|
سو بہتر یہ ہوگا کہ پہلے اپنا احتساب کیجئے۔۔۔از۔۔۔زرقا مفتی
05.08.2012, 02:50am , اتوار (GMT+1)
زرقا مفتی
پاکستان کے عوام اپنے روایتی سیاستدانوں سے حد درجہ مایوس ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کی ایک بڑی اکثریت انتخابی عمل سے کنارہ کش ہو چکی ہے۔ ہمارے لئے انتخابات صرف چہرے بدلنے کا عمل ہے۔ یہ وہ عمل نہیں جس سے ہماری قوم کی تقدیر بدل سکے۔پچھلے ساٹھ اکسٹھ سال سے اقتدار کے ایوانوں میں بے ایمان اور بد کردار چہروں کی باریاں بدل بدل کر رونمائی ہو رہی ہے اور ہمارا ملک ذلت اور پستی کی نئی انتہاوں کو پہنچ رہا ہے۔ مذہبی سیاسی جماعتوں نے بھی کسی قابل. رشک کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا اس لئے عوام ملک کی قیادت ان جماعتوں کو سونپنے کے لئے تیار نہیں۔ ایسے میں عوام کا کسی متبادل قیادت کی طرف متوجہ ہونا ایک فطری اور ناگزیر عمل تھا۔
عمران خان کی تحریک کی صورت میں عوام کو ایک بہتر متبادل نظر آیا۔ اور تحریک کے اجتماعات میں عوام کی بھر پور شرکت نے روایتی سیاستدانوں کی راتوں کی نیندیں حرام کردیں۔ سب سے زیادہ تکلیف اصولی سیاست کی دعوے دار ن لیگ کو ہوئی۔ اور انہوں نے تحریک انصاف کی اندھا دھند تقلید شروع کر دی۔ تحریک نے سستی روٹی کے لئے کچھ تندور قائم کئے تو ن لیگ نے سستی روٹی سکیم کا اعلان کردیا حکومتی خزانے سے اربوں روپے اس جعلی سکیم میں جھونک د یئے۔ پھر اپنی تقلیدی مہم میں اپنی مقبولیت ثابت کرنے کے لئے جلسوں کا اہتمام کیا۔ ان جلسوں میں سرکاری ملازمین کی حاضری یقینی بنا کر پنڈال تو بھر لئے مگر جوش ار جذبہ نہ پیدا کرسکے۔ تحریک نے لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی کے خلاف ریلیوں کا اہتمام کیا تو شہباز شریف صاحب خود احتجاج کرنے لگے۔ شاید وہ تاریخ کے پہلے حکومتی عہدیدار ہیں جو اپنی ہی حکومت کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ انہوں نے اپنے عالیشان دفاتر کو چھوڑ کر خیمےمیں دفتر لگایا۔ اور ہاتھ کا پنکھا جھلتے رہے ۔ یہ اور بات ہے کہ شام ڈھلے سرکاری خرچ پر دن بھر کی کوفت دور کرنے مری کے پہاڑوں میں جاتے رہے ۔
ان کی خیمہ گردی کا عوام کو فائدے کی بجائے اُلٹا نقصان ہونے لگا۔ صوبائی دارالحکومت میں چوری ڈاکے کی شرح حد سے بڑھ گئی کیونکہ پولیس کی ساری نفری تو اُن کی خیمہ بستی کی حفاظت پر مامور رہتی ہے۔
مگر افسوس کا مقام یہ ہے کہ ن لیگ کے اصول پسند راہنماوں کی پھرتیاں بھی عوام کو اور خصوصا نوجوانوں کو اُن کا گرویدہ نہ بنا سکیں۔ آنے والے انتخابات کے متوقع نتائج ایک ڈراونے خواب کی طرح ن لیگ کے راہنماوں کے حواسوں پر مسلط ہو چکے تھے اب اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ عمران خان کی برسوں کی کمائی ہوئی نیک نامی کو داغدار کیا جائے۔
اخباری اطلاعات کے مطابق ناکام (ن)لیگ نے ایک سیل قائم کیا ہے جو عمران خان اور ان کی جماعت کی کردار کشی کے ٖلئے کام کرے گا۔ ہم سب اس اخباری خبر کو جھوٹ ہی سمجھتے اگر ناکام لیگ کے منہ پھٹ راہنما شوکت خانم اسپتال پر ایک بھونٹا الزام نہ لگاتے ۔
میرا خیال ہے کہ ہر پاکستانی کسی نہ کسی حوالے سے شوکت خانم اسپتال کی کارکردگی سے واقف ہے۔ مجھے یاد ہے میرا بیٹا ابھی اسکول داخل ہی ہوا تھا کہ اس اسپتال کی تعمیر کے لئے مہم جاری تھی۔ بالغوں سے زیادہ بچوں نے اس مہم کو پذیرائی بخشی تھی۔ اور سلام ہے شوکت خانم کی نتظامیہ کو کہ انہوں نے معصوم فرشتوں کی امانتوں کو ایک عظیم الشان اسپتال کی شکل میں واپس کیا۔ یہ اُنہی دنوں کی بات ہے کہ میرا بھائی شوکت خانم کے آڈٹ ( حسابات کی جانچ پڑتال) کے لئے گیا تھا۔ پاکستان کے بے شمار کاروباری اور فلاحی اداروں کے حساب کتاب کی جانچ پڑتال کرنے والے میرے بھائی کا کہنا تھا کہ اس ادارے کے تمام معاملات انتہائی شفاف ہیں۔ ہمارے ایک قریبی عزیز کینسر کے جان لیوا مرض میں مبتلا ہوئے تو میرے شوہر اُن کے ساتھ پہلی مرتبہ شوکت خانم گئے ۔ مرض کی تشخیص کے بعد اسپتال کے نمائندے نے علاج کے اخراجات بتائے اور دریافت کیا کہ آپ یہ اخراجات کس طرح ادا کریں گے۔ ہمارے عزیز بے روزگار تھے انہوں کل اخراجات کا دس فیصد دینے کی حامی بھری اور اُن کا علاج شروع ہو گیا۔ ساڑھے پانچ سال تک اُن کا علاج جاری رہا ۔ اس طویل عرصے کے دوران کسی ڈاکٹر یا نرس یا عملے کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔ نہ ہی کسی موقع پر یہ ظاہر ہوا کہ مریض کا امدادی رقم پر علاج چل رہا ہے۔ نہ ہی اس عرصہ میں علاج یا دیگر سہولیات کے معیار میں کچھ کمی آئی۔ یہ تو صرف ایک مریض کی کہانی ہے۔ اور ایسی لاکھوں کہانیاں ہیں ۔ ایسے لاکھوں خاندانوں کی دُعائِیں شوکت خانم کی انتظامیہ کے لئے ہیں اور انہی لاکھوں کی بد عائیں شوکت خانم کے بد خواہوں کے لئے ہیں۔
شوکت خانم اسپتال کا تقابل کسی بھی بین الاقوامی معیار کے حامل اسپتال سے کیا جا سکتا ہے ۔ مریضوں سے متعلق تمام معلومات کمپیوٹر پر محفوظ رہتی ہیں ۔ کیا پنجاب میں ناکام لیگ کی حکومت کسی سرکاری اسپتال میں ایسا نظام قا ئم کر سکی ہے ۔ ان کی حکومے تو مچھر مار مہم بھی ڈھنگ سے نہیں چلا سکی۔ ان کے زیرانتظام چلنے والے اسپتالوں کی بد انتظامی کا عالم یہ ہے کہ دل کے مریضوں کو جان پچانے والی دوا کی جگہ جان لیوا دوا دی جاتی رہی ۔ درجنوں نوزائیدہ بچے آگ میں جل کر ہلاک ہوگئے۔ ان کی اصول پسندی کی اور کای مثال دیں کہ عدالت عالیہ کے ھکم کے باوجود ڈاکٹروں کے لئے سروس سٹرکچر نہیں بنا سکی۔
اب آتے ہیں ناکام لیگ کے گھٹیا الزام کی طرف جس کے مطابق شوکت خانم نے زکوۃ اور عطیات کی رقوم ناجائز طور پر بیرون ملک کسی کاروبار میں لگائیں اور اُس کاروبار میں خسارے کے باٰعث ان رقوم میں خیانت کی گئی۔
اسپتال کی نتظامیہ نے وضاحت کردی ہے کہ یہ رقم شوکت خانم کے انڈومنٹ فنڈ کے نام پر وصول کی گئی تھی اور اسی کے تحت کاروبار میں لگائی گئی تھی۔ الزام لگانے والے شاید یہ نہیں جانتے کہ انڈومنٹ فنڈ کسے کہتے ہیں اور یہ کیسے کام کرتا ہے سو اُن کی سہولت کے لئے یہ چند سطور درج ہیں
An investment fund set up by an institution in which regular withdrawals from the invested capital are used for ongoing operations or other specified purposes. Endowment funds are often used by nonprofits, universities, hospitals and churches. They are funded by donations, which are tax deductible for donors. سو بہتر یہ ہوگا کہ پہلے اپنا احتساب کیجئے مقابلہ ہی کرنا ہے تو صحتمند مقابلہ کیجئے ۔ مقابلے پر کوئی ایسا اسپتال کھڑا کیجئے۔ دعائیں لیجئے بدعائیں نہ لیجئے ۔ اپنی توانائیاں انتخابی مہم کے لئے بچا کر رکھیئے۔ عمران خان کی تحریک کی مقبولیت کم کرنے کی کوشش چھوڑ کر اپنی جماعت کی طرف توجہ دیجئے دیکھئے آپ کی گھٹن زدہ پارٹی کے پنجرے سے کون کونسے کبوتر پرواز کرنے کے در پے ہیں۔ اُن کے پر کاٹیئے یا اُنہیں دانہ ڈالئے ۔ مزید یہ کہ نیب میں آپ کی قیادت کےخلاف مقدمات کھولے جا چکے ہیں ۔ ان کے دفاع کی تیاری کیجئے ۔ آپ کے کالے دھن کی پرواز کہاں کہاں تک ہے یہ رازبھی کھلنے والا ہے۔
آخر میں روایتی ناکام سیاستدانوں سے دست بستہ درخواست ہے کہ شوکت خانم ہمارا قومی اثاثہ ہے اسکی نیک شہرت کو داغدار کرنے کی کوشش مت کیجئے کیونکہ بڑے بوڑھے کہہ گئے ہیں چاند پر تھوکا منہ پر آپڑتا ہے
|