پاکستان اور
پاکستان کی عدلیہ کی تاریخ میں جسٹس خلیل الرحمان رمدے کی سربراہی میں
تیرہ رکنی فُل بنچ کے دس جج صاحبان نے متفقہ طور پر چیف جسٹس افتخار
چوہدری کو مکمل طور پر بحال کر کے ریفرنس بھیجنے والوں کو ‘‘بے حال‘‘ کر
دیا ہے۔
اس عدالتی فیصلے نے ایک بار پاکستان کی عدلیہ
کو عالمی عدالتی دنیا میں اپنا سر فخر سے بلند کرنے کا موقع دیا ہے اور اس
فُل بنچ نے پہلی بار عدالت کی روح اور آزادانہ فیصلے کی بنیاد پر پاکستان
میں کسی فوجی حکومت کے آمرانہ مقدمے کے حق میں فیصلہ دینے کی بجائے حق،سچ
اور اصول کا ساتھ دیا ہے۔
نو مارچ سے بیس جولائی تک ہونے والے سارے
واقعات اندرون ملک اور بیرون ملک عوام کی نظروں میں ہیں اور سماعت کے
دوران جسٹس رمدے نے جس طرح مختلف مواقع پر اپنی آبرویشن دی اس سے یہ بات
واضع ہو رہی تھی کہ سرکار یہ مقدمہ نہیں جیت پائے گی اور پھر یہی ہوا۔
اب اس بحث میں پڑے بغیر کہ اس فیصلے کے کیا فوری اور طویل المعیاد اثرات
ہوں گے
سب
سے پہلی بات یہ دیکھنی ہے کہ سرکار کی طرف سے کون اتنی اخلاقی جرآت کا
مظاہرہ کرتا ہے کہ وہ اس غلطی کو تسلیم کرے اور اپنے عہدے سے الگ ہو جائے
اس سے قبل کہ کوئی اور عدالتی فیصلہ یا عوام کی عدالت اسے الگ کرے۔
میرے خیال میں اسکی پہلی ذمیداری وزیر اعظم کو انکی قانوی ٹیم کو
بشمول قانون سے نابلد وزیر قانون وصی ظفر کو قبول کرنی چاہیئے اور دروغ
گوئی کا مقدمہ قائم ہونے سے پہلے باعزت طور پر گھر چلا جانا چاہیئے۔
میں
حیران ہوں اور اس بات کا ادراک مجھ جیسے عام آدمی کو بھی پہلے سے تھا کہ
اس کیس کا فیصلہ آنے کے بعد حکومت کے سارے کارندے ذرائع ابلاغ پر یہ رٹ
لگانا شروع کر دیں گے کہ‘‘ یہ کسی کی شکست اور فتح نہیں‘‘ اور‘‘ ہم عدالت
کے فیصلے کو من وعن تسلیم کرتے ہیں‘‘ اور‘‘ یہ پہلی حکومت ہے جس نے عدلیہ
کو آزادانہ فیصلے کا موقع دیا ہے اور کوئی دخل اندازی نہیں کی اور دباؤ
نہیں ڈالا‘‘۔
اب اگر آپ دنیا بھر کے ریڈیو اور ٹی وی دیکھ رہے ہوں تو سارے حکومت
کے وزیر،مشیر اور صاحبان تدبیر انہی تین نکات پر بولے جا رہے ہیں اور
اسوقت تک بولتے رہیں گے جب تک کوئی ان کی زبان بندی کرتے ہوئے ان سے یہ نہ
پوچھے کہ یہ سب کس منہہ سے عدلیہ کے احترام کی بات کرتے ہیں کہ انہی نے
سریم کورٹ کے چیف جسٹس کے خلاف کیسے کیسے سوقیانہ الزامات لگائے۔
کون کہتا ہے کہ عدلیہ کا یہ فیصلہ کسی کی شکست و فتح نہیں؟
یہ فتح ہے پاکستان کی عدالتی تاریخ کی اور شکست ہے عدالتوں پر ہمیشہ دباؤ ڈال کر فیصلے کروانے والے عناصر کی۔
یہ فتح ہے عدل و انصاف کی اور شسکت ہے جھوٹ،غلط بیانی اور الزام تراشی کی۔
یہ فتح ہے عوام کی اور عوام کے جذبات کا احترام کرنے والوں کی اور شکست ہے عوام دشمن اور آمریت نواز طاقتوں کی۔ شکست کھانے والے اب اس قسم کے بیانات دے کر ددراصل اپنی کھال بچانا چاہتے ہیں۔
کاش اس ملک کے عوام اب اٹھ کھڑے ہوں اور ایسی قوتوں کے یومِ حساب کو قریب سے قریب تر لے آئیں۔
اس اسلامی مملکت میں ‘‘کزب اور کاذب ‘‘ کی سزا معین ہے اور کاش کوئی
جلد ہی اس باوقار سپریم کورٹ میں دروغ گوئی پر منحصر اس ریفرنس کوپیش کرنے
والوں کے خلاف مقدمہ دائر کرے کہ کاذب کو کزب کی سزا ملنی چاہیئے کہ
آئیندہ کوئی ملک کے عوام اور اسکے باوقار اداروں کی عزت سے کھیلنے کی کوشش
نہ کرے۔
میں نے پہلے بھی اپنے ایک کالم میں لکھا تھا کہ کسی جج کو یہ ہمت
کرنی ہو گی کہ وہ اس ملک کی خفیہ ایجنسیوں کے سربراہوں کو عدالت میں طلب
کرے اور ان سے ان غیر قانونی سرگرمیوں کا حساب مانگے اور یہ طے کرے کہ یہ
خفیہ ایجنسیاں حکمرانوں کے ہاتھ میں نہیں کھیلیں گی۔ کاش اب کوئی عدالت یہ
بھی سراغ لگائے کہ چیف جسٹس کے خلاف اس ریفرنس کی ابتدا کس ملکی ادارے نے
کی تھی اور کس کے اشارے پر یہ سارا کھیل کھیلا گیا؟