16.10.2026, 09:45am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 

مضامین/تجزیات » صفدر ھمٰدانی
 

ملک کی خفیہ ایجنسیوں کو کیا کوئی پوچھنے والا ہے
14.10.2008, 02:10pm , منگل (GMT+1)

صفدر ھمٰدانی۔۔ لندن
لال مسجد جو اب لال کم اور گولہ بارود کی وجہ سے سیاہ زیادہ ہے اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ کم ازکم ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ اس مسلے کا از خود نوٹس لے کہ اسقدر بڑی تعداد میں مسجد میں اسلحہ کیسے جمع ہوا؟

کون جانے کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کا معاملہ ختم ہو گیا ہے یا اب شروع ہوا ہے۔ اس تمام فوجی کاروائی کے ما بعد اثرات کیا ہوں گے اس کے بارے میں شاید ہی کوئی تجزیہ نگار بتا پائے۔معاملہ اور صورت حال اب کوئی بھی رُخ اختیار کرے اس امر سے روگردانی ممکن نہیں ہے کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ سے ملنے والا اسلحے کا ڈھیر تمام کا تمام اگر عسکریت پسندوں کا مان بھی لیا جائے تو یہ خفیہ ایجنسیوں کے خلاف ایک ایسی کھلم کھلا چارج شیٹ ہے جس کی موجودگی میں ہو سکتا ہے کہ کسی اور شواہد کی یا مقدمے چلانے کی ضرورت ہی نہ پڑے اور ضیاالحق کے تاریک دور سے لیکر جنرل مشرف کے روشن خیال دور تک کی خفیہ ایجنسیوں کے کارپردازوں اور سربراہوں کو عدالت میں طلب کیا جائے اور اس بات کو طشت از بام کیا جائے کہ یہ سب اسلحہ کس کے ایما پر اور کس مقصد کے لیئے بلا روک ٹوک مسجد اور مدرسے جیسی مقدس جگہ پر جمع کیا جاتا رہا ہے اور وہ بھی دارالحکومت اسلام آباد میں،
ایوان صدر،پارلیمان،سول سیکرٹریٹ اور اعلیٰ ترین قانونی،آئینی اور فوجی اداروں کی بالکل ناک کے نیچے۔ حیرت کی بات یہ کہ کس دھڑلے سے ہمارے فوجی حکام یہ بات دعوے کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ سے سوائے ایٹم بم اور ٹینکوں کے ہرقسم کا اسلحہ برآمد ہوا ہے۔
کوئی اور ہوتا تو یہ بات کہنے سے پہلے کئی مرتبہ سوچتا۔ لیکن یہاں تو عقل بھی ادھار کی ہے۔ فوجی قیادت اور ترجمان کے ایسے کتنے ہی بیانات ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے نشر کیئے ہیں اور ایسے بیانات کی موجودگی میں اگر کوئی عدالت واقعی عدل پر انحصار کرتی ہو تو اسے کوئی بھی لمحہ ضائع کیئے بغیر انہی بیانات کی روشنی میں فوج کے سربراہ تک کو عدالت میں طلب کر کے کھلی عدالت کی شکل میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ الگ کرنا چاہیئے۔
اس عمل میں مذہبی امور کے وفاقی وزیر اعجاز الحق کو بھی شام کیا جائے کہ وہ ایک مدت سے ان لال مسجد والوں کے ثنا خوان رہے ہیں اپنے والد جنرل ضیاالحق کی طرح کہ انہیں کے عہد کا دیا ہوا یہ تحفہ ہے۔ میں یہاں غازی رشید یا انکے ساتھیوں کا دفاع ہر گز نہیں کر رہا لیکن اپنے نہایت باوثوق ذرائع کا کیا کرؤں کہ جنہوں نے پاکستان سے مجھے یہ بتایا کہ غازی رشید کے بڑے بھائی مولانا عزیز نے جو انٹرویو پاکستان کے سرکاری ٹی وی کو سرکار کی ہدایت پر ریکارڈ کروایا اس میں انہوں نے حکومت کے اعلیٰ منصب پر فائز دو افراد کا نام بھی لیا جو انہیں اسلحے کی فراہمی میں مدد دیتے رہے ہیں اور ان دونوں ناموں کو سرکار ہی کی ہدایت پر نکال دینے کے بعد تدوین شدہ اور پہلے سے ریکارڈ کیا گیا انٹرویو نشر کیا جو حکومت اور اطلاعات کی وزارت میں محمد علی درانی،طارق عظیم اور ہر درد کی دوا سیکرٹری اطلاعات انور محمود کا بلاشبہ ‘‘احمقانہ ‘‘ مشورہ تھا جس نے حکومت کی ‘‘نیک نامی‘‘ میں مزید اضافہ کیا۔
 یہ جو بے گناہ مارے گئے ہیں ان کے خون کا جواب کون دے گا؟
عوام کو اس انتہائی اہم سوال کا جواب دیا جانا ابھی باقی ہے کہ وفاقی دارالحکومت کے قلب میں واقع اس جگہ کس طرح اتنا اسلحہ پہنچ گیا۔ سوچنے کی بات ہے کہ کیا لال مسجد آپریشن ختم ہونے کے بعد اب حکومت کو پتہ چلا ہے کہ لال مسجد جامعہ حفصہ کمپلیکس کو دہشت گردی کیلئے استعمال کیا جارہا تھا؟۔
 وزیر داخلہ آفتاب شیر پاؤ نے کہا ہے کہ جامعہ حفصہ مذہبی مدرسہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسی جگہ تھی جہاں ہر قسم کی دہشت گردانہ سرگرمیاں جاری تھیں تاہم انہوں نے یہ وضاحت کرنے کی زحمت گوارا نہ فرمائی کہ اسلام آباد کے قلب میں یہ سب کس طرح ممکن ہوا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ لال مسجد آئی ایس آئی اور آئی بی کے ہیڈ کوارٹر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھی اور اگرچہ عام تاثر یہی پایا جاتا ہے کہ لال مسجد فورس بنانے میں ایجنسیوں کا کردار تھا لیکن حکومت میں کوئی اس الزام کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ستم ظریفی یہ ہے کہ ملکی سلامتی کے خلاف کام کرنے والوں کی جاسوسی کرنے والی انٹیلیجنس ایجنسیاں ججوں، سیاستدانوں، بیورو کریٹس حتیٰ کہ صحافیوں کی جاسوسی میں زیادہ دلچسپی لیتی رہی ہیں اور اب تو حلات یہ ہے کہ یہ ایجنسیاں سیاسی پارٹیاں تشکیل دے رہی ہیں اور حکومت کے مختلف عہدوں کیلئے امیدواروں کا بھی تعین کررہی ہیں۔
کاش اسلام کے نام پر حاصل کی جانے والی اس اسلامی مملکت کی اسوقت امداد کے لیئے کوئی ‘‘بھگوان‘‘ سامنے آئے جو از خود نوٹس لیکر ان سب ملک کے دشمنوں اور غداروں کو عدالت میں بے نقاب کرے اور ایسی سزا دے جسے آنے والی کتنی ہی نسلیں یاد رکھیں۔‘‘اے کاش۔
 
(0) آپکی رائے        پرنٹ        احباب کو بتائیے        اُوپر


:دیگر مضامین
(14.10.2008) جولائی 7”سیون سیون“ لندن کی خوفناک یادیں
(14.10.2008) ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف امریکی کوششیں جاری
(14.10.2008) وہی قتل بھی کرے ہے وہی لے ثواب اُلٹا
(14.10.2008) فہیم جوزی کی ایک نظم ‘‘اندھیرا‘‘
(14.10.2008) قومے فروختند چہ ارزاں فروختند
(14.10.2008) جمیل ملک،حسین و جمیل بھی اور ملک صفت بھی
(14.10.2008) جیتے گا کون دیکھئے نفرت کے کھیل میں
(14.10.2008) ‘‘ستم کا یہ کھیل ختم سمجھو‘‘
(14.10.2008) پمرا ترمیمی آرڈینینس یا کالا قانون
(14.10.2008) پاکستان میں ذرائع ابلاغ کو تاریخی آزادی دینےکی طرف ایک اور قدم؟
(14.10.2008) ظالمو جواب دو خون کا حساب دو۔۔اس نعرے کا خالق
(14.10.2008) کہاں سے ڈھونڈھ کے لاؤں تمہیں قمر عباس۔تیسری قسط
(14.10.2008) کہاں سے ڈھونڈھ کے لاؤں تمہیں قمر عباس۔دوسری قسط
(14.10.2008) خدا رحم کرے گا-یہ کہنا بھی اب ایک جھوٹ اور مذاق لگتا ہے
(14.10.2008) کہاں سے ڈھونڈھ کے لاؤں تمہیں قمر عباس۔پہلی قسط
(14.10.2008) اک طرفہ تماشہ ہے حسرت کی طبیعت بھی
(14.10.2008) پھر آ گیا ہوں لوٹ کے شہرِ پناہ میں
(14.10.2008) اور اب ارشاد حسین بھی مجھے چھوڑ کے چلا گیا
(14.10.2008) کیوں نہ میں آپ کے لب ورُخسار چوم لوں
(14.10.2008) ہم نے نہیں ایک امریکی نے کہا ہے کہ بش خود کو امریکہ کا بادشاہ نہ سمجھیں



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں