16.10.2026, 09:45am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » صفدر ھمٰدانی
 

لبنان میں امریکی مداخلت۔مسلمان حاکم ابھی تک سو رہے ہیں
14.10.2008, 02:12pm , منگل (GMT+1)

صفدر ھمٰدانی-لندن
امریکہ اور صیہونی حکومت 2000 کے آغاز سے لے کر اب تک لبنان میں دو ذلت آمیز شکستوں سے دوچار ہوچکی ہیں ۔
لبنان کی حزب اللہ اور تحریک امل نے ایک مشترکہ بیان جاری کرکے لبنان کے داخلی مسائل میں امریکہ کی مسلسل مداخلت کی مذمت کی ہے ۔اس بیان میں کہا گیا ہے کہ لبنان کے لئے مزاحمتی تحریکوں کی خاص ضرورت ہے اور قومی ذمہ داری کے تحت ان مزاحمتی تحریکوں کی تقویت اور انہیں مضبوط و مستحکم بنانا ایک انسانی فریضہ ہے ۔کیونکہ لبنان میں امن و استحکام، اقتدار اور قومی کرامت و شرافت کے تحفظ کا دارو مدار لبنان کی مزاحمتی تحریکوں سے وابستہ ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی سازش یا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

ایک بات ذرا موضوع سے ہٹ کت اور وہ یہ کہ تاریخ ہر فرد کو اس بات کا موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ اس کی گود میں اپنے لئے ایک جگہ یا مقام بنالے، ہما شما جیسے لوگ نہیں بنا پاتے اور ’مرگئے مردود فاتحہ نہ درود‘ کے مصداق تاریخ کے کباڑ خانے میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے گم ہوجاتے ہیں۔ کچھ تاریخ کے اوراق پر اپنی خون آشام تلوار کی دھار پر انگلیاں پھیر کر لطف اٹھاتے دکھائی دیتے ہیں اور کچھ بنی نوع انسان کے ایک درخشاں مستقبل کے لئے اپنا تن، من، دھن سب ہار جاتے ہیں اور یہی خصوصیت تاریخ میں ان کی شناخت بن جاتی ہے۔

امریکہ نے اپنی سوا دو سو سال کی تاریخ میں ایسی عظیم شخصیتیں پیدا کی ہیں جنہوں نے نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کو انسان کے لئے ایک زیادہ بہتر جگہ بنانے میں ایک نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ان میں بعض نام تو ایسے ہیں جن کی انسانی خدمات کا اعتراف پوری دنیا کو ہے مثلاً تھامس جیفرسن ، ابراہم لنکن، ووڈرو ولسن اور فرینکلین روزویلٹ وغیرہ۔بعض ایسے بھی گزرے ہیں جن کے ایک حکم نے چشم زدن میں ہزاروں کو لقمۂ اجل بنادیا اور بستیوں کی بستیاں ویران کردیں۔
یہ ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔ ہم ان مردم کُش رویے کےامل افراد کی وجہ سے انسانیت دوست افراد کو فراموش نہیں کر سکتے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں مسلم دنیا میں بھی اس زاویے سے نگاہ دوڑانی ہو گی۔ مگر کیا کریں کہ یہاں کی تاریخ تو خادم اور مخدوم کی رہی ہے اور آج بھی مسلمانوں کو سب سے زیادہ نقصان اپنے مسلمان حکمرانوں سے ہی پہنچ رہا ہے۔

لبنان کی 33 روزہ جنگ میں اسرائیل کے مقابلے میں حزب اللہ لبنان کی شاندار کامیابی نے علاقے میں امریکہ کے منصوبوں پر عمل درآمد کی ساری کوششوں کوناکام بنادیا ۔اس لئے امریکہ اور اسرائیل کی سرگرمیاں اسی وقت سے تیز تر ہوگئی ہیں تاکہ وہ لبنان میں فواد سینورہ کی حکومت کے ذریعہ لبنان پر اپنا تسلط قائم کرسکیں امریکہ کئی عشروں سے صیہونی لابی کے پروگراموں کے تحت لبنان میں مغرب اور صیہونی حامی فوج کی تشکیل کی سازشوں میں مصروف ہے ۔لیکن امریکہ کے سارے منصوبے خاص طور پر حالیہ دوعشروں کے دوران لبنان میں حزب اللہ کے وجود میں آنے کے بعد سے ناکام ہوچکے ہیں ۔

امریکہ اور صیہونی حکومت  2000 کے آغاز سے لے کر اب تک لبنان میں دو ذلت آمیز شکستوں سے دوچار ہوچکی ہیں ۔پہلی شکست اس وقت ہوئی جب 22 سال تک جنوبی علاقے پر قابض رہنے کے بعد صیہونی فوجیوں کو مجبورا" یہ علاقہ خالی کرنا پڑا اور دوسری ذلت آمیز شکست لبنان کی 33 روزہ جنگ میں اٹھانی پڑی ۔33 روزہ جنگ نے یہ ثابت کردیا کہ لبنان صرف حزب اللہ کی وجہ سے محفوظ اور زندہ ہے ۔اسی لئے لبنان میں تعیینات امریکی سفیر سفارتی اصول و قوانین کے خلاف چودہ مارچ کے نام سے موسوم دھڑے کے رہنماؤں کے یہاں جاتے ہیں اور ان کے ساتھ مل کر حزب اللہ لبنان کو کمزور یا کچلنے کے لئے صلاح و مشورہ کرتے ہیں ۔
 تحریک امل اورحزب اللہ نے قبل از وقت لبنان کے داخلی مسائل میں امریکہ کی آشکارا مداخلت کی مذمت کرتے ہوئے امریکہ کوہر طرح کی سازشوں سے خبردار کیا ہے۔
جب اسرائیل نے انیس سو بیاسی میں میں لبنان پر حملہ کیا تھا تو تب اس کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد پی ایل او کے جنگجوؤں کو شمالی اسرائیل سے تقریبا چالیس کلومیٹر دور دھکیلنا تھا۔ یہ موقف آج بھی جانا پہچانا سا لگتا ہے۔تاہم انیسو سو بیاسی میں اسرائیلی وزیر دفاع ایرئیل شیرون کی سوچ اس وقت ظاہر ہوئی جب ان کے فوجی بیروت پر چڑھ دوڑے اور ایک عرب دارالحکومت پر قبضہ کر لیا۔
اس وقت فلسطینی تحریک کا پی ایل او کو تباہ کرکے خاتمہ، شامی فوجیوں کو لبنان سے نکالنا اور بیروت میں کوئی حامی حکومت تعینات کرنا کافی بلند اور مشکل اہداف تھے۔

اسرائیل پی ایل اور کو تباہ کرنے میں ناکام رہا تاہم اسے دبانے میں کامیاب رہا۔ یاسر عرفات اور ان کے جنگجوؤں کو بحری جہازوں کے ذریعے وہاں سے نکال کر تیونس پہنچایا گیا تھا۔ البتہ یہ کامیابی بھی بڑے کشت و خون کے بعد حاصل ہوئی تھی۔ یاسر عرفات بعد میں واپس اپنے وطن لوٹے اور بطور فلسطینی اتھارٹی کے صدر فوت ہوئے۔اسرائیل کے دوسرے اہداف شام اور ایران کے مزید قریب آنے سے ناقابل حصول ہوئے۔

اس زمانے میں لبنان کی اکثریتی شیعہ آبادی نے جو فلسطین کی گوریلہ جنگ کی قیمت ادا کرنے کی وجہ سے اس سے تنگ آ چکی تھے ابتدائی طور پر اسرائیلی حملے کا خیر مقدم کیا تھا۔ تاہم اسرائیل کے طول پکڑتے قبضے نے اس کے خلاف نفرت کو جنم دیا جس کا بعد میں شام اور ایران نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ یہاں حزب اللہ نے جنم لیا جس نے اسرائیل کو وہاں سے نکالنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
حزب اللہ نے خودکش حملہ آوروں اور دیگر ذریعوں کی مدد سے شام کے حامی گروپوں سے مل کر کثیرالمکی فورس کو بھی وہاں سے جانے پر مجبور کر دیا تھا۔ اس فورس نے قیام امن کے لیئے اسرائیل سے بیروت کا کنٹرول حاصل کیا تھا۔
    
یہ حقائق اب کسی بھی ملک کو ذہن میں رکھنا ہوں گے جو جنوبی لبنان کے سرحدی علاقے میں بین الاقوامی فورس کا حصہ بننے کے بارے میں سوچ رہا ہوگا۔ انیس سو تراسی میں امریکہ، فرانس، اٹلی اور برطانیوی فوجیوں پر مشتمل اس فورس کو وہاں سے نکلنا پڑا تھا۔
اس کے سترہ برس بعد اسرائیل کو بھی سرحدی علاقے سے سینکڑوں جانوں کا نقصان اٹھا کر واپس ہونا پڑا تھا۔ سنہ دو ہزار میں حزب اللہ نے اس خالی علاقہ میں اپنے قدم جما لیئے۔ اب بارہ جولائی کے حملے کے بعد جس میں جزب اللہ نے سرحد پار حملے میں آٹھ اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک جبکہ دو کو یرغمال بنا لیا، تاریخ ایک مرتبہ پھر اپنے آپ کو دوہرا رہی ہے لیکن چند تبدیلیوں کے ساتھ۔

اسرائیل نے لبنان پر ایک خونی حملہ کیا ہے جس کے پس پشت سیاسی مقاصد بھی ہیں۔ اس کا خیال ہے کہ وہ اپنے حلیف امریکہ کی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ لڑ رہا ہے۔ اس کی خواہش ہے کہ وہ حزب اللہ کو تباہ کر دے یا کم از کم اسے غیرمسلح کرکے اسرائیل پر میزائل داغنے کی پہنچ سے دور کر دے۔ وہ چاہتا ہے کہ یا تو لبنانی فوج یا پھر کوئی بین الاقوامی فورس سرحدی علاقے کا خیال رکھے۔

تاہم اس سارے تناظر میں یہی طے پایا کہ حزب اللہ کو مٹانا ممکن نہیں۔ اس کی جڑیں لبنان کی سب سے بڑی برادری میں ہیں۔ اعتدال پسند شیعہ تحریک عمل کے ساتھ اتحاد کی شکل میں وہ شیعہ سیاست پر حاوی ہے۔ اسرائیل جتنا زور بھی لگا لے وہ پی ایل او کی طرح اسے بحری جہازوں پر تیونس نہیں روانہ کر سکتا۔

لبنانی عوام اور انفراسٹرکچر کو بھاری نقصان پہنچا کر اسرائیل بظاہر لبنانی حکومت پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ حزب اللہ کارروائیوں کو بند کرے۔ مگر یہ پالیسی بھی زیادہ کام نہ آئی۔ حزب اللہ ملیشیا کافی طاقتور، مسلح اور متحرک ہے۔ اس کا نمونہ اسرائیل کو سنہ دو ہزار میں دیکھنے کو مل چکا ہے۔

حزب اللہ کے خلاف لبنانی فوج بھی زیادہ موثر دکھائی نہیں دیتی۔ اس میں بڑی تعداد شیعوں کی ہے۔ اسے اگر حزب اللہ کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے تو یہ یقینا غیرموثر ثابت ہوگی۔ یہ بھی ستر اور اسی کی دہائیوں میں دیکھا جا چکا ہے۔
ایسے میں اسرائیل کے پاس دیگر راستے ہیں کون سے؟ اب تک کی کارروائی سے ظاہر نہیں ہوتا کہ حزب اللہ کو کوئی خاص فرق پڑا ہے۔ اگر وہ تنظیم کے سربراہ شیخ حسن نصراللہ کو ختم کر بھی دیتے ہیں تو بھی یہ اس بات کی گارنٹی نہیں ہوگی کہ اس سے اس بحران پر کوئی اثر پڑ سکے گا۔ اس سے قبل انیس سو بانوے میں ایک اسرائیلی رکٹ سے عباس مساوی بھی قتل ہوئے تھے جس کا اسرائیل کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
طوالت کے پیش نظر بات کو یہیں تمام کرتے ہوئے دیکھنا یہ ہے کہ کیاتاریخ اپنے آپ کو دوہرا رہی ہے؟

:دیگر مضامین
(14.10.2008) کیاعدلیہ کا فیصلہ فتح و شکست کا معاملہ نہیں؟
(14.10.2008) ملک کی خفیہ ایجنسیوں کو کیا کوئی پوچھنے والا ہے
(14.10.2008) ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف امریکی کوششیں جاری
(14.10.2008) جولائی 7”سیون سیون“ لندن کی خوفناک یادیں
(14.10.2008) وہی قتل بھی کرے ہے وہی لے ثواب اُلٹا
(14.10.2008) فہیم جوزی کی ایک نظم ‘‘اندھیرا‘‘
(14.10.2008) قومے فروختند چہ ارزاں فروختند
(14.10.2008) جمیل ملک،حسین و جمیل بھی اور ملک صفت بھی
(14.10.2008) ‘‘ستم کا یہ کھیل ختم سمجھو‘‘
(14.10.2008) جیتے گا کون دیکھئے نفرت کے کھیل میں
(14.10.2008) پمرا ترمیمی آرڈینینس یا کالا قانون
(14.10.2008) پاکستان میں ذرائع ابلاغ کو تاریخی آزادی دینےکی طرف ایک اور قدم؟
(14.10.2008) ظالمو جواب دو خون کا حساب دو۔۔اس نعرے کا خالق
(14.10.2008) کہاں سے ڈھونڈھ کے لاؤں تمہیں قمر عباس۔تیسری قسط
(14.10.2008) کہاں سے ڈھونڈھ کے لاؤں تمہیں قمر عباس۔دوسری قسط
(14.10.2008) خدا رحم کرے گا-یہ کہنا بھی اب ایک جھوٹ اور مذاق لگتا ہے
(14.10.2008) کہاں سے ڈھونڈھ کے لاؤں تمہیں قمر عباس۔پہلی قسط
(14.10.2008) پھر آ گیا ہوں لوٹ کے شہرِ پناہ میں
(14.10.2008) اک طرفہ تماشہ ہے حسرت کی طبیعت بھی
(14.10.2008) اور اب ارشاد حسین بھی مجھے چھوڑ کے چلا گیا



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں