16.10.2026, 03:38am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان کا کردار۔23ویں قسط ۔ سید اکمل حسین
08.09.2012, 12:06am , ہفتہ (GMT+1)

سید اکمل حسین ۔ لندن
ایک طویل غیر حاضری کے بعد آپ احباب کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں وجوہات بہت سی ہیں،کچھ ذاتی اور کچھ سماجی اور اجتماعی۔ ذاتی وجوہات تو ہر ایک انسان کے ساتھ ہیں اور انکی تشہیر اپنے پیٹ سے پرداہ اٹھانے والی بات ہے لیکن سماجی اور اجتماعی وجوہات ایسی ہیں کہ بعض اوقات قلم اٹھانے کو دل ہی نہیں چاہتا۔ سوچتا ہوں کہ سچ بول بول کر اور سچ لکھ لکھ کر سوائے ظاہری اور وقتی رسوائی کے کیا ملتا ہے۔ اگر ہم جیسے لوگ بھی بلیک میلروں کی ہاں میں ہاں ملائیں،کم علم اور دین فروش کو قبلہ وکعبہ کہیں اور ہر وردی پوش کو عالم دین کا اعزاز دے دیں تو یہ دین کے ساتھ ساتھ عام مسلم ومومن کے اذہان پر قابض افراد ہماری بھی تعریف کریں اور منبروں پر ہمارا بھی نام لیکر جنت کی بشارت دیں۔لیکن ییہ راستہ نہ تو ہمارے رہبر ورہنما آئمہ کا تھا اور نہ ہی ہمیں یہ اختیار کرنا ہے کہ کون اپنے ہاتھوں سے اسی دنیا میں جہنم کی آگ خریدے

مساجد،امام خانوں،عبادت گاہوں اور جماعت خانوں میں اسوقت جو کچھ ہورہا ہے مجھ جیسے لوگ شاید اسکا صفر اعشاریہ ایک فیصد بھی نہیں بتا پاتے ہیں اور لکھ سکتے ہیں۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ جب لوگ آ کر مجھے بتاتے ہیں کہ فلاں عبادت خانے میں یہ ہو رہا ہے اور فلاں عبادت خانے کی انتظامیہ یہ کچھ کر رہی ہے تو میں سوچتا ہوں کہ ان افراد میں اتنی ہمت اور اتنا شعور کیوں نہیں ہے کہ یہ خود ان لوگوں کے سامنے کھڑے ہو جائیں اور انکو انکی کوتاہیاں بتائیں۔ مگر کیا کریں کہ یہی لوگ چندے بھی دیتے ہیں۔ملاں مولوی کو پالتے بھی ہیں اور ہم جیسے لوگوں کے سامنے آ کر رونا بھی روتے ہیں۔ جن معاشروں میں بے عملی آ جاتی ہے وہاں سچ کہنے کی طاقت دم توڑ جاتی ہے۔

کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ بات کہاں سے شروع کی جائے اور کہاں ختم کی جائے۔ میں اور میرے ہم خیال اور ہم فکر احباب ایک عرصے سے ایسی محافل میں بے حد کم جاتے ہیں جہاں دین میں تفرقے کی باتیں ہوں،جہاں عام مسلم ومومن کی رہبری کرنے والے کی نظر اسکی جیب پر ہو، جہاں اللہ و رسول کے ساتھ ساتھ آئمہ و امام زمانہ کے نام پر بلیک میلنگ ہوتی ہو اورجہاں دین فروشی کی منڈیاں لگتی ہوں۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ ہم میں سے ہرایک انسان نے قبر میں اور روز محشر اپنا حساب خود دینا ہے اور ہم خود کو اس گناہ آلودجماعت کا حصہ نہیں بناناچاہتے جس اللہ رسول کے نام پر لوٹنے کا کاروبار شروع کر رکھا ہے

اللہ ہی جانے وہ دن کب آئے گا جب عام مسلم و مومن اپنے ذاتی دینی و دنیاوی علم میں اضافہ کرے گا اور نام نہاد ملاں مولوی کے چنگل سے آزادی حاصل کرے گا۔

حج کی آمد آمد ہے اور ایسے میں حاجیوں کو لوٹنے والے حج آپریٹروں، حاجیوں کے لے جانے والے نجی گروپوں اور متعدد ملاں مولویوں کا کاروبار شروع ہو گیا ہے۔ اللہ کے گھر کی زیارت کے لیئے جانے والوں کو لوٹنے سے بھی جو گریز نہ کریں کیا انکے رزق کو حلال کہا جائے گا۔ لوٹ کھسوٹ کا کاروبار کرنے والوں میں کوئی استثنا نہیں۔ ان میں شیعہ ،سنی،مالکی،شافعی ہر مسلک کا انسان شام ہے بلکہ اسمیں سید اور غیر سید کی بھی تفریق نہیں۔اپنے ناموں کے ساتھ بڑے بڑے حروف میں سید فلاں فلاں لکھنے والے بھی گزشتہ کئی برس سے یہی کام کرتے چلے آرہے ہیں اور ہر سال دوبارہ لوگ انہی ظالموں کی چنگل میں پھنس جاتے ہیں۔

ابھی چند روز پہلے لندن کے ذرائع ابلاغ میں یہ خبر سامنےآئی ے ذرا آپ بھی پڑھیئے اور سوچیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں

مرکزي جمعيت اہلحديث برطانيہ کے شفيق الرحمن شاہين نے کہا ہے کہ کسي مسلمان عورت کے لئے يہ جائز نہيں ہے کہ وہ کسي غير محرم مرد کے ساتھ سفر کرے۔ايک بيان ميں انہوں نے کہا کہ عورت کيلئے حج و عمرہ کا سفر بھي محرم کے بغير جائز نہيں ہے اور سعودي عرب کے مفتيان اس قسم کے سفر کو ناجائز قرار دے چکے ہيں۔حج و عمرہ سکينڈل کے حوالے سے شائع ہونے والي خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ برطانوي مسلمان ديني معاملات ميں قرآن و سنت سے رہنمائي حاصل کريں۔انہوں نے کہا کہ قرآن و سنت کے احکامات کي روشني ميں يہ واضح ہے کہ غيرمحرموں کے ساتھ مسلمان خواتين کا سفر کرنا جائز نہيں
مولانا شفيق کے علاوہ حافظ حبيب الرحمن اور مولاناعبدالباسط المري نے بھي اپنے بيان ميں حج و عمرہ کے لئے محرم کے بغير عورتوں کے سفر کو ناجائز قرار ديا ہے. ان علماء کرام کا کہنا ہے کہ برطانوي مسلمانوں کو آئے روز نت نئے سکينڈلز کا سامناکرنا پڑرہا ہے جس کي وجہ مذہب سے ان کي دوري ہے انہوں نے کہا کہ برطانوي مسلمان يہ سمجھتے ہيں کہ وہ امتي ہيں اور سب کچھ جانتے ہيں? اس لئے ان کو رہنمائي کي ضرورت نہيں. انہوں نے کہا کہ برطانوي مسلمانوں کو مذہب سے رہنمائي لينے کي ضرورت ہے۔

اس خبر سے بھی زیادہ وحشتناک خبر یہ بھی ذرا ملاحظہ کیجئے

برطانيہ ميں حج وعمرہ کے ٹريول ايجنٹوں کي جانب سے مالي اور جنسي مقاصد کے لئے مسلمان عورتوں کو نامحرم مردوں کے ساتھ حج اور عمرے پر لے جانے کے دھندے کا انکشاف ہوا ہے? معلوم ہوا ہے کہ بعض ٹور آپريٹرز ان خواتين کو نامحرم مردوں کے ساتھ اس لئے نتھي کرديتے ہيں کہ انہيں اپنے ٹور کے افراد کو پورا کرنا اور ان کے ذريعے پيسہ کمانا ہوتا ہے جبکہ بعض ايجنٹ ان عورتوں کو اپنے مذموم جنسي مقاصد حاصل کرنے کے اپنے ساتھ لے جاتے ہيں اور بعد ميں ان عورتوں کے گھر ٹوٹ جاتے ہيں جبکہ بعض سنگل خواتين بھي مذہب کے نام پر ان ايجنٹوں کے ہتھے چڑھ کر خراب ہو جاتي ہيں

 علما کرام کا کہنا ہے کہ کوئي بھي عورت اپنے محرم کے بغير حج يا عمرے کے لئے سعودي عرب نہيں جا سکتي مگر برطانيہ ميں اکثر ديکھا گيا ہے کہ عورتيں اپنے شوہروں اور بچوں کو چھوڑ کر حج اور عمرے پر چلي جاتي ہيں۔ان عورتوں کو سعودي عرب کا ويزا حاصل کرنے کے لئے ضروري ہے کہ سعودي سفارت خانے ميں ان کے محرم کے ويزے کے لئے بھي اپلائي کيا جائے اور اس کے سعودي عرب ميں عورت کا اپنے محرم کے ساتھ ہر مرحلے پر رہنا ضروري ہوتا ہے? ٹور آپريٹر اور ٹريول ايجنٹ عمرے اور حج پر جانے کے لئے بے چين ان عورتوں کي مجبوري کو بھانپ ليتے ہيں اور اکثر اوقات پيسے کي خاطر ان عورتوں کو غير محرم افراد کے ساتھ نتھي کرديتے ہيں

 سعودي سفارتخانے سے ويزا حاصل کرنے کے لئے ان مردوں کو عورتوں کا بھائي‘ چچا‘ ماموں يا بھانجا وبھتيجا ظاہر کيا جاتا ہے جس کي وجہ سے ان عورتوں کے ويزے بھي لگ جاتے ہيں. اگر يہ عورتيں کسي گروپ کے ساتھ جارہي ہوتي ہيں تو ان کو ہر وقت نامحرم مردوں کے ساتھ رہنا پڑتا ہے۔ان کو طيارے سے ہوٹل تک بھي مردوں کے ساتھ رہنا ہوتا ہے. يہ بھي معلوم ہوا ہے کہ سعودي عرب ميں اکثر اوقات ان عورتوں کے لئے پردے کا کوئي معقول انتظام نہيں ہوتا اور نہ ہي ان کے لئے الگ کمرے بک کئے جاتے ہيں. چنانچہ ان کو بڑے بڑے کمروں ميں نامحرم مردوں کے قريب ہي سونا پڑتا ہے.

 ذرائع نے يہ بھي بتايا ہے کہ سعودي حکومت نے مردوں اور عورتوں کے ايک ہي کمرے ميں سونے کي شکايات سننے کے بعد عورتوں کے نامحرم مردوں کے کمروں ميں رہنے پر پابندي لگا دي ہے مگر بعض ٹور آپريٹر چوري چھپے اور مجبوري کا بہانہ کر کے اب بھي عورتوں اور مردوں کو ايک ساتھ رکھتے ہيں اس وجہ سے نہ صرف شريعت کي خلاف ورزي ہوتي ہے 

ان دو خبروں کو پڑھنے کے بعد ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں

عورت کی بات ہو ری ہے تو عرض کرتا چلوں کہ صنف نازک یعنی عورت ذات اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے جس کا اندازہ ہر ایک ذی حس اور باضمیر انسان کو ہے۔ اسی کی وجہ سے پوری کائنات کو سرور حْسن حاصل ہے۔اسی سے انسانی نسل کی زینت قائم ہے۔اس  کے دم سے آداب واخلاق کی دنیا آباد ہے۔کسی  دانش مند کا قول ہے :مرد کی تعلیم فرد کی تعلیم ہے ، عورت کی تعلیم خاندان کی تعلیم ہے۔یہ آفاقی سچ ہے لیکن جب عورت ذات میں حیا یہ خوبیاں موجود ہیں  تو اس کے پیدا ہونے پر گھر کے سارے افراد غمزدہ کیوں  ہوتے ہیں  ؟

شرم و حیا کے نام پر ہی آج کل شرم وحیا کا نام ونشان مٹ رہا ہے۔اگر لاج شرم بچانی ہے تو لڑکی تھوڑی بڑی ہوئی تو اسے چاہئے کہ پردے میں  رہے۔ آج کل کی لڑکیاں  گھرسے نکلتی ہیں  تو غیر اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ۔بسااوقات خود اس کا بنائو سنگھار ایسا ہی ہوتاہے۔ اس غلطی کے لئے ان لڑکیوں  سے زیادہ ان کے گھروالے ذمہ دار ہیں  کیونکہ اچھی تربیت کرنا گھروالوں اور والدین  کا اولین فرض ہے۔ اب حال یہ ہے کہ سر پر ڈوپٹہ نام کی کوئی چیز ہی نہیں  ہوتی اور بعض خواتین  تو جینز پہن کر گھر سے باہر نکلتی ہیں ۔ایک لڑکی گھر سے باہر جائے تو گھروالے تب تک پریشان رہتے ہیں  جب تک وہ واپس نہ لوٹے کیونکہ سماج ہی ایسا بگڑ گیا ہے۔ 

ابھی چند ہی روز پہلے لندن کے ایک بازار میں ایک دینی سماجی رہنما کی بیٹی کو ایسے ہی لباس میں دیکھا تو میرے پاؤں تلے سے جیسے زمین نکل گئی اور میں سوچنے لگا کہ دنیا بھر میں شرم و حیا اور پردہ داری کا درس دینے والوں کے اپنے گھروں کی کیا حالت ہے۔اسی کو کہتے ہیں چراغ تلے اندھیرا۔

صنف نازک کو شرم وحیا کے دائرے میں  رہناچاہئے تو سماج میں اس کو بڑی بے دردی سے رد کیا جاتاہے۔ دنیا میں بہت سی ایسی  لڑکیاں  اپنی عزت کی حفاظت کرتے کرتے ہی موت کی آغوش میں  چلی گئیں ۔انہیں  معلوم تھاکہ ہم شرم کرکے ہی عزت کی زندگی جی لیں  گے۔ مگر آج کل تو بے غیرتی کی انتہا ہے ایک کو طلاق دی اور معتہ کی آڑ لے کر فحا شی کی طرف راغب ہوتے ہوئے عام نظر آتی ہیں اور پھر بھی اس معاشرے میں باعزت کہلاتی ہیں اور اپنی اولاد کو دوسرں کے رحم کرم پر تربیت کے لئے چھوڑ کر خود عیاشی کرتی پھرتی نظر آتی ہیں اور یہ نام نہاد ملا ان کا ساتھ دیتے ہوئے نظر آتے ہیںِ۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ جب دوسروں پر کیچڑ اچھاتے ہوئے نظر آتے ہیں تو اپنی چادر کے نیچے کچھ نظر نہیں آتا کہ جس غلیظ جسم کو وہ اس چادر کے نام پر فروخت کرتی ہوئی نظر آتی ہیں 

میں نے گزشتہ کسی قسط میں تحریر کیا تھا کہ اب دین کا سہاراہ لے کر یہ بڑی بڑی باتیں کرنے والی خواتین پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں تا کہ معلوم ہو سکے کہ جو جھوٹ اور غلاظت کا انبار ان کے چارد میں چھپا ہوا ہے اور اگر کوئی ان کے بارے میں بات کرتا ہے تو ان کے حواری جو خود ایک غلیظ سوچ کے مالک ہیں اور خود کو عزت دار کہتے ہوئے نظر آتے ہیں یا سربراہ ہان ادارہ بھی ان کی طرف داری کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔میں بذات خود ایسے سربراہان ادراہ سے واقف ہوں جو گناہان کبیرہ  اور دیگر حرام کاریوں میں ملوث ہیںِ اور یہ نام نہاد دینی رہنما بھی اپنے مفادات کے لیئےان کا بھر پور ساتھ دیتے ہیں 

حالات یہاں  تک پہنچے ہیں  کہ آ ج کا نام نہاد جاہل مولوی ذہنی اور اقتصادی پریشانی میں  مبتلا ہے کہ آیا لڑکی کو جنم دینا بھی چاہئے یا نہیں  کیونکہ اس کے سامنے  بہت سے مُلا اپنے المناک انجام  کو دیکھ کر بھی اپنے رب سے نہیں ڈرتے۔  اس کادین تو صرف پیسہ ہے  مادی نظريات اور افكار ركھنے والے افراد معتقد ہیں اور   ابھی حال ہی میں عید الفطر گزری ہے ان ملاؤں نے چاند کے بارے میں جو غدر مچایا آپ سب اس سے بخوبی واقف ہیں

 لندن کی ایک مقامی ملاؤں کی تنظیم کے ارکارن نے تو حد کر دی کہ شام پانچ بجے ہی موبائل فون پر پیام دے دیا کہ عید بروز پیر ہو گی  ابھی لوگ  اسی کشمکش میں تھے کہ اور اس  نام نہاد  تنظیم کے افراد جن میں سے چند کو میں زاتی طور پر جانتا ہوں رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ فیصلہ پہلے سے کیا ہوا ہے  کہ عید کس دن کرنی ہے ا۔حیرت تو یہ ہے کہ  تنظیم کے سرکردہ افراد اپنی اپنی مساجد میں نماز مغربین اور دیگر اعمال میں مصروف تھے اور کچھ افراد تو ٹیلی وثیزں پرچندہ مانگے میں مصروف تھے جو اعلان کیا گیا تھا ان میں صاف کہا گیا تھا کہ تنظیم کے اجلاس میں کہا گیا ہے چاند نظر نہیں آیا جب کہ ایسا کوئی اجلاس وجود میں ہی نہیں آیا اور سب سے اہم بات یہ کہ مشرقی لندن کے ایک ادارے میں ایک مرجع کے نمائیندے نے نماز جمعہ کے خطبہ میں یہاں تک کہہ دیا کہ ان تنظیم کے افراد تو ابھی طفل مکتب ہیں ان کی کیا حیثت کہ یہ چاند کا اعلان کریں۔ 

سوال یہ ہے سماج  کوکیا ہو گیا ہے ؟  یا ہمارا ذہن عیاش ہو گیا ہے جو ہم نے دینی فرائض کو ان مُلاؤں کے حوالے کر دیا ہے ہم سب عقل و دانش سے اگر کام لیں تو یہ کام ہم سب کے خود کرنے کے ہیں ۔ اس سماج  کو سدھارنے میں  کتنی صدیوں کی ضرورت نہیں بلکہ  ان کالی بھیڑوں کو نکال کر باہر کیا جائے تو سماج درست ہو سکتا ہے ؟مگر آج زندگی کا نظام سدھرنے کا نام نہیں  لیتا پھر بھی غیرت مند اور روشن ضمیر انسانوں  کو چاہئے کہ وہ اس سماج کو سدھارنے میں  جی توڑ کوشش کریں ۔

گزشتہ دنوں  یہاں  ''ہفتہ حیا ''چلا۔ یہ قوم کو سدھارنے کا اچھا اور سنہری موقع ہے۔غلطی کسی بھی انسان سے سرزد ہوسکتی ہے کیونکہ انسان غلطیوں  کاپتلا ہے۔البتہ جس انسان کو غلطی کرکے اس کا احساس ہو اور اس غلطی کو سدھارے وہی سب سے اچھا انسان کہلاتاہے۔ہمیں  چاہئے کہ ہم اس بگڑی قوم کو ویسا ہی بنانے کی کوشش کریں  جیسا کہ لاج شرم والی قوم ہونی چاہئے۔تاکہ صنفِ نازک بغیر کسی ڈر کے اپنی زندگی پوری عزت وحرمت کے ساتھ بسر کرسکے۔


:دیگر مضامین
(05.09.2012) پاک یورو جرنلسٹس فورم کی محمد خوشتررحمٰن خان کو عالمی اخبار کا بیورو چیف بھارت بننے پر مبارک
(26.08.2012) فرینکفرٹ کی معزز شخصیت سید سعید کی صاحبزادی فوزیہ سید نے بائیو آرگنز کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کر لی
(24.08.2012) فرینکفرٹ میں فن و ادب ایسوسی ایشن اور پاک یورو جرنلسٍتس فورم کی تقریب آج ہفتے کے روز
(23.08.2012) فرینکفرٹ کی مقبول شخصیت صالح جی کو دوستوں اور احباب کی موجودگی میں دفن کر دیا گیا
(21.08.2012) پاکستان کے سينئر صحافي شميم الرحمن منگل کی صبح کراچي ميں انتقال کرگئے
(18.08.2012) یوم آزادی پاکستان کی تقریب پاکستانی قونصلیٹ فرینکفرٹ میں
(17.08.2012) حسینی دائرۃ المعارف کی کتاب "الحسین والتشریع الاسلامی جلد 1 پر مقالہ
(10.08.2012) اللہ کے حبیب نے فرمایا کہ میں علم کا شہر ہو اور علی اس کا دروازہ ہیں
(09.08.2012) بھارت کے تاریخی شہر لکھنؤ میں شہادت علی علیہ السلام کے سلسلے کا جلوس
(08.08.2012) رمضان کی انیس سے اکیس تک باب العلم علی علیہ السلام کے ایام شہادت
(05.08.2012) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان کا کردار۔22ویں قسط ۔ سید اکمل حسین
(04.08.2012) امام حسن ع سبز قبا عليہ السلام کے یوم ولادت با سعادت پر ایک جائزہ
(02.08.2012) معروف اور مقبول غزل گو شاعر شہزاد احمد شہزاد کی وفات۔تدفین جمعرات کر دی گئی
(27.07.2012) نئے چیف الیکشن کمشنرجسٹس ر فخرالدین جی ابراہیم کی مصروف زندگی
(23.07.2012) قمر رضوی کے سفرنامےسفر,حیرت و عشق کے بعد ایک اور نیا سلسلہ
(20.07.2012) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان کا کردار۔21ویں قسط ۔ سید اکمل حسین
(17.07.2012) لندن میں سہیل احمد لون کی کتاب ’جلاوطن ٗ کی تقریب رونمائی
(16.07.2012) معروف ،مقبول اورنامور شاعر اور نثر نگارحمایت علی شاعرکی 86 ویں سالگرہ
(16.07.2012) ممتازادیب و دانشور، نقاد و محققق پروفیسر وہاب اشرفی کاانتقال
(14.07.2012) ٹورنٹو میں معروف شاعر جاوید اختر کے مجموعے کی تقریب رونمائی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں