|
آج کا انتخاب۔شب قدر کو رمضان کی آخری طاق راتوں میں تلاش کرنا
16.07.2015, 07:12am , جعمرات (GMT+1)
حدثنا عبد الله بن يوسف، أخبرنا مالك، عن نافع، عن ابن عمر ـ رضى الله عنهما ـ أن رجالا، من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم أروا ليلة القدر في المنام في السبع الأواخر، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم "أرى رؤياكم قد تواطأت في السبع الأواخر، فمن كان متحريها فليتحرها في السبع الأواخر". ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک رحمہ اللہ علیہ نے خبردی، انہیں نافع نے، او رانہیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند اصحاب کو شب قدر خواب میں ( رمضان کی ) سات آخری تاریخوں میں دکھائی گئی تھی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے سب کے خواب سات آخری تاریخوں پر متفق ہو گئے ہیں۔ اس لیے جسے اس کی تلاش ہو وہ اسی ہفتہ کی آخری ( طاق ) راتوں میں تلاش کرے۔ آخری عشرہ کی طاق راتیں 21-23-25-27-29 مراد ہیں۔ تشریح : اس حدیث کے تحت حافظ صاحب فرماتے ہیں۔ و فی ہذا الحدیث دلالۃ علی عظم قدر الرویاءوجواز الاستناد الیہا فی الاستدلال علی الامور الوجودیۃ بشرط ان لا یخالف القواعد الشرعیۃ ( فتح ) یعنی اس حدیث سے خوابوں کی قدر و منزلت ظاہر ہوتی ہے اور یہ بھی کہ ان میں امور وجودیہ کے لیے استناد کے جواز کی دلیل ہے بشرطیکہ وہ شرعی قواعد کے خلاف نہ ہو، فی الواقع مطابق حدیث دیگر مومن کا خواب نبوت کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔ قرآن مجید کی آیت شریفہ الا ان اولیاءللہ الخ میں بشریٰ سے مراد نیک خواب بھی ہیں، جو وہ خود دیکھے یا اس کے لیے دوسرے لوگ دیکھیں۔ حدیث نمبر : 2016 حدثنا معاذ بن فضالة، حدثنا هشام، عن يحيى، عن أبي سلمة، قال سألت أبا سعيد وكان لي صديقا فقال اعتكفنا مع النبي صلى الله عليه وسلم العشر الأوسط من رمضان، فخرج صبيحة عشرين، فخطبنا وقال "إني أريت ليلة القدر، ثم أنسيتها أو نسيتها، فالتمسوها في العشر الأواخر في الوتر، وإني رأيت أني أسجد في ماء وطين، فمن كان اعتكف مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فليرجع". فرجعنا وما نرى في السماء قزعة، فجاءت سحابة فمطرت حتى سال سقف المسجد وكان من جريد النخل، وأقيمت الصلاة، فرأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يسجد في الماء والطين، حتى رأيت أثر الطين في جبهته. ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا کہا کہ ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا کہ میں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا، وہ میرے دوست تھے، انہوں نے جواب دیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے دوسرے عشرہ میں اعتکاف میں بیٹھے۔ پھر بیس تاریخ کی صبح کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف سے نکلے اور ہمیں خطبہ دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے لیلۃ القدر دکھائی گئی، لیکن بھلا دلی گئی یا ( آپ نے یہ فرمایا کہ ) میں خود بھول گیا۔ اس لیے تم اسے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ میں نے یہ بھی دیکھا ہے ( خواب میں ) کہ گویا میں کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں۔ اس لیے جس نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہو وہ پھر لوٹ آئے اور اعتکاف میں بیٹھے۔ خیر ہم نے پھر اعتکاف کیا۔ اس وقت آسمان پر بادلوں کا ایک ٹکڑا بھی نہیں تھا۔ لیکن دیکھتے ہی دیکھتے بادل آیا اور بارش اتنی ہوئی کہ مسجد کی چھت سے پانی ٹپکنے لگا جو کھجور کی شاخوں سے بنی ہوئی تھی۔ پھر نماز کی تکبیر ہوئی تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیچڑ میں سجدہ کرر ہے تھے۔ یہاں تک کہ کیچڑ کا نشان میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر دیکھا۔
|