قانون اور زندگی
(حضرت امام حسینؑ کے ارشادات کی روشنی میں حسینی دائرۃ المعارف کی علمی و تحقیقی جہات پر ایک نظر)
تجزیہ و تبصرہ: حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا میرزا محمد جواد

قانون اور نظم دو ایسے اصول ہیں کہ جن کا انسانی زندگی اور معاشرے کے ساتھ گہرا ربط پایا جاتا ہے، جو زندگی قانون کے مطابق گذاری جائے، اس میں ترقی و پیشرفت یقینی ہوتی ہے، لیکن جس معاشرے میں قانون نہ ہو یا قانون تو پایا جائے لیکن اس پر عمل نہ ہو تو وہ معاشرہ تیزی سے زوال کی طرف گامزن ہوجاتا ہے،
اسی لئے فطرت انسانی نے ابتدائے خلقت سے اس بات کو درک کر لیا کہ زندگی گزارنے کے لئے قانون کا ہونا لازم و ضروری ہے لہذا ہر زمانے میں بشریت نے اپنے دور کی ضرورتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے قانون بنائے اور عوام الناس کو ان قوانین پر عمل کرنے کی ہدایات بھی دیں، لیکن چونکہ انسان خطا، نسیان اور سہو کا شکار ہے اور وہ بیک وقت بشریت کی تمام مشکلات کو جاننے سے قاصر بھی ہے لہذا اکثر یہ دیکھا گیا کہ کچھ ہی عرصے کے بعد تصویب شدہ قانون میں ترمیم کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، جس کے نتیجہ میں وہ قانون بدل دیا جاتا ہے، بعض وقت تو یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ایک ہی قانون میں کئی مرتبہ ترمیم واقع ہوتی ہے، لہذا اس مقام پر انسانی عقل یہ کہتی ہے کہ کوئی ایسا قانونگذار ہونا چاہئے جو خطا، سہو اور نسیان سے دور رہ کر ایسے قوانین بنائے جن میں کسی بھی قسم کا نقص نہ ہو، اور جن کی وجہ سے کسی پر نہ ظلم ہو اور نہ ہی کسی کا حق ضایع ہوجائے، گرچہ اس احساس کے ہونے کے باوجود آج بھی تمام قومیں دعوے دار ہیں کہ ہم ہی بہترین قانونگذار ہیں جبکہ ان میں سے ہر ایک یہ خوب جانتا ہے کہ ان کا یہ دعوی حقیقت سے کوسوں دور ہے، لیکن بیجا تکبر و نخوت انھیں اس حقیقت کو قبول کرنے سے روک دیتے ہیں، البتہ جو قومیں انصاف پسند ہیں وہ مختصر تحقیق و بررسی کے بعد اس نتیجہ تک پہنچ جاتی ہیں کہ پروردگار کی ذات ہی بہترین قانونگذار ہے چونکہ وہی انسان کا خالق ہونے کے اعتبار سے اسکی تمام ضرورتوں سے باخبر ہے۔
لہذا اصل قانونگذار اللہ تبارک و تعالی کی ذات ہے کہ جس نے انبیاء کو ایسے قوانین (شریعت) کے ساتھ بھیجا کہ جن میں نہ کسی قسم کا نقص پایا جاتا ہے اور نہ ہی ان سے کسی کی حق تلفی ہوتی ہے، مختلف ادوار میں اللہ کی جانب سے شریعت کی شکل میں قوانین آتے رہے اور صاحبان شریعت انبیاء نے ان قوانین کو اجرا کیا، یہاں تک کے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آخری قانون کی کتاب یعنی قرآن مجید کے ساتھ ہمارے درمیان تشریف لائے۔
قرآن مجید وہ کتاب ہے جس میں مختصر و مفید انداز میں قیامت تک لئے قوانین موجود ہیں جن کا استخراج اور ان پر عمل کروانا ہر زمانے کے معصوم کا فریضہ ہے، کیونکہ یہی وہ افراد ہیں جو قرآن مجید کو صحیع معنی میں درک کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں "وما یعلم تاویله الا اللہ و الراسخون فی العلم"(آل عمران:۷) لہذا رسول اسلام سے لے کر حضرت امام مہدی علیہم السلام تک تمام معصومین نے اپنے اپنے دور میں قرآن مجید کے قوانین سے لوگوں کی ضرورتوں کو پورا فرمایا ہے۔
چونکہ قرآن مجید کے قوانین کا ادراک معصومین علیہم السلام کی بیان کردہ احادیث کے بغیر ممکن نہیں، لہذا ہر زمانے میں انکی بیان کردہ احادیث پر بررسی و تحقیق کی ضرورت محسوس کی گئی تاکہ ان کے ذریعہ قوانین الٰہیہ کو صحیح طرح سمجھا جا سکے، اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے آیت اللہ محمد صادق الکرباسی نے حسینی دائرۃ المعارف کی دس جلدوں کو "الحسین و التشریع الاسلامی" سے مخصوص فرمایا ہے تاکہ امام حسین علیہ السلام کی ان احادیت پر بررسی و تحقیق کی جاسکے کہ جن سے اسلامی قوانین اخذ کئے جاتے ہیں۔
"الحسین و التشریع الاسلامی" کی چار جلدیں منظر عام پر آچکی ہیں جن میں مصنف نے اسلامی شریعت کے مقدمات و متعلقات پر گفتگو کی ہے، اور چوتھی جلد کے نصف آخر میں ان فقہی قوانین کو پیش کیا ہے کہ جو امام حسین علیہ السلام کے قول، فعل، اور تقریر سے اخذ گئے ہیں، ہم اس مقام پر جلد اول (جو ۵۳۱ صفحات پر مشتمل ہے اور سنہ ۲۰۰۰م میں چھپ کر منظر عالم پر آچکی ہے) میں پیش کردہ مقدماتی مباحث سے استفادہ کرتے ہوئے زندگی میں قانون کی اہمیت و ضرورت اور افادیت و تاثیر پر روشنی ڈالتے ہیں اور اسلامی قوانین کی تدوین و عملی اجراء کا مرحلہ وار جائزہ لے کر حضرت امام حسینؑ کے ارشادات و فرمودات کے حوالے سے ہونے والے علمی و تحقیقی عمل پر نظر ڈالتے ہیں۔
تشریع اور مشرِع:
قانون گذاری کے عمل کو تشریع کہتے ہیں (التشریع ھو وضع السنن و المناھج)، اور مختلف تعریفوں کو مد نظر رکھتے ہوئے شریعت کا اطلاق ان فقہی، اخلاقی اور اعتقادی احکام و قوانین پر ہوتا ہے کہ جنھیں خدا بشر کی سعادت کے لئے وضع کرتا ہے، لہذا اصل مشرِع (قانونگذار) خدا کی ذات ہے اور انبیاء کو صاحب شریعیت یا محافظ شریعت کہا جاتا ہے، جو الٰہی قوانین کے ذریعہ لوگوں کو سعادت کی راہ دکھا کر حکومت الٰہی برقرار کرتے ہیں تاکہ ان قوانین کو مرحلۂ اجرا تک پہنچایا سکے۔
تشریع (قانونگذاری) کی تاریخ:
حضرت آدم سے قیامت تک تشریع کے چھ ادوار ہیں:
۱۔ نزول آدم سے بعثت نوح تک۔
۲۔ بعثت نوح سے بعثت ابراہیم تک۔
۳۔ بعثت ابراہیم سے بعثت موسی تک۔
۴۔ بعثت موسی سے میلاد مسیح تک۔
۵۔ میلاد مسیح سے بعثت رسول اسلام تک۔
۶۔ بعثت رسول سے اس جہان کے خاتمہ تک۔
اس آخری مرحلے کے تین ادوار ہیں:
۱۔ دور نبوت: یہ دور بعثت نبی سے شروع ہو کر ۲۸/۲/۱۱ ھ کو ختم ہوا۔
۲۔ دور امامت: یہ دور وفات رسول سے شروع ہو کر غیبت کبری ۳۲۹ھ پر ختم ہوا۔
۳۔ دور مرجعیت: یہ دور غیبت کبری سے شروع ہوا اور ظہور امام زمانہ(ع) تک جاری رہے گا۔
شریعت آدم:
اولین صاحب شریعت جناب آدم تھے جو سنہ ۶۸۸۰ قبل از ہجرت کو پیدا ہوئے اور سنہ۵۹۵۰ قبل از ہجرت میں وفات پائی، جناب آدم اپنی نسل کے لئے نبی اور رسول تھے، جن پر اللہ نے ۲۱ صحیفوں کو نازل فرمایا۔
شریعت نوح:
دوسرے صاحب شریعت نبی جناب نوح تھے جن کے نام میں اختلاف پایا جاتا ہے بعض نے ان کا نام عبد الغفار ذکر کیا ہے تو بعض نے عبد الملک، اور بعض دیگر نے ان کو عبد الاعلی کے نام سے بھی موسوم کیا ہے۔
جناب نوح سنہ ۵۸۲۴ قبل از ہجرت کو پیدا ہوئے اور آپ نے سنہ ۳۳۲۴ قبل از ہجرت میں وفات پائی، جناب نوح نجار تھے اور آپ نے ۹۵۰ سال تک اپنی قوم کو توحید کی طرف دعوت دی تھی جس کا کوئی فائدہ نہ ہوا، اس طرح اللہ نے ان کی قوم کو ۲۰۰ سال کی مہلت دے دی، جناب نوح نے اسی مدت میں کشتی بنائی اور اس مہلت کے اختتام پر عذاب نازل ہوا، طوفان کے بعد آپ نے ۵۰۰ سال زندگی پائی، جناب نوح کے اجداد پر ۸۰ صحیفے نازل ہوئے جن پر وہ خود عمل کرکے لوگوں کو ان کی تعلیم دیا کرتے تھے، یہ تمام صحیفے سریانی زبان میں نازل ہوئے۔
شریعت ابراہیم (شریعت حنیفیہ):
تیسرے صاحب شریعت نبی جناب ابراہیم بن تارخ بن ناحور تھے جو سنہ ۲۲۴۳ قبل از ہجرت کو متولد ہوئے اور سنہ ۲۰۶۸ قبل از ہجرت میں وفات پائی،
گرچہ جناب ابراہیم کے پیروکار آج موجود نہیں ہیں لیکن ان کی شریعت یہودی، نصرانی، اور اسلامی شریعتوں کے لئے مرجعیت کی حیثیت رکھتی ہے، خود رسول اسلام کو شریعت ابراہیمی پر عمل کرنے کا حکم ہوا ہے جیسا کہ خداوند عالم فرماتا ہے: ثم اوحینا الیک ان اتبع ملة ابراھیم حنیفا (نحل: ۱۲۳)۔
جناب ابراہیم کی شریعت میں دس سنتیں ایسی تھیں جو قیامت تک باقی رہیں گی اور وہ سنتیں یہ ہیں:
۱۔ سر کا منڈوانا، ۲۔ مونچھوں کا کاٹنا، ۳۔ داڑھی کا نہ مونڈنا، ۴۔ مسواک کرنا، ۵۔ دانتوں میں خلال کرنا، ۶۔ غسل جنابت کرنا، ۷۔ ناخن کاٹنا، ۸۔ شرمگاہ اور بدن سے اضافی بالوں کا نکالنا، ۹۔ ختنہ کرنا، ۱۰۔ پانی سے طھارت لینا۔
حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مذکورہ ۱۰ سنتوں کو بحکم خدا اپنی شریعت میں شامل فرمایا ہے۔
شریعت موسی (شریعت یھودیہ):
چوتھے صاحب شریعت نبی جناب موسی تھے جو شہر مصر میں سنہ ۱۵۶۸ قبل از ہجرت کو پیدا ہوئے اور سنہ ۱۴۴۲ قبل از ہجرت میں وفات پائی، جناب موسی پر عبرانی زبان میں توریت نازل ہوئی، اور آپ کے اوصیاء کی تعداد بارہ تھی جن کے اسامی یہ ہیں:
۱۔ یوشع بن نون بن افرانیم بن یوسف بن یعقوب۔
۲۔ کالب بن یوفنا۔
۳۔ حزقیل بن بوری بن العجوز۔
۴۔ اسماعیل بن حزقیل صادق الوعد۔
۵۔ الیاس بن یس بن فنحاص بن عیزار بن ہارون بن عمران۔
۶۔ الیسع بن اخطوب بن فنحاص بن عیزار۔
۷۔ اِلیا۔
۸۔ عویدیا ( ذو الکفل) بن ادریم۔
۹۔ اشموئیل بن بالی بن علقمہ بن ماجد بن عموصا بن النہر بن ضون بن علقمہ الہارونی۔
۱۰۔ داود بن ایشا بن عوفید بن یوعز بن سلمون بن یخشون، بن عمینوذب بن رم بن حضرون بن بارض بن یہوذا۔
۱۱: سلیمان بن داود
۱۲۔ زکریا بن برخیا بن نشوا بن نحرائیل بن سہلون بن ارسوا بن شویل بن یعود بن موسی بن عمران۔
گرچہ جناب داود اور سلیمان نبی تھے اور جناب داود پر زبور نازل ہوئی تھی لیکن اس کے باوجود وہ صاحب شریعت نہیں کہلائے اور ان کا شمار نبی ہونے کے ساتھ ساتھ اوصیاء ابراہیم میں ہوتا ہے۔
شریعت عیسی (شریعت نصرانیہ):
پانچویں صاحب شریعت نبی جناب عیسی تھے جو سنہ ۶۴۲ قبل از ہجرت کو متولد ہوئے، آپ پر اللہ نے عبرانی زبان میں انجیل کو نازل فرمایا، اور سنہ ۶۰۹ قبل از ہجرت کو جناب عیسی آسمان پر اٹھا لئے گئے۔
جناب عیسی کے بارہ حواری تھے جو در حقیقت ان کے شاگرد اور ان کے مذہب کی تبلیغ کرنے والے تھے، ان بارہ افراد کے نام یہ ہیں:
۱۔ اندراوس، ۲۔ برتلماوس، ۳۔ بطرس، ۴۔ توما، ۵، الغیور، ۶۔ فلیبس، ۷۔ متی، ۸۔ یعقوب الکبیر، ۹۔ یعقوب الصغیر، ۱۰۔ یہودا تداوس، ۱۱۔ یہوذا، ۱۲۔ یوحنا۔
شریعت اسلام ( شریعت محمدیہ):
حضرت محمدصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پانچویں اور آخری صاحب شریعت نبی ہیں جو شریعت اسلام کے ساتھ ہمارے درمیان تشریف لائے، آپ کی ولادت سنہ ۵۳ قبل از ہجرت کو ہوئی اور آپ نے سنہ اا ہجری میں وفات پائی، آپکی شریعت قیامت تک باقی رہنے والی ہے۔
مذکورہ تمام شریعتوں کو بیان کرنے کے بعد مصنف نے اسلامی نظام پر بحث کی ہے اور فرمایا کہ اسلامی حکومت بارہ اصولوں پر استوار ہوتی ہے، ہم یہاں ان اصولوں کے نام ذکر کرنے پر اکتفا کرتے ہیں:
احترام، عقل، علم، محبت، اتحاد، حریت، عدل، مساوات، نظم، مشورت، اخلاص، دانش و فرہنگ۔
شریعت اسلام کی تاریخ اور اس کی پیشرفت:
اسلامی قانونگذاری (کہ جسے تشریع کہا جاتا ہے) کی ابتدا رسول اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علی و آلہ و سلم کے مبعوث برسالت ہونے سے شروع ہوئی، اس دور سے لے کر آج تک قانون گذاری کے دو مرحلے ہیں:
۱۔ اس مرحلہ کو عصر وحی کہا جاتا ہے جو ۲۷ رجب سنہ ۱۳ قبل از ہجرت کو شروع ہوکر ۲۸ صفر سنہ ۱۱ ہجری کو رسول اسلام کی رحلت کے ساتھ ختم ہوا، یہ وہ دور تھا کہ جس میں ہر قانون کو وحی الہی سے نسبت دی جاتی تھی چاہے وہ وحی، قرآن یا حدیث قدسی ، یا پھر ان احادیث کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو کہ جن کا مضمون تو وحی الٰہی تھا لیکن الفاظ رسول اسلام کے ہوا کرتے تھے۔
۲۔ اس مرحلے کو عصر امامت کہا جاتا ہے، جو ۱۱ ہجری سے شروع ہوا اور آج تک باقی ہے۔
تشریع کے مصادر:
تمام مسلمان، قرآن و سنت نبوی کو ہر قانون کا مصدر و مرجع جانتے ہیں لیکن جن مصادر میں مسلمانوں کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے وہ ۱۶ مصدر ہیں، اس مقام پر آیت اللہ محمد صادق الکرباسی نے ان مصادر کے تمام جوانب پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالتے ہوئے انکی حجیت و عدم حجیت پر بحث کی ہے، اور وہ ۱۶ مصادر یہ ہیں:
۱۔ اہلبیت نبی کی سنت، ۲۔ اجماع، ۳۔ عقل، ۴۔ قیاس، ۵۔ فقہاء کی آراء، ۶۔ استحسان، ۷۔ مصالح مرسلہ، ۸۔ ذرائع، ۹۔ عرف، ۱۰۔ گذشتہ شریعتیں، ۱۱۔ مذہب صحابی، ۱۲۔ قرعہ، ۱۳، حیل شرعیہ، ۱۴۔ شہرت، ۱۵۔ سیرت، ۱۶۔ اصول عملیہ۔
مصنف نے ان تمام مصادر پر علمی گفتگو کے بعد آخرمیں ایک جدول پیش کیا ہے جس کے ذریعہ واضح ہوتا ہے کہ اباضیہ، امامیہ، حنفیہ، حنبلیہ، زیدیہ، شافعیہ اور مالکیہ میں سے کس مذہب کے نزدیک کونسا مصدر قابل قبول اور کونسا مصدر ناقابل قبول ہے۔
مدرسۂ حدیث اور مدرسۂ رائے:
پیغمبر اسلام کی وفات سے پہلے اصحاب رسول میں اختلاف پیدا ہوا اور وہ دو فرقوں میں تقسیم ہوگئے، پہلے فرقے نے رائے پر تکیہ کیا تو دوسرے فرقے نے حدیث پر، مدرسۂ رائے کے بانی عمر ابن خطاب اور مدرسۂ حدیث کے بانی علی ابن ابیطالب(ع) تھے۔
یہ دو فکری مدارس اس وقت وجود میں آئے جب رسول اسلام نے فرمایا: ائتونی بکتاب اکتب لکم کتابا لاتضلوا بعدہ (صحیح مسلم جلد ۱ ص۲۲۲، صحیح بخاری جلد ۱ ص ۳۹ باب کتاب العلم)، تب عمر بن الخطاب نے کہا ان النبی لیھجر حسبنا کتاب اللہ۔
تاریخ اسلام میں سب سے پہلے حدیث رسول کی مخالفت میں شخصی رائے عمر ابن الخطاب نے پیش کی اور حسبنا کتاب اللہ کا نعرہ بلند کیا جس کے بعد انھوں نے احادیث نبوی کی اس قدر مخالفت کی کہ ابوبکر کی خلافت کے ابتدائی دور میں تمام مسلمانوں کو حدیث نبوی کے جلانے کا حکم دے دیا، اور دوسری طرف احکام الہی میں اپنی رائے سے حکم دینے لگے ایک مقام پر وہ ارث جد کے باب میں فرماتے ہیں: اقضی فی الجد برأیی واقول فیه برأیی (الاحکام فی اصول الاحکام للآمدی: جلد ۳، صفحہ ۸۱۔) اسی طرح ابوبکر نے کلالہ کے ارث کے بارے میں فرمایا: اقول فیھا برأیی فان یکن صوابا فمن اللہ، و ان یکن خطأ فمنی و من الشیطان، واللہ و رسوله بریئان منه (روضۃ الناظر: ۱۴۸)
مذکورہ اقوال اور تاریخ کی بررسی سے واضح ہو جاتا ہے کہ مذہب رائے کے بانی اور اس کو پروان چڑھانے والے عمر و ابوبکر تھے اور پھر عثمان اور بنی امیہ نے اپنے دور میں اس مذہب کو تقویت دی۔
علی بن ابیطالب(ع) نے مدرسۂ حدیث کی بنیاد رکھی اور آپ نے ساری زندگی احادیث رسول کو بیان فرمایا اور انہی احادیث کے ذریعہ اپنی خلافت و امامت کو ثابت بھی ثابت کیا، اسی طرح حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے احادیث رسول کی روشنی میں خطبۂ فدک اور دیگر خطبات و احتجاجات فرمائے، لہذا آج بھی علماء شیعہ اپنے تمام فتاوی میں قرآن مجید کے بعد احادیث معصومین علیہم السلام کو ہر قانون کا مصدر و مرجع قرار دیتے ہیں۔
ان مفصل مباحث پر روشنی ڈالنے کے بعد مصنف نے حسینی دائرۃ المعارف کی تمام کتابوں کی طرح اپنے مخصوص انداز میں قارئین کی آسانی کے لئے مختلف فہرستوں کو درج کیا جنمیں فھرست آیات مبارکہ، فھرست احادیث و اخبار، فھرست امثال و حکم، فھرست اعلام و شخصیات، فھرست قبائل و انساب و جماعات، فہرست طوائف و ملل، فہرست اشعار، فہرست تاریخ، فہرست لغوی، فہرست مصطلحات شریعت اور دیگر مفید فہرستیں شامل ہیں، ان فہارس کے بعد پیرس سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر صابرینا میروین کا مقدمہ درج کیا گیا ہے جو پیرس کی یونیورسٹی میں معلم کی حیثیت سے تدریس کرتی ہیں، اس مقدمہ میں صابرینا میروین نے سب سے پہلے واقعۂ عاشورا پر روشنی ڈالی اور پھر مصنف کے علمی کد و کاوش کو دیکھتے ہوئے فرمایا: "الحسین و التشریع الاسلامی" کی پہلی جلد میں مصنف نے بخوبی قانونگذاری کے تمام تاریخی پہلوؤں پرحضرت آدم سے عصر حاضر تک روشنی ڈالی ہے جس میں مصنف نے صرف شریعت محمدیہ پر گفتگو نہیں کی بلکہ تمام آسمانی مذاہب کو تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے اور اسی طرح اسلام کے مختلف فرقوں میں مصادر تشریع پر بھی روشنی ڈالی ہے، مصنف کی اس روش کی وجہ سے اس کتاب کا علمی افق بیحد وسیع و بلند نظر آتا ہے۔
اسلامی قانون گذاری کی عملی تدوین کے تاریخی مراحل پر تجزیاتی نظر کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالی نے بنی نوع انسان کو زندگی بسر کرنے کی آسان ترین راہیں دکھانے کی اپنی ذمہ داری نہایت احسن و مضبوط اور مستحکم انداز میں اس طرح پوری کی کہ آج تک اس سلسلۂ ہدایت کو بقا حاصل ہے اور افراد بشر اس سے استفادہ کرتے ہوئے سعادت و فلاح سے ہمکنار ہو رہے ہیں، اس حوالے سے حضرت امام حسین علیہ السلام کے فرمودات کلیدی حیثیت کے حامل ہیں، ان ارشادات کی علمی و تحقیقی جہات کو آشکار کرنے میں آیت اللہ محمد صادق الکرباسی نے دائرۃ المعارف الحسینیہ میں ایک خاص باب قائم کیا ہے، الحسسین و التشریع الاسلامی کی دس جلدیں اس کا واضح ثبوت ہیں کہ جس کی پہلی جلد سے استفادہ کرتے ہوئے چند بنیادی مطالب ہمارے مد نظر ہیں۔