یہ بات ہے تیس نومبر دو ہزار چار کی جب
اسوقت کےوزیر اطلاعات بلکہ یوں کہوں کہ ہر وقت کے وزیر اطلاعات شیخ رشید
احمد نے بتایا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے دو عہدے رکھنے کے متعلق بل پر
قائم مقام صدر محمد میاں سومرو نے دستخط کردیئے ہیں۔ یہ قانون آئندہ ماہ
یعنی دسمبر دو ہزار چارکی اکتیس تاریخ سے نافذالعمل ہوگا جس کے نتیجے میں
جنرل مشرف صدر مملکت کے ساتھ آرمی چیف کا عہدہ رکھ سکیں گے۔
اس بل پر
صدر نے خود دستخط نہیں کیئے تھے بلکہ قائم مقام صدر محمد میاں سومرو نے
دستخط کیے ہیں جو ایوان بالا یعنی سینیٹ کے چیئرمین بھی ہیں۔
پھر اس
کے بعد سے وہ قوم سے وردی اتارنے کا وعدہ کرنے کے باوجود بار بار یہ کہتے
رہے کہ وہ صدر اور چیف آف آرمی سٹاف دونوں عہدے اپنے پاس رکھیں گے۔ ’آئین
اور قانون انہیں اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ سن دو ہزار سات تک صدر اور
آرمی چیف دونوں عہدے اپنے پاس رکھ سکیں اور وہ آئین سے انحراف نہیں کریں
گے‘۔
ان کا اور انکے حواریوں کا استدلال ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ
نے یہ بل پاس کیا ہے کہ انہیں دونوں عہدے رکھنے چاہئیں اوریہ اکثریت کا
فیصلہ ہے اور اقلیت کو اکثریت کا فیصلہ ماننا چاہیے۔
اکتوبر دو ہزار
چار کو ہی ایک وقت ایسا بھی آیا جب جنرل مشرف کی وردی کو نعوذ بااللہ قرآن
کے برابر قرار دیا گیا۔ ہوا یوں کہ 29اکتوبر دوہزار چار کو سینیٹ میں
حکومت کے حامی اور متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹر عباس کمیلی نے کہا کہ
پیغمبرِ اسلام اور خلفائے راشدین نے بھی دو عہدے رکھے تھے اور وردی کی
مخالفت قرآن کی مخالفت ہوگی۔
(یہ
بات اسوقت سے آج تک میری سمجھ میں نہیں آئی کہ آخر سیاسی فائدے اٹھانے کے
لیئے کمیلی صاحب جیسا پڑھا لکھا،ذاکر،خطیب اور عالم دین انسان بھی اس حد
تک آگے جاسکتا ہے۔اب اگر ایسے افراد کی یہ حالت ہے تو عام آدمی کی کیا بات
کی جاسکتی ہے)
سینیٹر عباس کمیلی کا کہنا تھا کہ پیغمبرِ اسلام
اور خلفاء نے بھی سربراہ حکومت اور فوج کے سپہ سالار کے دونوں عہدے ایک
وقت میں اپنے پاس رکھے تھے لہٰذا صدر جنرل پرویز مشرف کے دو عہدے رکھنے پر
کسی کو اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔
محترم و مکرم عباس کمیلی صاحب میرے کرم
فرما ہیں لیکن حق اور اصول کی بات یہ ہے کہ شاہ کے وفادار ہونے والے عباس
کمیلی نے اس بات کو یہیں ختم نہیں کیا بلکہ سینٹ میں حزب مخالف کو چیلنج
کیا کہ وہ قرآن کی کوئی آیت یا کوئی حدیث پیش کریں جس میں سربراہ حکومت
اور سپہ سالار کے دو عہدے ایک شخص کے پاس ہونے کی ممانعت ہو۔
موصوف نے اس حد تک دعویٰ کیا کہ وردی مقدس ہے اور اس کی توہین قرآن کی توہین ہے، وردی کی مخالفت جہاد کی مخالفت ہے۔
یہ
مختصر سا پس منظر صرف اس لیئے تحریر کیا ہے کہ اگر آج سپریم کورٹ نے صدر
کے دونوں عہدوں کو انتخاب کی راہ میں حائل قرار نہیں دیا تو یہ کوئی
انہونی بات نہیں۔ اور پھر آج 29ستمبر دو ہزار چار کو دنیا بھر نے ٹی وی پر
ایک بار پھر اسلام آباد کی شاہراہ دستور پر جو شرمناک مناظر دیکھے ہیں
انہیں دیکھ کر ایک پاکستانی کے طور پر سر شرم سے جھک جاتا ہے۔
کیا
بوالعجبی ہے کہ ایک فرد کی انا نے ساری قوم اور ملک کو تباہی کے دہانے پر
پہنچا دیا ہے۔اسلام آباد کی شاہراہ دستور کا حال بھی پاکستان کے دستور
والا ہو چکا ہے۔
اندرالیکشن کمیشن میں صدر کے انتخاب کے لیئے کاغذات
نامزدگی کی جانچ جاری تھی اور باہر عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہ لینے والی
اور عوام کی حفاظت کی ذمیدار پولیس اور انتظامیہ وکلا،صحافیوں،سیاسی
کارکنوں اور خواتین کی صرف تذلیل ہی نہیں کر رہی تھی بلکہ اس طرح پٹائی کر
رہپی تھی جیسے کسی دشمن ملک کا کوئی جاسوس قابو آ گیا ہو۔
اپنی پیشہ
وارانہ ذمے داریاں ادا کرنے والے صحافیوں کو ایک بار پھر اُس حکومت کی طرف
سے ریاستی تشدد اور جبر کا نشانہ بننے پڑا جو یہ دعویٰ کرتے نہیں تھکتی کہ
اس نے ملک میں سب سے زیادہ صحافتی آزادی دی ہے۔
مگر کیا اس حکومت کو یہ
جواب دینے والا کوئی نہیں کہ کیا یہ نام نہاد صحافتی آزادی جو دراصل آزادی
نہیں ہے اُس نے دے کر کوئی احسان کیا ہے۔ اور پھر یہ کیسی آزادی ہے کہ
نہتے صحافیوں کو جانوروں کی طرح زدوکوب کیا جائے،انکے کیمرے توڑے جائیں
اور انہیں گرفتار کیا جائے؟
آج 29ستمبر2007کے مناظر یوں تو گزشتہ مناظر
سے بہت مختلف نہیں تھے لیکن ان تمام مناظرمیں تین منظر ایسے تھے جن میں
مستقبل کے پاکستان کی ایک نمایاں جھلک نظر آتی ہے۔
ایک منظر تو پاکستان
کے سپریم کورٹ کے سامنے کا تھا جسے کیمرے کی سچی آنکھ نے اسی طرح دکھایا
جیسے یہ رونما ہو رہا تھا۔ نیلی وردی میں ملبوس ایک سپاہی عوام کے ہاتھ لگ
چکا تھا اور عوام اسے اُس درد اور تکلیف کا احساس دلوا رہے تھے جو انکے
ڈنڈوں ،لاٹھیوں اور آنسو گیس کی وجہ سے عام آدمی یا صحافی کو سہنا پڑتی ہے۔
دوسرا منظر یوں تھا کہ قومی اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار کو
چند مشتعل افراد نے پولی کلینک میں تشدد کا نشانہ بنایا بعد ازاں پولی
کلینک کے ڈاکٹروں نے انہیں مشتعل ہجوم سے نکال کر ایک کمرے میں چھپا دیا۔
اور
تیسرا منظر جو بار بار ٹی وی پر دیکھا گیا وہ پاکستان کے وزیر مملکت برائے
اطلاعات طارق عظیم کا تھا جنہیں ایک ایمبولینس سے گھسیٹ کر نکالا گیا اور
بہت بُری طرح تو نہیں لیکن بحر حال اچھی طرح پیٹا گیا۔
صبح جس طرح
پولیس نے معروف وکیل اعتزاز احسن کو پیٹا تھا اور انکی عینک چہرے سے غائب
ہو گئی تھی اسی طرح طارق عظیم کی عینک بھی چہرے سے غائب تھی۔
میں سوچ
رہا تھا کہ اب جو طارق عظیم کے چہرے پر عینک نہیں تو شاید انہیں اپنے ارد
گرد کا منظر اور چہرے صاف نظر آئے ہوں کہ حکومت میں جانے کے بعد انسان کی
نظر کیسی بدل جاتی ہے کہ اسے نوشتہ دیوار بھی نظر نہیں آتا۔
میں سمجھتا
ہوں کہ اب ‘‘مشتری ہشیار باش‘‘ کا لمحہ آن پہنچا ہے۔ طارق عظیم اور جنرل
مشرف سمیت انکےدوسرے ساتھیوں کو یہ سوچنا ہو گا کہ وہ اس مظلوم قوم کو
دھکیل کر دیوار کے ساتھ جو لگا چکے ہیں تو کہیں اب ایسا نہ ہو کہ ایک طارق
عظیم اور ایک پولیس والا نہیں بلکہ ایسے کتنے ہی لوگ عوام کے ہاتھ لگ
جائیں اور کسی عدالت سے انصاف طلب کرنے کی بجائے عوام ظلم کا حساب خود
لینے لگیں۔
ماضی قریب میں دنیا کے اکثر ممالک کی تاریخ ایسے کتنے ہی
واقعات سے بھری پڑی ہے۔ چیکو سلواکیہ کے چاؤ شسکو ہوں یا ایران کے شاہ رضا
شاہ پہلوی اور یا پھر اسی قبیل کے کتنے ہی افراد کہ جب عوام کا سیلاب اپنا
رُخ متعین کرتا ہے تو پھر کوئی محل ،کوئی ایوان صدر،کوئی اسمبلی یا کوئی
تھانہ یا عدالت محفوظ نہیں رہتی۔
کیا حکمرانوں میں کوئی ایک فرد بھی ایسا نہیں کہ جو اس وقت نوشتہ دیوار پڑھ سکے۔
تم خوش ہو کہ اس سر پہ ہے دستار فضیلت
دستار میں سر ہوتا ہے یہ دھیان میں رکھنا