گزشتہ دنوں جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں فن وادب
ایسوسی ایشن اور پاک یورو جرنلسٹس فورم نے باہمی اشتراک سے ایک کامیاب تقریب کا اہتمام کیا
جسمیں لگ بھگ ایک سو خواتین حضرات نے شرکت کی اور یہ تقریب کوئی چار گھنٹے تک جاری رہی
تقریب
کی صدارت عالمی اخبار کے مدیر اعلیٰ،پاک یورو جرنلسٹس فورم کے
چیئرمین،ادیب،شاعر،نقاد اور اتحاد بین المسلمین کے داعی صفدر ھمدانی نے کی
جبکہ مہمانان خصوصی میں مرغوب حسن،محمد صادق چوہدری اور عبدالوحید قاضی
شامل تھے جنکی ادبی اور سماجی خدمات کا اعتراف کرنے کے لیئے انہیں خراج
تحسین پیش کیا گیا تقریب کے چوتھے مہمان خصوصی جناب صالح
جی تھے جنکا تقریب سے تین دن پہلے انتقال ہو گیا جس کی وجہ سے تقریب کی
محفل موسیقی منسوخ کر دہی گئی اور تقریب کے پہلے حصے میں مرحوم صالح جی کی
یاد میں ریفرنس منعقد کیا گیا اور جرمنی کے معروف بزنس مین جناب رفیق بٹ کی
اہلیہ گیتا کی مغفرت کے لیئے دعائے خیر کی گئی جو گزشتہ دنوں انتقال کر
گئی تھیں۔ گیتا جرمن نژاد ہونے کے باوجود اردو زبان سے محبت کرتی تھیں اور
اردو بولتی تھیں اور مقامی حلقوں میں نہیات عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھی
جاتی تھیں
تقریب کی کامیاب نظامت فن و ادب ایسوسی ایشن کے روح رواں جناب ارشاد ہاشمی نے کی
تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک اور نعت رسول سے ہوا جس کے بعد تمام حاضرین نے پاکستان کا قومی ترانہ مل کر پڑھا۔تلاوت کا شرف جناب بابر چشتی اور نعت فخر انبیا کا شرف جناب سلیم بھٹی کے حصے میں آیا
مرحوم
صالح جی کے تعزیتی ریفرنس میں کلیدی مضمون صالح جی کی زندگی کے حوالے سے
پرویز اختر نور والے نے پڑھا جنہوں نے مختلف ادوار میں مرحوم کے ساتھ اپنی دوستی اور تعلقات کا ذکر جزباتی پیرائے میں کیا۔انہوں نے بتایا کہ کس طرح صالح جی اپنی نیک سیرت کی وجہ سے اپنے مخالفین میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے اور کس طرح وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں کوئی لمحہ بھی ضائع نہیں کرتے تھے
جناب پرویز اختر نے مرحوم صالح جی کو یاد کرتے ہوئے انکا خاندانی پس منظر بھی بیان کیا اور انکی اہلیہ کی بے مثال رفاقت کے علاوہ انکے جواں سال بیٹے کی مستقل علالت اور معذوری کا تذکرہ بھی کیا اور اس امر پر زور دیا کہ جس طرح صالح جی مسلم امہ کے اتحاد اور برادری کی یک جہتی کے حامی تھے ہمیں بھی اپنے اپنے وطن سے دور رہتے ہوئے انکے نقوش قدم کو مشعل راہ بنانا چاہیئے
فن و ادب ایسوسی ایشن کے روح رواں ارشاد ہاشمی نے مرحوم صالح جی کو یاد کرتے ہوئے یادوں کے دریچوں کو کھولا اور اس بات کا خاص طور پر ذکر لیا کہ وہ فن وادب ایسوسی ایشن کے اولیں دنوں سے ہی بہی خواہ تھے اور ہر طرح سے تعاون کیا کرتے تھے۔ جناب ارشاد ہاشمی نے اس پر دلی صدمے کا اظہار کیا کہ اب جبکہ انکی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیئے آج کی شام کا اہتمام کیا گیا تو وہ تقریب کے انعقاد سے چند روز پہلے ہی اس دنیا سے رخصت ہو گئے لیکن انکی یادیں ایک طویل عرصے تک ہمارے ساتھ رہیں گی
جناب بابر چشتی اور سلیم بھٹی نے حج کے دوران انکی بے مثال رفاقت کے قصے سناتے ہوئے انکی انسان دوستی کا تذکرہ کیا
مرحوم صالح جی کے انتقال کی وجہ سے اس تقریب میں ہونے والی محفل موسیقی کو احترام کے طور پر منسوخ کر دیا گیا جسے تقریب میں شامل خواتین و حضرات نے سراہا
بابر چشتی نےمرحوم صالح جی اور مرحومہ گیتا کے لیئے دعائے مغفرت کروائی اور
حاضرین نے سورہ فاتحہ پڑھی
اس تقریب میں تقسیم کیئے جانے والے ایوارڈوں میں سے ایک ایوارڈ مرحوم صالح جی کے نام بھی کیا گیا اور جناب ارشاد ہاشمی نے اعلان کیا کہ یہ ایوارڈ انکے اہل خانہ کو پہنچا دیا جائے گا
تقریب کے صدر
عالمی اخبار کے مدیر اعلیٰ،پاک یورو جرنلسٹس فورم کے
چیئرمین،ادیب،شاعر،نقاد اور اتحاد بین المسلمین کے داعی صفدر ھمدانی نے اس تعزیتی ریفرنس کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ فن وادب
ایسوسی ایشن اور پاک یورو جرنلسٹس فورم نے باہمی اشتراک سے منعقد کردہ اس تقریب کے اولیں حصے کو مرحوم صالح جی کی تعزیت کے لیئے مختص کیا ہے اور احباب نے انکی یادوں کو تازہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشروں میں ایسے لوگ قابل تقلید ہوا کرتے ہیں اور جناب ارشاد ہاشمی نے اس تقریب میں اپنے سینیر دوستوں کی خدمات کا اعتراف کرنے کا جو اہتمام کیا ہے وہ قابل تحسین ہے

صفدر ھمدانی نے کہا کہ مرحوم صالح جی کو آج اس محفل میں مہمان خصوصی کے طور پر شریک ہونا تھا لیکن زندگی نے ان سے یاوری نہیں کی لیکن یہ یقین ہے کہ انکی روح اس محفل میں موجود ہے۔انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ فرینکفرٹ میں ایک نام نہاد صحافتی تنظیم نے حسب عادت برادری میں نفاق ڈالنے کی ناکام کوشش کی اور اسی روز اسی وقت مقامی مسجد میں قرآن خوانی کا اہتمام کر دیا جو وہ اگلے روز اتوار کو بھی کر سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر بظاہر تو شاید اپنے مزموم مقاصد میں کامیاب نظر آتے ہوں لیکن حقیقت میں وہ ناکام رہتے ہیں۔ جناب صفدر ھمدانی نے بتایا کہ انہیں متعدد احباب سے علم ہوا ہے کہ مزکورہ تنظیم کے ایک عہدےدار نے بذات خود لوگوں کو فون کر کے غلط اور بے بنیاد اطلاعات فراہم کیں تا کہ آج کی تقریب ناکام ہو سکے لیکن اس ہال میں موجود ایک سو کے قریب حاضرین کی تعداد ایسے افراد کی ناکامی کا ثبوت ہے
انہوں نے کہا کہ لوگ نفرتوں کی دیواریں کھڑی کرتے ہوئے موت کو بھی بھول جاتے ہیں اور لاشوں پر سیاست کے عادی یہ افراد مرنے والوں کو بھی متنازعے بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ دوسروں کی بیساکھیوں پر اپنے قد بلند کرنے کے عادی یہ لوگ اللہ۔رسول اور قرآن کو بھی فکر یزیدی اور حکمت ابن زیاد کی طرح اپنے مزموم مقاصد کے لیئے استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ جانب ارشاد ہاشمی نے خود اس تقریب میں شامل کچھ احباب کو یہ کہا ہے کہ وہ مرحوم کی قرآن خوانی میں یہاں سے جا کر شرکت کریں اور چاہیئے تو یہ تھا کہ اُن افراد میں سے بھی کچھ احباب مرحوم صالح جی کے اس تعزیتی ریفرنس میں کچھ دیر کے لیئے شرکت کرتے تا کہ برادری میں اتحاد کا پیغام ملتا لیکن نیکی کی توفیق بھی اللہ کی طرف سے عطا ہوتی ہے۔
تقریب کے پہلے حصے کے اختتام پر اکثر حاضرین نے صدر محفل اور دیگر مقررین کے خیالات کی تائید کی اور اس امر پر زور دیا کہ برادری کو مل کر ایسے منفی ذہن کے حامل افراد کا محاسبہ کرنا چاہیئے۔
اس تقریب کے دوسرے مرحلے کی رپورٹ اگلی قسط میں پیش کی جائے گی