عالمی اخبار اپنے قارئین کے لیئے تحقیقاتی رپورٹوں کے سلسلے میں ایک نیا سلسلہ بہت جلد شروع کر رہا ہے جسے پاکستان کے ماضی کے موقر روزنامے ‘‘مساوات لاہور‘‘ کے سابقہ فوٹو گرافر حالیہ مقیم جرمنی طاہر ملک تحریر کر رہے ہیں۔
اس سلسلے کی پہلی کڑی ‘‘ لاہور کا بازار حُسن،جمیلہ-طاہرہ اور مفکر شیخ کی کہانی‘‘ کی پہلی قسط بہت جلد قارئین کے لیئے پیش کی جائے گی۔
اردو صحافت میں انوسٹی گیٹو جرنلزم کو ماضی میں بھی اور حال میں بھی بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔سیاست دانوں اور بازار حُسن کے حوالے سے اس وقت کئی کتابیں مارکیٹ میں موجود ہیں لیکن زندگی کے کچھ شعبوں کے لوگ جو مقدس گائے سمجھے جاتے ہیں اور جواپنے چہرے پر اب شرافت کے نقاب پہن کر معاشرے کو دھوکہ دیتے ہیں انکی زندگی کا بازار حُسن کا پہلو قارئین کے سامنے لانے کی کوشش کی جائے گی۔
جنرل یحییٰ خان کی جنرل رانی سے سب واقف ہیں لیکن طاہر ملک اپنی اس تحریر میں آپکو جمیلہ،طاہرہ اور مفکر شیخ سے ملوائیں گے
انتظار کیجئے اس سلسلے کی پہلی قسط جلد ہی شائع ہونے والی ہے