غزل
نذرِ احسان دانش
کبھی آرزو کے رستے ، کبھی خواہشوں میں چل کے
وہ پہنچ گئے یہاں تک ، رخِ زندگی بدل کے
جنھیں نازِ دلبری تھا ، وہی پھر رہے ہیں نالاں!
دلِ زار کچھ ٹہر کے ، دلِ زار کچھ سنبھل کے
یہ بلا کی جاں فشانی ، یہ سرورِ جاودانی
یہ بلائے جاں ہی ٹہری ، تری جستجو میں ڈھل کے
یہ نئی نئی ترقی ، یہ نیا طریقِ ساقی
جسے مے کشی نہ آئے ، اسی لب پہ جام چھلکے
ہے عجب سکوتِ پیہم ، ہے نظر میں ایک منظر
وہی دلفریب راہیں ، وہی خوش نما دھندلکے
وہ خوشی بھی کیا خوشی تھی ، کہ رہینِ بے سری تھے
یہ ہے حالِ خوش طبیعت ، کہ بلا کے آنسو چھلکے
جو سنو تو مختصر سا ، ہے بیانِ دوست فرحت
کہیں تیز تیز نشتر ، کہیں گھاؤ ہلکے ہلکے
وسیم فرحت کارنجوی(علیگ)