اکتیس اگست دوہزار بارہ کو ایک تقریب کا انعقاد شہرِ برلن میں ،’’شامِ افسانہ، ایک شام فیصل نواز چوہدری کے نام‘‘ بزمِ ادب برلن کی جانب سے ہوا۔ یہ جلسہ دراصل ناروے سے آئے ہوئے معروف افسانہ نگار اور سیاحت نگار جناب فیصل نواز چوہدری

کے اعزاز میں منعقد کیا گیا تھا۔ جس میں برلن کے ہر دل عزیز شاعر حنیف تمنا، ہندوستان سے تشریف لائے شاعر شمس فریدی، اردو ادب کے شیدائی اورباذوق قاری جناب ریاض شیخ صاحب، بزمِ ادب کے روح رواں علی حیدر عابدی وفا،محترمہ پیٹر اور دیگر معتبر حضرات جلوہ افروز تھے۔
تقریب کا آغاز ساڑھے سات بجے شام کو بزمِ ادب کے جرنل سکریٹری سرور ظہیر غزالی نے کیا۔ وہی اس تقریب کی نظامت بھی بہت خوش اسلوبی سے انجام دے رہے تھے۔
انہوں نے سامعین سے فیصل نواز چوہدری کی افسانہ نگاری کے متعلق فرمایا کہ فیصل نواز ایک معروف و مشہور افسانہ نگار ہی نہیں، بلکہ ایک اچھے انسان بھی ہیں۔ انکی اب تک تین کتابیں، افسانوں کا مجموعہ ’’ آزاد قیدی‘‘، ایک سفر نامہ ’’برف سے صحرا تک‘‘ اور ایک نارویجن زبان میں افسانوں کا مجموعہ’’ آپ کہاں سے ہیں‘‘ شائع ہوچکی ہیں۔ہندو پاک کے ادبی حلقوں میں انکے افسانوں کی کتاب کی بہت پذیرائی ہوئی ہے۔ معتبر رسائل و جرائد میں اس کتاب پر تبصرے شائع ہوئے۔ ہندوستان کے ادبی رسالوں میں ان کی کہانیاں شائع ہوتی رہتیں ہیں۔ان کے افسانے شاعر، بمبئی میں اکثر شائع ہو تے رہتے ہیں۔ شاعر بمبئی کے مدیرِ اعلی، افتخار امام نے ان کو ’شاعر‘ میں گوشہ گیر بھی کیا تھا۔
موصوف نے اپنے تین افسانے اس تقریب میں سنائے جسے بے حد پسند کیا گیا۔ ناروے کا کیا حال ہے ،گھر کا رستہ ن کا افسانہ ’ چار ملین ‘ بہت سراہا گیا۔ انکے بعد سرور غزالی نے بھی اپنے دو افسانچے،’ لذت‘ اور ’لبادہ‘ سامعین کو پڑھ کر سنائے۔
جس کے بعد ان افسانوں اور افسانچوں پر ایک مختصر بحث و مباحثہ ہوا۔
سرور غزالی نے فیصل نواز کے افسانوں کا جائزہ لیتے ہوئے سامعین کو بتا یا کہ فیصل نواز ایک مخلص اور کھرے لکھاری ہیں۔
علی حیدر عابدی نے فیصل نواز کی تحریر کو سراہتے ہوئے کہاکہ ا ن کے افسانے تکنیک اور کردار سازی کے لحاظ سے فیصل نواز کی فنکارانہ صلاحیت کا منھ بولتا ثبوت ہیں۔سرور غزالی کے افسانچوں کی معنی آفرینی ،گیرائی اور گہرائی کو بہت داد ملی۔
افسانوں کے علاوہ اس تقریب میں شعری تخلیقات کا بھی دور چلا۔ حنیف تمنا نے اپنی شعری تخلیقات سے سامعین کو محظوظ کیا۔
ان کے بعد شمس فریدی نے اپنی غزلیں سنائیں اور داد و تحسین وصول کئے۔ اس تقریب کے اختتام پر سرور غزالی نے تمام حضرات کا شکریہ ادا کر تے ہوئے کیا