یورپ کی سطح پر قائم پاکستان کے موقر اردو انٹر نیٹ اخبارات کی تنظیم پاک یورو جرنلسٹس فورم کی مرکزی قیادت نے جرمنی سے جاری ہونے واے ایک بیان میں محمد خوشتررحمٰن خان کو عالمی اخبار کا بیورو چیف بھارت بننے پر مبارک باد دی ہے اور اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ انٹر نیٹ کی دنیا میں اردو کے صف اول کے اس معیاری اخبار میں انکی شمولیت اسکے معیار کو مزید بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ بھارت میں اسکے قارئین میں اضافے کا موجب بھی بنے گی
بیان میں فورم کے ساتھیوں نے انکے لیئے نیک خواہشات کا اظہار اور کامیابی کی دعا کی ہے
یاد رہے کہ اسی ہفتے محمد خوشتررحمٰن خاںن کو بھارت کے لیئے عالمی اخبار کا بیورو چیف مقرر کر دیاگیا ہ۔ادارتی بورڈ نے خوشتر رحمٰن خان کو اس پر مبارک باد دی اور کہا ہے کہ انکی شمولیت کارآمد ہو گی۔عالمی اخبار کے مدیر اعلیٰ صفدر ھمدانی نے ذاتی طور پر اور عالمی اخبار کے ادارے کی جانب سے ادارتی عملے میں شمولیت پر خوش آمدید کہا ہے اور یقین طاہر کیا ہے کہ انکی شمولیت سے اخبار میں بھارت سے ملنے والی خبروں کی کمی پوری ہو جائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد خوشتررحمٰن خاں کی پیدائش 07 مئی 1973 کو اتر پردیش کے شہر سیتاپور میں جناب حفیظ الرحمٰن خاں کے یہاں بڑے بیٹے کی شکل میں ہوئی۔ یہ وہ خاندان ہے جس کے بزرگوں نے ہندوستان کی جنگ آزادی میں نمایاں کردار نبھایا اور انگریزی حکومت سے لوہا لیتے ہوئے اپنے وطن اور زمینداری کو خیرباد کہا۔
محمد خوشتررحمٰن خاں 1857 کی غدر کے مجاہد آزادی محمد امام خاں کی پانویں پیڑھی کے فرزند ہیں۔ محمد امام خاں اس وقت ضلع رائے بریلی میں بیسوارہ کے زمیندار تھے۔ تاریخ شاہد ہے کہ 1857 میں انہوں نے انگریزی حکومت کی بربریت کے خلاف جنگ آزادی کا اعلان کر دیا تھا اور اپنے سبھی نو بھائیوں کے ساتھ جنگ کرتے ہوئے وہ سیتاپور میں سدھولی قصبہ تک پہنچ گئے تھے جہاں بد قسمتی سے محمد امام خاں کے سات بھائی شہید ہو گئے۔ اس کے بعد محمد امام خاں نے قصبہ مچھرہٹہ میں سکونت اختیار کرلی اور ان کا کنبہ یہیں کا ہو کر رہ گیا۔
بعد میں اس خاندان کے لوگوں نے ذریعہ معاش کے سلسلہ میں شہر سیتاپور کا رخ کیا اور آہستہ آہستہ خاندان کے بیشتر افراد سیتاپور منتقل ہو گئے۔ محمد خوشتررحمٰن خاں کے دادا حاجی اسد اللہ خاں نے کلیکٹریٹ میں نوکری کر لی جو صوفیانہ شاعری کے استاد رہے۔ حاجی اسد اللہ خاں کے پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں ہوئیں جن میں عطاء الرحمٰن خاں رند رحمانی، اکرام الرحمٰن خاں ربط رحمانی، ضیاء الرحمٰن خاں ضیا رحمانی، حفیظ الرحمٰن خاں مست حفیظ رحمانی، محفوظ الرحمٰن خاں محفوظ رحمانی، آئیشہ خاتون اور سعیدہ اخترکے نام شامل ہیں۔
یوں تو اس خاندان کے لوگ ہمیشہ سے ہی علم و ادب کے میدان میں سرکردہ رہے لیکن عطاءالرحمٰن خاں رند رحمانی اور حفیظ الرحمٰن خاں مست حفیظ رحمانی نے درس تدریس کو اپنا زریعہ معاش بناتے ہوئے اردو شاعری اور صحافت کے میدان میں نمایاں کار کردگی انجام دی۔ عطاءالرحمٰن خاں رند رحمانی بیسک ایجوکیشن بورڈ کے ایک اسکلو میں ضلع کانپور میں استاد تعنات رہے۔ دوران ملامزمت انہوں نے زبان ہند اور رگ سنگ جیسے ماہانہ ادبی رسائل کے ادارتی شعبوں سے منسلک رہ کر مدیر و معاون مدیر کی حیثیت سے زبان ہند اور رگ سنگ کو بلندیوں تک لے جانے میں کامیاب رہے۔ رند رحمانی کل ہند مشاعروں کے کامیاب شاعر بھی رہے۔ لیکن کینسر کے مرض میں مبتلا ہونے کے بعد 49 برس کی عمر میں 1983 میں رند رحمانی کا انتقال ان کے آبائی مکان سیتاپور میں ہو گیا۔
محمد خوشتر رحمٰن خاں کے والد حفیظ الرحمٰن خاں مست حفیظ رحمانی نے 1969 میں اسلامیہ انٹر کالج لکھنئو میں بحیثیت استاد درس و تدریس کا کام شروع کیا لیکن ماں کی محبت نے انہیں زیادہ دنوں تک لکھنئو میں قیام کی اجازت نہیں دی۔ وہ جلد ہی سیتاپور واپس آ گئے اور مسلم جونئیر ہائی اسکول میں اردو استاد مقرر ہو ئے۔ مسلم جونئیر ہائی اسکول میں انہیں جلد ہی ترقی مل گئی اور وہ ہیڈ مدرس کے عہدے پر تعنات ہو گئے۔ اس دوران شاعری کے میدان میں حفیظ الرحمٰن خاں کو مست حفیظ رحمانی کے نام سے شہرت ملی۔ انہوں نے روزنامہ قومہ آواز میں نامہ نگار کی حیثیت سے 35 برس تک کام کیا۔ ماہانہ شعاع ادب اور سیتاپور ٹائمس کے اڈیٹر کی حیثیت سے حفیظ الرحمٰن خاں مست حفیظ رحمانی کا نام ہندوستان کی معتبر ہستیوں میں شمار کیا جانے لگا۔ تعلیم کے میدان میں کارہائے نمایاں انجام دینے کے لئے انہیں 2005 میں صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے دست مبارک سے انہیں قومی ایوارڈ سے سرخرو کیا گیا۔ حفیظ الرحمٰن خاں مست حفیظ رحمانی درس و تدریس کے عہدے سے 2009 میں سبکدوش ہوئے اور آج بھی وہ اپنے ادبی کارناموں میں اس طرح مشغول ہیں جیسے پتنگا شمع کے ارد گرد موجود رہتا ہے۔
ظاہر ہے ایسے تعلیم یافتہ ادبی خاندان میں پیدا ہوئے محمد خوشتررحمٰن خاں پر بھی اس کا اثر ہونا ہی تھا۔ انکی تعلیم سیتاپور میں ہی ہوئی اور انہوں نے اپنے اجداد کے نقش قدم پر آگے بڑھتے ہوئے 1994 میں اردو سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ اسی دوران دسمبر 1994 میں وہ بیسک ایجوکیشن بورڈ کے اسکول میں اردو زبان کی درس تدریس کے لئے استاد منتخب کر لئے گئے۔
دوران طالب علمی خوشتر رحمٰن خاں نے صحافت کے میدان میں پیر جمانے شروع کر دئے تھے۔ 1989 میں سیتاپور سے شائع ہونے والے ہندی روزنامہ ویاس بھارتی میں بحیثیت سٹی رپورٹر انہوں نے اپنا کئیر شروع کیا۔ لکھنئو سے شائع ہونے والے روزنامہ صحافت میں بھی انہوں نے سیتاپور سے ضلع نامہ نگار کی حیثیت سے کام انجام دیا اور کئی برس تک اخبار سے منسلک رہے۔ محمد خوشتر رحمٰن خاں پر صحافت کا شوق اس قدر ہاوی رہا کہ انہون نے اپنے محکمہ سے باقائدہ اس کام کو کرتے رہنے کے لئے منظوری تک حاصل کر لی اور مختلف اخبارات میں لکھتے رہے ہیں۔ انہوں نے دوران ملازمت شعاع ادب کا ہندرہ روزہ ہندی ایڈیشن بھی نکالا جس کے وہ خود چیف ایڈیٹر رہے۔ محمد خوشتر رحمٰن خاں موجودہ وقت میں روزنامہ آگ لکھنئو اور اخبار مشرق دہلی کے ضلع نمائندہ ہیں۔ اس کے علاوہ بھی ہندوستان کے دیگر اخبارات، رسائل و جرائد میں ان کی تخلیقات برابر شائع ہوتی رہتی ہیں۔ محمد خوشتر رحمٰن خاں کہتے ہیں کہ صحافت کے ذریعہ عوامی مسائل کو منظر عام پر لاکر انہیں جو خوشی حاصل ہوتی ہے اسے بیان کرنا ناممکن ہے۔ صحافت ان کا پیشہ نہیں ہے اور نہ ہی آج تک کسی اخبار میں کام کرنے کے عوض میں انہوں نے کوئی اجرت حاصل کی ہے۔ آج بھی وہ صرف عوامی خدمت کی غرض اور اپنا شوق پورا کرتے ہوئے صحافت کا کام انجام دے رہے ہیں۔ ہندوستان کے کئی اردو روزناموں میں انکی خبریں اور مضامین سرخیوں کے ساتھ شائع ہوتے ہیں۔
محمد خوشتر رحمٰن خاں میں اپنے والد کی وہ تمام خوبیاں دیکھنے کو ملتی ہیں جو اس خاندان کی وراثت ہیں۔ وہ ایک کامیاب اردو استاد اور صحافی ہونے کے ساتھ ہی اچھے نوجوان شاعر بھی ہیں۔ ان کا کلام اخبارات و رسائل میں شائع ہوتا رہا ہے۔ محمد خوشتر رحمٰن خاں اتر پردیش بیسک ایجوکیشن محکمہ میں ماہرتعلیم کی حیثیت سے بھی جانے جاتے ہیں۔
عالمی اخبار لندن کو انتہائی مسرت ہے کہ محمد خوشتر رحمٰن خاں نے ایک والینٹئر کی حیثیت سے بغیر کسی اجرت کے بھارت سے اخبار کا بیورو چیف بننا منظور کر لیا ہے۔ عالمی اخبار لندن اپنے ادارتی شعبہ میں محمد خوشتر رحمٰن خاں کو بحیثیت بھارتی بیورو چیف کی طور پر شامل کرتے ہوئے امید کرتا ہے کہ انکے اس ٹیم میں شامل ہونے کے بعد ہندوستان کے عوام کی مشکلات اور مسائل عالمی سطح پربخوبی اجاگر ہو سکیں گے اور ان کےتوسل سے ہندوستان کے دیگر قلمکاروں کی تخلیقات عالمی اخبار کی زینت بنیں گی۔