16.10.2026, 10:35am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » صفدر ھمٰدانی
 

کیاعدلیہ کا فیصلہ فتح و شکست کا معاملہ نہیں؟
14.10.2008, 02:11pm , منگل (GMT+1)

صفدر ھمٰدانی۔لندن
پاکستان اور پاکستان کی عدلیہ کی تاریخ میں جسٹس خلیل الرحمان رمدے کی سربراہی میں تیرہ رکنی فُل بنچ کے دس جج صاحبان نے متفقہ طور پر چیف جسٹس افتخار چوہدری کو مکمل طور پر بحال کر کے ریفرنس بھیجنے والوں کو ‘‘بے حال‘‘ کر دیا ہے۔
اس عدالتی فیصلے نے ایک بار پاکستان کی عدلیہ کو عالمی عدالتی دنیا میں اپنا سر فخر سے بلند کرنے کا موقع دیا ہے اور اس فُل بنچ نے پہلی بار عدالت کی روح اور آزادانہ فیصلے کی بنیاد پر پاکستان میں کسی فوجی حکومت کے آمرانہ مقدمے کے حق میں فیصلہ دینے کی بجائے حق،سچ اور اصول کا ساتھ دیا ہے۔
 نو مارچ سے بیس جولائی تک ہونے والے سارے واقعات اندرون ملک اور بیرون ملک عوام کی نظروں میں ہیں اور سماعت کے دوران جسٹس رمدے نے جس طرح مختلف مواقع پر اپنی آبرویشن دی اس سے یہ بات واضع ہو رہی تھی کہ سرکار یہ مقدمہ نہیں جیت پائے گی اور پھر یہی ہوا۔ اب اس بحث میں پڑے بغیر کہ اس فیصلے کے کیا فوری اور طویل المعیاد اثرات ہوں گے
سب سے پہلی بات یہ دیکھنی ہے کہ سرکار کی طرف سے کون اتنی اخلاقی جرآت کا مظاہرہ کرتا ہے کہ وہ اس غلطی کو تسلیم کرے اور اپنے عہدے سے الگ ہو جائے اس سے قبل کہ کوئی اور عدالتی فیصلہ یا عوام کی عدالت اسے الگ کرے۔
میرے خیال میں اسکی پہلی ذمیداری وزیر اعظم کو انکی قانوی ٹیم کو بشمول قانون سے نابلد وزیر قانون وصی ظفر کو قبول کرنی چاہیئے اور دروغ گوئی کا مقدمہ قائم ہونے سے پہلے باعزت طور پر گھر چلا جانا چاہیئے۔
 میں حیران ہوں اور اس بات  کا ادراک مجھ جیسے عام آدمی کو بھی پہلے سے تھا کہ اس کیس کا فیصلہ آنے کے بعد حکومت کے سارے کارندے ذرائع ابلاغ پر یہ رٹ لگانا شروع کر دیں گے کہ‘‘ یہ کسی کی شکست اور فتح نہیں‘‘ اور‘‘ ہم عدالت کے فیصلے کو من وعن تسلیم کرتے ہیں‘‘ اور‘‘ یہ پہلی حکومت ہے جس نے عدلیہ کو آزادانہ فیصلے کا موقع دیا ہے اور کوئی دخل اندازی نہیں کی اور دباؤ نہیں ڈالا‘‘۔
اب اگر آپ دنیا بھر کے ریڈیو اور ٹی وی دیکھ رہے ہوں تو سارے حکومت کے وزیر،مشیر اور صاحبان تدبیر انہی تین نکات پر بولے جا رہے ہیں اور اسوقت تک بولتے رہیں گے جب تک کوئی ان کی زبان بندی کرتے ہوئے ان سے یہ نہ پوچھے کہ یہ سب کس منہہ سے عدلیہ کے احترام کی بات کرتے ہیں کہ انہی نے سریم کورٹ کے چیف جسٹس کے خلاف کیسے کیسے سوقیانہ الزامات لگائے۔
کون کہتا ہے کہ عدلیہ کا یہ فیصلہ کسی کی شکست و فتح نہیں؟
یہ فتح ہے پاکستان کی عدالتی تاریخ کی اور شکست ہے عدالتوں پر ہمیشہ دباؤ ڈال کر فیصلے کروانے والے عناصر کی۔
یہ فتح ہے عدل و انصاف کی اور شسکت ہے جھوٹ،غلط بیانی اور الزام تراشی کی۔
یہ فتح ہے عوام کی اور عوام کے جذبات کا احترام کرنے والوں کی اور شکست ہے عوام دشمن اور آمریت نواز طاقتوں کی۔
 شکست کھانے والے اب اس قسم کے بیانات دے کر ددراصل اپنی کھال بچانا چاہتے ہیں۔
 کاش اس ملک کے عوام اب اٹھ کھڑے ہوں اور ایسی قوتوں کے یومِ حساب کو قریب سے قریب تر لے آئیں۔
اس اسلامی مملکت میں ‘‘کزب اور کاذب ‘‘ کی سزا معین ہے اور کاش کوئی جلد ہی اس باوقار سپریم کورٹ میں دروغ گوئی پر منحصر اس ریفرنس کوپیش کرنے والوں کے خلاف مقدمہ دائر کرے کہ کاذب کو کزب کی سزا ملنی چاہیئے کہ آئیندہ کوئی ملک کے عوام اور اسکے باوقار اداروں کی عزت سے کھیلنے کی کوشش نہ کرے۔
میں نے پہلے بھی اپنے ایک کالم میں لکھا تھا کہ کسی جج کو یہ ہمت کرنی ہو گی کہ وہ اس ملک کی خفیہ ایجنسیوں کے سربراہوں کو عدالت میں طلب کرے اور ان سے ان غیر قانونی سرگرمیوں کا حساب مانگے اور یہ طے کرے کہ یہ خفیہ ایجنسیاں حکمرانوں کے ہاتھ میں نہیں کھیلیں گی۔ کاش اب کوئی عدالت یہ بھی سراغ لگائے کہ چیف جسٹس کے خلاف اس ریفرنس کی ابتدا کس ملکی ادارے نے کی تھی اور کس کے اشارے پر یہ سارا کھیل کھیلا گیا؟

:دیگر مضامین
(14.10.2008) ملک کی خفیہ ایجنسیوں کو کیا کوئی پوچھنے والا ہے
(14.10.2008) جولائی 7”سیون سیون“ لندن کی خوفناک یادیں
(14.10.2008) ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف امریکی کوششیں جاری
(14.10.2008) وہی قتل بھی کرے ہے وہی لے ثواب اُلٹا
(14.10.2008) فہیم جوزی کی ایک نظم ‘‘اندھیرا‘‘
(14.10.2008) جمیل ملک،حسین و جمیل بھی اور ملک صفت بھی
(14.10.2008) قومے فروختند چہ ارزاں فروختند
(14.10.2008) ‘‘ستم کا یہ کھیل ختم سمجھو‘‘
(14.10.2008) جیتے گا کون دیکھئے نفرت کے کھیل میں
(14.10.2008) پمرا ترمیمی آرڈینینس یا کالا قانون
(14.10.2008) پاکستان میں ذرائع ابلاغ کو تاریخی آزادی دینےکی طرف ایک اور قدم؟
(14.10.2008) ظالمو جواب دو خون کا حساب دو۔۔اس نعرے کا خالق
(14.10.2008) کہاں سے ڈھونڈھ کے لاؤں تمہیں قمر عباس۔تیسری قسط
(14.10.2008) کہاں سے ڈھونڈھ کے لاؤں تمہیں قمر عباس۔دوسری قسط
(14.10.2008) خدا رحم کرے گا-یہ کہنا بھی اب ایک جھوٹ اور مذاق لگتا ہے
(14.10.2008) کہاں سے ڈھونڈھ کے لاؤں تمہیں قمر عباس۔پہلی قسط
(14.10.2008) پھر آ گیا ہوں لوٹ کے شہرِ پناہ میں
(14.10.2008) اک طرفہ تماشہ ہے حسرت کی طبیعت بھی
(14.10.2008) اور اب ارشاد حسین بھی مجھے چھوڑ کے چلا گیا
(14.10.2008) کیوں نہ میں آپ کے لب ورُخسار چوم لوں



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں