کون جانے کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کا معاملہ ختم ہو گیا ہے یا اب شروع ہوا ہے۔ اس تمام فوجی کاروائی کے ما بعد اثرات کیا ہوں گے اس کے بارے میں شاید ہی کوئی تجزیہ نگار بتا پائے۔معاملہ اور صورت حال اب کوئی بھی رُخ اختیار کرے اس امر سے روگردانی ممکن نہیں ہے کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ سے ملنے والا اسلحے کا ڈھیر تمام کا تمام اگر عسکریت پسندوں کا مان بھی لیا جائے تو یہ خفیہ ایجنسیوں

کے خلاف ایک ایسی کھلم کھلا چارج شیٹ ہے جس کی موجودگی میں ہو سکتا ہے کہ کسی اور شواہد کی یا مقدمے چلانے کی ضرورت ہی نہ پڑے اور ضیاالحق کے تاریک دور سے لیکر جنرل مشرف کے روشن خیال دور تک کی خفیہ ایجنسیوں کے کارپردازوں اور سربراہوں کو عدالت میں طلب کیا جائے اور اس بات کو طشت از بام کیا جائے کہ یہ سب اسلحہ کس کے ایما پر اور کس مقصد کے لیئے بلا روک ٹوک مسجد اور مدرسے جیسی مقدس جگہ پر جمع کیا جاتا رہا ہے اور وہ بھی دارالحکومت اسلام آباد میں،
ایوان صدر،پارلیمان،سول سیکرٹریٹ اور اعلیٰ ترین قانونی،آئینی اور فوجی اداروں کی بالکل ناک کے نیچے۔ حیرت کی بات یہ کہ کس دھڑلے سے ہمارے فوجی حکام یہ بات دعوے کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ سے سوائے ایٹم بم اور ٹینکوں کے ہرقسم کا اسلحہ برآمد ہوا ہے۔
کوئی اور ہوتا تو یہ بات کہنے سے پہلے کئی مرتبہ سوچتا۔ لیکن یہاں تو عقل بھی ادھار کی ہے۔ فوجی قیادت اور ترجمان کے ایسے کتنے ہی بیانات ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے نشر کیئے ہیں اور ایسے بیانات کی موجودگی میں اگر کوئی عدالت واقعی عدل پر انحصار کرتی ہو تو اسے کوئی بھی لمحہ ضائع کیئے بغیر انہی بیانات کی روشنی میں فوج کے سربراہ تک کو عدالت میں طلب کر کے کھلی عدالت کی شکل میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ الگ کرنا چاہیئے۔
اس عمل میں مذہبی امور کے وفاقی وزیر اعجاز الحق کو بھی شام کیا جائے کہ وہ ایک مدت سے ان لال مسجد والوں کے ثنا خوان رہے ہیں اپنے والد جنرل ضیاالحق کی طرح کہ انہیں کے عہد کا دیا ہوا یہ تحفہ ہے۔ میں یہاں غازی رشید یا انکے ساتھیوں کا دفاع ہر گز نہیں کر رہا لیکن اپنے نہایت باوثوق ذرائع کا کیا کرؤں کہ جنہوں نے پاکستان سے مجھے یہ بتایا کہ غازی رشید کے بڑے بھائی مولانا عزیز نے جو

انٹرویو پاکستان کے سرکاری ٹی وی کو سرکار کی ہدایت پر ریکارڈ کروایا اس میں انہوں نے حکومت کے اعلیٰ منصب پر فائز دو افراد کا نام بھی لیا جو انہیں اسلحے کی فراہمی میں مدد دیتے رہے ہیں اور ان دونوں ناموں کو سرکار ہی کی ہدایت پر نکال دینے کے بعد تدوین شدہ اور پہلے سے ریکارڈ کیا گیا انٹرویو نشر کیا جو حکومت اور اطلاعات کی وزارت میں محمد علی درانی،طارق عظیم اور ہر درد کی دوا سیکرٹری اطلاعات انور محمود کا بلاشبہ ‘‘احمقانہ ‘‘ مشورہ تھا جس نے حکومت کی ‘‘نیک نامی‘‘ میں مزید اضافہ کیا۔
یہ جو بے گناہ مارے گئے ہیں ان کے خون کا جواب کون دے گا؟
عوام کو اس انتہائی اہم سوال کا جواب دیا جانا ابھی باقی ہے کہ وفاقی دارالحکومت کے قلب میں واقع اس جگہ کس طرح اتنا اسلحہ پہنچ گیا۔ سوچنے کی بات ہے کہ کیا لال مسجد آپریشن ختم ہونے کے بعد اب حکومت کو پتہ چلا ہے کہ لال مسجد جامعہ حفصہ کمپلیکس کو دہشت گردی کیلئے استعمال کیا جارہا تھا؟۔
وزیر داخلہ آفتاب شیر پاؤ نے کہا ہے کہ جامعہ حفصہ مذہبی مدرسہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسی جگہ تھی جہاں ہر قسم کی دہشت گردانہ سرگرمیاں جاری تھیں تاہم انہوں نے یہ وضاحت کرنے کی زحمت گوارا نہ فرمائی کہ اسلام آباد کے قلب میں یہ سب کس طرح ممکن ہوا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ لال مسجد آئی ایس آئی اور آئی بی کے ہیڈ کوارٹر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھی اور اگرچہ عام تاثر یہی پایا جاتا ہے کہ لال مسجد فورس بنانے میں ایجنسیوں کا کردار تھا لیکن حکومت میں کوئی اس الزام کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ستم ظریفی

یہ ہے کہ ملکی سلامتی کے خلاف کام کرنے والوں کی جاسوسی کرنے والی انٹیلیجنس ایجنسیاں ججوں، سیاستدانوں، بیورو کریٹس حتیٰ کہ صحافیوں کی جاسوسی میں زیادہ دلچسپی لیتی رہی ہیں اور اب تو حلات یہ ہے کہ یہ ایجنسیاں سیاسی پارٹیاں تشکیل دے رہی ہیں اور حکومت کے مختلف عہدوں کیلئے امیدواروں کا بھی تعین کررہی ہیں۔
کاش اسلام کے نام پر حاصل کی جانے والی اس اسلامی مملکت کی اسوقت امداد کے لیئے کوئی ‘‘بھگوان‘‘ سامنے آئے جو از خود نوٹس لیکر ان سب ملک کے دشمنوں اور غداروں کو عدالت میں بے نقاب کرے اور ایسی سزا دے جسے آنے والی کتنی ہی نسلیں یاد رکھیں۔‘‘اے کاش۔