|
خواب کا دیا ۔۔۔ از ۔۔۔۔۔ ڈاکٹر نگہت نسیم۔۔۔۔سڈنی
29.09.2016, 04:23am , جعمرات (GMT+1)
نگہت نسیم ۔ سڈنی
زندگی نہ تو دو رُخی تھی اور نہ ہی دوغلی ۔ اس کو کچھ میں نے ہی ایسا سمجھ لیا تھا۔ حالا نکہ سب کچھ میرے اندر تھا اور پھر ہونے والے سارے واقعات میرے باہر ہور ہے تھے۔ سمجھ دار انسان تو وہی ہوتے ہیں جو اندرباہر کے سارے پریشر میںایڈجسٹ ہوتے جاتے ہیں شاید پڑھے لکھے لوگ اِسے ADAPTATIONکہیںمگر اس دنیا میں مجھ جیسی ہزاروں بے وقوف لڑکیاں ہوں گی جن کی سمجھ بوُجھ ایسے وقت میں انڈر پریشر ہوکُکرکر کی طرح سٹی بجانے لگتی ہے ‘ گویا اپنا آپ اُبلنے اور پھرپھٹ پڑنے کا الارم خود ہی بجا دے ۔ غلطی کہاں تھی‘ آج ہی مجھے فیصلہ کرنا تھا۔ آج ایسی لڑکی کو اسپیشل بننا تھا یا پھر ADAPTATIONکے آخری ہُنر کی آزمائش تھی۔ آخرکچھ تو کرنا ہے‘ بہلنے کے لیے‘ سمجھنے کے لیے اور کئی غلطیوں کو کبھی نہ دہرانے کے لیے۔ ’’ زندگی کو کبھی ۲۰ گز اور ۱۲۰ گز زمین کے اندر نہیں گھومنا چاہیے۔ بھلا یہ بھی کوئی زندگی ہے۔ ہر خواہش کا سفر انگریزی کا SUFFER بن جا تاہے ۔‘‘ نیلم کی بڑبڑاہٹ بجلی کے جانے سے مزید بڑھ جاتی تھی‘ حالانکہ وہ بے حد خوش اخلاق اور قناعت پسند لڑکی تھی۔ اُسے یوں ہی اُلجھنے کی عادت نہ تھی۔ جو کچھ بھی ہوتا‘ ٹیبل پر ہوتا ۔ اور یوں دلوں میںکبھی گرہ نہ پڑتی تھی۔ یہ دانشمندی میں نے اُس سے سیکھی تھی۔ وہ میری بڑی بہن تھی۔ اور کبھی کبھی امی جی چپکے سے اُس میں اُتر آتی تھیں۔ تب میں اُس سے ڈر جایا کرتی تھی۔ میں کیا بابر بھی اطاعت میں سر جھُکا لیا کرتا تھا۔ ابا جی کی غیر ضروری حمایت بھی اُنہیں حاصل تھی ۔ یہ بات مجھے بہت دیر بعد پتہ چلی کہ وہ اُن اسپیشل لڑکیوں میں سے ایک تھیں جن کی سمجھ عمر کی قید سے آزاد ہوتی ہے۔ بردباری اور تحمل اُن کے لیے خاص تحفہ ہوتاہے۔ خفا ہونا اُنہوں نے سیکھا ہی نہ تھا۔ مزاج کی نرمی اور سلوک کا حسن اُن پر ختم تھا۔ میں‘ پھر میرے بعد بابر تھا۔ ہم دونوں کی جان اُن میں بند تھی۔ اس سکون اور اطمینان کو کبھی زمین اور گھر کے ایک سو بیس گز پر ہونے کا غم نہ ہواتھا۔ اگر کبھی ہوتا تو صرف بجلی کے عین گرمیوں میں دوپہرکے وقت چلے جانے سے پتہ نہیں بڑے بڑے لان نہ ہونے کا غم تھا یا پھر کیا وجۂ غم تھی اس وقت میری سمجھ اتنی ہی تھی۔ میں نیلم سے صرف دو سال چھوٹی تھی۔ اس لیے غمگسار اور راز دار بھی تھی۔ کبھی کبھی اس تکون میں امی جی بھی شامل ہو جاتی تھیں۔ باتوں کی زبنیل ایسی کھلتی کہ پھر ابا جی کو خالص زنانہ گفتگو میں دخل اندازی کرنی پڑی۔ نیلم نے بی اے کے بعد ٹیلی کام جوائن کر لیا تھا ۔ باقی ہم دونوں اسکول کالج میں زیر تعلیم تھے۔ ’’ مجھے اپنے ادارے میں سب سے پیاری بات پتا ہے ‘ کیالگتی ہے ؟‘‘ نیلم کی آنکھوں میں نیلگوں پانی ہر وقت تیرا کرتا تھا۔ ’’کیا؟؟‘‘ میں نے اشتیاق سے پوچھا۔ ’’ ہزاروں میلوں کی جدائی ایک منٹ میں ختم۔ جس طرح ایک مریض کے لیے ڈاکٹر اُس کا پورا جہان ہوتاہے۔ اس طرح ہمارا یونٹ بھی ایک جہان ہے‘ دور دور رہنے والوں کے لیے۔ ‘‘ ’’ گویا شہزادی نیلم! تم دِلوں‘ جذبوں‘ خوابوں اور خیالوں کی ڈاکٹر ہو۔‘‘ میں نے استری کے لیے کپڑے اُٹھاتے ہوئے کہا۔ ’’ ویسے جانِ عزیز اگر تم غور کرو تو ہر انسان دوسرے انسان کے لیے ایک ڈاکٹر اور مسیحا ہوتا ہے۔ ‘‘ ’’ ہوتا نہیں نیلم ‘ ہو سکتا ہے۔ ‘‘ میں نے تنبیہہ کی تو وہ ہنس پڑی ۔ ’’ کبھی کبھی تم بہت پتے کی بات کر جاتی ہو۔ واقعی اگر ہم سب ایک دوسرے کو ایسے ہی منٹ منٹ پر سلوک کی خوشیاں بانٹنا شروع کر دیں تودنیا والے کس پر جھگڑا کریں گے۔؟ کس بات پر اقوام متحدہ بحث کرے گی؟؟‘‘ ’’ تم دونوں امن کی فاختائیں دنیا میں بے روز گاری پھیلا کر رہیںگی‘ اللہ رحم کرے۔‘‘ بابر پڑھتے پڑھتے تھک کر ہم میں آملا تھا۔ پھر وہی سیاست ‘ کتابیں ‘ شاعری اورپھر آخر میں وہی اس کا سوال ۔ ’’دوپہر میںکیا پکا ر رہی ہو۔ ‘‘ ’’بابر! تمہیں کھانے کے علاوہ کیا شوق ہے؟‘‘ میں چیخ پڑتی۔ ’’پینے کا ۔ ‘‘ وہ مسخرے پن پراُتر آتا ۔’’ بس اس کی تفصیلات اور جزئیات میں جانے کی ضرورت نہیں ہے تم دونوں کو۔‘‘ ’’ اچھا تم بتاؤ بابر! آ ج کیا کھانے کو دِل کر رہاہے؟‘‘ نیلم ہنس پڑتی اور انتہائی صلح پسندی سے بابر کے گلے میں بانہیں ڈال کر پوچھتی۔ ’’کچھ بھی باجی ! بس زمرد کا دماغ نہیں ہونا چاہیے۔ ‘‘ ’’بس بس!! کھانا آ ج امی جی پکار رہی ہیں کسی کو بحث نہیں کرنی تم اپنے کمرے میں جاکر پڑھو۔ اور تم زمرد!جلدی سے کپڑے استری کر کے نیچے کچن میں آجاؤ ۔ میںجا رہی ہوں ‘ امی جی کی مدد کرنے۔ ابا جی بھی آ ئے ہوں گے۔ ‘‘ ’’ اچھا۔‘‘ بابر اپنے کمرے میں جا چکا تھا۔ امی جی کو نیلم کی شادی کا خبط سوار ہو چلا تھا۔ بابر‘جو گھر کے تمام ناموں کے حساب سے شاہی خاندان جیسا رعب داب والا تھا ‘ کسی بادشاہ کے شہزادے سے کم سوچ نہ رکھتا تھا۔ وہ شادی اتنی دھوم دھام سے کراتا کہ ہم سب غرارے شرارے سنبھالتے رہ جاتے۔ ’’زمرد تمہیں پتہ ہے۔۔۔ امی کیا کہہ رہی تھیں؟‘‘ نیلم نے چائے کا کپ ہلکے سے مُنہ سے لگاتے ہوئے کہا۔ ’’ کیا یہی ناں کے فلاںفلاں لوگ تمہیںدیکھنے آنا چاہتے ہیں ۔ فلاں کا لڑکا تم سے تعلیم میں کم ہے۔ فلاں ٹھیک ہے مگر ہاںکرنے میں کئی رشتے دار اختلاف رائے کے بعد بچھڑ سکتے ہیں اور ۔۔۔‘‘ ’’ اور یہ کہ ایسا کچھ نہیں کہا۔ ‘‘ نیلم ہنس پڑی۔ ’’تو امی جی سے کیا توقع کروں؟‘‘ ’’ پوچھ رہی تھیں کہ تمہارے ابا جی نے کہلوایا ہے کہ اگر تمہاری کوئی پسند ہے تو بتاؤ ۔ ہم تمہیں کبھی ہرٹ نہیں کر سکتے۔!‘‘ ’’ او ہ نو! امپاسبل ۔۔۔‘‘میں حیران ہو گئی تھی اس لیے کہ میں ابا جی سے اس روشن خیالی کی توقع نہیں کر رہی تھی۔ میں سوچ رہی تھی کہ وہ ایسے ہی ہیں‘ جیسے تایا جی تھے یا پھر بڑی پھو پھو نے جیسا اپنی لڑکیوں کے ساتھ کیا۔ ’’ ہاں تم سچ کہتی ہو۔‘‘ نیلم نے تائید کی۔ ’’میں بھی یہ بات سن کر بہت حیران ہوئی تھی ۔‘‘ ٍ ’’ پھر تم نے کیا کہا؟‘‘ میرا شوق بڑھ رہا تھا ۔ ’’ کچھ بھی نہیں اور کہوں بھی کیا؟ زمرد! تمہیں نہیں لگتا‘ لڑکی اللہ نے عجیب ہی مخلوق بنا دی ہے۔ سہمی سہمی ‘وہمی سی ۔ہر لڑکی ایک خواب کا دیا ہوتی ہے۔ وہ کبھی نہیں چاہتی کہ ٹوٹ جائے یا اسے کوئی توڑ دے ۔ نہ ہی بجھنا چاہتی ہے اورنہ ہی کسی کو بجھاتے ہوئے دیکھ سکتی ہے۔ بیچ درمیان کی یہ راہیں ہم لڑکیاں کیوں چُن لیتی ہیں؟ نہ کھل کر ہاںکہہ سکتی ہیں ‘ نہ نہیں۔ ‘‘ ’’ نیلم! تمہاری کوئی چوائس ہے ؟‘‘ میں نے ڈائریکٹ پوچھ ڈالا۔ ’’ ابھی تک تو نہیں۔‘‘ ’’ بتانے سے ڈرتی ہو یا اعتبار نہیں ہے؟ ‘‘ ’’ نہیں ‘ مجھے اپنے آ پ سے اقرار کرنے کی ہمت نہیں ہے۔ میں خود سے آنکھیں ملا کر بات نہیں کر سکتی۔۔۔ امی کے سوال کے بعد کئی چہرے آکھڑے ہوئے ہیں میرے سامنے۔ اُن میںسے ہر ایک مجھے ناگزیر لگا پھر جب میں نے سوچا کہ کیوں ناگزیز ہے تو خود کو مطمئن نہیںکر سکی۔ زمرد! پلیز زمرد‘ میں اپنی فیلنگز صحیح طورپر واضح نہیں کر سکوں گی۔‘‘ نیلم کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ میں نے اُس کے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھ لیے۔ ’’سچ یہ ہے کہ ہمیں چہروں اور ڈگریوں کی نہیں‘ سمجھ اور آ گہی کی رفاقت چاہیے ہو تی ہے۔ سمجھ اور شعور سے بنائے ہوئے گھر کبھی نہیں گرِتے‘ انہیں مفلسی کی دیمک بھی نہیں لگتی ۔ میں ٹھیک کہہ رہی ہوں ناں؟‘‘ ’’ ہاں سو فیصد ۔۔۔!! تو۔۔۔‘‘ ’’تو زمرد ‘میر ے پا س کوئی گارنٹی نہیں ہے اورنہ کسی نے دی ہے ‘ اُس سچ کی جسے چہروں اور ڈگریوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ‘‘ ’’ بس پھر اسے خدا کے حوالے کردو!‘‘ میں ہنس پڑی۔ ’’انسان ہمیشہ خدا کے حوالے ہوتا ہے ۔ وہ جب چاہے جو کردے ۔ دیے جلاتا بھی ہے ‘ بجھاتا بھی ہے ۔ ہاتھ ہمارے ہیں تو کیا ہوا ‘ ڈور تو اسی نے ہلانی ہے۔ ‘‘ ’’ نیلم! کبھی کبھی تم اس قدر قنوطی ہو جاتی ہو کہ مجھے ڈر لگنے لگتاہے۔ ‘‘ ’’ پگلی !‘‘ اُس نے مجھے گلے لگا لیااور مجھے یوں لگا‘ جیسے جلتے ہوئے دیے کی ہلکی ہلکی گرمی میںمےَں بھی پگھل جاؤں گی۔ ’’ ہاں ‘ تمہیں بتانا بھول گئی کہ اس ویک اینڈ پر ہم سب آفس کے لوگ مل کر ٹھٹھہ پکنگ پر جارہے ہیں۔ تمہارا کیا ارادہ ہے ۔ چلو گئی زمرد؟‘‘ ’’ نہیںبھئی‘ تم لوگ جاؤ ‘ میں کیا کروںگی۔ ویسے بھی تمہیں پتہ ہے‘ امی بولتی رہتی ہیں۔ بابر الگ ناک میں دم کر دیتاہے۔ اچھا تم کپڑے کون سے پہن کر جاؤ گی؟‘‘ پھر ہم دونوں گھنٹوں کپڑوں اور جوتوں سے باہر نہ آسکے ۔ لڑکیاں جو ہوئیں ! سج سنور لینے کی باتیں یا پھر دوسروں کی برُائیاں بقول بابر کے بس یہ دو کام صنفِ نازک کی ذمے داریاں تھیں ۔ ’’ اور تمہیں پال پوس کر اس قابل کس نے کیا کہ اتنے ذی شعور ہو سکو کہ ایسی باتیں کرو ۔‘‘ امی جی تو اُس کے کان تک کھینچ ڈالتیں۔ ’’ بھئی‘ میں تولڑکیوں کی بات کر رہا تھا‘ اَمّیوں کی تھوڑی۔‘‘ وہ بڑی وضاحت اور سچائی سے کہتا اور ہم سب صلح کے طور پر ہنس پڑتے۔ جس وقت نیلم پکنک پر جا رہی تھی۔ میں نے اسے یاد کرایا کہ وہ کسی کو تو اسپیشل نظر سے ضرور دیکھ کر آئے تاکہ میری فائل اوپر آئے۔ ’’ کیا اب میں یہ بھی کروں گی؟‘‘ نیلم حیران رہ گئی۔ ’’ اگر تم گھر میں بڑی بہن ہوتو کیا ہوا کسی بزرگ کے فیصلوں میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ اگر یونہی بڑی ہونے کا روگ لیے جیتی رہیں ناتو بچپن کے فوراً بعد اَدھیڑ عمری شروع ہوجاتی ہے اور پھر پلک جھپکتے بڑھاپا‘ کہو کیا منظور ہے ۔ ‘‘ میں نے اُس کے آگے ہاتھ پھیلائے۔
’’ ابھی کچھ نہیں ۔ صرف مجھے جانے دو ۔‘‘ اُ س نے اپنے خوبصورت ہاتھ میرے ہاتھ میں دیتے ہوئے بڑی عجلت سے کہا۔’’ اچھا امی کا خیال رکھنا۔‘‘ ’’ نکلتے نکلتے بھی نصیحت نہ بھولنا! جیسے میری تو کچھ لگتی نہیں ہیں۔‘‘ ’’ خدا حافظ!!‘‘ ’’ نیلم ۔۔۔نیلم تمہاراکیا بنے گا! پتہ نہیں ‘ تم اندر سے ویسی ہوجیسے بظاہر ہو یا پھر دوغلی ‘ دورُخی ۔۔۔ دو دنیا میں رہنے والے لوگ تو خود اپنے لیے روگ بن جاتے ہیں۔ بظاہر بڑے مطمئن ومسرور مگر اندر سے کتنے تنہا اور اُداس ! شاید کہ ہر لڑکی یا پھر ہر سمجھدار لڑکی دورُخی ہوتی ہے۔ دنیا کو خوش رکھنے کے لیے‘ ارد گرد سارے رشتوں کو قائم رکھنے کے لیے اپنے قیام کی جنگ اپنے اندر لڑتی رہتی ہے۔ ہارتی بھی رہتی ہے اور کبھی جیت بھی جاتی ہے ۔ علی الاعلان جنگ کا بگل کبھی نہیں بجا سکتی ۔ اگر نیلم تم نے سمجھداری کی چادر اوڑھ کر قناعت اور رضا مندی سے ہاں کردی توکیا ہو گا‘سب خوش خوش روزسوجایا کریں گے۔ بس تم نیلم ‘ صرف تم رات بھرکرو ٹیں بدلتی رہو گی۔ اپنے آپ کو بہلانے کے لیے ہر وقت بہانوں کی تلاش میں رہو گی۔ میں جانتی ہوں کہ تم نے کسی پر اعتبار کرلیا ہے۔ تم نے ساری عمر کے لیے اپنی ذات کا محور تلاش کر لیا ہے ۔ تمہاری آنکھوں کا حسن کئی ہفتوں سے بڑھ گیاہے۔ تمہارے کپڑوں میں ایک نیا روپ بھرنے لگاہے۔ ایسے کہ تم تیار ہونے کے لیے ایکسٹر اپانچ منٹ لینے لگی ہو۔ بات کرتے کرتے بڑی گہرائیوں میں اُتر جاتی ہو۔میںجانتی ہوں ‘ تم ڈرتی ہو۔ بڑی ہونا! امی جان کی تربیت ہو ۔ ہمارے لیے راہ عمل ہو!اباجی کا فخر ہو۔ کتنی بھاری ذمہ داریاں تمہارے نازک کنوھوں پر ہیں ۔ تم بڑی جو ہوئیں ۔نیلم پلیز!! میری اچھی بہن! اپنے لیے ایک اچھا سافیصلہ کر کے آنا ۔ ہر وقت جنگ نہ کرنے کا اپنے آپ سے ۔۔۔ میں تمہارا ساتھ دوں گی۔ ہم دونوں مل کر لڑکی کی بقا کی جنگ لڑیں گے ۔ اوکے !‘میں نے نیلم کی تصویر سے وعدہ لیا ور کچن میں چلی آئی۔ ابھی اُسے گئے دو گھنٹے ہی ہوئے تھے کہ اطلاع آئی کہ اس کی وین ڈالر سے ٹکرا گئی ہے اور اس میں صرف تین لوگ بچ سکے تھے مگر ان میں نیلم کانام نہیںتھا۔ نیلم ہم میں نہیں تھی۔ کیوں نہیں تھی۔ وہ دیے کی طرح بجھ گئی تھی یا اُس نے سارے گھر کو بُجھا دیا تھا۔ وہ جو خوابوں کی باتیں کرتی تھی‘اب خود خواب خیال ہو گئی تھی اُس کی پہلی برسی آئی اور گزر گئی۔ آ ج چوتھی برسی ہے ۔ ہم میں سے کوئی بھی اُس کی غیر موجودگی کا عادی نہیں ہو سکا ہے۔ وہ بے حدغیر معمولی لڑکی تھی۔ اُس کا یوں چلے جانا حادثہ نہیں‘سانحہ تھا۔ ’’ امی جی کا خیال رکھنا !!‘‘ اُس کا آخری جملہ تو میں کبھی بھول ہی نہیں سکتی۔ اُس کا دِل پیار کا ساگر تھا۔ اُس نے ڈائری میں لکھا تھا۔ اُس کی اِس امانت کی میں تنہا راز دار اور مالک تھی۔ ’’ میں اپنے گھر کے اعتبار کو قائم رکھنے کے لئے کچھ بھی کر سکتی ہوں ۔ یہ سچ ہے کہ ساجد مجھے بے حد پسند ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ وہ ہماری فیملی اور ہمارے خاندانی رکھ رکھاؤ سے تعلق نہیں رکھتا ۔ ابا جی اس کے لئے کبھی راضی نہیں ہوسکتے۔ تو پھر میں ہاتھ پھیلا کر اپنی اَنا کو فقیر کیوں کروں۔محبت تو عزت و توقیر کا نام ہے۔ اِس کا بھرم قائم ہی رہے تو اچھا ہے۔ ‘‘ ساجد نیلم کا کلاس فیلو بھی تھا اور ان دونوں نے اِکٹھے ٹیلی کام جوائن کیا تھا! اتفاق سے وہ پکنک پر نہیں گیا تھا لیکن یہ بھی سچ تھا کہ اس حادثے کے بعد وہ بھی اندر سے مر گیا تھا۔ بے حد ذہین اور انٹلیکچوئل سا ساجد بڑا گریس فل تھا لیکن مذہب کے جس گروہی خطے سے ہمارا تعلق تھا ‘ وہ اُس سے بہت دور رہتا تھا اور زبان اور خاندانی رسموں رواجوں سے بھی میل نہیں کھاتا تھا۔ نیلم تم صحیح کہتی تھیں کہ پیار ایسا سچ ہو تا ہے جسے کسی توقع اور بہلاوے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ تو سمجھ اور آگہی کے رشتے ہمیشگی کی رفاقت میں بدل جاتے ہیں ۔ جہاں سمجھوتوں کا گزر نہیں ہوتا پھر آگے کے صفحے پر لکھا تھا۔ ’’ ساجد سے آج آفس میں بات ہوئی اور یوں یہ طے ہو گیا کہ ہم میں سے دونوں ہی بزدل ہیں۔ میں گھر کی بڑی ہوں اور وہ گھر کا بڑا ہے۔ ہمیں اپنا اپنا بھرم رکھنا ہے۔ ساری عمر اس بوجھ کو لیے پھرنا ہے۔ پتہ نہیں ‘ یہ قربانی رائیگاں جاتی ہے یا رنگ لاتی ہے۔ میں نہیں چاہتی کہ زمرد کے لئے کوئی مشکل ہو یا پھر ساجد کی تین چھوٹی بہنوں کے لئے یا پھر ہم لڑنا ہی نہیں چاہتے اور اس طرح ہم دونوں نے ساری عمر بہلنے کے لئے ہتھیار رکھ لیے ہیں۔ بس جو کچھ بھی ہے‘ قرار آنے کے لیے کم ہے۔ ‘‘ کتنا مشکل کتنا کٹھن جینے سے جینے کا ہُنر نیلم‘ میری اچھی نیلم‘ تم مجھ میں آ گئی ہو۔ تمہاری قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔ ہم لڑکیاں کس کس سے کہاں کہاں لڑیں۔ ہارنے میں بھی رُسوائیاں ہیں اور لڑنے میں بھی جگ ہنسائیاں۔ طبعاً ہم سب بزدل اور وہمی ہیں۔ ہم ہر لہراتی ہوئی چیز کو سانپ سمجھ کر ڈر جانے والی لڑکیاں دوغلی اور دو رُخی ہی رہیں گی۔ اندر باہر دنیا بسائے رہنا ضرورت کی طرح ذہنوں میں رہے گا۔ ہر لڑکی کے دِل میں کوئی نہ کوئی ساجد مختلف بھیس اور نام بدل کر رہتا رہے گا۔ چاہے وہ کسی کے ساتھ بھی عمر گزار دے۔ ’’ زمرد بیٹی‘ نیلم کو گئے چوتھا سال آ چلا ہے ۔ تمہارے ابا جی نے پچھوایا ہے کہ تمہاری پھوپھو اپنے چھوٹے بیٹے بلال کے لئے آئی تھیںلیکن تمہاری مرضی ہمیں چاہیے۔‘‘ امی جی نے محبت سے میرے کندھوں پر ہاتھ رکھ دےئے۔ پتہ نہیں‘ کب نیلم مسکراتی ہوئی ہمارے درمیان آ کھڑی ہوئی۔ ’’ جو آپ کی مرضی امی جی۔ ‘‘ میں اُن کے گلے سے لگے بلک بلک کر رو پڑی۔ پتہ نہیں نیلم تمہیں یاد کر کے یا پھر ایک دِیا اور بُجھ جانے پر لیکن تم تو یہی چاہتی تھیں نا نیلم! میں نے اس کی ڈائری کو نذرِ آتش کر دِیا۔ اب اس کی حفاظت مجھ سے نہ ہو سکتی تھی۔ اُس کے راز ، اُس کی باتیں اور اُ س کی خواہش ایک روگ کی طرح میرے اندر جل رہی تھیں‘ دِیے کی طرح ۔۔۔
|