح کردیا تھا کہ اگرصہیونی انتظامیہ نے ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے یاس معاہدے پر عمل درآمد میں کوئی ہیر پھیر شروع کردیا تو اس بھوک ہڑتال دوبارہ شروع کردیں گے۔ قیدیوں کی دھمکی یقینا اپنے اندر ایک وزن رکھتی ہے۔ اس کا اندازہ صہیونیوں کو بخوبی ہے اور وہ جانتے ہیں کہ معاہدے پرعمل درآمد نہ کرنے کے کیا نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

پی آئی سی:۔۔۔ حالیہ کچھ دنوں سے قطر کے پٹرول لے کرآنے والے ٹرکوں کو مصری حکومت نے غزہ داخلے سے روک دیا۔ یہ رکاوٹ اس وقت ڈالی گئی جب قاہرہ حکومت فلسطینیوں کے درمیان اتحاد کی مساعی کررہی تھی۔ ایسا کیوں ہوا۔ کیا مصرکسی اندرونی یا بیرونی دباؤ کا شکار ہے؟

ڈاکٹر مرزوق:۔۔۔۔میں نہیں سمجھتا کہ مصری حکومت نے قطر کے تیل کو غزہ لے جانے سے روکنے کے بارے میں کوئی باضابطہ  فیصلہ کیا ہو۔ البتہ کچھ ٹال مٹول ضرور کیا ہے، جس سے قطری تیل کی غزہ کو ترسیل میں تاخیر بھی ہوئی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ مصری حکومت آئندہ اس طرح کی شکایات نہیں آنے دے گی۔

غزہ کی پٹی کو بجلی کی فراہمی بارے مصر نے کیا حتمی فیصلہ کیا ہے؟

ڈاکٹر مرزوق:۔۔۔ غزہ کی پٹی میں بجلی کا بحران اپنی جگہ جوں کا توں قائم ہے، لیکن اب اس کی شدت میں کچھ کمی ضرور آئی ہے۔ اس کے باوجود اب شہر میں روزانہ چھ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔ مصری بھائیوں کے ساتھ ہماری بات چیت میں غزہ کی پٹی کو ایندھن کی فراہمی پر بات چیت ہوئی تھی۔ قاہرہ نے ہمیں یہ یقین دلایا تھا کہ وہ غزہ کی پٹی کو خام تیل کی فراہمی معطل نہیں ہونے دے گی۔ اس کے علاوہ ایک دوسرا معاہدہ بھی ہوا تھا جس کے تحت مصری حکومت نے غزہ کی پٹی میں پاوراسٹیشن کو اپنی نگرانی میں چلانے کا وعدہ کیا تھا ، تاہم فی الحال اس پرعمل درآمد نہیں کیا گیا ہے۔ اگر اس پرعمل درامد ہو جائے تو غزہ کی پٹی میں توانائی کا بحران یقینی حد تک کم کیا  جاسکتا ہے۔

پی آئی سی:۔۔۔۔ مصرکی جانب سے اسرائیل کو گیس کی ترسیل روکے جانے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

ڈاکٹر مرزوق:۔۔۔ میرے خیال میں اسرائیل کو گیس کی فراہمی روکنے کا فیصلہ مصری حکومت سے زیادہ عوام کا ہے۔ کیونکہ عوام نہیں چاہتے کہ مصر کی گیس اسرائیل کو فروخت کی جائے۔ چنانچہ ما بعد مصر کی عبوری حکومت کو اس وقت تک سخت دباؤ کا سامنا رہا جب تک اسرائیل کو گیس کی ترسیل جاری رہی۔ یہی وجہ ہے کہ مصری حکومت نے صہیونی ریاست کو گیس کی فراہمی بند کردی۔

مصرمیں ایک ایسے وقت میں اسرائیل کوگیس کی فراہمی بند کی گئی ہے جب قاہرہ میں فوج مقتدر ہے۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ فوج بھی عوام کی مرضی کے خلاف کوئی اقدام نہیں اٹھا سکتی۔ مصری عوام نے تو کبھی بھی اسرائیل کو گیس کی فراہمی کی حمایت نہیں کی۔ یہ مصری حکومت کی اپنی مرضی سے ہوا۔ سابق حکومت اس کی ذمہ دار تھی۔ انقلاب کے بعد ایسا متوقع تھا اور اسرائیل بھی ذہنی طورپر اس کے لیے تیار ہوگیا تھا۔

پی آئی سی:۔۔۔۔ تو کیا اسے فلسطینی عوام کی خدمت قراردیا جانا چاہیے؟

ڈاکٹر مرزوق:۔۔۔ جزوی طورپر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مصری گیس کی اسرائیل کو ترسیل پرپابندیوں فلسطینیوں کی خدمت ہے۔ لیکن عرب ممالک اور مصر نے اسرائیل کے ساتھ اور بھی کئی معاہدے کررکھے ہیں، جو فلسطینیوں نہیں بلکہ اسرائیلیوں کی خدمت ہے۔ مثال کےطورپر سنہ2002 میں عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ ایک امن روڈ میپ جاری کیا گیا جس کا مسئلہ فلسطین کی صورت حال سے کوئی سابقہ لاحقہ نہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ عرب ممالک میں حالیہ انقلابی تحریک کے بعد اب صہیونی ریاست کے ساتھ پالیسی بدلنی چاہیے اور عرب ممالک کو لا محالہ اپنے عوام کی منشا کے تحت ایسا کرنا پڑے گا۔ اس وقت عرب ممالک کا آپس میں صہیونی ریاست کےخلاف ایک تزویراتی سمجھوتہ طے پانا چاہیے نہ کہ عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کرتے پھریں۔

پی آئی سی :  مصرمیں گذشتہ برس کے پچیس جنوری کے انقلاب نے غزہ کے شہریوں کی مشکلات کوکم کرنے میں مدد کی ہے۔ آپ کےخیال میں مصر کا نیا صدر فلسطینیوں کے لیے کیا نوید لائے گا؟

ڈاکٹر مرزوق:۔۔۔ جہاں تک صدر کے انتخاب کی بات ہے تو یہ مصری عوام کی اپنی مرضی ہے۔ حماس اس سلسلے میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کرے گی۔ اس میں بھی دو رائے نہیں ہیں کہ مصر میں ما بعد انقلاب فلسطینیوں کی مشکلات قدرے کم ہوئی ہیں۔ رہا مصرمیں صدر کے انتخاب اور مسئلہ فلسطین پر اس کے اثرات کا سوال تو اس میں خوش آئند بات یہ ہے کہ اب مصرمیں صدر مطلق العنان نہیں بلکہ عوام کا منتخب نمائندہ ہوگا۔ وہ وہی کچھ کرے گا جو عوام چاہیں گے۔ ہم یہ نہیں دیکھ رہے کہ مصرکا صدرکون ہوگا بلکہ ہماری نظر اس پہلو پرہے کہ آیا وہ جمہوری طریقے سے منتخب ہوا ہے یا نہیں۔ فلسطینی عوام بھی اس لیے مصر کے نئے صدر سے امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہیں کیونکہ فلسطینیوں کو معلوم ہے کہ ایک منتخب صدر ہی  فلسطینیوں  کی مشکلات کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

ماضی میں علاقائی مسائل کے حل میں مصر کا کوئی مثبت کردار نہیں رہا ہے۔ کیونکہ مصری حکومت نے نہ تو لبنان  اور غزہ پر اسرائیلی جنگ روکنے میں کوئی ٹھوس کردار ادا کیا اور نہ ہی سوڈان کی تقسیم کو روکنے میں کوئی مداخلت کی۔ لیکن اب مصر علاقے کے مسائل کے حل کے لیے ایک محوری قوت کے طورپر کام کرنے لگا ہے۔ اور یہی وہ تاثرہے جو فلسطینیوں کے لیے اُمید کی ایک شمع روشن کیے ہوئے ہے۔

پی آئی سی:۔۔۔ شام میں حماس کی قیادت کے قیام کے انجام کو آپ موجودہ صورت حال کے تناظرمیں کیسے دیکھتے ہیں؟

ڈاکٹر مرزوق:۔۔۔ شام میں حماس کو ایک مہمان کا درجہ حاصل ہے۔ اس میں شک نہیں کہ شام کا بحران شدید ترہوتا جا رہا ہے لیکن حماس کی قیادت کے لیے اپنی سرگرمیوں کے تسلسل میں کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہیں ہے۔ جب سے شام میں بحران کھڑا ہوا تو حماس کی قیادت نے اپنی سرگرمیاں خود ہی قدرے محدود کردی تھیں۔ لیکن اب جماعت کی قیادت دوبارہ شام میں موجود ہے۔ دمشق حکومت نے حماس کے دفاتر بند نہیں کیے ہیں اورنہ تنظیم نے کسی دوسرے ملک میں اپنے دفاتر کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پی آئی سی:۔۔۔ حماس کی مرکزی قیادت کے انتخابات کی خبریں تیز ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ خالد مشعل کو مرکزی قیادت سے ہٹایا جا رہا ہے۔ اگر ایساہے تواس کے کیا اسباب اور محرکات ہیں؟

ڈاکٹر مرزوق:۔۔۔۔ حماس ایک جمہوری اور شورائیت کے نظام پر یقین رکھنے والی جماعت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہرچار سال کے بعد اس کی صف اول کی قیادت کے لیے جماعت کی شوریٰ انتخابات کراتی ہے۔ ماضی میں حماس کی قیادت کے چناؤ کے نتائج کا باضابطہ اعلان کیا جاتا رہا ہے۔ فی الحال سیاسی شعبے سربراہ اور اراکین شوریٰ کا انتخابات جماعت کا اندرونی معاملہ ہے۔ کیونکہ حماس کی قیادت کے انتخابات کا اعلان قائدین کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

ماضی میں دشمن کی جانب سے حماس کی چوٹی کی قیادت کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ جماعت کی قیادت اور لیڈروں پر اندرون ملک اور بیرون ملک صہیونی دشمنوں نے قاتلانہ حملے کیے، جس سے حماس کے قائدین کو نقصان پہنچا ہے۔

اس وقت جماعت کے کسی عہدے کے لیے کسی شخصیت کےنام پرغور نہیں کیا گیا، تاہم جو بھی ہوگا اس کا فیصلہ وقت آنے پر کیا جائے گا۔

پی آئی سی: کیا حماس صدارتی انتخابات کی دوڑ میں شامل ہوگی اور اس کا امیدوار کون ہوگا؟

ڈاکٹر مرزوق:۔۔۔۔ صدارتی انتخابات میںحصہ لینے کے بارے میں فی الحال حماس کی قیادت نے کوئی غور نہیں کیا ہے۔ ہماری پہلی کوشش قومی حکومت کا قیام ہے۔ اس کے بعد اس معاملے پرغورکیا جاسکتا ہے۔

پی آئی سی:۔۔۔ غزہ کی تعمیرنو اور فنڈز کی صدر محمود عباس کو فراہمی کے تنازع کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟

ڈاکٹرمرزوق:۔۔۔ جہاں تک غزہ کی تعمیر نواور عرب لیگ کی جانب سے اس کے فنڈز کی بات ہے تو ہمیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ عرب لیگ نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے ہیں۔ غزہ کی پٹی پر سنہ 2009 کے اسرائیلی حملے کے بعد فلسطینی صدرمحمود عباس عرب ممالک کے دورے پر گئے تو عرب لیگ نے غزہ کی تعمیر نو اور بحالی کےلیے جمع کردہ 37 ملین ڈالرز انہیں دے دیے، جن میں سے ایک ڈھیلہ بھی غزہ کی تعمیر نو پرصرف نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد شرم الشیخ میں ہونے والی عرب سربراہ کانفرنس میں بھی غزہ کی پٹی کی تعمیر نواور بحالی کے لیے چھ کروڑ ڈالرز کا اعلان کیا گیا تھا۔ غزہ کی حکومت کو اس میں ایک ڈالر بھی نہیں دیا گیا۔ اس لیے غزہ کی پٹی میں حماس کےوزیراعظم اسماعیل ھنیہ کا عرب ممالک سے یہ شکوہ بجا ہے۔ کہ عرب لیگ کی قیادت نے غزہ کی تعمیر میں ان کی مدد نہیں کی بلکہ تمام رقوم صدر محمود عباس کو فراہم کردی گئیں۔


:دیگر مضامین
(26.10.2012) ذبح اسماعیل علیہ السلام ۔ بارگاہ خداوندی سے سیدنا اسمٰعیل علیہ السلام کی قربانی کا حکم
(15.09.2012) سرطانِ پستان سے متعلق دس سوالات ۔از۔ڈاکٹر نذیر مشتاق
(28.08.2012) شاہ چراغ،سیدنا امامزادہ میراحمد بن امام موسیٰ کاظم ۔ از۔پیر سید علی عباس شاہ۔
(26.06.2012) "القدس اور مسجد اقصیٰ کی خاطر ہزار بار جیل جانے کو تیار ہوں"شیخ رائد صلاح
(21.05.2012) ادبی نام ، قلمی نام - یہ تو فیض و فراز جیسے بڑے لوگوں کی باتیں ہیں
(12.05.2012) القدس اور مسجد اقصیٰ کی خاطر ہزار بار جیل جانے کو تیار ہوں۔شیخ رائد
(27.04.2012) انجمن امامیہ بلتستان کے نائب صدر شیخ جواد حافظی کا عالمی اخبار کو خصوصی انٹڑویو
(25.04.2012) فاطمہ سلام اللہ علیہا جن پر خاندان نبوت کو ناز ہے۔سید اکمل حسین
(24.04.2012) فاطمتہ الزھرا س کی سیرت خواتین عالم کے لئے مشعل راہ و ھدایت کا مرکز
(04.03.2012) سچی سچی دل کی باتیں۔۔۔عالمی اخبار میں احتشام جمیل کے ساتھ۔۔
(03.03.2012) امام ابومحمد حسن عسکری علیہ السلام کی ولادت باسعادت۔از۔ سید اکمل حسین
(20.02.2012)  خالد مشعل سے خصوصی مُکالمہ " فردِ واحد کی حکمرانی کا دور گذر چکا
(14.02.2012) دورآمریت میں بے بہاقربانیاں دینے والے مسلم لیگی رہنماآفتاب احمد گلوایڈووکیٹ
(09.02.2012) سچی سچی دل کی باتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عالمی اخبار میں احتشام جمیل شامی کے ساتھ
(04.02.2012) ہفتہ وحدت اور مسلمانوں کی ذمہ داریاں ۔ آیت اللہ سید خامنہ ای
(29.01.2012) اللہ کے حبیب اور نبی آخر الزمان کی زندگی عالمین کے لیئے نمونہ ہدایت ہے
(28.01.2012) ماہ صفر المظفر حضورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں
(31.12.2011) خواجہ حافظ شیرازی اپنی ذات میں گویا ایک مکمل جہان تھے
(26.12.2011) قصیدہ بردہ شریف کے خالق امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ
(10.12.2011) فلسطینی مجلس قانون ساز کے ڈپٹی اسپیکر ڈاکٹر احمد بحر کی خصوصی گفتگو



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
شمس جیلانی۔وینکور  »
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  شمس جیلانی۔وینکور   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں