
رمضان المبارک کے ایام ایسے جیسے پر لگا کر اڑ رہے ہیں اور اہل ایمان ہونے کی شرط کو پورا کرنے والے مسلمان اس ماہ مبارک کی برکتوں کو سمیٹ رہے ہیں لیکن وہ جن کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ انہیں اس ماہ صیام میں بند کر دیا جاتا ہے اور کھل کھیل رہے ہیں
مساجد،امام بارگاہوں، کیمونٹی سینٹرز، مسلکی یا کیمونٹی ٹی جہاں بھی جائیے جہاں بھی دیکھئے صدقہ خیرات اور زکوات جمع کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس دوڑ میں سب سے آگے مسلکی اور کیمونٹی ٹی والے ہیں اور ہر طریقے اور ہر حیلے بہانے سے لوگوں کو بہلا کر،ڈرا دھمکا کر، جہنم کا خوف اور جنت کی لالچ دیکر انکی جیب سے کچھ نہ کچھ نکلوانے کی کوشش میں ہیں۔
کیسے ظلم کی بات ہے کہ ایسے مسلکی ٹی ویز پر خاص طور پر زکوات کی مد میں رقم طلب کرنے والے عالم مسلم و مومن کو جی بھر بے وقوف بنا رہے ہیں یہ کہہ کر رمضان میں ہی زکوات دی جاتی ہے۔ اب کیا کریں کہ عام مسلم و مومن کا اپنا دینی علم نہ ہونے کے برابر ہے اسی لیئے وہ ان دین فروشوں کے ہتھے یرغمالی بنا ہوا ہے۔

یہ ملاں مولوی اور پیسہ اکٹھا کرنے والے یہ حق سچ بھی نہیں بتاتے کہ صرف رمضان ہی زکوات کی ادائیگی کا مہینہ نہیں ہے، شرع محمدی کے مطابق اور احکام الہی کے مطابق آپ سال کے کسی بھی مہینے میں زکوات ادا کر سکتے ہیں۔ یہ خود اپنی سہولت اور ضرورت کے مطابق آپکو خود طے کرنا ہے آپ کے لیئے سال کا کون سا مہینہ درست وقت ہے
اللہ پاک عام مسلم و مومن کو دین شناسی کی توفیق دے اور ان ظالم نام نہاد وردی پوشوں کو کم از کم اس برکتوں اور نیکیاں جمع کرنے والے مہینے میں ہی سچ کہنے کی توفیق دے
الکحل کو کس طرح اور کن چیزوں کے ذریعہ بنایا جاتا ھے اورالکحل کتنے طریقوں کا ھوتا ھے یہ ایک علم ھے اور ایسی چیزوں کی تحقیق کرنا دین کی ذمہ داری نھیں ھے دین کی ذمہ داری یہ ھے کہ بیان کرے کہ الکحل کو پیا جائے یا نھیں؟
اور اس کا انسان کی روح اور معنوی پھلو کے لئے نقصان دہ ھے یا نھیں دوسرے الفاظ میں اگر یوں کھا جائے کہ دین کی ذمہ داری یہ ھے کہ الکحل کا استعمال کرنا جائزھے یا ناجائز؟ جس طرح دین دوسری چیزوں کے احکام کو بیان کرتا ھے، بلکہ اس علمی اور تحقیقی پھلو کو بیان کرتا ھے دین ان چیزوں کی ترکیبات سے بحث نھیں کرتا بلکہ وہ توان چیزوں اور انسانی روح اور اس کی صلاح اور اچھائی کے رابطہ کو بیان کرتا ھے اور ان کی تحقیق کرتا ھے ،کس عبادت گاہ کا سربراہ کس طرح صحیح طور پر کام کرسکتا ھے اور کس طرح کے پروگرام بنائے جائیں تاکہ اچھے نتائج برآمد ھوسکیں ان سوالوں کا جواب تو زیادہ قریں رہنے والے کے علم میں ہو سکتے ہیں لیکن ان عبادت گاہوں میں جو کچھ ہو رہا ہے اور یہ سربراہاں کون سے تربیتی جائز کار انجام دے رہیںھے اور کون سا کام ماضی یا موجودہ وقت میں انجام دے چکے ہیں یا دینے کا اردہ رکتھے ہیں اور کون سی چیز انسانی روح سے مربوط ھے یہ دین کاکام ھے ۔

لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے ایک طبقہ موجود ہے جو مختلف طریقوں سے افراد کو اپنی زیر انتظام لاتا ہے البتہ یہ شعبہ صرف ایک مغالطہ ھے،وہ شعبہ یہ ھے کہ اگر ملا کے سیاسی اور اجتماعی کاموں میں مداخلت کرے اور لوگوں کو کسی خاص طریقہ کو اپنانے پر زور دے یا کسی کی اطاعت کا حکم دے تو یہ انسان کی آزادی کے خلاف ھے اور انسان چونکہ آزاد اور صاحب اختیار ھے کہ جو چاھے کرے جو چاھے نہ کرے،اور اس کو کسی کام پر مجبور کرنے کا کسی کو کوئی حق نھیں ھے، اور چونکہ دین انسان کے لئے تکلیف معین کرتا ھے، اور اس کو کسی کی اطاعت کا حکم کرتا ھے اطاعت بھی اطاعت مطلق (یعنی چون و چرا)یہ سب کچھ آزادی سے میل نھیں کھاتا۔
سربراہ عبادت گاہ اور مولوی تو دینداری کا ڈنکا بجاتا ھے اور خود کو قرآن کا ماننے والا کہتاھے اور اپنے شعبہ کو مومنین اور متدین افراد پر کارگر کرنے کے لئے اس کو قرآنی اور دینی محمل سے سجاتا ھے اور کہتا ھے کہ اسلام، انسان کی آزادی کا خاطر خواہ احترام کرتا ھے اور قرآن کریم دوسروں کے تسلط اور حکومت کی نفی کرتا ھے یھاں تک کہ خود پیغمبر اسلام کسی پر تسلط (حق حکومت) نھیں رکھتے تھے، اور کسی کو مجبور نھیں کیا گیا لھٰذا قرآن کے نظریہ کے مطابق انسان آزاد ھے اور کسی کی اطاعت پر مجبور نھیں ھے ۔
َذَکِّرْإنَّمَااٴَنْتَ مُذَکِّرٌ لَسْتَ عَلَیْھمْ بِمُصَیْطِرْ
”تم تو بس نصیحت کرنے والے ھو، تم کچھ ان پر داروغہ تو ھو نھیں“
اس آیت کے پیش نظر، پیغمبر اسلام سب سے بلند و بالا مقام رکھتے ھیں جب وہ تسلط نھیں رکھتے اور مسلمان آزاد ھیں ان پر پیغمبر کی اطاعت کرنا لازم نھیں ھے اور پیغمبر اکرم کو لوگوں کی زندگی کے بارے میں اظھار خیال کرنے کا حق بالکل نھیں ھے۔
وَمَا جَعَلْنَاکَ عَلَیْھمْ حَفِیْظاً وَمَا اٴَنْتَ عَلَیْھمْ بِوَکِیْلٍ۔
”اور ھم نے تم کو لوگوں کا نگھبان تو بنایا نھیں ھے اور نہ تم ان کے ذمہ دار ھو“
( وَمَا عَلَی الرَّسُولِ إلاَّ الْبَلاَغُ۔)
”(ھمارے )رسول پر پیغام پھونچادینے کے سوا (اور)کچھ(فرض) نھیں“
( إِنَّا ھدَیْنَا ہ السَّبِیْلَ إمَّا شَاکِراً وَإِمَّا کَفُوْراً۔)
”اور ھم نے (انسان) کو راستہ بھی دکھادیا (اب وہ) خواہ شکر گذار ھو خواہ ناشکرا“
( وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَبِّکُمْ فَمَنْ شَاءَ فَلْیُوٴمِنُ وَ مَنْ شَاْءَ فَلْیَکْفُرْ۔)
”(

اے رسول) تم کھہ دو کہ سچی بات (کلمہ توحید) تمھارے پروردگار کی طرف سے (نازل ھوچکی ھے) بس جو چاھے مانے اور جو چاھے نہ مانے“
ان تمام اشکال میں لوگوں کے بارے میں پیغمبر اکرم کی رائے خود اپنے بارے میں ان کی رائے پر مقدم ھے اس آیت کے سلسلہ میں تمام مفسرین قرآن اس بات پر متفق ھیں، لھٰذا مسلمانوں کو چاھیئے کہ پیغمبر کی رائے کو اپنی رائے پر مقدم رکھیں اور پیغمبر کی رائے کی مخالفت کرنے کا حق نھیں رکھتے
چونکہ انسان مختار ھے لھٰذا اس کو کسی کام پر مجبور نھیں کیا جاسکتا اور کوئی بھی حکومت انسان کے لئے الزامی احکام نافذ نھیں کرسکتی کیوں کہ انسان آزاد ھے جس طرح چاھے عمل کرے اور آزادی کا سلب کرنا ھے اور آزادی کا سلب کرنا یا انسانیت کا سلب کرنا لھٰذا کوئی بھی قانون قابل اعتبار نھیں ھے اور جنگلی راج اور عسر و حرج کو قبول کرلیں۔
لھٰذا وہ انسان جو عد ل انصاف کا عادی نہ ہو ور کوئی بھی ظلم کرنے سے نہ گھبراتا ھو وہ سربراہ عبادت گاہ ہر گز نھیں ھوسکتا (معاذاللہ ) کیا خدا وند عالم ظالم ھے کہ اس کے گھر کی سربراہ کرنے والا یا عبادت کروانے وال بھی ظالم ھو ؟درست ملا یا سربراہ عبادت وہ فرد ہو سکتا ہے جو اپنی فردی اور اجتماعی زندگی میں خدائی حفاظت کا اظھار کرے نہ یہ کہ جو دو پیروں سے انسانی شکل میں چلتا ھو وہ سربراہ جائز ھے لھٰذا وہ افراد جو لوگوں کو گمراہ کرنے اور اپنی قوم میں تفرقہ ڈالنے یا قوم کو درھم و برھم کرنے میں لگا ھو وہ افراد نہ یہ کہ اشرف المخلوقات نھیں ھیں بلکہ انسانی شکل میں شیطان ھیں جن کو خدا وند عالم حیوانوں سے بھی بدتر کھتاھے ان لوگوں کے بارے میں ارشاد ھوتا ھے:
(إِنَّ شَرَّ الدَّوَابُّ عِنْدَ اللّٰہ الصُّمُّ الْبُکْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ )
”اس میں شک نھیں کہ زمین پر چلنے والے تمام حیوانات سے بدتر خدا کے نزدیک وہ بھر ے گونگے (کفار) ھیں جو کچھ نھیں سمجھتے“
انسان کی عظمت و بزرگی اس کے کردارسے ھے اور جو چیز یں انسان کی آزادی میں مانع ھوں وہ قابل قبول نھیں ھے یہ ایک دھوکہ والانعرہ ھے جو مغرب کی زمین میں لگایا جاتا ھے اور دوسرے ملکوں میں بھی اسے قبول کیا جاتا ھے جبکہ اس کے لوازمات اور اثرات پر توجہ نھیں کی جاتی اور نعرہ پر پا فشاری کی جاتی ھے بے شک اس نعرہ کے جواب میں کہ جس میں بہت سے اغراض و مقاصد پوشیدہ ھیں ایک تفصیلی بحث کی ضرورت ھے اور انشاء اللہ بعد میں اس سلسلہ میں بحث کی جائے گی