لہو کی بو فضا میں چار جانب
بدن سڑکوں پہ یوں بکھرے پڑے ہیں
کسی شطرنج پہ جس طرح مُہرے
دھماکےاور سلگتی آگ میں جھلسی ہوئی لاشوں کے چہرے
میں کس سولی پہ ہوں مصلوب اے میرے خدایا
مری آنکھوں کو کس نے اس طرح نوکِ سناں پر ہے پرویا
کٹے ہیں ہاتھ میرے اور بدن ہے ریزہ ریزہ
زباں پر قفلِ ابجد لگ چکاہے
رواں ہے سانس یا پھر رُک گیا ہے
عَلَم لہرا رہا تھا جھُک گیا ہے
لہو بارود کی صورت سلگتا ہے بدن میں
کوئی خوشبو نہ کوئی گُل نہ رنگت ہے چمن میں
کسے جا کر سناؤں نوحہ اپنے ہم نشینوں کا
مری دھرتی پہ ماتم ہے یہ کیسے مہ جبینوں کا
ہر اک در پہ مرے گھر کے ہے قبضہ کن لعینوں کا
وہ جس کو ہم نے خود حاکم بنایا تھا اُسی نے گھر کو لوٹا ہے
عجب یہ سانحہ ہے فوج کا سالار جھوٹا ہے
اسی اک سچ کے باعث حوصلہ جینے کا ٹوٹا ہے
وہ جس کو ہم نے خود حاکم بنایا تھا
اسی کے ہاتھ اور چہرے پہ ہے خوں میرے بچوں کا
کوئی بتلاؤ کس کے سامنے اب جا کے روئیں
زمیں تنگ ہے فلک کے کان بند ہیں
کوئی بتلاؤ کس سے جا کے پوچھیں
یہ خودکُش کون ہیں اور کس زمیں پر اُگ رہے ہیں
یہ کیسے سانپ ہیں اور کن پہاڑوں سے اُتر کر شہر میں آئے ہیں میرے
ہمارے شہر کے حاکم میں اور خود کُش لعینوں میں
دکھائی اک ذرا سا فرق بھی دیتا نہیں ہے
کہ ان دونوں کے ہاتھوں پر لہو جو بہہ رہا ہے
یہ میرے شہر کے ان بے گناہ لوگوں کا خوں ہے
جو اپنے ووٹ سے خود اپنے قاتل منتخب کرتے ہیں خوش ہو کر
جو ساری رات کرتے ہیں بسر اس سوچ میں رو کر
کہ کل کا دن جو جینا ہے تو کس طرح سے جینا ہے
دکھوں کی کھا کے روٹی پھر غموں کا زہر پینا ہے
میں پھر اک عرصئہ محشر میں ہوں یا کربلا میں ہوں
لعینوں میں گھرا ہوں یا بتاؤ اشقیا میں ہوں
حُسینی صف میں ہوں یا پھر یزیدوں کی طرف ہوں
میں خودکُش ہوں میں خود اپنا ھدف ہوں
سروں کی فصل پک کر ہو چکی تیار سُن لو
قلم کرنے کو سر ۔۔سرپر کھڑے اغیار سُن لو
قلم بکنا نہیں انکار سُن لو
یہ سر جھُکنا نہیں اس بار سُن لو
تمام اب ہو چکا آزار سُن لو
اب ہم خود اپنے ہیں مُختار سُن لو۔